certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (23 Jul 2010 NewAgeIslam.Com)



دہشت گردی کے بے نقاب چہرے

The term Hindu terrorism is as inappropriate and dangerous as Islamic terrorism. The media that had spread the term Islamic terrorism has now coined this term. The term is not correct in the sense that our Hindu brethren are not even militants, leave alone being terrorists. Tolerance and peaceful co-existence has been their way. Therefore, in my view, the term Hindu terrorism is a grave injustice to the Hindus. Those who have coined this term are either very naive or tricksters of the highest degree.

Secondly, the idea that the faces of terrorism which had donned the mask of Hindutva were unknown and have just been exposed is not correct. These faces were known for a long time. It’s a different matter that due to some political compulsions they were beyond the reach of the law.

You can then ask me what should we call what we call Hindu terrorism. My answer is: it is not Hindu terrorism, it’s simply ‘Sangh terrorism’ which originated in 1925 and manifested itself first in 1927. Listen to what a big leader Dattopant Thengdiji says in his speech which has been published titled ‘Hindu mansikta’ (Hindu mentality):

“A Hindu-Muslim riot had broken out in Nagpur in 1927. The Hindus gave them such a thrashing that the Mussalmans could not stand up to their feet for years. It could be possible because the Sangh came into existence and a group came up. Thanks to the group the Muslims got the beating.......Everyone knew that the akhara set up by doctorji was instrumental in all this. So it should be said boldly and loudly. But Dr Hedgewarji says that the victory achieved by the Hindus in Nagpur was thanks to the courage of the Hindu society”

This was a long speech delivered in an RSS camp in Punjab in 1990. In this speech, the mentality and the modus operandi of the RSS is evident as is in the excerpt given above. The purpose is thrashing the Muslims and then instead of owning up to the sin, calling it the courage, bravery and might of the ‘whole Hindu samaj’; mobilising people by branding this mentality as nationalism and the behaviour as patriotism.... Syed Mansoor Agha

 

Source: Daily Rashtriya Sahara,Urdu

URL: http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=3184

 

سید منصور آغا

‘‘ہندو دہشت گردی’’ کی اصطلاح اتنی ہی نامناسب اور خطرناک ہے جتنی ‘‘اسلامی دہشت گردی’’ کی اصطلاح جس میڈیا نے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح کو پھیلایا تھا ، اب اسی نے یہ نئی اصطلاح اختر اع کی ہے۔ یہ اصطلاح یوں بھی درست نہیں ہے کہ ہمارے عام ہندو بھائی دہشت گردی تو دور کی چیز ہے جنگجو بھی نہیں ہوتے،بلکہ صدیوں سے صبر وتحمل اور صلح کل ان کا وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے میری نظر میں ہندو دہشت گردی کی اصطلاح ہندوؤں کے ساتھ سخت نا انصافی ہے۔ یہ اصطلاح جنہوں نے ایجاد کی ہے، یا تو وہ نادان ہیں یا حددرجہ کے عیار ۔

دوسرے یہ خیال بھی حقیقت حال کے مطابق نہیں کہ دہشت گردی کے وہ چہرے جنہوں نے ‘‘ہندوتوا’’ کا نقاب اوڑھ رکھا تھا، پہلے نا معلوم تھا اوربس ابھی سامنے آیا ہے۔ یہ چہرے تو عرصہ دراز سے پہچانے جارہے تھے، یہ بات دوسری ہے کہ سرکاری مصلحتوں کی وجہ سے قانون کے ہاتھ ان کی گردنوں سے دور تھے۔

