certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (03 Nov 2018 NewAgeIslam.Com)


There should be critical awareness and Courage of criticism in Ummah, No Matter how difficult the Situation is !امت میں تنقیدی شعور بھی ہونا چاہئے اور تنقید کی جرأت بھی، خواہ کتنی ہی مشکل صورت حال ہو

 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

2نومبر،2018

اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سوچنے سمجھنے اور عمل کرنیکی صلاحیت دی ہے، اس لحاظ سے اسے ایک بااختیار ت مخلوق بنایا گیا ہے، اوراسی وجہ سے اس کے عمل سے دنیا و آخرت میں جزا وسزا کا حکم متعلق ہے۔ اسی قوت و صلاحیت کی بنا پر وہ دانستہ بھی غلطی کرتا ہے اور نا دانستہ بھی، کبھی جان بوجھ کر غلطی کا مرتکب ہوتا ہے، او رکبھی انجانے میں ۔ انسان کی اس فطری کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر انسان کہیں نہ کہیں خطا کا مرتکب ہوتا ہے ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر :4251) ۔ انبیاء کرام چونکہ انسان کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں، اور ان کی زندگی اسوہ ہوتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ان کی حیات طیبہ فکر و عمل کی کوتاہیوں سے پاک ہو۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس فطری کمزوری کا حل بھی بتایا کہ انسان کو چاہئے کہ جوں ہی اس کو غلطی پر تنبہ ہوجائے، غلطی کا احساس ہوجائے خواہ خود غور وفکر کے نتیجہ میں یا لوگوں کے توجہ دلانے پر ، تو وہ اپنی غلطی سے رجو ع کرلے،اور تائب ہوجائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین خطا کار وہ ہے جو توبہ کرلے۔ ( سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :4251)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی غلطی پر متنبہ کیا جائے اور درست تنقید کی جائے تو اسے بُرا نہیں ماننا چاہئے، بلکہ اسے قبول کرنا اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا چائیے ،اسی لئے شریعت میں امر بالمعروف او رنہی عن المنکر یعنی: نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے عمل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔منکر سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو روکے جانے کے لائق ہو، جس پر نکیر کرنے کا حکم ہو او رجوکسی بھی درجہ میں نا پسندیدہ ہو، البتہ جو عمل بس درجہ نا پسندیدہ ہوگا، اس سے منع کرنے کا اسلوب بھی اسی درجہ کا ہوگا۔ اسی طرح جس کو منع کیا جارہا ہو ، اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت کرنابھی ضروری ہے،جیسے اولاد کو روکنے کا انداز الگ ہوگا اور والدین کو منع کرنے کا انداز الگ ، حکام اور سربراہ کو متنبہ کرنے کا الگ طریقہ ہوگا اور عوام کو متنبہ کرنے کے الفاظ الگ ہوں گے، لیکن بہر حال نہی عن المنکر کی اجازت بلکہ اس کا حکم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ امت میں تنقیدی شعور بھی ہونا چاہئے اور تنقید کی جرأت بھی، خواہ کتنی ہی مشکل حال ہو ، ضروری ہے کہ تنقید کا حوصلہ برقرار رکھائے جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین جہاد یہ ہے کہ انسان ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہے:( شعب الایمان ، حدیث نمبر :7936)دوسری طرف یہ فرماکر کہ ہر آدمی سے خطا ہوسکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے تمام طبقات کو تعلیم دی کہ ان کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہوناچاہئے، یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے، یہ غلطی نا واقفیت کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے، نفس اور شیطان کے اُکسانے پر بھی ہوتی ہے۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کا ایسا مزاج بنایا کہ اگر کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات خلاف معمول معلوم ہوتی تو کمال ادب کے ساتھ اس پر توجہ دلاتے ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ، یہ بات بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کے خلاف تھی کہ ظالم کے خلاف مزاحمت کی جائے اور مظلوم کی مدد کی جائے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کے باوجود خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ عرض کیا: کہ مظلوم کی مدد کرنا توٹھیک ہے،لیکن ہم ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اس کا ہاتھ تھام لو اورظلم کرنے نہ دو ۔ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر :2444)

بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے الگ تھی ، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس سے مختلف مشورہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ بُرا نہیں مانا ، بلکہ اپنے رفقاء کی رائے کو ترجیح دی، حالانکہ بعد کے حالات سے واضح ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی درست رائے تھی، جیسا کہغزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کریں، لیکن بعض پرُ جوش نوجوان صحابہ باہر نکل کر مقابلہ کرناچاہتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو ترجیح دی۔ ( البدایۃ والنہایۃ :4،11)

غزوۂ خندق کے موقع سے صورت حال کی نز اکت کو دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے تھی کہ دشمنوں سے اس بات پر صلح کرلی جائے کہ مدینہ کی پیداوار کا کچھ حصہ انہیں سالانہ ادا کیا جائے گا لیکن انصار کے رؤ سا حضرت سعد رضی اللہ عنہ بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم نے تو زمانۂ جاہلیت بھی ایسا حقارت آمیز معاہدہ نہیں کیا اور اب تو ہم مسلمان ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کے مشورہ کو قبول فرمایا لیا ( سیرۃ ابن ہشام :223/2)

