certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Sep 2019 NewAgeIslam.Com)



Islamic Teachings of Islamic Month Muharram اسلامی ماہ محرم کی اسلامی تعلیمات

 

کنیز فاطمہ، نیو ایج اسلام

دین اسلام یقینا وہ دین ہے جس کو ان  الدین عند اللہ الاسلام جیسا ہی اعجاز ملنا چاہیے جو کہ کلام الٰہی سے اسے ملا ہے بے شک اس دین نے اپنے ہر طریقہ تعلیم میں امن و شانتی ایثار و قربانی رحم و کرم کا درس عظیم سکھایا ابتدا تا انتہا ہر قائد و رہنما نے  اور تمام رسل و صحابہ نے اس پر عمل کر کے بھی دکھایا جس کی مثال گزشتہ ماہ ،ماہ ذی الحجہ جو کہ اسلامی مہینوں کا آخری مہینہ تھا اس میں پیغمبر اسلام نے رضا الٰہی کی خاطر اپنی عزیز ترین نعمت اپنے اولاد کی قربانی میں دریغ نہیں کرکے تمام امت مسلمہ کو یہ درس دے دیا کہ اگر کبھی تم سے کوئی مطالبہ کیا جائے تو تم بہ خوشی اپنی عزیز ترین اشیاقربان کر دینا اسی کی یاد دہانی کے لئے اسلام میں ایک تہوار  عید الاضحیٰ ہے ۔ عید الاضحیٰ اسلامی تہواروں میں سے ایک بڑا تہوار ہے جسے ہم بقرہ عید،عید قرباں اور بڑی عید کے نام سے جانتے ہیں اس عید کو اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ اس دن کا عمل ہے۔ کیونکہ لفظ اضحیٰ کا معنیٰ ہی ہوتا ہے ایثار، قربانی اپنی خواہش پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا ۔                                  

سبحان اللہ کیا تعلیم ہے کہ تہوار بھی اسی لئے رکھا کہ تم ضرورت مندوں کی ضرورت پر نظرکرو اپنی قربانی سے انکی ہمدردی کروان کی ضرورتوں کی تکمیل کرو ۔ماہ آخر اشیا کی قربانی کا درس دیتا ہے خواہ وہ کتنی ہی عزیز کیوں نہ ہو اور ماہ اول یعنی محرم الحرام جس کا شمار ہی حرمت کے مہینوں میں  کیا جاتا ہے اس ماہ میں اہل بیت اطہار کی ایثار وقربانی کا جو واقعہ پیش آیا وہ رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں یاد رکھا جائے گا۔

عظمت و  اخلاص و قربانی کا پیکر و حسین     جو بہتر زخم کھا کر مسکرایا وہ حسین         

ایثار بقادین ،شرع و احکام شرع : اسلامی لیڈر، قائد اعظم صاحب کرامات ،امام شریعت و طریقت ،نور چشم شیر خدا و خاتون جنت ،خاتم خلافت راشدہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کس سے نہاں ہے ؟کہ جب یزید پلید نے اپنے ناپاک عزم کے ساتھ خلیفہ بن کردین اور  احکام شرع کی تبدیلی چاہا تو اس وقت اس ملعون پربیعت کرنے سے جس نے انکار کرنے کی جسارت کی وہ امام حسین ہی تھے  یہ جاتنے ہوئے کہ یزید کی بیعت سے انکار اس کیلئے اشتعال کا باعث ہوگا۔ اور نا بکارجان  کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو جائے گا۔ لیکن امام کی دیانت و تقویٰ نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان کی خاطر نا اہل کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ۔ اور مسلمانوں کی تباہی اور شرع و احکام شرع کی بے حرمتی اور دین کی مضرت کی پرواہ نہ کریں ۔

اگر آپ اس وقت یزید کی بیعت کر لیتے تو وہ آپ کی بہت قدرو منزلت کرتا آپ کی عافیت و راحت میں کوئی فرق نہ آنے دیتا ۔بلکہ دینا کی بہت ساری دولت آپ کے قدموں پر جمع کر دیتا۔ لیکن اسلام کا نظام درہم برہم ہو جاتا اور یزید کی ہر بدکاری کے جواز کے لئے امام کی بیعت سند ہو جاتی اور شریعت اسلامیہ اور ملت حنیفہ کا نقشہ مٹ جاتا۔ لہٰذا آپ برابر یزید کی بیعت سے کنارہ کشی اختیار فرماتے رہےیہاں تک کہ اپنے اہل و عیال ،بہنوں ،بھانجوں اور عزیز و اقارب کل ستر اصحاب کے ساتھ کرب و بلا کے کرب ناک ساعتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں اتر کر ایک ایک کر کے راہ خدا میں جان قربان کر کے دنیا والوں کو درس عظیم دے گئے کہ کبھی بھی حصول دنیا اور اپنے مفاد کے لئے دوسروں کے جان ،مال و ایمان کو نقصان نہ پہچانا اگر چہ تمہیں جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔

