certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (14 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



آبادی میں اضافہ مگر اخلاقیات میں کمی؟

مولانا اسرار الحق قاسمی

ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق یہ خبر گردش کررہی ہے کہ دنیا کا ہر چوتھا فرد مسلمان ہے ، یعنی دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ پوری دنیا میں پونے دوبلین یا ایک ارب 75کروڑ مسلمان آباد ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے تمام عقاید کے مقابلے میں عقیدہ اسلام پرکار بند ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد سب سے زیادہ ہیں۔ مسلمانوں کے روئے زمین سے مٹادینے کی خواہش رکھنے والے افراد، اداروں اور گرہوں کے لئے یہ نکتہ یقیناً سوہان روح بن گیا ہوگا۔ یوروپ کے اصحاب اقتدار تو ایک عرصہ سے اس اندیشہ میں دبلے ہوئے جارہے ہیں کہ یوروپ میں آئندہ 20برسوں میں مسلمان اکثریت میں آجائیں گے۔ ایک یوروپی ملک فرانس میں تو مسلمانوں کی تعداد اتنی تیزی کے ساتھ بڑ ھ رہی ہے کہ وہاں کے حکمرانوں کو یہ فکر ستارہی ہے کہ آئندہ چند برسوں میں کہیں کوئی مسلمان ہی وہاں کا صدر نہ بن جائے۔ یہی سبب ہے کہ خطہ یوروپ میں فرانس ہی وہ واحد ملک ہے، جہاں مسلمانوں کے خلاف اس وقت سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ منافرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اوباشوں کی طرح کھلے عام ایک مطلقہ ماڈل سے معاشقہ لڑانے والے فرانسیسی صدر نے مسلم خواتین کے برقع کے خلاف متعدد بیانات دے ڈالے ہیں۔ وہاں اسکول ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مسلم طالبات کو برقع یا حجاب استعمال کرنے میں مسلسل دشواری پیش آرہی ہے، یہی نہیں وہاں ایک زبردست مسلم کش فساد بھی رنما ہوچکا ہے۔

ایک قلم کار دیبی شلوشل ایک عرصہ سے پیش گوئی کرتی آرہی ہےکہ امریکہ بھی دوسرا فرانس بن سکتا ہے ۔ 2002میں بھی اس نے ایک مضمون لکھ کر پیش گوئی کی تھی کہ فرانس میں فرقہ وارانہ فساد رونما ہوسکتا ہے۔ اس کی پیش گوئی مسلمانوں سے ہمدردی کے طور پر نہیں تھی، بلکہ وہ اس ممکنہ فساد کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی ٹھہرا نا چاہتی تھی۔اس کی تحریر وں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ فرانس میں آباد یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا چاہتی تھی۔ 2008میں ‘‘لا پروچین’’ میں فساد رونماہوگیا ۔ اس میں بہت سے مسلمان مارے گئے تھے۔ وہاں ایک بستی ایسی بھی ہے ، جو ممبئی کی کسی جھونپڑپٹی سے ہی مشابہ ہے۔ وہاں ہندوپاک کے مسلمان بھی آباد ہیں۔ اس بستی میں آگ زنی کے واقعات بھی ہو چکے ہیں ، حالانکہ فرانس کے یہودیوں کو جو مسلمانوں سے کم تعداد میں آباد ہیں ،یہ شکایت ہے کہ ان کے خلاف وہاں کی حکومت امتیاز برتتی ہے اور مسلمانوں کی ناز برداری کرتی ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرانس میں مسلم کش فسادات یا مسلم مخالف منافرت میں یہودی تنظیمیں اہم رول ادا کررہی ہیں۔ دیبی کا کہنا ہے کہ فرانس میں اس وقت اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ اسے اسلام کے دوسرے درجہ پر  پہنچنے سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اسے تکلیف صرف یہ ہے کہ فرانس میں ماڈرن اسلام نہیں ،بلکہ سخت گیر ، اسلام پھل پھول رہا ہے۔

بہر حال بات دنیا کے ہر چوتھے شخص کے مسلمان ہونے کی چل رہی تھی ۔بعض اخبارات میں اسے بڑی اہمیت کے ساتھ شائع کیا گیا۔ بہت سے حلقوں میں لوگ ایس بات کو لے کر خوش ہیں کہ ان کی آبادی دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے تمام مروجہ یا مجوزہ طریقے شریعت مطہرہ کے خلاف ہیں اور ان کی کسی بھی قیمت پر تائید نہیں کی جاسکتی۔ مسلمانوں کو اپنی آبادی بڑھانے سے دنیا کا کوئی قانون نہیں روک سکتا۔ مسلمانوں کو ایسا کوئی طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ،جو شریعت سے متصادم ہو، لیکن یہاں ٹھہر کر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک مسلمان ہونے کے تمام شرعی تقاضوں کو بھی پورا کررہا ہے۔ اگر ہم مسلمان ہونے کے تمام تقاضوں کو پورا نہیں کررہے ہیں تو ہماری تعداد بھلے ہی دنیا کی آبادی کا نصف کیوں نہ ہوجائے ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ مسلمان کے لئے یہ دنیا اصل نہیں ہے، اس کے لئے اصل وہ زندگی ہے جو ہمیشہ قائم رہے گی۔ یہ تو دارالعمل ہے، یہاں جیسا عمل کیا جائے گا ویسا ہی نتیجہ اس کا وہاں برآمد  ہوگا۔