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ اس دہشت گردی کا پھر سے کیا کہیں جس کو ‘‘ ہندودہشت گردی’’ کہا جارہا ہے ،تو میرا جواب ہے یہ ہندو دہشت گردی نہیں ہے، بلکہ صرف ‘‘سنگھی دہشت گردی’’ ہے اور اس کا آغاز 1925میں اور اس کا پہلا اظہار 1927میں ہوا۔ سنئے کیا کہتے ہیں سنگھ کے ایک سرکردہ لیڈر رد تو پنت ٹھینگڑی جی اپنی تقریر میں جو ‘‘ہندو مانسکتا ’’ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔‘‘ 1927میں (ناگپور میں ) ہندو۔ مسلم دنگا ہوا۔ ان دنگوں میں ہندوؤں نے اتنا مارا مسلمانوں کو کہ مسلمان سر نہیں اٹھا سکا۔ یہ اسی لیے ممکن ہوسکا کہ 1925میں جو سنگھ کا آغاز ہواتو وہ جوان لوگوں کا گڑھ تھا۔ اسی گڑھ کی بدولت مسلمانوں کو اتنی مار پڑی .......یہ سب جانتے تھے کہ جو ڈاکٹر جی نے اکھاڑا کھڑا کیا تھا، یہ اسی کی بدولت ہوئی ہے تو یہ ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہئے ،لیکن ڈاکٹر ہیڈ گیو ارجی کہہ رہے ہیں کہ جو وجے ہندوؤں کو ناگپور میں ہوئی، وہ ہندو سماج کے پروگرام کے کارن ہوئی’’۔

1990میں پنجاب میں آر ایس ایس کے ایک کیمپ میں کی گئی یہ تقریر طویل ہے، جس میں سنگھ کی ذہنیت اور کام کرنے کا طریقہ کار کھل کر بیان کیا گیا ہے، جو اس اقتباس سے واضح ہے۔ مقصد مسلمانوں کو مارنا اور پھر ایسے کئے ہوئے گناہ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ‘پوری  ہندو قوم’ کی بہادری پراکرم ،حوصلہ مندی قرار دینا۔ اس ذہنیت کو ‘ قوم پرستی’ اور اس طریقہ کار کو دیش بھگتی کا نام دے کر عوام کو ورغلا نا۔

میں یہ بات نظریاتی طور سے نہیں کہہ رہا ہوں ،بلکہ اس کی شہادتیں موجود ہیں کہ نام نہاد ہندو دہشت گردی کے جتنے بھی گناہ اب تک منظر عام پر ٓائے ہیں وہ سب سنگھ پریوار کے سپوتوں کے کرتوت ہیں۔ ہندوتو ا کی نقاب کے پیچھے ہوئے ان سنگھی چہروں کو آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے۔ مہاراشٹر کے سابق آئی جی پولس ایس ایم مُشرِف نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ‘‘کرکرے کا قاتل کون؟’’ میں اس ذہنیت کی قلعی کھول دی ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو ورغلا کر ان کو ہندو قومیت کے نام پر اکسا کر ملک میں ایک ایسی فضا بنائی جائے جس میں ہندو توا کے نام پر برہمنی نظام حکومت قائم کیا جاسکے۔ اسی مقصد کے پیش نظر 1927سے 2004تک تسلسل کے ساتھ مسلم کش فسادات کرائے گئے ،جن کا نقطہ عروج 1992میں بابری مسجد کے انہدام اور 2002میں گجرات کی مسلم نسل کشی کی صورت میں سامنے آیا ۔ آر ایس ایس کے اس ایجنڈے کو روبہ عمل لانے میں سنگھی ذہینت کے انٹلی جنس افسران کا بھی اہم رول رہا ہے اور سب سے اہم یہ کہ یکے بعد دیگر ے حکومتوں نے بھی چشم پوشی سے کام لیا۔

