certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



حضرت نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ

رؤف رامش

ہندوستان میں اسلام کی ترویج وترقی اور فروغ میں صوفیائے کرام کا اہم کردار رہاہے گو کہ ملک میں تقریباً 700سال تک بادشاہوں نے حکومت کی لیکن ان حکمرانوں کا مقصد صرف حکمرانی تک محدود تھا ۔لیکن کئی سلسلوں کے بزرگان دین نے ہندوستان میں اسلام کو فروغ دیا تاہم چشتیہ سلسلے کو جو عروج حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس سلسلے کے پہلے عظیم اکمرتبت بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے ملک کی سیاسی راجدھانی اور بادشاہوں کے پایۂ تخت دہلی میں روحانیت کی ایسی بنیاد رکھی کہ جہاں بزرگان دین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا وہیں دہلی کو دارالاولیاء اور بیت الفقراء ہونے کا فخر آج بھی حاصل ہے ۔ ان بزرگان دین نے اسلامی تعلیمات کونہ صرف عام کیابلکہ ان تعلیمات کو ایسا منور کیا جس کی کرنیں آج بھی لوگوں کے دلوں کو سکون بخش رہی ہیں انہیں بزرگان دین کی وجہ سے دہلی دنیا کا واحد شہر ہے جسے 22خواجاؤں کے چوکھٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہیں 22خواجاؤں میں سے ایک حضرت خواجہ نجیب الدین متوکل ؒ بھی دہلی میں ابدی نیند سورہے ہیں اور آج بھی ان کی آخری قیام گاہ سے فیوض وبرکات کا سلسلہ جاری ہے۔

آپ کا نام نجیب الدین ہے اور آپ کا لقب متوکل ہے۔ آپ کے لقب کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپ صرف اور صرف اللہ پر توکل کرتے تھے حالانکہ اہل وعیال ساتھ تھے لیکن زندگی بھر کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ آپ صاحب دل ،صاحب کشف وکرامات تھے، آپ کا توکل مثالی تھا اورکیوں نہ ہوتا آپ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ جیسے عظیم المرتبت بزرگ کے حقیقی چھوٹے بھائی ،مرید اور خلیق تھے۔ حضرت نجیب الدین متوکل ؒ اپنے بڑے بھائی حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے ہمراہ دہلی آئے تھے جب حضرت بابا فرید قدس سرہ پاک پٹن شریف گئے تو انہوں نے اپنے بھائی حضرت نجیب الدین متوکل ؒ کو دہلی میں ہی رہنے کی ہدایت دی۔

حضرت نجیب الدین متوکل ؒ کا سلسلہ نسب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے آپ کے والد محترم کا نام حضرت شیخ جمالدین بلجان ہے آپ کی والدہ بی بی قرسم خاتون نیک اور کرامت والی خاتون تھیں ۔ وہ ایک شب عبادت میں مصروف تھیں کہ ایک چور مکان میں داخل ہوتے ہی اندھا ہوگیا۔ چور خوف زدہ ہوگیا اور اس نے آواز دے کر کہا میں چور ہوں اور چوی کے نیت سے آیا تھا لیکن اب کچھ دکھائی نہیں دیتا اگر بینائی آجائے تو چوری سے توبہ کرلوں گا۔ مشہور زمانہ تصنیف جواہر فریدی کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے چور کی یہ فریاد سن کر اس کے حق میں دعا کی آپ کی دعا سے ان کی آنکھوں میں روشنی آگئی اگلے دن وہ مع اہل وعیال کے آیا اور مسلمان ہوگیا۔

مشہور زمانہ تصنیف فوائد الفوائد کے مطابق حضرت بابا فرید مسعود گنج شکرؒ نے اجودھن میں سکونت اختیار کرنے کے بعد حضرت نجیب الدین متوکلؒ کو والدہ ماجدہ کو پاک پٹن لانے کے لئے بھیجا ۔آپ والدہ کو لینے گئے جب واپس آرہے تھے تو راستے میںآپ نے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر آرام کیا والدہ کو پانی کی ضرورت ہوئی آپ پانی کی تلاش میں گئے، جب آپ پانی لے کر واپس آئے تو والدہ صاحبہ کو اس جگہ نہ پایا آپ سخت حیران وپریشان ہوئے والدہ صاحبہ کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔ آخر کار ناامید ہوکر وہاں سے چلے اور حضرت بابا فرید الدین ؒ کی خدمت میں پہنچ کر سارا قصہ بیان کیا۔ حضرت بابا فرید الدین ؒ نے سن کر فرمایا کھانا پکائیں اور صدقہ دیں۔ ایک مدت کے بعد آپ کا پھر اسی جنگل سے گزر ہوا جب آپ اس پیڑ کے نیچے آئے آپ کو خیال ہوا کہ اس جنگل کے چاروں طرف جاکر دیکھیں شاید والدہ صاحبہ کا پتہ لگ جائے۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کو انسان کی ہڈیاں ملیں آپ نے یہ خیال کر کے شاید یہ ہڈیاں والدہ صاحبہ کی ہو اور ممکن ہے کہ ان کو کسی شیر یا درندے نے ہلاک کردیا ہو۔ ان ہڈیوں کو جمع کیا اور تھیلے میں رکھا وہ تھیلا لے کر آپ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ بیان کیا ۔حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ نے یہ سن کر فرمایا کہ وہ تھیلی دکھاؤ جب تھیلی کو دیکھا تو اس میں سے ایک بھی ہڈی برآمد نہیں ہوئی۔