ایک دفعہ نماز پڑھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت والی نماز میں تیسری ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، بیشتر صحابہ خاموش رہے، لیکن ذوالید ین رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابی نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کی رکعت میں کمی کردی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھول ہوئی ہے؟ ( نسائی ، حدیث نمبر :1228) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر حاضرین سے دریافت کیا اور جب تصدیق ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی ۔ (حوالہ سابق)

یہ واقعات اس مزاج کو ظاہر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے لئے چاہتے تھے ۔ اس کی سب سے اہم مثال وہ ہے جب غزوۂ حنین کے موقع سے ڈھیر سارا مال حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مال اسلام سے مانوس کرنے کے لئے فتح مکہ کے موقع سے اسلام قبول کرنے والے نو مسلموں او ربعض دیگر حضرات کو عنایت فرمایا اور انصار کو اس سے میں سے کچھ بھی نہیں دیا، اس بات نے نہ صرف نوجوانان مدینہ بلکہ عمر رسید انصار کو بھی متاثر کیا اور ان کو آپ کا یہ فیصلہ ناگوار گزرا، لیکن ان کو اس میں کوئی تامل نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کی پوری رعایت کرتے ہوئے اپنا شکوہ پیش کریں، چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے انصار کی ترجمانی کی، اور اس عمل کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کئے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ شکایت انصار کے دوسروں لوگوں کو ہے یا تم کو بھی ہے؟ تو انہوں نے بلا تامل او ربرملا عرض کیا کہ میں بھی قوم کے ان جذبات میں شریک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ایک جگہ جمع کرایا او رنہایت اثر انگیز خطبہ کے ذریعہ اپنے اس فیصلہ کی وضاحت کی، اور انصار اس سے مطمئن ہوئے ۔ ( مسند احمد ابن حنبل ، حدیث نمبر :11784)

غور فرمائیے کہ نہ صحابہ کو اپنی شکایت پیش کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلہ سے متعلق اپنے تحفظات پیش کرنے میں تامل ہوا اور نہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکایت کا بُرا مانا۔

مگر افسوس کہ اب مسلمانوں میں نہ تعمیری تنقید کا حوصلہ رہا، نہ تنقید کرنے کا سلیقہ او رنہ تنقید کو برداشت کرنے کا مزاج ۔ قریب قریب پورے عالم اسلام کی یہی صورت حال ہے جب کہ عالم عرب کی صورت حال تو بد تر ، بلکہ بدترین ہے، جہاں مکمل زبان بندی نافذ ہے، اور حکومت کے موقف کے خلاف ایک حرف لکھنے کی اجازت نہیں تجسس کا ایسا نظام ہے کہ عوام اپنی خلوتوں میں بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہیں ، اگر فکر و خیال کو قید کرنے اور اس پر پہرہ بٹھانے کی گنجائش ہوتی تو شاید حکمراں یہ بھی کر گزرتے ۔ حد یہ ہے کہ جو حکمراں درست یا نا درست طریقہ پر الیکشن لڑ کر آتے ہیں، ان کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ہندوستان کے مشرقی پڑوسی بنگلہ دیش میں آئے دن حزب مخالف کے لیڈروں کو پھانسی پر چڑھایا جاتا ہے یا عمر قید کی سزائیں دی جاتی ہیں ، کاش ! یہ ممالک امریکہ، یورپ اور ہندوستان سے سبق لیتے کہ وہاں پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر، نیز اخبارات ، برقی میڈیا او ر سوشل میڈیا میں کس قدر حکومت کا کار کردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسی تنقید کا نتیجہ ہے کہ حکومت کے اندر عوام کے سامنے جوابدہی کاخوف ہوتاہے، سیاسی استحکام قائم رہتا ہے،حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن نظام میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، ملک کی ترقی جاری رہتی ہے، اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ خیر، یہ جو کچھ ہوا، اور جن لوگوں نے کیا ، وہ تو آخرت میں اپنے عمل کے جوابدہ ہوں گے اور دنیا میں بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے آخری انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن قابل غور پہلو امت کا یہ بگڑتا ہوا مزاج ہے کہ ایک تو برائیوں کو روکنا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے، وہ بدترین قسم کے نفاق اور چاپلوسی میں مبتلاہیں ۔