2002کے گجرات فسادات کی پوری دنیا میں شدید مذمت ہوئی، سنگھ پریوار پوری طرح بے نقاب ہوگیا۔ چنانچہ فسادات کی حکمت عملی کو بدلنا ضروری ہوگیا۔ اسی اثنا میں ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’ کے نام پر افغانستان اور عراق پر امریکی فوجی یلغار ہوئی اور صیہونیوں کے زیر کنٹرول عالمی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف نئی فضا بنانی شروع کی، جس سے سنگھیوں نے بھی شہہ پائی ، چنانچہ فسادات کی جگہ اب دہشت گردانہ حملوں کا حربہ اختیار کیا گیا ۔ جگہ جگہ بم دھماکے کئے گئے اور مقامی پولس ،انٹلی جنس ایجنسیوں اور میڈیا کی ملی بھگت سے ان کے لئے مسلمان نام کی تنظیموں اور افراد کے ناموں کی اچھال کر بھولےبھالے ہندوعوام کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جڑوں کو مضبوط کیا گیا۔ اس فضا کو مزید مستحکم کرنے کےلئے متوقع دہشت گرد انہ حملوں کی افواہیں شد ومد کے ساتھ پھیلائی گئیں اور الیکٹرانک میڈیا نے ان خبروں کو اس طرح مشتہر کیا جیسے آنکھوں دیکھی بیان کی جارہی ہو۔ان سب کے پس پشت بس ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی دماغ کارفرمارہا ہے اور وہ ہے سنگھی ہاتھ اور سنگھی دماغ۔ اسی لئے میں کہتاہوں کہ اس کو ‘‘ہندودہشت گردی’’ نہیں ، بلکہ ‘‘سنگھی دہشت گردی’’ کہنا چاہئے ‘‘ سنگھی دہشت گردی کی’’ اصطلاح اس لئے استعمال نہیں کی جارہی ہے کہ اس سے ہندو عوام میں سنگھی عناصر کی ساکھ گرجائے گی اور اس کو ہندو دہشت گردی اسی لئے کہا جارہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا کردی گئی ہے وہ کم نہ ہونے پائے۔

اسی کے ساتھ دہشت گردی کے نام پر فرضی انکاؤنٹر میں مسلمانوں کو مارے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور پھر بم دھماکوں اور انکاؤنٹر وں کے حوالے سے میڈیا کے ذریعہ ،جس پرپہلے ہی سنگھی ذہنیت کا قبضہ ہے، ایسی فرضی کہانیاں پھیلائی گئیں جس سے ہندو عوام کے دلوں میں ‘‘مسلم دہشت گردی’’ کا ہوا کھڑا کیا گیا۔ گجرات سے ایک ایس ایم ایس مہم شروع ہوئی۔Every Muslim is not a terrorist but every terrorist is a Muslim ‘‘ہر مسلمان تو  دہشت گرد نہیں ہے، لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ضرور ہے’’ اور اس جھوٹ کو پھیلانے میں بی جے پی کے رہنما راج ناتھ سنگھ ،لال کرشن اڈوانی اور نریندر مودی بھی پیش پیش تھے۔ گزشتہ پالیمانی الیکشن سے قبل بنگلور میں پارٹی کے اجلاس میں (ستمبر 2008) اس وقت کے صدر راج ناتھ سنگھ نے بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ پارٹی اقتدار میں آئی تودہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکے گی ۔ اشاروں اشاروں میں انہوں نے ان تمام بم دھماکوں کا حوالہ دیا تھا جن میں ‘‘تحقیقاتی ایجنسیوں ’’ نے بغیر کسی جانچ پڑتال محض گمان کی بنیاد پر مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا ۔ان نعروں کا مقصد مسلم مخالف فضا سازی کے ذریعہ بھولے بھالے ہندو عوام کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔ آج جب ہم ہندو دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے بھی مقصد سنگھ پریوار کا ہی پورا ہورہا ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اس کو صرف اور صرف ‘‘ سنگھی دہشت گردی’’ ہی کہنا چاہئے۔