سید نے کربلا میں وعدے نبھا دئے ہیں                               ایک ایک کر کے سارے راہ خدا دئے ہیں      

حاجت مندوں کے لئے ایثار: مندرجہ بالا شخصیت کی پرورش و تربیت جس نے کی وہ خود حضور سید الانبیاو المرسلین صلیٰ اللہ علیہ و سلم کی مقدس و مطہرذات کریمہ سے مربہ رہے ہیں  جن کے اخلاق حسنہ ، عادات کریمہ ،ایثار و قربانی اور غریبوں ،یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ محبت اور غربا نوازی کی ایسی مثال ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے خوش ہو کر اپنے مقدس کلام میں بیان فرمایا۔

ملاحظہ فرمائیے : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے تو سرکار دو عالم ﷺ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔ تو کسی صحابی نے یاخود حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کو مشورہ دیا کہ تمہارے فرزند بیمار ہیں تو اللہ کے لئے کچھ نذر مان لو۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی لونڈی حضرت فضہ نے تین روزوں کی نذر مانی ۔ دونوں شہزادے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت جلد صحت یاب ہوگئے ۔ تو ان تینوں حضرات نے روزے رکھ لئے مگر کاشانہ مولا علی میں اس دن کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شمعون خیبری یہودی کے پاس گئے اور تین صاع جو بطور قرض لے آئے ۔ حضرت خاتون جنت نے ایک تہائی حصہ جو اپنے ہاتھ سے پیسا اور پانچ آدمیوں کے حساب سے شام کی روٹیاں تیار فرمالیں اور افطار کے وقت کھانا سامنے لا کر رکھ دیا۔ ابھی روزہ افطار کرنے کی تیاری تھی کہ اچانک ایک شخص کاشانہ علی پر آواز دیتا ہے۔ اے اہل بیت رسول اللہ ! میں ایک مسکین ہوں، بھوکا ہوں تمہارے دروازے پر آیا ہوں ۔ اللہ کے نام سے کچھ کھانا دے دو، اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کے خوانوں پر کھلائے گا۔ یہ سن کر ان مقدس حضرات نے وہ ساری روٹیاں اس مسکین کے حوالے کر دیں اور خود پانی پی کر روزہ افطار کر لیا۔دوسرے روز بھی اسی طرح روٹیاں لے کر افطار کے لئے  بیٹھے تو پھر دروازے پر دستک ہوئی اور کوئی آواز دینے والا آواز دے رہا ہے کہ اے اللہ کے رسول کے گھر والوں!میں یتیم ہوں بھوکا ہوں مجھے اللہ کے لئے کچھ کانا دے دو۔ ان حضرات نے پھر تمام روٹیاں اس یتیم کو دے دیں اور خود پانی پی کر روزہ افطار کر لیا۔ تیسرے روز پھر روزہ رکھا اور بقیہ جو کو پیس کر روٹیاں بنائیں کہ اچانک پھر ایک سائل نے آواز دی ۔ اے اہل بیت اطہار !میں اسیر ہوں ، بھوکا ہوں ، اللہ کے لئےکچھ کھانا دے دو۔ تیسرے روز بھی ان حضرات نے تمام کی تمام روٹیاں اس قیدی کو دے دیں اور خود پانی سے روزہ افطار کر لیا اور خداوند قدوس کا شکر ادا کیا کہ اب ہماری نذر پوری ہو گئی۔

چوتھے روز صبح اٹھے تو بھوک کی شدت اور ضعف سے چلنے پھرنے کی طاقت نہ تھی ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور حضور ﷺ کی خدمت عالیہ میں لے گئے۔ دونوں صاحبزادے بھوک کی شدت کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔ حضور ﷺ نے ان کو دیکھا تو رنج پیدا ہوا۔ پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاشانہ پر حاضر ہوئے۔ اس وقت حضرت سیدہ نماز پڑھ رہی تھی ۔ حضور نے ان کو دیکھا تو بہت بےقرار ہوگئے۔ یہاں تک کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ اسی وقت حضرت جبرئیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ !آپ کے اہل بیت کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی شان اپنے مقدس کلام میں بیان فرما رہا ہے: یوفون بالنذر و یخافون یوما     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لانرید منکم جزآو لا شکورا۔(سورہ الدہرپارہ ۲۹)

اللہ اکبر!یہ ہے سخاوت اہل بیت رسول کی کہ تین دن تک لگا تار صرف پانی سے افطار کر لیا اور اپنے حصے کی تمام روٹیاں سائل کو دے دیں لیکن سائل کو واپس نہیں کیا ۔ کیا کوئی ایسی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟

اللہ تعالیٰ ہم تمامی کو اہل بیت اطہار کے طفیل ایسا ہی جذبہ ایثار عطا فرمائےآمین۔                     

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/islamic-teachings-of-islamic-month-muharram--اسلامی-ماہ-محرم-کی-اسلامی-تعلیمات/d/119627

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content