certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (01 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Ghazwa-tul-Badr—the 17th Ramazan: Does It Have Any Contemporary Relevance? As Urdu Press Claims Every Year سترہواں رمضان المبارک ،یومِ غزوہ بدر: کیا موجودہ دور میں اب اس کی کوئی افادیت باقی بچی ہے؟



نیو ایج اسلام خصوصی نامہ نگار

23 مئی 2019

ابن ہشام اور ابن اسحاق جیسے کلاسیکی اسلامی مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوہ بدر سب سے پہلی اسلامی فوجی مہم جوئی تھی جو 17 رمضان المبارک 624عیسوی کو پیش آئی تھی۔اس غزوہ کے  8 سال بعد مسلمانوں نے اسی رمضان المبارک کے مہینے میں مقدس شہر مکہ پر فتح حاصل کی تھی۔




یوم غزوہ بدر کے موقع پر سوشل میڈیاپر اور زیادہ تر اردو پریس فیس بک اور واٹس ایپ کے گروپس میں دیدہ و دانستہ طور پر اس اسلامی واقعے کی غلط تعبیر شائع کر رہے ۔

بلکہ اس  موقع پر اس اسلامی تاریخی واقعہ کی دیدہ و دانستہ طور پر ایک غلط تعبیر  و تشریح پھیلائی جا رہی ہےجس کا مقصد دنیا کے مختلف حصوں میں اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں ماہ رمضان المبارک کے دوران جہادی حملوں کی سبیل پیدا کرنا ہے۔17 رمضان کو پیش آنے والی اس پہلی اسلامی جنگ کو جسے برصغیر میں جنگ بدر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے  - مشرکین مکہ کے خلاف نبی ﷺ اور ان کے صحابہ کرام کی فتح کا دن قرار دیا گیا تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جموں و کشمیرکے انتہا پسند اور علیحدگی پسند جماعتیں اس موقع کو محبت و مؤدت کے بجائے جو کہ اس واقعے کا حتمی مقصد تھا ، جنگ و جدال کی علامت قرار دیتی ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے رمضان کے مقدس موقع پر کشمیری مسلمانوں کو  مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماہ مقدس صرف روزے اور عبادت کے لئے  ہی نہیں بلکہ معاشرے کیاجتماعی طور پر سماجی فلاح و بہبودی کے لئےبھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "ماہ رمضان کے یہ روزے ،تراویح ، زکات و صدقات، تلاوت قرآن اور دیگر اضافی [ نفلی]  عبادتیں اگر ہمارے اندر حق اور باطل کی معرفت پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تواس ماہ  مقدس میں پندرہ گھنٹے بھوکے اور پیاسے  رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اس سے ہماری تاریکی دور نہیں ہونے والی "۔

افسوسناک بات ہے کہ عسکریت پسندی کے مواد پر مشتمل رمضان المبارک کی عظمت پر وعظ و نصیحت سے تصادم کی ذہنیت بیدار ہوتی ہے جسے فروغ پرانی نسل کے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی مذہبی جہالت سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایسا زہریلا بیج بویا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی عوام کے ساتھ مخالفانہ اور معاندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔یہاں تک کہ سلفی اور جماعت اسلامی نیٹ ورکس کی کوششوں کی بدولت وادی کشمیر میں مذہبی پرامن بقائے باہمی کی روایات بھی تباہ ہو رہی ہے۔

غلط بیانی کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کا موازنہ مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر ڈھائے جانے والے  ظلم و ستم کے ساتھ کرتے ہوئے جیلانی کہتے ہیں:

"امت مسلمہ کی حالت زار صرف دردناک ہی نہیں بلکہ ذہن کو جھنجھوڑنے والی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کھنڈروں میں تبدیل ہو چکی ہے جو ہماری نئی نسل کے لئے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔ ہم بحیثیت قوم اپنے ہدایت کے سرچشمے سے دور ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے حق اورباطل کے درمیان تمیز کی صلاحیت ہمارے اندر سے فنا ہو چکی ہے۔