دہشت گردی کے وہ واقعات جن میں حال ہی میں کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوئی اس حقیقت کو آشکار ا کررہے ہیں کہ یہ خالص سنگھی دہشت گردی ہے۔ ابھی چند روز پہلے ‘میل ٹوڈے’ نے دہشت گردی میں ماخوذ افراد کے خاکے شائع کئے ہیں ۔ میں یہاں صرف وہ نام گنواتا ہوں جو اب تک بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں میں منظر عام آچکے ہیں۔ ان میں ایک نام ایسا نہیں جس کا تعلق سنگھ پریوار اور سنگھ آئیڈ یالوجی سے نہ رہا ہو ۔ ان میں سرفہرست تو نام اندریش کمار عرف اندریش جی کا ہے،جو سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے قریبی معتمد ،سنگھ کے پالیسی ساز او رمجلس عاملہ کےرکن ہیں۔ ان کے ایک خاص سنگھ کے کارکن دیویندر گپتا اجمیر کی درگاہ شریف ، حیدر آباد کی مکہ مسجد کے دھماکوں میں ماخوذ ہیں، تفتیشی ایجنسیاں سنیل جوشی سے بھی ان کے رشتوں کی جانچ پڑتا ل کررہی ہیں۔ جوشی بھی آر ایس ایس کے پرچارک تھے اور مکہ مسجد اور درگاہ شریف سمیت کئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد قتل کردیئے گئے ۔ دیویندر گپتا بھی آر ایس ایس کا پرچارک ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس کے رام چندر کال سنگرا کا نام بھی آتا ہے، جو مکہ مسجد اور مالیگاؤں کے دھماکوں میں ماخوذ ہے۔ ان کا تعلق ‘ابھینو بھارت’ نام کی تنظیم سے بھی ہے، جس سے سادھوں پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، کرنل پرساد پروہت اور سوامی دیانند پانڈے کے نام وابستہ ہیں۔ یہ سب مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں ملزم ہیں اور جیل میں ہیں۔

سنگھی دہشت گردوں میں ایک اہم نام میجر رمیش پانڈے کا ہے۔ فوج سے 1988میں ریٹائر ہونے کے بعد وہ بمبئی میں بی جے پی کے سابق فوجیوں کی تنظیم کا سربراہ رہا ہے۔اس کے جو ٹیپ مہاراشٹر ا اے ٹی ایس کوملے ہیں، ان میں وہ ‘‘خالص ہندو راشٹر ’’ کے قیام کی وکالت کرتا ہوا سنا جاسکتا ہے۔

مالیگاؤں بم دھماکے کی اصل ملزمہ سادھوں پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی بی جے پی کی طلبا تنظیم اور خواتین تنظیم سے وابستہ رہی ہیں۔جتن چٹرجی عرف سوامی اسیم آنند کا بھی آر ایس ایس کے محترم لیڈروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ کئی بم دھماکوں کا اصل محرک اور اصل دماغ سمجھا جاتا ہے، گجرات کے ضلع ڈانگ میں روپوش ہے او رمودی کی پولس اس کی گرفتاری پر آمادہ نہیں ۔ رام چندر کال سانگرا ،سندیپ ڈانگے بھی بم دھماکوں میں مطلوب ہیں۔ یہ بھی آر ایس ایس وابستہ ہیں۔

حال ہی میں دوبڑے نام اشوک وار شنے اور اشوک بیری کے سامنے آئے ہیں۔ وار شنے جھارکھنڈ ریاست پرانت پر چارک تھے اور بیری مرکزی عاملہ کے رکن ہیں، ان دونوں پر دھماکوں میں معاونت او رملزموں کو پناہ دینے کا قومی شک ہے۔ ان دونوں سے سی بی آئی نے طویل پوچھ تاچھ کی ہے اور ان کے نام خبروں میں آنے کے بعد سنگھ پریوار کے لوگوں نے ‘‘آج تک’’ کے دفتر پر دلّی میں پرُ تشدد مظاہرہ کیا تھا۔ جس کو آر ایس ایس او ربی جے پی نے حق بہ جانب ٹھہرایا اور دلیل یہ دی کہ آر ایس ایس ایک ‘‘قوم پرست’’ تنظیم ہے، اس کے کارکنوں کے بارے میں اس کی طرح کی خبریں نشر کرنا ہندوستان کی توہین ہے۔ راکیش دھواڑے اور اشوک کنتے بم سازی میں ملوث پائے گئے ہیں اور دونوں آر ایس ایس کے فدائی ہیں۔ اجمیر شریف بم دھماکے کا ملزم راکیش بھی سنگھی ہے۔

