certifired_img

Books and Documents

Multimedia (22 Nov 2017 NewAgeIslam.Com)


Darwin and Evolution in the Muslim World: Science as Silent Subversion ڈارون اور مسلم دنیا میں ارتقاءکا نظریہ : سائنس ایک خاموش تخریب؛ پرویز ہودبھائی

پرویز ہودبھائی

ٹرانسکرپشن: نیو ایج اسلام

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آج میں یہاں موجود ہوں۔ کئی سالوں سے یہ سوال مجھے پریشان کر رہا ہے کہ "کیوں تکنیکی مہارت رکھنےوالے بہت سے مسلمان سیاسی طور پر بنیاد پرست بن جاتے ہیں؟" جب میں اسلام آباد میں خود کو دیکھتا ہوں تو میں یہ پاتا ہوں کہ میرے طالب علم اور وہ طالب علم جو جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستانی اداروں میں یا دیگر دفاعی تنظیموں میں داخلہ لیتے ہیں یا جو اس معاشرے میں دیگر مقامات پر رہتے ہیں شاید عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند ہیں۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ صرف میری یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی حالت بالکل یہی ہے، اور میں جرأت کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اب یہی حال پوری دنیا کا ہے۔ اگر ہم باؤمیرس (Baumers) پر نظر ڈالے یا 11/9 حادثے کو دیکھیں تو یہ معلوم ہوگا کہ ان میں سے اکثر لوگ تکنیکی ماہرین، انجنیئر اور ڈاکٹر تھے اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے ، کیونکہ جب یورپ میں سائنس کی آمد ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ مذہب کا اثر آہستہ آہستہ کم ہو گیا۔ لیکن یہاں اس کا اثر کچھ اور ہی ظاہر ہو رہا ہے۔ لہٰذا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ جب میں نے سائنس پڑھانا شروع کیاتو مجھے اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ امید تھی کہ سائنسی تعلیم کوئی ایسی چیز ہے جو داخلی سطح پر مذہب کے اثر و رسوخ کو کم کرے گی اور جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہزار سال قبل ٹرائے کا شہر یونانیوں سے گھرا ہوا تھا اور یونانیوں نے دس سال تک ان کا محاصرہ جاری رکھا اس کے باوجود وہ اس میں دخل نہ ہو سکے اور پھر وہ انہوں نے شاندار گھوڑے بنائے اور ٹروجن (ایک قسم کا جنگی آلہ جو یونانی استعمال کرتے تھے) نے انہیں شہر کے اندر ڈال دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یونانیوں نےوہاں کے جنگجوؤں پر حملہ کر کے ٹرائے شہر کو فتح کر لیا۔ لہٰذا ، امید یہ تھی کہ سائنس کہ جس کا مظاہرہ اور کارکردگی شاندار ہے ۔ جو آپ کو ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے- اس کا ہر جگہ خیرمقدم کیا گیا۔ یہاں تک کہ اسے طالبان نے بھی اپنایا۔ طالبان ایس یو وی کا استعمال کرتے ہیں، وہ ایسے جدید مواصلاتی نظام کا استعمال کرتے ہیں کہ جسے پاکستان کی فوج بھی نہیں توڑ سکتی۔ وہ موبائل ٹرانسمیٹر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بعض استعمال میں ان کی کارکردگی شاندار ہے۔ لہذا لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ سائنس کے یہ ٹروجن کس طرح قدامت پرستی کے حصار میں داخل ہو کر اسے داخلی سطح پر شکست دیں گے، اور آج پوری دنیا میں معقولیت پسندی ، منطق اور عقل و استدلال کا نظریہ یہی ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ بلکہ جو ہم نے آج کے دور میں دیکھا ہے وہ اسی یونانی دور کی طرح کہ جس میں ایک کیسانڈرا (Cassandra) تھی جو لاحاصل تنبیہ کرتی تھی لیکن آج کے دور میں ایسی بے شمار کیسانڈرا (Cassandra) ہیں جو اس بات سے خبردار کر رہی ہیں کہ تم ایک ٹروجن گھوڑے کو اندر کا رستہ دے رہے ہو۔ لہذا ، ان چند منٹوں میں جو مجھے حاصل ہیں میں چاہوں گا کہ ان رد عمل کا تعین کروں جن کا اظہار اسلامی معاشرے اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں کیا جا رہا ہے، اس لئے کہ سائنس کی کوشش اس کی تحقیق و تفتیش کرنا ہے۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ آپ اسے ایک مدافعتی نظام کے ساتھ قیاس کر سکتے ہیں اس لئے کہ جب جسم میں کوئی خارجی مائکرو آرگانیزم داخل ہوتا ہے تو یہ رد عمل کے لئے مدافعتی نظام کو ابھارتا ہے۔ لہٰذا ، ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ردعمل کیا ہیں؟

