certifired_img

Books and Documents

Multimedia (14 Nov 2017 NewAgeIslam.Com)


کیا شیعہ کافر ہیں‎ Are Shia Kafir: Sensitive Debate between Maulana Abdul Aziz Ghazi and Tayyaba Khanum

YouTube

14 November 2017

 

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

کیا یہ حضرت ابو بکر صدیق کو مسلمان اور خلیفہ اول سمجھتی ہیں؟ حضرت عمر کو مسلمان اور خلیفہ دوم سمجھتی ہیں؟ حضرت عثمان کو کیا یہ مسلمان اور خلیفہ سمجھتی ہیں؟ کیا یہ حضرت عائشہ کو محمد ﷺ کی بیوی اور مسلمان سمجھتی ہیں؟ ان کا جواب دیجئے۔

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

کیا آپ شیعہ کو مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ کیوں کہ اس ملک میں شریعت نافذ ہو گی۔

مولانا عبد العزیز اینکر سے:

بات یہیں سے شروع ہوتی ہے ، فیس بک ، یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر ویڈیوز موجود ہیں نعوذ باللہ صحابہ کرام کو  برا بھلا کہا جاتا ہے۔  اور ان کوکافر کہا جاتا ہے۔

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

تو آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں؟

مولانا عبد العزیز اینکر سے:

جب یہ باتیں ہوں گی تو انہیں پھر کیسے مسلمان کہا جائے گا۔ میں ان سے کب سے یہ سوال کر رہا ہوں کہ یہ کہہ دیں کہ میں حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، اور حضرت عثمان کو مسلمان سمجھتی ہوں۔ کیا آپ انہیں مسلمان مانتی ہیں؟ ہمیں بتائیں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

پہلے آپ یہ بتائیں کہ کیا شیعہ کافر اور واجب القتل ہیں؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

پہلے آپ صحابہ کرام کو یہ ثابت کر دیں کہ وہ مسلمان ہیں تو پھر ہم آپ کی بھی بات مان لیں گے۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

صحابہ کرام کو تو عیسائی بھی نہیں مانتے تو کیا وہ واجب القتل ہیں؟ اور کیا یہودی واجب القتل ہیں؟

مولانا عبد العزیز اینکر سے:

دیکھئے میں نے یہ کہہ دیا کہ یہ صحابہ کرام کو نہیں مانتے۔  اور جب یہ صحابہ کرام کو نہیں مانتے تو ہم ان کو کیسے مان لیں؟

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

اب ہم آگے چلتے ہیں۔ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ (شیعہ) مسلمان نہیں ہیں۔

مولانا عبد العزیز اینکر سے:

جب شیعہ ان کو (حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان) کو مسلمان نہیں سمجھتے تو ہم آپ کو کیوں مانیں؟

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

تو آپ انہیں مسلمان نہیں سمجھتے؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

اگر ہم بالفرض نہیں مانتے تو آپ ہم سے زندگی کا حق چھینتے ہیں۔ آپ ہمیں مارنا چاہتے ہیں اور آپ ہمارے قتل کے اور کفر کے فتوے دیتے ہیں۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ آپ صحابہ کرام کو تبرا کرتے ہیں۔ اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

صحابہ کرام کو اور خلفائے راشدین کو جو نہیں مانتا تھا ان کو جا کر جان مار دیتے تھے کیا؟

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

بات یہ نہیں ہو رہی ہے۔ میں سمجھ گیا مولانا صاحب۔ دیکھئے آپ عالم دین ہیں اور ایک بات مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر آپ انہیں مسلمان نہیں سمجھتے اور یہ مانتے ہیں کہ یہ کافر ہیں تو کیا آپ انہیں واجب القتل بھی مانتے ہیں؟

 طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ مجھے یہ بتائیے کیا خلافت راشدہ کے دور میں جب کوئی خلفائے راشدین کو نہیں مانتا تھا تو کیا وہ اسے جا کر قتل کر دیتے تھے؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

خلفائے راشدین کے دور میں کون تھا جو ان کو مسلمان نہیں مانتا تھا۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

بہت سے لوگ تھے جو ان کو نہیں مانتے تھے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

کون تھے جو انہیں مسلمان نہیں مانتے تھے آپ نام بتائیں؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