احمد آباد بم دھماکوں کے تار بھی انہی لوگوں سے جڑے ہیں، جن کا تعلق اسی پریوار سے ہے۔ دھماکوں کے دیگر واقعات میں سنگھ پریوار کی تنظیموں بجرنگ دل او رمختلف سیناؤں کے کارکنوں کے نام بھی آتے ہیں۔ کانپور میں 18اگست 2008کو بجرنگ دل کے ایک سرگرم کارکن کے گھر میں دھماکہ ہوا، جس میں دوبجرنگی بھوپندر چوپڑہ اور راجیو مشرا مارے گئے ۔گھر سے بم سازی کا بہت سا سامان بھی نکلا ۔ اس سے قبل 26مئی 2006کو ناندیڑ میں لکشمی گنڈیا کے گھر کے اندر بم پھٹا ،جس سے گنڈیا کالڑکا نریش اور اس کا ساتھی ہمانشو پانسے ہلاک اور چارافراد ماروتی واگھ ،یوگیش دیش پانڈے ، گوروراج ٹوپٹے اور راہل پانڈے زخمی ہوگئے ۔ یہ سب بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے سرگرم کارکن ہیں اور بم سازی میں مصروف تھے۔ انہی ملزم نے محمدیہ مسجد پر بھنی (نومبر 2003) قادریہ مسجد جالنہ (اگست 2004) اور معراج العلوم مدرسہ ومسجد پورنہ ضلع پربھنی (اگست 2004) کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا اقرار کیا۔ مگر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ میں دلچسپی نہیں لی،جب کہ سنگھیوں نے عدالتوں ،وکیلوں اور انتظامیہ پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کرالیا۔اسی طرح دیگر بم دھماکوں میں بھی اسی پریوار کے کارکن مشتبہ ہیں، غرض یہ ہے کہ ہندوستان میں دہشت گرد انہ بم دھماکوں کے سارے سلسلے اسی سنگھی پریوار سے جاکر مل جاتے ہیں۔

یہ باتیں کچھ پردۂ راز میں نہیں ،بلکہ وقتاً فوقتاً میڈیا میں آتی رہی ہیں، تفتیشی ایجنسیوں اور حکومتوں کے ذمہ داروں کے علم میں رہی ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ سنگھی ذہنیت ہمارے قومی نظام میں دورتک سرایت کر چکی ہے۔ اسی لئے اصل مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے تھوک میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔

ان سارے کالے کرتوتوں کا مقصد ہندوستان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ، ہندوؤں او رمسلمانوں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنا اور عام ہندو بھائیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف خوف ونفرت کے جذبات کو پروان چڑھا کر ایسا ماحول تیار کرنا ہے جس سے وہ مخصوص ذہنیت جس کی پرورش 1925سے آر ایس ایس کررہی ہے ملک پر پوری طرح حاوی ہوجائے اور ہندوستان میں ویسی ہی برہمی آمریت قائم ہوجائے ، جیسی ہٹلر نے جرمنی میں ، مسولینی نے اٹلی میں ، اسٹالن نے روس میں قائم کی تھی اور جیسی صیہونیوں نے اسرائیل میں قائم کررکھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا باشعور طبقہ ان کا آلہ کار بن جائے گا اور دہشت گردی کو خاص اس ٹولے سے وابستہ کرنے کے بجائے جو اس کے لئے اصل ذمہ دار ہے کبھی ‘‘مسلم دہشت گرد’’ اور کبھی ‘‘ ہندو دہشت گردی’’ کے نام سے موسوم کر کے ہندو مسلم خلیج کوبڑھانے میں معاون بنے گا؟