پہلا در عمل یہ ہے کہ سائنس کو نظر انداز کیا جائے مگر ٹیکنالوجی کا خیر مقدم کیا جائے۔ دراصل سعودی لوگ اس کے بارے میں بہت واضح موقف رکھتے ہیں اور کچھ سال پہلے سعودی عرب میں اس عنوان پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی تھی کہ مسلم دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو کس طرح فروغ دیا جائے۔ سعودیوں کا موقف بڑا واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی چاہتے ہیں، ہم بہترین کاریں ، ہوائی جہاز اور تیل کی ڈرلنگ مشینیں وغیرہ چاہتے ہیں لیکن ہم سائنس نہیں چاہتے ، کیونکہ سائنس تباہ کن ہوسکتی ہے۔ لہذا، شاید یہ سچ ہے کہ آپ سائنس کو نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹیکنالوجی کو کثرت کے ساتھ استعمال میں لا سکتے ہیں۔ سیل فون کا استعمال کرنے کے لئے آپ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے۔ گاڑی چلانے کے لئے آپ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ گاڑی کا انجن کس طرح کام کرتا ہے۔ اور یہاں تک کہ میزائل جیسی بہت سی چیزوں کو تیار کرنے میں بھی اس کی ضرورت نہیں پیش آتی۔ اس لئے کہ اس میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آپ چپس خرید سکتے ہیں، ان مشینوں کے اندر کام کرنے والی ان چھوٹی چیزوں کے بارے میں آپ کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، آپ ان کل پرزوں کو بنانے کی ترکیب جانے بنا ہی انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔صرف اس کا طریقہ جاننا ہی ضروری ہے۔

یقینا، سائنس کو اس طور پر نظر انداز کرنا ممکن ہے اور اس کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ گلیلیو کے دور جیسا آج ان معاملات پر کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو مذہبی عقائد کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔ لہذا، اگر آپ ایک پُل یا روبوٹ یا کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے ایمان کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرنے والا۔ لیکن اگر آپ ایک کاسمولوجسٹ (ماہر تکوینیات) بننا چاہتے ہیں یا آپ کوانٹم میکینکس (quantum mechanics) کی تشریحات سمجھنا چاہتے ہیں یا آپ علم الاعصاب (Neuron-Science) پڑھنا چاہتے ہیں تو اس میں کچھ خطرہ ہے کیونکہ اس میں آپ کو خود سائنسی طریقہ کار کو سمجھنے اس کا تجربہ کرنے اور اسے ذہن میں جاگزین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہر کیف میں نے اکثر مسلم ممالک میں یہی رد عمل مروج پایا اور پوری دنیا میں بھی آپ کو تقریبا یہی دیکھنے کو ملے گا ، کیونکہ چیزیں بہت پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ سب کچھ کیسے کام کرتا ہے یہ کون سمجھتا ہے؟ کوئی نہیں ! اسی لئے آپ کو صرف اس کے استعمال کے طریقہ کار پر ہی اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ ویسے بھی کیسینڈروں نے بہت پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ سائنس خطرناک ہے اور یہ واقعی خطرناک ہے اگر آپ اس بات کو تسلیم کر لیں کہ مادی دنیا میں آپ جو بھی دیکھتے ہیں وہ سائنس سے ہی نکلنے والی ہے۔