صحابہ سے بڑھ کر راہ سلوک کا رہبر کون ہوسکتا ہے ، اور فقہاء مجہتدین سے بڑھ کر دین و شریعت کا رمزشناس کیا کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ لیکن انہوں نے کبھی اپنے متبعین سے ایسی بے چون و چرا پیروی کا مطالبہ نہیں کیا، مگر اب ملت کے ہر شعبہ میں یہی مزاج در آیا ہے، چاہے مذہبی و ملی تنظیمیں ہوں، مسلمانوں کی سیاسی جماعتیں ہوں، تعلیمی و تربیتی ادارے ہوں، یہاں تک کہ مساجد کے نظم و نسق کے ذمہ دار ہوں، ہر جگہ یہی صورت حال ہے کہ ذمہ داروں کے اندر معمولی تنقید سننے کا بھی حوصلہ نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ اب یہ مزاج ہماری دینی درسگاہوں میں بھی پہنچ گیا ہے کہ بہت سے اساتذہ کو اپنے طلبہ کا سوال کرنا برداشت نہیں ہوتا ، یہ کسی بھی قوم کے لئے بہت ہی بد بختانہ بات ہے ، اور اس کے علمی وفکری زوال کا پیش خیمہ ہے کہ لوگوں میں برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ باقی نہ رہے ، وہ اہل اختیار کی خوشامد اور چاپلوسی کے عادی ہوجائیں، نہ صرف یہ کہ غلطی پر خاموش رہیں، بلکہ ارباب اختیار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے رات کو دن اور دن کو رات کہنے کے لئے تیار ہوجائیں ، اور دوسری طرف ارباب اختیار اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھنے لگیں اور مشورہ لینا اور مشورہ سننا ان کو بارِ خاطر ہو۔

یقیناًسربراہ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کی بھی حدود ہیں، سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : میری بات سنو! اللہ تم پر رحم فرمائے ، کہنے لگے : خدا کی قسم! نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنیں گے او رنہ مانیں گے جب تک آپ ہمارے سوال کا جواب نہ دے دیں۔ یہ کوئی اور صحابی نہیں بلکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان جیسے صحابی کے احتجاج پر حیرت ہوئی اور انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اس کا سبب دریافت فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس لئے کہ آپ نے امتیاز سے کام لیا ہے، آپ نے ہم لوگوں کو ایک ایک چادر دی ہے اور خود دو چادریں اوڑھ رکھی ہیں، یہ چادریں بیت المال کی جانب سے تقسیم کی گئیں تھیں ۔ حضرت عبداللہ اٹھے ، آپ نے ان سے دریافت کیا: یہ دوسری چادر کس کی ہے؟ حضرت عبداللہ نے عرض کیا : میری ۔پھر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجمع کے سامنے وضاحت فرمائی کہ جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں ، میں دراز قامت آدمی ہوں ، میری حصہ میں جو چادر پڑی تھی ، وہ چھوٹی پڑگئی، میرے بیٹے عبداللہ نے اپنے حصہ کی چادر بھی مجھے دے دی، میں نے ان دونوں چادروں کو ملا لیا ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے او رکہنے لگے: اللہ کا شکر ہے امیر المؤمنین ! اب ہم آپ کی بات سنیں گے بھی او راس پر عمل بھی کریں گے ۔ ( اعلام الموقعین :128/1)

یہ ایک بہترین مثال ہے اس مزاج کی ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تربیت فرمائی تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ قوم کا سر براہ یہ سمجھتا کہ میں جو کچھ کہوں، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے بے چوں و چرا تسلیم کرلے اور اس کو حق نہیں ہے کہ مجھ سے حساب لے،نہ لوگوں کو اپنے سر براہ کو ٹوکنے اور روکنے میں تامل ہوتا تھا، خواہ وہ کسی مرتبہ پر فائز ہو۔ یہی مزاج فقہاء تک پہنچا، جو نہایت فراخدلی کے ساتھ اور کسی ناگواری کے بغیر اختلاف رائے کو سنتے تھے، اس پر غور کرتے تھے، اس کو اہمیت دیتے تھے اور اگر ان کی بات معقول محسوس ہوتی تو بے تکلف اسے قبول کرتے تھے، اور جس نے غلطی کی نشاندہی کی ہو، اسے اپنا محسن سمجھتے تھے۔

جہاں تعمیر ی تنقید کی جاتی ہو او راسے قبول کیا جاتاہو، وہاں انسان کے اندر خود احتسابی پیدا ہوتی ہے، اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع ملتا ہے، اگر اس نے کوئی قدم غلط اٹھا لیا ہو تو وہ دبے پاؤں اس سے واپس ہوسکتا ہے ، محرومِ منزل ہونے سے خواہ کو بچا سکتا ہے، رفقاء کے درمیان باہمی اعتماد قائم رہتا ہے ، دیر پا اتحاد پیدا ہوتا ہے ، اور اگر افراد بدل بھی جائیں تو ادارے اور جمعیتیں باقی رہتی ہیں، اس لئے ایسے واقعات سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اپنے دائرہ میں شفافیت او رکھلے پن کا ماحول پیدا کریں ، جبر و ظلم کے ذریعہ نہیں، بلکہ محبت اور پاکیزگی کردار کے ذریعہ اپنے ماتحتوں کا دل جیتیں او راپنے مقصد کو اپنی شخصیت سے زیادہ عزیز رکھیں۔

03نومبر،2018 بشکریہ ، انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/there-should-be-critical-awareness-and-courage-of-criticism-in-ummah,-no-matter-how-difficult-the-situation-is--!امت-میں-تنقیدی-شعور-بھی-ہونا-چاہئے-اور-تنقید-کی-جرأت-بھی،-خواہ-کتنی-ہی-مشکل-صورت-حال-ہو/d/116778

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content