حرف آخر : ملک میں اب تک ہونے والے تمام بم دھماکوں کی مشترکہ جانچ قومی سطح کی سازش کےطور پر کی جانی چاہئے اور تمام ملزمان پر درحقیقت آئینی طور سے قائم حکومت کے خلاف سازش اور قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے جرم میں غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے ،تاکہ ان کے چہروں پر پڑی ہوئی قوم پرستی اور وطن پرستی کی نقاب اتر جائے اور ان کے اصل چہرے سامنے آجائیں۔

(بشکریہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ،نئی دہلی)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-term--hindu-terrorism--is-as-inappropriate-and-dangerous-as--islamic-terrorism-/d/3188

 




TOTAL COMMENTS:-   5


  • Hello AHMAD - THIS IS MY ARTICLE - So you are not telling the truth, once more, I have to say!

    If you read this article, you will note that I mention about the persecution of Muslims in Myanmar (Burma).

    The Buddha, however, did not have an army and he was a man of peace; Mohammed had an army, and he was a man of war.

    However, humans from all religions or who have no religion, will do things under the name of naitonalism or to maintain power and control.

    Clearly, Islam supports dhimmitude and laws which discriminate against minorities; the Buddha never believed in discrimination or war.

    Myanmar is despotic and the leaders will do anything in order to maintain their power.

    Also, all nations have self interests and no nation state is perfect and this is the sad reality of this world.

    -------------

    Myanmar: Ethnic Minorities & Aung San Suu Kyi

    By Lee Jay Walker
    Tokyo Correspondent

    Aung San Suu Kyi

    The current regime in Myanmar is clearly unconcerned about international opinion because daily persecution continues. This applies to the continuing persecution of many minorities, notably the Chin, Karen, Rohingya, Shan, and others. At the same time, the leading political figure in Myanmar, Aung San Suu Kyi, faces further confinement. However, the regime fears little because of power politics and geopolitical factors.

    Another major concern in Myanmar is the systematic persecution of religious minorities and this especially applies to Christians and Muslims. Therefore, the Christian dominated Karen National Union (KNU) faces a joint military and Buddhist onslaught because the Democratic Karen Buddhist Army (DKBA) is a staunch ally of the regime.

    Other Christian and Muslim minorities also face daily persecution. Therefore, like I reported in my last article called

    "Karen Christians face joint army and Buddhist onslaught," I will quote Benedict Rogers who is a human rights advocate and journalist.

    Because Benedict Rogers (12 Dec, 2004) notified the British House of Commons about systematic persecution. He stated that "Christians among the Chin, Kachin, Karen and Karenni ethnic nationalities report serious religious discrimination and persecution, including the destruction of churches and Christian symbols. In Chin State, all crosses on mountain-tops have been destroyed and Christians have been forced to build Buddhist pagodas in their place. Church services have been disrupted, and Chin children from Christian families have been taken and placed in Buddhist monasteries, where they have been forced to become novice monks. The printing of the Bible is banned, and Christians in government service are denied promotion."

    Muslims are also in dire straights because they have been persecuted for decades. Amnesty International, for example stated that "The Rohingyas’ freedom of movement is severely restricted and the vast majority of them have effectively been denied Burma (Myanmar) citizenship. They are also subjected to various forms of extortion and arbitrary taxation; land confiscation; forced eviction and house destruction ... "

    The report continues that "In 1978 over 200,000 Rohingyas fled to Bangladesh, following the ‘Nagamin’ (‘Dragon King’) operation of the Burma (Myanmar) army. Officially this campaign aimed at "scrutinising each individual living in the state, designating citizens and foreigners in accordance with the law and taking actions against foreigners who have filtered into the country illegally." This military campaign directly targeted civilians, and resulted in widespread killings, rape and destruction of mosques and further religious persecution."

