certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (13 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



ایک ارب ہونے کے باوجود لاچار او ربے بس؟

Contemplating the plight of Muslims in the world despite their large numbers – one fourth of humanity - Zafar Agha concludes that this is because Muslims have gone back to the days of the pre-Islamic Jahiliya, though they still claim to abide by Islamic tenets. Islam had freed them from monarchy, feudalism, subservience to an obscurantist priestly class and ignorance. But once again they have left pursuing modern education and rule by consultation and have adopted a monarchical, feudal and exploitative system of governance in most parts of the Muslim world and have come to depend on conservative ulema alone for their education. Hence their degradation, political impotence and a life of slavery despite very large numbers. 

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ایک-ارب-ہونے-کے-باوجود-لاچار-او-ربے-بس؟/d/1902

 

ظفر آغا

مبارک ہو  ، دنیا کا ہرچوتھا انسان مسلمان ہے، عالم اسلام اور دنیا کے گوشے گوشے میں ہرمسلمان کے لئے یقیناً یہ ایک انتہائی پر مسرت خبر ہے کہ اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے اور اس میں عقیدہ رکھنے والے مسلمان دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہیں اور یہ خبر کسی مسلم ذرائع سے نہیں آئی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی والی مسلم قوم کے پاس ایسے ذرائع ہی نہیں ہیں کہ وہ خو د کوئی ایسا سروے کرسکے کہ جس سے صحیح طور پر یہ پتہ چل سکے کہ دنیا میں مسلم آبادی کتنی ہے؟ دنیا میں مسلم آبادی اب ایک ارب ستاون کروڑ ہے، یہ خبر عام طور پر اپنادشمن سمجھنے والے مسلمانوں کو امریکہ کے ایک تھینک ٹینک پپو نے ہی دی ہے ۔ اس تنظیم نے تین برس تک ساری دنیا کا ایک طویل سروے کیا اور اس کے بعد جو تنائج اخذ ہوئے، اس نے ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ اس سروے کے مطابق دنیا کا ہر چوتھا شخص نہ صرف مسلمان ہے ،بلکہ اسی سروے نے ایسے بھی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں کہ جن سے مسلمان بھی آج تک واقف نہیں تھے ۔مثلاً اس سروے کے مطابق فی الوقت جرمنی کی مسلم آبادی لبنان کی مسلم آبادی سے زیادہ ہے اور روس کی مسلم آبادی لیبیا اور اردن جیسے دومسلم ممالک کی مجموعی آبادی سے بڑھ چکی ہے اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی کثیر آبادی عرب ممالک اور افریقہ کے ایک حصے میں پائی جاتی ہے ۔سروے کے مطابق مشرقی وسطی (جس میں کل عرب اور ایران جیسے ممالک شامل ہیں) اور شمالی افریقہ میں عالمی مسلم آبادی کا محض 20فیصد حصہ ہی پایا جاتا ہے اور سب سے چو نکانے والی بات یہ ہےکہ تین سوملین مسلمان ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں اسلام اکثر یتی مذہب نہیں ہے، یعنی تین سو ملین کسی ایسی خالص اسلامی اسٹیٹ کا تصور نہیں کرسکتے ہیں، جس کےلئے طالبان جیسی مسلم تنظیم سرگرم عمل ہے۔