سب سے پہلے ضروری ہے کہ مکہ میں قبیلہ قریش کے ظلم و بربریت کی  وضاحت کر دی جائے۔ انہوں نے تاریخی طور پر رسول خدا ﷺ اور آپ کے پیروکاروں پر ظلم ستم کئے اورانہیں اپنے  تشدد کا نشانہ بنایا، یہاں تک کہ انہیں زندگی بسر کرنے اور ایمان و عقیدے کی آزادی کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے پیروکار تمام مشکلات پر ثابت قدم رہے اور آخر کار فتح یاب ہوئے۔یہ افادیت ہے رمضان کی17 تاریخ کی اور اسی مہینے میں مسلمانوں نے مکہ پر ایک عظیم تاریخ ساز  کامیابی حاصل کی جسے اسلامی تاریخ نے اپنے دامن میں ’’فتح مکہ‘‘ کے نام سے محفوظ کیا ہے۔یہ شب قدرکی طرح تمام اسلامی واقعات اور تواریخ میں سب سے اہم واقعہ اور سب سے اہم تاریخ ہے۔

لیکن اس تاریخی واقعہ کی یہ گمراہ کن تعبیر  ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان اس وقت تک اس قدر  مقبول نہیں تھی جب تک سوشل میڈیاپر اسے اسلامی پیغامات کی ایک لہر میں شائع نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے اس تاریخی فتح کی ’’تقلید‘‘ کا پرچار کرنا شروع کیا جو پیغمبراسلام ﷺ کے اصحاب کو جنگ بدر میں حاصل ہوئی تھی اور اس طرح  انہوں نے جموں و کشمیر میں یوم بدر کی اصطلاح کو رائج کیا۔

در اصل گلیانی جیسے خود ساختہ اسلامی نظریہ سازوں نے واقعہ بدرکی غلط تعبیر کی اور اسے ایک گمراہ کن انداز میں پیش کیا تاکہ وہ اپنے مزعومہ دشمنوں کے خلاف انتقام پر مسلمانوں کو بھڑکا سکیں ۔ خاص طور پر جموں و کشمیرکے مرکزی دھارے کے مسلمانوں کو ملحمہ(انتقام یا جنگ) کی جگہ مرحمہ ( رحمت) کے حقیقی اسلامی آئیڈیل کو یاد  کرنا ہوگا۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظالم و جابر  قریش پر اتنی بڑی واضح فتح حاصل کرنے کے بعد جب چند صحابہ نے فتح کے  جوش میں" الیوم یوم الملحمہ  " (آج انتقام کا دن ہے) کا نعرہ لگایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس نعرہ کو مسترد کیا اور فرمایا: " لا الیوم یوم المرحمہ‘‘ (نہیں،آج شفقت و محبت کا دن ہے)۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ  جموں و کشمیرکے کچھ جنگجو افراد یوم بدر  کا جشن دہشت گردی کے موقع کے طور پر مناتے ہیں ۔خاص طور پر وہ جنوبی کشمیر میں خوفناک دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ 'غزوہ بدر کی برسی' مناتے ہیں جیسا کہ ایک ماہر اردو  صحافی شکیل شمسی نے روزنامہ  انقلاب کے ایک اداریہ میں بیان کیاہے۔ لیکن دوسری طرف روزنامہ صحافت کے مدیر جیسے کچھ نیم خواندہ اور نادان اردو ایڈیٹر مسلسل ’غزوہ  بدر کی عہد حاضر میں افادیت‘پر خوشامندانہ مضامین شائع کر رہے ہیں ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ لاہور کے نوائے وقت جیسے بہت سے پاکستانی اردو اخبارات اور اردو پوائنٹ اور حزب التحریر کی آفیشیل ویب سائٹ جیسی متعدد  ویب سائٹس پر غزوہ بدر کے موقع پر دہشت گردانہ حملوں کا فقہی جواز پیش کیا جاتا ہے۔

کشمیر میں جہادیوں کے  ظلم و ستم کی یہ منفرد شکل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخی طور پر وادی کشمیر 1990کی دہائی اور 2000 کے اوائل میں ماہ رمضان میں بدترین دہشت گردانہ حملوں کی گواہ رہ چکی ہے۔90 کی دہائی میں کشمیر کے مسلح عسکریت پسندوں کی رپورٹنگ کرنے والے ​​بی بی سی کے ایک سابقہ صحافی یوسف جمیل نے بیان کیا ہے کہ کس طرح وہ دور کشمیر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے اعتبار سے "سب سے خونریز" دور تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ :"90 کی دہائی میں حملوں کا پیمانہ کافی بڑا تھا۔90 کی دہائی میں ایک دن میں ایسے کئی واقعات انجام دئے گئے تھے۔حملوں کا پیمانہ  پر اس سے کہیں زیادہ بڑا تھا "۔