لوگ آ کر انہیں گالیاں دیتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے۔ اور حضور کو برا بھلا کہتے تھے۔ لیکن جو عورت حضور پر کوڑے ڈالتی تھی آپ اس کی تیمارداری کے لئے چلے گئے۔ جو حضور کی توہین کرے اور جو نعوذ باللہ آپ کی شان میں گستاخی کرے آپ اس کے گھر چلے جائیں۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

گالی اور چیز ہے۔  یہ تو کافر نے کیا تھا۔ میں تو ان کی بات کر رہا ہوں کہ خلفائے راشدین کے دور میں کس نے ان کو کافر کہا آپ بتائیں؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

وہ جو قرآن کریم میں منافقین کے لئے آیتیں ہیں کہ ائے پیغمبر یہ لوگ جو تیرے ہمراہ ہیں وہ منافق ہیں۔ کیا ان منافقوں کو حضور نے قتل کیا؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

کیا اس سے آپ کی مراد حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر ہیں؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

نہیں میں یہ کہہ رہی ہوں کہ قرآن نے تو انہیں غلط نہیں کہا ۔ بلکہ حضور نے انہیں جا کر قتل کر دیا تھا کیوں کہ نہ قرآن غلط بیانی کرتا ہے نہ حضور کا علم غلط ہو سکتا ہے اور نہ ہی پروردگار کبھی غلط کہہ سکتا ہے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

نعوذ باللہ حضور ﷺ نے جن کو اپنی بیٹی دی اور جن کی بیٹی لی کیا وہ منافق ہو سکتے ہیں؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

میں جو بات کر رہی ہوں یہ اس کا جواب دیں کہ کیا اختلاف کی بنیاد پر کبھی سرکار رسالت مآب نے کسی کو قتل کیا؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

حضورﷺ نے بہت سارے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ بہت سے ایسے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو اسلام کے خلاف  تھے۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

اسلام کے خلاف یا شخصیات کے خلاف؟ اور پہلے آپ یہ طئے کریں کہ کیا اہل تشیع اسلام کے خلاف ہیں یا شخصیات کے خلاف ہیں؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

میں نہیں چاہتا محترمہ کہ اس موضوع کو چھیڑا جائے یہ آپ نے چھیڑا ہے۔ اور اسے نہ چھڑیں تو ہی مناسب ہے۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

پہلے آپ یہ بتائیں کہ حضور ﷺ شخصیات سے اختلاف کی بناء پر قتل کا حکم دیتے تھے یا اسلامی قوانین سے اختلاف کی بنیاد پر؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

بالکل وہ اسلام دشمن تھے خواہ وہ اسلام کے خلاف ہوں یا کسی کے بھی خلاف ہوں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

نہیں ! آپ یہ بتائیں کہ شخصیت سے اختلاف کی بنیاد پر قتل ہوتا تھا اور جنگیں ہوتی تھیں یا نظریات سے اختلاف کی بنیاد پر ایسا ہوتا تھا؟

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

نظریہ سے اختلاف کی بناء پر۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

یعنی جو اسلام کے قوانین کو نہیں مانتے تھےان کے خلاف جہاد ہوتا تھا!

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

دیکھئے اسلام میں حضرت ابو بکر صدیق بھی ہیں۔  اور یہ کہ ان کو مسلمان ماننا ہمارا عقیدہ بھی ہے، اور حضرت عمر فاروق کو مسلمان ماننا ہمارا عقیدہ ہے۔ اور عثمان غنی کو بھی مسلمان ماننا ہمارا عقیدہ ہے۔ میں اسلام میں رہتا ہوں اور جرأت کے ساتھ بات کرتا ہوں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ اپنی اصلاح کر لیں ہماری تو تاریخ ہی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہماری آبادیاں ویرانیوں میں بدل گئیں۔ اب آپ ہمیں بتائیں گے ؟ شہادت تو ہمارا حصہ ہے۔ میں شہادت سے ڈر کر نہیں جا رہی، وہ جو آپ کے پالے ہوئے دھمکیاں دیتے ہیں اور ایک خاتون کے لئے نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں کہ ہم ایسا کریں گے اور ویسا کریں گے، ان کی وجہ سے میں راہ فرار اختیار نہیں کرنے والی۔  میں ان بے غیرتوں کی دھمکیوں پر شہادت کے خوف سے نہیں فرار ہونے والی! ہمارے یہاں اتنے شہید ہیں کہ ہمارے قبرستان چھلک گئے ہیں۔  آپ تو شہادت سے بچنے کے لئے برقع پہن کر بھاگ گئے تھے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

