certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (01 Feb 2018 NewAgeIslam.Com)


The Principles of War from the Quran قرآن میں جنگ کے اصول

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

18 جنوری 2018

قرآن تمام لوگوں کے لئے ایک مشترکہ پیغام کے ساتھ ایک عالم گیر مذہب ہے:

 (12:107) اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔( 12:104، 38:87، 68:52، 81:27) "یہ پوری دنیا کے لئے ایک پیغام سے کم نہیں ہے۔

حالانکہ وحی کا ایک سیاق و سباق ہے اور قرآن کو ایک تجرباتی تعلیمات کی کتاب قرار دیا جا سکتا ہے ، اس کے وہ مشترکہ اصول جنہیں آسانی کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے ان کا اطلاق مذہب سے قطع نظر تمام لوگوں پر ہوتا ہے۔ قرآن کریم اللہ کی راہ میں جنگ پر جامع ہدایات فراہم کرتا ہے۔

جنگ سے متعلق تمام آیات پر غور و فکر کرنے کے بعد جو اصول اخذکئے گئے ہیں وہ واضح اور غیر مبہم ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبوی مشن کے وقت اور حالات کے مطابق کسی بھی آیت میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ لہٰذا، یہ اصول ابدی اور الہی ہدایت اور تعلیمات پر مبنی ہیں، جو کہ تمام صحیفوں میں مشترک ہیں اور تمام لوگ بطور ہدایت اسے اخذ کر سکتے ہیں ، خواہ وہ دین اسلام کی پیروی کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ واضح اصول حسب ذیل ہیں:

1۔ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ مذہبی طور پر جبر و اکراہ کی کوئی بھی صورت اور کسی کو پر امن طریقے سے کوئی بھی مذہب اختیار کرنے سے روکنا مذہبی ظلم و ستم ہے۔

2۔ کسی بھی قوم کے خلاف کسی بھی قسم کے ظلم و جبر کو ختم کرنے کے لئے جنگ کا حکم ہے۔ ظلم و ستم مذہبی بنیاد پر یا کسی دوسری شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں ظالم اور مظلوم کے مذہب کا کوئی دخل نہیں ہے۔

3۔ جنگ کا اعلان صرف کوئی حکمران ہی اپنی سیاسی اتھارٹی کے تحت کر سکتا ہے۔ خانہ جنگی جائز نہیں ہے۔ اور ایسے حکمران کی حکومت میں رہنے والے لوگ ہی جنگی جد و جہد میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ظالموں کی حکومت کے تحت رہنے والے افراد اگر ظالموں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں تو پہلے انہیں اس خطے سے ہجرت کرنا لازمی ہے۔

جنگ کرنے کی ایک واحد جائز وجہ ظالموں کے ظلم کا خاتمہ ہے۔ اس کے لئے دوسری کوئی بھی وجہ جائز نہیں ہے۔

مکہ کے لوگوں کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر جنگیں پیغمبر اسلام ﷺ اور نئے دین اسلام کے پیروکاروں کے خلاف ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لئے تھیں۔ مسلمانوں پر 13 برس تک ظلم و ستم اور قتل و غارت گری برداشت کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ پھر بھی کفار مکہ نے ان کا تعاقب کیا، جیسا کہ مدینہ کے قریب لڑی جانے والی تین اہم جنگوں سے واضح ہے جن میں سے آخری جنگ کی شروعات خود مدینے کے محاصرے سے ہوتی ہے۔ آخر کار مسلمان اپنے دشمنوں پر غالب ہوئے۔ سورہ توبہ میں ان مغلوب دشمنوں پر فیصلہ سنایا گیا ہے۔ مذہبی ظلم و ستم کرنے والے مفتوح لوگوں پر فیصلے کے عام اصول مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ جن جنگجوؤں نے جنگیں کیں لیکن کبھی اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کی، انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور امن سے رہنے کی آزادی عطا کی جائے ،اگر وہ اپنی خواہش سے ذمی ہونا تسلیم کر لیں۔

2۔ جو لوگ غدار تھے اور جنہوں نے اپنے معاہدوں کے خلاف جنگ کی اگر وہ تحفظ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہیں خدا کا کلام سنانا جائے اور اگر اس کے بعد بھی وہ دین کو قبول کرنے سے انکار کردیں، تو انہیں اپنے علاقے سے باہر محفوظ جگہ پہنچا دیا جائے۔

3۔ جو لوگ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی میں جنگ کرنے والے ہیں انہیں چار مہینے کی مہلت دی جائے تا کہ وہ کسی پڑوسی ملک میں ہجرت کر کے چلے جائیں یا فاتح کا دین قبول کر لیں۔ جو لوگ اشہر حرم کے اختتام پر بھی اپنی سرکشی پر قائم رہیں انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگ سے متعلق قوانین انتہائی نرمی پر مبنی ہیں۔ اگر یہ معاہدہ کے خلاف بغاوت کے بغیر ایک منصفانہ جنگ ہے، تو مفتوح نئی سیاسی اتھارٹی کو تسلیم کر لیں اور ذمی بننے کے لئے تیار ہو جائیں اور وہ پر امن طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے بھی جلاوطنی یا فاتح کا مذہب قبول کر کے اپنی جان بچا سکتے ہیں۔ یہ قوانین ان لوگوں کے لئے غیر منصفانہ نہیں ہیں جنہوں نے اپنے فاتح کے مذہب کو ختم کرنے کے لئے جنگ کی تھی۔