الغرض یوروپ ہو یا امریکہ ہو یا افریقہ ،اسلام کا پرچم دنیا کے کونے کونے میں لہرارہا ہے ۔صدائے لا الہ الا اللہ روس سے مراقش ،نیویارک او رلندن سے احمد آباد اور اسلام آباد، قاہرہ او ر تہران سے لے کر خود اللہ کے گھر مکہ اور اسلام کےمرکز مدینہ تک گونج رہی ہے۔ یہ حقیقت جان کر ظاہر ہے کہ ہر مسلمان کو بیحد خوشی ہوئی ہوگی ،لیکن باحیثیت کوئی پہلی بار دنیا میں عیاں نہیں ہوئی ہے کہ مسلمان دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کو کھنگالا جائے تو شاید یہ حقیقت سامنے آئے کہ رسول ؐ کی زندگی سےلے کر اور ان کی وفات کے تقریباً سوسال کے اندر ہی اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا عقیدہ بن چکا تھا۔ خلفائے راشدین کی زندگی میں ہی اسلام عرب دنیا سے باہر نکل کر ایران ،افریقہ اور یوروپ کی سرحدوں تک پہنچ چکا تھا اور پھر اموی اور عباسی خلیفہ کے دور میں اسلامی مراکز دمشق اور بغداد کاشمار آج کے واشنگٹن او رلندن جیسے شہر وں میں ہوتا تھا ۔ اسلام کا پرچم اور صدائے لاالہ الا اللہ اس دور میں بھی اسپین ،رشیا، اٹلی اور فرانس کے کچھ حصوں سے بلند ہونی شروع ہوچکی تھی۔ یوں تو اس دور میں آج کی طرح دنیا کی آبادی کے اعداد وشمار پر ریسرچ کا کوئی سلسلہ نہیں تھا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ میڈویل دور سے ہی اسلام اور مسلمان دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی بن چکا تھا۔ اس میڈویل دور میں امریکہ گمنام خطہ تھا، اس لئے وہاں تو اسلام کاذکر نہیں تھا۔ باقی وہ یوروپ ہو یا افریقہ ،ایشیا میں ہندوستان ہو یا چین، میڈویل دور کے اسلام اور مسلمان کا وہ دبدبہ تھا کہ اس وقت دنیا کی ہر تہذیب اور عقیدے کو اگر کسی بات سے خطرہ تھا تو وہ اسلامی تہذیب اور اسلامی عقیدہ سے خطرہ تھا ۔مسیحی تہذیب اور کلیسا نے برسہا برس اپنی بقا کے لئے مسلمانوں سے جہاد کیا،جنگوں میں مسلمانوں سےشمشیر بکف رہا۔ ہندوستان میں ہندو عقیدہ کو اگر خطرہ تھا تو یہ تھا کہ کہیں مذہب اسلام سارے ہندوستان پر چھا کر اس ملک سے ہندو تہذہب کا چراغ ہی نہ گل کردے۔ ویسے ہی افریقہ میں نہ جانے کتنے مذاہب صدائے لا الہ الا اللہ میں ایسے گم ہوگئے کہ پھر ان کا وجود محض تاریخ کے اوراق میں ہی بچا۔

یعنی جو رقبہ آج مسیحی تہذیب (جس کو یوروپین تہذیب کہا جاتا ہے) کا ہے ،اس سے کہیں زیادہ رتبہ میڈویل دور میں اسلامی تہذیب کا تھا۔ ایک نہیں جانے کتنے اسلامی تہذیب کےمرکز آج کے یورپین مراکز سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ کبھی دمشق وبغداد دنیا کے میں دولت وثروت کے مرکز بنے تو کبھی قسطنطنیہ ،قاہرہ اور دہلی، آگرہ ولکھنؤجیسے اسلامی تہذیب کےمراکز نے اپنی وہ دھاک جمائی ،جو آج واشنگٹن ،نیویارک اور لندن جیسے شہروں کی ہے۔ آج جس طرح یوروپ اور امریکہ میں دولت وثروت کے ذخائر جمع ہیں یا آج جس طرح ان ممالک کے علم کی شہرت ہے، ویسے ہی کبھی بغداد ، قسطنطنیہ اور دہلی جیسے شہروں میں دولت وثرت کے ساتھ ساتھ علم کے بھی چشمے بہا کر تے تھے اور ساری دنیا سے ان اسلامی تہذیبی مراکز سے فیضیاب ہونے دنیا بھر سے لوگ یہاں جمع ہوا کرتے تھے، لیکن دنیا کی اسی دوسری سب سے بڑی آبادی والی اسلامی تہذیب اور اس میں یقین رکھنے والے ایک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں کی بے بسی کا اب یہ عالم ہے کہ گزشتہ تقریباً ساٹھ برس سے مسلمان قبلہ اول یعنی مسجد اقصیٰ کا رونا رورہا ہے ،لیکن اس کو اسرائیل کے ہاتھوں سے آزاد نہیں کرواسکا ہے۔ اس ہندوستان میں کہ جہاں آج سے کہیں قلیل آبادی میں ہونے کے باوجود مسلمانوں نے اکبر اعظم جیسا مغل بادشاہ پیدا کیا تھا، اسی ہندوستان میں اس وقت ملک کی دوسری سب سے بڑی اور دنیا کی تیسری سب سے بڑی آبادی ہونے کے باوجود بھی مسلمان مودی عشرت جہاں جیسے معصوم مسلمانوں کا قتل کروانے بھی نہیں روک پاتا ہے، اگر آپ سو ڈان او ربہت سے دوسرے افریقی مسلم ممالک جا کر وہاں کا حال دیکھیں تو ان ممالک میں ہزاروں قحط زدہ مسلمان بھوک سے دم توڑ رہےہیں اور ا  ن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