دیکھئے ہم نے شہادتیں دی ہیں الحمد للہ! لال مسجد اور جامع حفصہ پوری دنیا میں شہادتوں کے لئے مشہور ہے۔  الحمد للہ میں برقع پہن کر اس لئے نکلا تھا کہ آج میں ظلم کے خلاف اور ظالمانہ نظام کے خلاف بات کر سکوں۔ یہ تو چاہتے تھے کہ میں چلا جاؤں۔  اور الحمد للہ یہی شریعت کا حکم ہے۔

اینکر مولانا عبد العزیز سے:

آپ یہ کہتے ہیں کہ جان بچا کر اسلام کے لئے فرار ہونا چاہئے۔  اور یہ پوری دنیا میں اسلام پر تقریریں کرتی ہیں اور لوگ ان کی بات سننے بھی آتے ہیں۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

ہم یہ کہتے ہیں کہ لیکچر دیں  ، باہر کیوں جاتی ہیں؟ حسینی مشن کو یہاں زندہ کریں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

وہ اس لئے ہے کہ آپ نے جن لوگوں کو کفر کے فتوے دے دے کر پالے ہیں  وہ ہمیں اغوا کی  دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ وہ انسانی معیار اور اخلاقی ضابطے سے انتہائی گرے ہوئے لوگ ہیں۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

یہ اس بات کا رد عمل ہے جو حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان کے ساتھ آپ لوگوں نے کیا ہے۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آخر تسلیم کر ہی لیا آپ نے!

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

بالکل ، نعوذ باللہ آپ ان کو مسلمان نہیں سمجھتے تو لوگ اس کا ردعمل تو کریں گے ہی۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ فتویٰ دیتے ہیں نا کہ ان کی ناموس ہم پر حلال ہے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

نہیں میں نے یہ فتویٰ نہیں دیا ، بلکہ یہ ردعمل ہے اس قول کا جو آپ نے کیا ہے۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

ان خطوط میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ان کی دھمکیاں ہمیں آتی ہیں کہ ان کی ناموس ہم پر حلال ہے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

کون کہتا ہے یہ ؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ لوگ۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

تو آپ لوگ بھی یہی کر رہے ہیں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ کو کیا پتہ ہے کہ شہادت کیا ہوتی ہے!

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

دیکھیں ، تقریر کرنا اور ہے ہم نے تو پریکٹیکل کیا ہے ۔ میرے والد شہید ، میری والدہ شہید اور میرا بھائی بھی شہید۔  اور کیا پریکٹیکل چاہیے؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

آپ نے سب کو دہشت گردی میں لپیٹ دیا ہے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

آپ دہشت گردی کی تعریف کریں کہ دہشت گردی کیا ہے؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

جو آپ نے کیا۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

دہشت گردی کیا ہے؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

وہ جو آپ کے لڑکے لال مسجد سے برقع پہن کر بھاگے تھے۔

اینکر  طیبہ خانم سے:

کیا وہ لڑکے تھے برقع پہن کر؟

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

جی ہاں! آپ دیکھیں فوٹیج نکال کر۔

اینکر مولانا عبد العزیز  سے:

واقعی مولانا صاحب ایسا ہی ہے کیا؟

طیبہ خانم اینکر  سے:

جی ہاں! انہوں نے برقع پہن کر یہ ثابت بھی کر دیا کہ انہیں بہت اچھے طریقے سے برقع پہننے کی پریکٹس ہے۔

مولانا عبد العزیز  طیبہ خانم سے:

شریعت کا حکم                  بھی یہی ہے کہ اگر آپ کے حالات ایسے ہیں تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔

طیبہ خانم مولانا عبد العزیز  سے:

اچھا ، آپ تقیہ کر لیں ، لیکن اہل تشیع کو ایسا کرنے پر آپ کافر قرار دیتے ہیں۔

 

URL: http://www.newageislam.com/multimedia/مولانا-عبد-العزیز-اور-طیبہ-خانم/کیا-شیعہ-کافر-ہیں‎-are-shia-kafir--sensitive-debate-between-maulana-abdul-aziz-ghazi-and-tayyaba-khanum/d/113218




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content