دیگر ایسی تمام جنگوں میں جہاں مذہب کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان میں صرف اور صرف جنگجوؤں کی غداری ہی کی بنیاد پر موت یا جلاوطنی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ باقی تمام لوگوں کو فاتح کا ذمی بننے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے یا وہ وہاں سے ہجرت کر سکتے ہیں۔

دیگر ممالک / اقوام کے ساتھ معاہدے، اتحاد اور تعلقات

قرآن پاک واضح طور پر امن معاہدوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے کی حمایت کرتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب پر عمل کرنے والے ہیں ، خواہ وہ ہمارے دشمن ہی کیوں نہ ہوں۔

(8:61) اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سارے کفار قبیلوں کے ساتھ معاہدہے کیے تھے۔ قرآن معاہدوں کی پابندی کی اتنی سخت تاکید کرتا ہے کہ اگر آپ کے اپنے لوگوں میں سے کسی نے کوئی ایسا جرم کیا ہے جس کی سزا موت ہے اور پھر وہ ان لوگوں کے پاس جا چکا ہے جن کے ساتھ آپ کا معاہدہ ہے تو آپ اسے چھو بھی نہیں کر سکتے۔ اس طرح کے تحویل مجرمین کے معاہدے اس زمانے میں اس قدر عام نہیں تھے۔

یہ ایک نظریاتی صورت حال ہے لیکن اگر مشرکین کے کسی قبیلے نے نبی ﷺسے کہا ہوتا کہ "ہم آپ کے دین کو نہیں سمجھتے اور اسے قبول نہیں کرتے ہیں، لیکن ہم اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق کا دفاع کرتے ہیں، اور ہم آپ پر ظلم و ستم کرنے والوں کے خلاف آپ کی لڑائی میں آپ کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کے لوگوں کے ساتھ آسانی سے باہمی تعاون اور اتحاد کا معاہدہ کر لیتے۔ ظالموں کے خلاف فتح حاصل کرنے پر وہ اس جماعت کو نئی سیاست میں اعزاز کا مقام عطا کرتے ، قطع نظر اس کے کہ وہ اسلام قبول کریں۔ قرآن کریم کے پیغام کے پیش نظر ایسے لوگوں کو اللہ ایمان کی دولت بھی عطا کر دیتا۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:

اسلام میں، دوسرے کافر ہیں، لیکن وہ غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ وہ غیر منصف اور ظالم ہیں جو اسلام سمیت کسی بھی مذہب پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں اللہ کا مقصد تمام قسم کی نا انصافیوں اور ظلم کا خاتمہ کرنا ہے، اور جو لوگ انصاف کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ظلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں وہ "اللہ کی جماعت" ہیں اور مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایک "امت واحدۃ" یا ایک متحدہ محاذ قائم کرنا چاہئے تاکہ نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ ہو سکے۔

 اسلام کا خدا تمام لوگوں کا خدا ہے اور ہماری فقہ کے مطابق اللہ تعالی صرف مسلمانوں کا کوئی علاقائی خدا نہیں ہے ، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔

"سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی (2:112)۔

قرآن کریم کا مسلمان صرف وہی ہے جو خدا کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہے (خواہ اس کا نام جو بھی ہو)، اور نیک اعمال کرتا ہے۔ لہذا صرف دو قسم کے لوگ ہیں - جو ظلم کے خلاف ہیں اور انصاف کے لئے کھڑے ہوتے ہیں وہ اللہ کے دوست اور اس کے مددگار ہیں اور ظالم انسانیت اور خدا کے دشمن ہیں۔ یہ قرآن کا عالمی پیغام ہے۔

متعلقہ مضامین ہیں:

1. The Story of the Prophetic Mission of Muhammad (Pbuh) In the Qu’ran (Part 4): The Medinian Period

2. The Story of the Prophetic Mission of Muhammad (pbuh) in the Qu’ran (Concluding Part) Summary

3. The Much discussed and debated Medinian Verses Relating to Fighting

4. The Story of the Prophetic Mission of Muhammad (pbuh) From the Qu’ran (Part 6): The People of the Book and Jiziya

5. The Momineen and the Kafirin

6. The Correct Understanding of the So Called ‘Sword’ Verses of Surah Taubah

 

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-principles-of-war-from-the-quran/d/113978

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-principles-of-war-from-the-quran--قرآن-میں-جنگ-کے-اصول/d/114120

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content