آخر کیا سبب ہے کہ میڈویل دور میں جبکہ آپ کی آبادی آج کی آبادی کے تناسب میں چوتھا ئی بھی نہیں تھی، تب اسلامی تہذیب گلوبل پاور تھی۔ آخر تب کیوں اسلام کے آگے ہر عقیدہ تھرارہا تھا اور دنیا میں مسلمانوں کے ڈنکے بج رہے تھے؟ میرے نزدیک اسلامی تہذیب کے اس عالمی عروج کا بنیادی سبب پیغام رسولؐ تھااور وہ پیغام رسولؐ تھا کیا؟ آج کی جدید زبان میں اسلامی تہذیب ،مسلمان کی قوت اور بلندی کا اگر ایک لفظ میں کوئی راز ہوسکتا ہے تو وہ بنی نوع انسان کو اسلام کا پیغام اخوت تھا اور یہ اسی پیغام اخوت نے بنی نوع انسان کو جس طرح Empowerd کیا وہ Empowerment اسلام کے عروج کے وقت دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا تھا، مسیحی کلیسا پر یورپ او رپادریوں کی وہ گرفت تھی کہ عام مسیحی کو جنت حاصل کرنے کےلئے اس دنیا میں پادری کورشوت دینی ہوتی تھی۔ایک غریب اور عام مسیحی کو جلد گرجا گھروں میں داخل ہونے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ ہندوستان میں ہندو عقیدے کا نہ صرف عروج تھا، بلکہ سومناتھ جیسے نہ جانے ہزاروں مندروں میں کتنی دولت وثروت بھری پڑی تھی ،لیکن ان مندروں میں اعلیٰ ذات برہمن اور چند اور ذاتوں کے افراد کے علاوہ ہندوستان کی تقریباً 95فیصد آبادی قدم بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔ اگر انسان کا عقیدہ اور مذاہب مٹھی بھر پادریوں ،پنڈتوں اور دوسرے مذاہب کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں قید تھا تو دوسری جانب عالم انسانی کسی سیاسی آزادی کا تصور ہی نہیں رکھتا تھا۔ دنیا بھر کے انسانوں کا سیاسی مالک اس دور کا بادشاہ ، اس کا قبائلی سردار ، اس کی ذات کا مکھیا یا پھر اس کا زمیندار ہوتا تھا اور معاشی سطح پر انسان محض دودرجوں یعنی آقا اور غلام کی سطح پربٹا ہوا تھا۔

ایسی روحانی ، سیاسی، سماجی او رمعاشی غلامی کے دور میں صحرائے عرب سے محمد مصطفیٰ ﷺ نے جب صدائے لا الہ الا اللہ بلند کی اور انسانیت کو یہ بتایا کہ دیکھو تمہارا بس ایک رب ہے اور اس رب کے لئے ہر انسان برابر ہے، خواہ محمد ؐقریشی ہوں یا بلال حبشی ہو، تم جب چلو اس کی بارگاہ میں ، اس کی مسجد میں بے خوف وخطر کسی بھی اعلیٰ ترین شخص کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر عبادت کرو اور اس کے لئے تم کسی پادری ،کسی پنڈت او رکسی مولانا کی اجازت درکار نہیں۔ بس محمد عربیؐ کے اس پیغام نے انسانیت کو سب سے پہلے روحانی آزادی اور روحانی Empowerment عطا کیا۔ پھر رسول ؐ نے مدینہ میں جو ایک State قائم کیا اس میں غریب اس State کی ذمہ داری قرار پایا اور اسلام نے قرآن اور رسول ؐ کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ کوئی بھی بھوکا نہ سونے پائے ،یعنی روحانی آزادی کے ساتھ ساتھ اسلام نے معاشی آزادی Economic Empowerment دے کر اسلامی ریاست میں عام انسان کو ریاست کاحصہ دار بنادیا۔ پھر خلفائے راشدین کے انتخاب میں رائے عامہ شامل کرکے اسلام نے سیاسی سطح پر اس دور کے معاشرے میں ایک جمہوری نظام پیدا کیا اور انسان کو بادشاہ ، قبیلے کےسردار اور ذات کے مکھیا جیسے ، ظالم اداروں سے آزادی کا راستہ دکھا کر عام انسان کو سیاسی آزادی اور Empowermentعطا کردیا۔ اسی اسلامی قوت نے اسلامی تہذیب کو ایک روحانی ، سماجی ، سیاسی اور معاشی انقلاب کی شکل عطا کردی اور وہی اسلامی انقلاب عرب کے صحراؤں سے نکل کر افریقہ ،ایران ، ترکی، یوروپ ، ہندوستان او رچین تک نہ صرف پہنچ گیا، بلکہ اس نے بغداد میں دنیا کے ایسے مدارس اور مکاتب قائم کیے  کہ جن کے علم سے آخر 17ویں اور 18ویں صدی میں یوروپ فیضیاب ہوکر دنیا کی ایسی قوت بن گئی کہ آج اس نے عالم اسلام کو پھر ایسا غلام بنایا ہے کہ دنیا کے ایک ارب ستاون کروڑ مسلمان اپنے قبلہ اول کو آزاد کرنے کی بھی تدبیر نہیں کرسکتے ہیں۔