اب میں اس مدافعتی نظام کے دوسرے ردعمل پر آتا ہوں۔ دوسرا ردعمل علت اور معلوم کے درمیان تعلق کو علیحدہ کرنے والا ہے۔ اگر آپ اسے تسلیم کریں تو یہ اس لئے ہے کہ آپ کائنات کے طبعی قانون کے کردار کو فوقیت دیتے ہیں۔ یہ دلیل کم از کم ایک ہزار سال پرانی ہے۔ اسلامی معاشرے کے ابتدائی دور میں اشعری اور معتزلیوں کے درمیان ایک نزاع ہوا تھا۔ ایسی مشہور مثالیں موجود ہیں ، اور مجھے یقین ہے کہ یہاں پر جو لوگ موجود ہیں وہ امام غزالی کے اس قول سے واقف ہوں گے کہ ‘‘کسی کپڑے کا ایک ٹکڑا صرف اس لئے نہیں جلتا کہ آپ نے اس پر ایک جلتی ہوئی سَلائی رکھ دی ہے بلکہ خدا ایک فرشتے کو اتارتا ہے اور وہ فرشتہ اس میں آگ لگاتا ہے"۔ اسی طرح اشعریوں کی دلیل یہ تھی کہ "جو تیر اپنے ہدف کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اس کے بارے میں یہ کبھی مت خیال کرو کہ وہ اپنے ہدف کو جا ہی لگے گی خواہ وہ تیر اپنے ہدف سے کتنی ہی قریب کیوں نہ پہنچ چکی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پرتا ؛ اس لئے کہ خدا ایک لمحے میں دنیا کی تخلیق کرتا ہے اور دوسرے لمحے میں اسے ختم کر دیتا ہے، پھر اس کی تخلیق کرتا ہے اور اگلے ہی لمحے اسے ختم کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے"۔ اور اس طرح ایک لمحے کا دوسرے لمحے کے ساتھ کوئی عِلّیِ اور سببی تعلق نہیں ہے۔