دنیا بھر میں مسلم آبادی کے تعلق سے زیر بحث رپورٹ کی تیاری میں تین برس کا عرصہ لگا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 232ممالک کی مردم شماری کا مطالعہ کیا گیا۔ یہاں تک کہ آبادی کے تعلق سے 1500سے زیادہ حوالوں اوررپورٹوں کا بھی مطالعہ کیا گیا۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں کی کل تعداد میں سے 60فیصد مسلمان براعظم ایشیا میں رہتے ہیں، جب کہ کل تعداد کا 20فیصد حصہ مشرق وسطی اور افریقہ میں آباد ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والوں کو حیرت اس پر ہے کہ جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ جرمنی میں کل آبادی 8کروڑ 23لاکھ 69ہزار 548 ہے، اس میں مسلمان 4فیصد ہیں جب کہ لبنان کی آبادی 39لاکھ 71ہزار 941ہے۔ لبنان میں مسلمان 60فیصد ہیں اور عیسائی 39فیصد ،یعنی لبنان کے مسلمانوں کی آبادی 24لاکھ کے آس پاس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جرمنی میں مسلمان 24لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ اسی طرح روس میں مسلمانوں کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانو ں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ روس کی کل آبادی 14کروڑ 7لاکھ 2ہزار 94ہے اور اس میں 15فیصد مسلمان ہیں ، یعنی روسی مسلمانوں کی کل تعداد 2کروڑ 10لاکھ ہے ،جبکہ لیبیا کی کل آبادی 61لاکھ 73ہزار 569ہے اور اردن کی 61لاکھ 98ہزار 677ہے ۔ دونوں ملکوں میں بالترتیب 97اور92فیصد مسلمان ہیں۔ دونوں ملکوں کی مجموعی مسلم آبادی ایک کروڑ 10لاکھ کے آس پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایتھو پیا اور افغانستان میں مسلمانوں کی آبادی برابر برابر ہے۔ 300ملین مسلمان تو صرف انہی ممالک میں آباد ہیں، جہاں اسلام دوسرا بڑا یا اکثریتی مذہب بھی نہیں ہے۔

اعداد وشمار کا یہ کھیل بظاہر سننے اور دیکھنے میں اچھا لگتا ہے ،لیکن اگر غور کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے اس سے زیادہ بری صورت حال او رکوئی نہیں ہوگی۔ آج دنیا کی تمام طاقتیں اس کے خلاف متحد ہیں ،مگر وہ خود آپس میں ہی لڑرہا ہے۔ اس وقت مسلم ممالک کی تعداد 56یا اس سے کچھ زیادہ ہے۔ عرب ممالک بھی 22ہیں لیکن کیا یہ 56ممالک مسلمانوں کے تعلق سے کسی بھی ایک عالمی مسئلہ پر متحد ہیں؟ اور اگر وہ متحد ہو بھی جائیں تو کیا ان کے آگے کوئی ایک ملک بھی ڈر ے گا؟ فی زمانہ مسلمانوں کے جو اعمال ہیں، ان سے تو نہیں لگتا کہ تمام مسلم ممالک کے اتحاد سے بھی کوئی اسلام دشمن ملک کو خوف کھائے گا۔

ہم بلاشبہ تعداد میں بڑھ رہے ہیں، لیکن ہمارے اخلاق واعمال ہمیں پستی اور تنزلی کی طرف لے جارہے ہیں۔ دیبی شلوشل نے ہوسکتا ہے کہ مبالغہ سے کام لیا ہو، لیکن جب وہ یہ لکھتی ہے کہ فرانس کی مسلم بستیوں میں غنڈوں اور ڈاکوؤں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو دکھ ہوتا ہے اور سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم زیادہ دور کیوں جاتے ہیں ،خود ہندوستان کی ہی حالات دیکھ لیجئے ۔25کروڑ  مسلمانوں کی آبادی میں کتنے کروڑ مسلمان ہوں گے ، جو صحیح العقیدہ ہوں، راست باز ہوں، معاملات کے اچھے ہوں، دیانت دار ہوں، بااخلاق ہوں؟ ہماری بستیوں میں گھوم جائیے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے بچے اور نوجوان اپنا قیمتی وقت کن لایعنی باتوں اور کاموں میں گزاررہے ہیں۔ مسلم بستیوں میں بچیوں کےاسکولوں کے باہر دیکھئے تو اوباش نوجوان ،چائے خانوں کے باہر دیکھئے تو اوباش نوجوان ، مسجدوں میں نماز ہورہی ہے، لیکن مسجد وں کے باہر اوباش نوجوان خرمستیوں اور گالی گلوج میں مصروف ہیں۔ تعداد میں اضافہ سے کچھ نہیں ہونے والا ، جب تک ہم تمام اسلامی اور ایمانی تقاضوں کو پورا نہ کریں۔ کیا دنیا بھر کے مسلمان ایمانی تقاضوں کے مطابق اپنے اعمال کا محاسبہ کریں گے؟

mahaqqasmi@gmail.com

URL for this article:

http://newageislam.com/articledetails.aspx?ID=1910

 




TOTAL COMMENTS:-   1


  • ????? ?????? ???? ?? ????? ????? ??? ????? ?? ? ????? ????? ????? ??? ????? ??? ???? ?? ?? ?? ??? ?? ??? ??? ? ?? ?? ??? ??? ?? ?? ?????? ?? ??? ??? ? ??? ???? ??? ??? ????? ?? ? ?????? ?????? ??? ??? ??? ?? ??? ??? ???? ??? ????? ?????? ??? ??? ???? ??? ??? ??? ??? ?? ??? ??? ??? ??? ??? ? ???? ?? ?? ?? ????? ?? ? ????

    ??? ???? ????


    By آصف احمد بھٹی -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content