    "During 1991-92 a new wave of over a quarter of a million Rohingyas fled to Bangladesh. They reported widespread forced labour, as well as summary executions, torture, and rape. Rohingyas were forced to work without pay by the Burma (Myanmar) army on infrastructure and economic projects, often under harsh conditions. Many other human rights violations occurred in the context of forced labour of Rohingya civilians by the security forces."

    Therefore, many ethnic and religious minorities have been persecuted for decades and this is the real tragedy of Myanmar. After all, it would appear that regional nations are more concerned about economic trade and maintaining a regional consensus.

    Yes, from time to time you hear disenting voices throughout the region but these are few and far. Also, for regional powers like China and India, they both understand the geopolitical importance of Myanmar and of course economic interests are also important. So it would appear that ethnic and religious minorities have little hope under the current political system in Myanmar.

    Meanwhile, the most famous political figure in Myanmar faces fresh political charges in order to keep her under house arrest. However, Aung San Suu Kyi remains defiant despite her endless persecution and the “ray of hope remains.”

    Aung San Suu Kyi once stated that “It is not power that corrupts but fear. Fear of losing power corrupts those who wield it and fear of the scourge of power corrupts those who are subject to it.”

    Yet for the people who wield power in Myanmar, it is apparent that China and India, and others, are willing to play the geopolitical game. Therefore, despite the European Union and America taking a strong stance, it is clear that Myanmar can survive because of trading links with China, India, Singapore, South Korea, Thailand, and other nations.

    Also, Aung San Suu Kyi understands that only an internal collapse or uprising will change the current status quo. Despite this, she remains loyal to non-violent action and “her weapon” is her firm democratic conviction.

    However, just like the ethnic Christian and Muslim minorities, and others, it is clear that decades of struggle is zapping the energy out of many; so words of strength by Aung San Suu Kyi are badly needed. Yet the chains appear to be getting tighter so the future remains bleak.

    Lee Jay Walker

    --------

     

    http://leejaywalker.wordpress.com

     


    By Lee Jay Walker -



  • Walker is playing politics. He should write an article on the Muslims of Myanmar. He is selective in his approach only to serve a specific purpose. The minority Muslim community's plight in Buddhist majority Burma must not go unnoticed by Walker.


    By ahmad -



  • The writer realizes correctly that there is nothing as 'Hindu Terrorism', since a normal Hindu does not want to terrorize anyone, and does not support for such atrocities. Similarly, we Hindus also need to understand that the so-called 'Muslim Terrorism' has a similar standing and an average Muslim is more interested in earning his daily bread rather than wreaking havoc on his countrymen.

    Finally, I am glad I came to this forum and saw the moderate face of today's Muslims.


    By Rohit -



  • It is good that the author makes a distinction between Hinduism and the Sangh. Hinduism is a major world religion and stands for what is good and noble, just like Islam. Sanghism (or Hindutva) on the other hand, like Islamism, is a political and supremacist ideology. The RSS was created as an anti-Muslim organization, and to this day it spreads hate through its shakhas, shalas, websites and publications. All Hindutva terrorist organizations in India have links to the RSS.
    By Ghulam Mohiyuddin -



  • The writer should not have omitted the fact that seeds of separatism and hate were sown much earlier than 1925/1927(I hope the omission was not deliberate).The Muslim League is much older than RSS.How did the idea of a separate organisation of safeguarding the Hindu identity, that too in a Hindu majority country, take seed? Only a dispassionate and objective analysis can explain that. And one finds a hopeless deficit of objectivity in the Nehruvian analysis which most of our historians are extremely fond of, rather hypnotized by.


    By Krish -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content