اس استدلال کو پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں علم کیمیا کی نصابی کتابوں میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اساتذہ کے لئے ان نصابی کتابوں میں سے طلباء کو ان باتوں کی تعلیم دینے کی ہدایات کے بجائے ان درسی کتابوں میں ا یسی باتیں تھیں کہ اپنے طلباء کو یہ نہ بتائیں کہ محض آکسیجن اور ہائیڈروجن کے اختلاط سے ہی پانی وجود میں آتا ہے کیوں کہ یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے۔ بلکہ کیمسٹری کی تعلیم دینے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جب ہائڈروجن اور آکسیجن کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو اللہ کی مرضی سے وہ پانی کا وجود اختیار کر لیتا ہے۔ میرے خیال سے یہی حال شراب کا ہے۔ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ نظریات انہیں زمانوں کے ساتھ خاص ہوں جن میں ان کا کوئی اثر و رسوخ نہ رہا ہو۔ میں ایک مثال کے ذریعہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح ان نظریات نے طلباء کی فکر کو متاثر کیا ہے۔ آج 8 اکتوبر 2005 کا دن ہے۔ پاکستان میں ایک زبردست زلزلہ آیا تھا جس میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر کچھ امدادی سامان ان پہاڑی علاقوں میں لے گیا جہاں زلزلے آئے۔ ہم چند دنوں میں وہاں سے واپس آ گئے اور جس دن میں واپس ہوا اس دن میرے دو دروس تھے ۔ میں پہلے درس میں گیا اور میں نے کہا کہ میں وہ تمام تباہ کاریاں دیکھ کر آ رہا ہوں اور ایک ذمہ دارا شہری ہونے کے ناطے سب سے پہلے ہمارا فریضہ ہے کہ ہم ان کی مدد کے لئے پہونچیں ، اور طبیعیات کے طالب علم کی حیثیت سے ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم انہیں یہ بتائیں کہ یہ زلزلہ ان کے عقیدے کے مطابق اللہ کا عذاب نہیں ہےبلکہ درحقیقت ساختمانی سطح میں حرکت پیدا ہوئی تھی اور قشر زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہی رہتی ہے اور اسی طرح پہاڑوں کی تخلیق ہوتی ہے اور زلزلے وغیرہ آتے ہیں۔ اور اس طرح میں نے اس کے بارے میں چند منٹ باتیں کیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ویسے یہ کلاس جوہری طبیعات کی کلاس تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ آپ اسے امریکی زبان میں انڈر گریجویٹ سال دوم کی کلاس کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ رد عمل بھڑک اٹھا ‘‘لیکن پروفیسر! سورہ زلزال وغیرہ میں قرآن کہتا ہے خدا زلزلے اس لئے بھیجتا ہے کیونکہ تم گنہگار ہو۔ ٹھیک ہے۔ اور کلاس میں صرف یہی ایک رائے پیش کی گئی۔ ہم نے کہا کہ اگر بات ایسی ہے تو کیوں یہ زلزلہ ایک ایسے علاقے میں آیا جہاں لوگ غریب ہیں اور جہاں ان کے پاس گناہوں کے مواقع کم دستیاب ہیں، بلکہ زلزلہ تو یہاں اسلام آباد میں آنا چاہئے کیونکہ یہاں شراب نوشی کرنے والے لوگ موجود ہیں اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس شہر کے ان سرمایہ داروں کے علاقوں میں لوگ اور کیا کیا کرتے ہوں گے۔ لہذا یہ وہاں کیوں آیا اور اس دن کیوں آیا جب لوگ روزے کی حالت میں تھے اور وہ مہینہ رمضان کا مہینہ تھا۔ ہم نے یہ دلیل دی اور اپنی بات پوری کی۔ طالب علموں میں سے کسی ایک فرد نے بھی اس کی حمایت میں لب کشائی نہیں کی۔ (مجھے محسوس ہوا) ٹھیک ہے، مجھے اب اپنی گفتگو ختم کر دینی چاہئے۔ (اس کے بعد) میں اپنی اگلی کلاس میں گیا اور میں نے بالکل یہی بات کی اور وہاں بھی مجھے بالکل اسی رد عمل کا سامنا ہوا۔ اور اس کی وجہ سے میں بہت افسردہ خاطر تھا۔ کچھ گھنٹے بعد پانچ طالب علم میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ "پروفیسر! اصل میں ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں لیکن وہاں پر ہم بات کرنے سے ڈرتے تھے۔ اور آپ کو یہ معلوم ہے کہ اس جیسی کوئی چیز جس کا براہ راست طبیعیات سے تعلق ہے اور جسے وہ علت اور معلول کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں ان کے بارے میں انہیں یہ لگتا ہے کہ انہیں مسترد کر دیاجانا چاہیے کیونکہ مذہب کی تعلیم اس کے بر خلاف ہے۔ اب علت اور معلول کو جدا کرنے پر رد عمل کی دوسری قسم بیان کی جاتی ہے۔ اور مجھے ضرور یہ کہنا چاہیے کہ یہ صرف زلزلے نہیں ہیں، دیگر ایسے مسائل بھی ان سے متعلق ہیں جن کا تعلق فطری رجحان سے ہے۔ چند سال قبل میں نے اسلام اور سائنس کے عنوان پر پاکستان کی سب سے مشہور یونیورسٹی یعنی لاہور میں لاہور یونیورسٹی مینجمنٹ سائنسز میں ایک خطاب دیا تھا۔ اور وہاں بھی اسی طرح ایک مثال کے طور پر میں نے کہا کہ اس لمحے لاکھوں لوگ قحط کو دور کرنے کے لئے بارش کی دعا کر رہے ہیں۔ اور اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ سائنس کسی کام کی چیز ہے تو آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ بارش دعا سے نازل نہیں ہوگی۔ وہاں بھی لوگ اسی طرح بھڑک اٹھے اور وہ واقعہ انٹرنیٹ پر شائع ہو گیا اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کے پاس بھی یہ معاملہ چلا گیا جسے یہ بتایا گیا کہ میں ایسی باتیں کر رہا ہوں جو کفر اور الحاد ہیں۔ لہٰذا، یہ دوسرا رد عمل تھا۔