آخر عالم اسلام میں یہ تغیر کیوں؟ یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمان اس اکیسوی صدی میں ایسا محبور کیوں ہے کہ وہ ایک فلسطین کے لئے کچھ نہیں کرسکتا ۔وہ مودی کے آگے لاچار ہے اورصدام حسین کو پھانسی ہوتے دیکھ کر محض کف افسوس مل سکتا ہے او رکچھ نہیں کرسکتا ؟ عالم اسلام اور دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی آبادی کی لاچاری اور بے بسی کا سبب بھی وہی ہے ، جو اس کی بلندی وعروج کا سبب تھا، یعنی اگر اسلام نے دنیا کو پادریوں ،راہبوں ، پنڈتوں او رمذاہب کےٹھیکیداروں سے نجات دلائی تھی، لیکن آج بھی اسلامی ممالک میں شاہی دور ہے۔ مسلمان پھر قبیلوں اور ہندوستان جیسے معاشرے میں ذاتوں میں بٹا ہوا ہے۔یعنی رسول اکرم ؐ نے مسلمانوں کو بھی ر وحانی ، سیاسی ، سماجی، نسلی، قبائلی اور معاشی غلامی سےنجات دلا کر اس کو دنیا کی سب سے آزاد ،دولت مند اور عقل مند قوم بنایا تھا ، وہی  مسلمان آج پھر کلمہ لا الہ الا اللہ تو پڑھ رہا ہے، لیکن ان کے مذہب پر عالم دین کا پہرہ ہے، اس کی سیاسی زندگی پر بادشاہ اور قبائلی سردار کا پہرہ ہے۔وہ سماجی فیصلے خود نہیں کرسکتا ہے، اس کی معیشت قبائلی اور زمیندار انہ قدروں میں قید ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ پوری دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہونے کے باوجود بھی ایک طرح غلامی کی زندگی گزار رہا ہے اور جب تک وہ اپنے کو ہر طرح کی غلامی سے نجات نہیں دلا پائے گا، وہ دنیا میں ایک ارب ستاون کروڑ ہونے کے باوجود بھی لاچار بے بس رہے گا، اس لئے دنیا کے ہر چوتھے انسان کا مسلمان ہونا آپ کو مبارک ،میں تو دنیا کا چوتھا مسلمان ہو کر بھی غلامی کی زندگی جینے پر شرمندہ ہوں ۔

Zafar_agha@yahoo.co.in

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ایک-ارب-ہونے-کے-باوجود-لاچار-او-ربے-بس؟/d/1902

 




TOTAL COMMENTS:-   2


  • ???? ????? !
    ?? ?? ???? ????? ???? ??? ! ??? ???? ?? ?? ??? ?? ???? ?? ?? ??? ????? ???? ?? ??? ??? ?????? ??? ?? ?? ?? ???? ?????? ??? ? ?? ??? ?????? ?? ?? ??? ??? ???? ?? ??? ????? ???? ???? ????? ???? ?? ?? ???? ??? ?? ??? ??? ?????? ??? ??? ???? ??? ?? ????? ??? ????????? ????????? ?? ???? ?? ?????? ?????? ?? ?? ????? ????? ?? ??? ??? ??? ?? ? ??????? ??? ?????? ?? ???? ???? ?? ?? ???? ???? ????? ??? ? ?? ?? ??? ??? ?? ? ???? ???? ?? ???? ???? ??? ???? ???? ???? ?? ????? ??? ??? ???? ?????????? ????? ???? ??? ???? ??????? ???????? ?
    ??? ???? ????


    By آصف احمد بھٹی -



  • ???? ???? ?? ????? ????? ???? ?? ??????? ????
    By shahed -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content