حضرت نجیب الدین متوکل ؒ ایک بلند پایہ درویش تھے توکل نے انہیں دربار خدا وندی میں محبوب بنادیا تھا۔ توکل کا عالم یہ تھا کہ آپ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ آج کون سا دن ہے یا کون سب مہینہ ہے غلہ کس قیمت میں فروخت ہورہا ہے۔صرف یاد الہٰی میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے ۔حضرت بابا فرید الدین ؒ نے آپ کے متوکل ؒ فرماتے تھے کہ پکا مومن وہ شخص ہے جو دوستی کے حق کو اولاد کی دوستی پر ترجیح دے جب دنیا ہاتھ سے جائے فکر نہ کرے کہ رہنے والی نہیں ہے۔ آپ کے توکل کا عالم یہ تھا کہ مستقل کوئی آمدنی نہ ہونے کے باوجود خوش وخرم رہتے تھے۔ ایک مرتبہ عید کے دن آپ سے ملاقات کے لئے چند درویش جمع ہوگئے ۔آپ نے اپنے دل میں کہا کہ کیا آج عید کا دن بھی یوں ہی گزر جائے گا اور میرے بچوں کے منہ میں کیا کوئی غذا بھی نہیں پہنچے گا اور کیا یہ مہمان یونہی لوٹ جائیں گے ۔اتنے میں ایک بوڑھا شخص آیا اور اس نے کھانے سے بھرا ہوا خوان پیش کرتے ہوئے کہا کہ عرش پر فرشتے بھی آپ کے توکل کی تعریف کررہے ہیں اور آپ پھر بھی اس دنیا کو دل میں لئے ہوئے ہیں ۔آپ نے جواب دیا کہ خدا شاہد ہے کہ میں اپنے لئے اس جانب مائل نہیں ہوا بلکہ دوستوں کی ضروریات نے مجھے اس جانب مائل ہونے پر مجبور کیا۔حضرت عبدالحق محدث دہلویؒ کے مطابق یہ بوڑھے شخص غالباً حضرت خضر علیہ السلام تھے۔

حضرت خواجہ نظاالدین اولیا ؒ ء جب دہلی تشریف لائے تو انہوں نے آپ کے پڑوس میں سکونت اختیار کی ان کو آپ سے بہت عقیدت تھی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ ء والدہ صاحبہ کے انتقال کے بعد زیادہ وقت آپ کے پاس ہی گزارتے تھے ایک مرتبہ حضرت نظام الدین اولیاؒ ء نے آٖ سے قاضی بننے کی دعا کرانی چاہی آپ نے فرمایا قاضی نہ بنو گے کچھ اور ہی بنو گے ۔ایک مرتبہ حضرت محبوب الہٰی نے آپ کا مرید بننے کی خواہش کی آپ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرید ہونا ہے تو حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر میں سے کسی کے مرید ہوجاؤ۔

حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کی مرید اور اپنے وقت کی ابدال حضرت بی بی فاطمہ سام کو بھی آپ سے بہت عقیدت تھی آپ بھی ان کو بہن سمجھتے تھے اوران کے حال پر نہایت شفقت فرماتے تھے ۔ معتبر روایتوں کے مطابق جب آپ کے یہاں فاقہ ہوتا تو حضرت بی بی فاطمہ سام آپ کے گھر کھانا بھجواتی تھیں۔

حضرت نجیب الدین متوکلؒ کی زندگی کا مقصد صرف اورصرف ’’توکل‘‘ تھا اس توکل نے انہیں ابدال بنادیا تھا ہر حال میں خوش رہنا محبت ،خلوص او رتوکل کی وجہ سے حضرت محبوب الہٰی جیسی شخصیت آپ کی صحبت میں رہتی تھی۔ توکل بارگاہ خداوندی میں ایسا مقبول ہوا کہ آپ متوکل بن گئے اور آج دنیا انہیں حضرت نجیب الدین متوکلؒ کے نام سے جانتی ہے ۔ ہرسال 9,8رمضان المبارک کو آپ کا عرس ہوتا ہے آپ کا مزار مبارک قطب مینار سے تقریباً 2کلو میٹر قبل اروندومارگ پر ہے آپ کے مزار مبارک کے دونوں جانب آپ کے صاحبزادوں کے مزار ہیں ان کے قریب حضرت بی بی فاطمہ کا مزار ہے جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کی صاحبزادی تھیں۔ اس درگاہ کے جنوب میں دوسرے احاطے کے اندر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی زلیخا اورحضرت سلطان المشائخ کی بہن حضرت بی بی زینب عرف بی بی جنت کا مزار ہے ان مزارات کے قریب ہی حضرت کی بھانجی حضرت بی بی رقیہ کا مزار ہے اور ان مزارات کے چند قدم کے فاصلے پر حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی دوصاحبزادیاں بی بی نور اوربی بی حورمد فون ہیں اس لیے یہ درگاہ حضرت بی بی نور بی بی حورکے نام سے مشہور ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/حضرت-نجیب-الدین-متوکل-رحمتہ-اللہ-علیہ/d/1953

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content