لیکن اب میں تیسرے رد عمل کی بات کرتا ہوں۔ یہ ردعمل اس طرح ہے کہ سائنس اہم ہے لیکن کون یہ کہتا ہے کہ مغرب حق پر ہے۔ ہمارے پاس ایک اسلامی سائنس ہے جو بہت کام کی ہے اور یہ 14 سو سال قبل ہی لکھی جا چکی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیاء الحق اقتدار میں تھے۔ انہوں نے 1977 ء میں اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا اور اگرچہ یہ تصور پہلے سے ہی موجود تھا لیکن جب وہ پاکستان کے صدر بنیں تو یہ تصور انتہائی مقبول ہوگیا۔ میں آپ کے سامنے اس کی چند مثالیں پیش کروں گا۔ میرے محکمہ کے چیئرمین جن کا نام محمود مظہر قریشی تھا جو بہت نیک انسان تھے ، انہوں نے اس رفتار کا حساب لگایا تھا جس رفتار میں آسمان زمین سے آگے چلتا ہے ، جس میں انہوں نے یہ پایا کہ اس کی رفتار ایک سینٹی میٹر فی سیکنڈ ہے جو کہ روشنی کی رفتار سے کم ہے۔ لہٰذا ، کون سا حساب قابل ذکر ہے؟ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ لیلۃ القدر یعنی وہ رات جس میں قرآن نازل کیا گیا تھا اس ایک رات کی عبادت ایک ایک ہزار عام راتوں کی عبادت کے برابر ہے، لہٰذا ، ایک ہزار کا عنصر آئنسٹائن کے ذریعہ پیش کردہ وقت کی کشادگی کے عنصر کے برابر ہے اسی لئے یہ درست ہے، یہ روشنی کی رفتار سے بھی کم فی سیکنڈ ایک سینٹی میٹر ہے، لہٰذا یہ درست ہے۔ اور وہاں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو معاشرے میں کولومب کے قانون پر مبنی منافقت کی حد کا حساب لگا رہے تھے۔ مختلف ممالک کے لوگوں نے ایسا کیا اور اپنے نتائج شائع کئے اور اس کے بعد سید بشیر الدین محمود کا ایک قابل ذکر مقالہ آیا جس میں انہوں نے کہا کہ صرف جنّوں کو قبضہ میں کر کے پاکستان میں توانائی کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے ، جنہیں اللہ نے اس وقت پیدا کیا جب انسانوں کو پیدا کیا ، اس لئے کہ اللہ نے ہم سب کو گاری مٹی سے پیدا کیا ، اورفرشتوں اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا ، اور آگ ہی توانائی ہے ، اور ہمیں توانائی کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں صرف جنوں کو پکڑنے کی ضرورت ہے اور مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ کو جوہری توانائی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایک ایٹمی توانائی انجنیئر تھے میں انہیں کوئی برا انجنیئر نہیں کہہ رہا ہوں۔ ایک تحقیق ایسی ہے جسے خود انہوں نے انجام دیا ہے اور یہ ان کی ایک بین الاقوامی تحقیق ہے ، اور وہی ایک ایسے فرد ہیں جنہوں نے 11/9 سے صرف چند ماہ قبل اسامہ بن لادین سے ملاقات کی ہے۔ وہ اس وقت سے گھر ہی میں ہیں جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ، ان کے ساتھ ہمارے غیر دوستانہ تعلقات تھے ، وہ بہت تلخ مزاج تھے، اور وہ مجھے اسلام مخالف قوت کہتے تھے۔ لیکن اگر آپ غور کریں کہ یہ ایک انتہائی پریشان کن صورت حال ہے اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو تکنیکی طور پر ہنر مند ہیں اور اگر ہم ان کی بات مانیں تو یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ری ایکٹر کو ڈیزائن کیا تھا اور کسی ری ایکٹر کو دوبارہ ڈیزائن کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے، جس سے اب پلوٹونیم اور خوشاب پیدا ہو رہے ہیں ۔ وہ ایک فوجی ریکٹر ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسے انہوں نے ہی ڈیزائن کیا ہو گا لیکن یقینی طور پر وہ اس منصوبے کے ڈائریکٹر تھے اور اس میں ان کا کافی تعاون تھا۔ ایک زمانے میں اس طرح کے اسلامی سائنس بہت مقبول تھے لیکن واضح طور پر اپنی مضحکہ خیز نوعیت کی وجہ سے ان کا مذاق بنانا آسان تھا، لیکن اب وہ غائب ہو چکے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک چوتھا رد عمل بھی ہے جس میں سائنس میں تمام دریافتوں کا سہرا مسلمانوں کے سر باندھا گیا ہے ، لہٰذا ، اگر آپ ویب سائٹس پر جائیں اور اگر گوگل پر اسلامی سائنس ٹائپ کریں تو وہاں آپ معمولی انٹرنیٹ بینر پائیں گے جن پر یہ تحریر ہو گی کہ 1400 سال قبل جن معجزات کی پیشن گوئی کی گئی تھی اور سیاہ سوراخ سے لیکر کوانٹم میکانکس اور اینٹی بائیوٹیکٹس تک سبھی چیزیں وہاں موجود ہیں۔ کاش کہ میرے پاس اتنا وقت ہوتا یا میں ملاؤں کے ساتھ بات چیت میں اپنے تجربات سے آپ سب کو آگاہ کر سکتا ، میں نے ایک بہت مشہور مولوی سے ٹیلی ویژن پر یہ سوال پوچھا کہ اگر قرآن میں ہر چیز موجود ہے تو مغرب نے کیوں کر ان تمام چیزوں کو ایجاد کیا ہے، اور ہمارے پاس وہ چیزیں نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ مغربی سائنسدان بستر پر سونے سے پہلے قرآن پڑھتے ہیں ہے، صبح کے وقت جاگنے کے بعد قرآن پڑھتے ہیں ، اور جب وہ اپنے لیبارٹری میں جاتے ہیں تو پھر قرآن پڑھتے ہیں جہاں انہیں پہلے سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا دریافت کرنے جا رہے ہیں۔