بے شمار بے گناہ افراد ان دہشت گردانہ حملوں کا شکار ہوتے ہیں اور کئی سرکاری فوجی  اور پولیس اہلکار بھی مارے جاتے ہیں۔صرف جموں و کشمیرہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی غزوہ بدر کی برسی ہر سال انتہا پسند منصوبوں کے ساتھ اس گھناؤنے انداز میں منائی جاتی ہے۔ دراصل داعش بھی  رمضان کی ہر 17 ویں تاریخ کو غزہ اور موصل کے اپنے گزشتہ مقبوضہ علاقوں میں غزوہ بدر کی تقریب کا انعقاد کیا کرتا تھا۔ایک کردش نیوز سورس  (Rudaw) کے مطابق  داعش نے 17 ویں رمضان المبارک کا جشن منایا، جبکہ ساتھ ہی ساتھ اس نے دو بڑے اسلامی تہوار  عید الفطر اور عید الاضحیٰ جیسے دوسرے اسلامی تہواروں کا بائیکاٹ کیا۔داعش نے اپنے مقبوضہ علاقوں کے باشندوں سے اس طرح عید منانے سے باز رہنے کے لئے کہاگویا کہ  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

ایک معروف انتہا پسند اسلام پرست ابو مصعب زرقاوی کے مطابق غزوہ بدر یا 17 ویں رمضان کے دن اسلام پسند جنگجوؤں کی فوجی مہمات الہی مداخلت سے منسوب ہیں۔داعش  کے ایک ترجمان ابو محمد العدنانی نے اپنے عالمی بہی خواہوں  اور وفاداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  رمضان کے مقدس مہینےمیں منظم طریقے سے حملےانجام دیں۔اس نے مبینہ طور پر کہاہے کہ: "رمضان فتح اور جہاد کا مہینہ ہے۔اسے پوری دنیا کے  غیر مومنوں کے لئے مصیبت اور تباہی و بربادی کا مہینہ بنانے کے لئے تیار رہیں۔۔۔"

اس کے علاوہ، داعش  کے جہادیوں نے اس عظیم الشان مہینےکو آرلینڈو (فلوریڈا)، استنبول (ترکی) اور ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں اپنے بہیمانہ عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا ۔فلوریڈا، استنبول، ڈھاکہ، لندن، بغداد، جاوا اور انڈونیشیا سےمانچسٹر اور تہران تک داعش نے زیادہ تر دہشت گردانہ حملے رمضان المبارک کے آخری ایام میں ہی انجام دئے ہیں ۔

جیسا کہ اب ہم رمضان المبارک کے اختتامی ایام تک پہنچ رہے ہیں جموں و کشمیر کے تناظر میں ایک تنبیہ انتہائی ضروری ہے۔آج جبکہ  جہادی عناصر اسے 'مصیبت اور تباہی و بربادی کا مہینہ' قرار  دینے کی کوشش کر رہے ہیں ہم مرکزی دھارے کے مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیےجب چند صحابہ نے " الیوم یوم الملحمہ  " (آج انتقام کا دن ہے) کا نعرہ لگایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس نعرہ کو مسترد کیا اور فرمایا: " لا الیوم یوم المرحمہ‘‘ (نہیں، آج شفقت و محبت کا دن ہے)۔

URL for English article: http://newageislam.com/islam-and-politics/new-age-islam-special-correspondent/ghazwa-tul-badr—the-17th-ramazan--does-it-have-any-contemporary-relevance-as-urdu-press-claims-every-year?/d/118684

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-special-correspondent/ghazwa-tul-badr—the-17th-ramazan--does-it-have-any-contemporary-relevance?-as-urdu-press-claims-every-year--سترہواں-رمضان-المبارک-،یومِ-غزوہ-بدر--کیا-موجودہ-دور-میں-اب-اس-کی-کوئی-افادیت-باقی-بچی-ہے؟/d/118764

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content