اور آخر میں اس کا ایک پانچواں رد عمل بھی ہے اور یہ سائنسی استدلال کی عسکریت پسند تردید ہے لیکن یہ صرف ارتقاء کے لئے مخصوص ہے۔ اس کا تجربہ اس وقت ہو جب میں کالجوں یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں گیا اور وہاں اپنا خطاب پیش کیا جس کا عنوان (from coax to humans) ہے۔ یہ بگ بینگ سے لیکر انسانوں تک کے ہمارے سفر کا بیان ہے۔ ایک وقت تھا جب منتظمین نے پیچھے کے دروازے سے مجھے باہر کر دیا تھا۔ اس حرکت سے لوگوں کو غصہ آتا ہے لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ اس لئے ہے کیوں کہ میں کئی دہائیوں سے یہ کام کر رہا ہوں لیکن پچھلی دہائی یا گزشتہ 10 سالوں میں لوگوں کا درعمل مختلف رہا ہے اور مجھے اس کی وجہ بھی معلوم ہے۔ اس کی وجہ مذہبی ٹی وی چینلز ہیں جن پر اب ہارون یحیی کو نشر کیا جا رہا ہے۔ اس پر دوبارہ آنے کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ ارتقاء کے اس نظریہ کو شعوری طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔ اب مجھے اپنی گفتگو ختم کرنی چاہئے، کاش کہ میرے پاس زیادہ وقت ہوتا، لیکن ٹھیک ہے۔ ہم نے اس لچک کا مشاہدہ اس لئے کیا ہے کیونکہ ہم سب مسلمانوں ہوں یا کوئی اور وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ رات کھانے پر سلمان یہ سوال کر رہا تھا کہ کیوں برے عقائد جلدی نہیں مرتے اور یہ غالب کیوں رہتے ہیں ، مجھے لگتا ہے کہ اس کا جواب میں نہیں دے سکتا لیکن میں ایک اندازہ پیش کرنے کا خطرہ اٹھا سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ عقائد اس لئے زندہ رہتے ہیں کیوں کہ وہ ہماری بقا کے لئے ضروری ہیں۔ میں آپ کو دو مثالیں دونگا؛ تصور کریں میں ایک غار باش وحشی انسان ہوں۔ فرض کریں کہ ایک وحشی انسان اپنے غار سے نکل کر باہر آیا اور اس کے چند تجربات نے اسے یہ بتایا کہ یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی تربیت اور نشو نما اس طرز پر ہوئی ہے کہ اس کے بڑے بزرگوں نے اسے یہ بتایا ہے کہ جب بھی تم اپنی غار سے باہر آنا تیار رہنا ، اب آپ یہ مان لیں کہ اب وہ زندہ رہنے کے قابل نہیں ہو گا۔ لہذا استثناء کا خیال کیا جانا چاہئے، یا آپ مثال کے طور پر علم طبیعیات کی ایک شاخ ذراتی طبیعیات (Particle Physics) کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارے پاس اس کا ایک ٹھوس نظریہ موجود ہے کہ کس طرح کوئکس (Coax) سے مختلف ذرات بنائے جاتے ہیں، لیکن فرض کریں کہ ایک ذرہ ایسا ہے جو سانچے میں ڈھل نہیں رہا ہے۔ تو کیا میں اس زمانے کے ذراتی طبیعیات کے کوانٹم کرومو حرکیات کے تمام فیلڈ کو مسترد کر دوں گا۔ نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ اس کے برعکس میں انتظار کروں گا یہاں تک کہ یہ کام پورا ہو جائے اور میں پورے نمونے کو مسترد نہیں کروں گا۔ کچھ نکات پر مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو نمونے کی تبدیلی کو تسلیم کرنا چاہئے ، لیکن اس کا وقت کب آتا ہے یہ ہمیں نہیں معلوم اسی لئے ہم غلط عقائد کی طرف بڑھتے ہیں اور ہم ان کی طرف بڑھتے ہیں۔ شاید آئندہ نسل اسے قبول کر لے۔ یہ میرے دماغ کے لئے ایک کھلا سوال ہے جسے میں واقعی بہتر سمجھنا چاہتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

ویڈیو کا یو آر ایل:

https://www.youtube.com/watch?v=UUz-hTns-1o

URL: http://newageislam.com/multimedia/pervez-hoodbhoy-trnew-age-islam/darwin-and-evolution-in-the-muslim-world--science-as-silent-subversion--ڈارون-اور-مسلم-دنیا-میں-ارتقاءکا-نظریہ---سائنس-ایک-خاموش-تخریب؛-پرویز-ہودبھائی/d/113301

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content