certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (10 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



دین اور مذہب میں فرق

ڈاکٹر اسرار احمد

لفظ’مذہب‘ اور لفظ ’دین‘ میں مفہوم کے اعتبار سے بڑافرق ہے ۔ اگر چہ ہمارے ہاں عام طور پر اسلام کو مذہب کہا جاتا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں اور حدیث کے ذخیرہ میں اسلام کیلئے مذہب کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ اس کیلئے ہمیشہ ’’دین‘‘ کا ہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ سورہ آل عمران میں فرمایا گیا’’اللہ کی بارگاہ میں مقبول دین تو صرف اسلام ہے‘‘ ۔دین اور مذہب میں بنیادی فرق کو سمجھ لیجئے۔

مذہب ایک جزوی چیز ہے۔ یہ صرف چند عقائد اور کچھ مراسم عبودیت کے مجموعے کا نام ہے، جبکہ دین سے مراد ایک مکمل نظام زندگی جو تمام پہلوؤں پر حاوی ہو۔ گویا مذہب کے مقابلے میں دین ایک بڑی اور جامع حقیقت ہے۔ اس پس منظر میں اگرچہ یہ کہنا تو شاید درست نہ ہوگا کہ اسلام مذہب نہیں ہے، اس لئے کہ مذہب کے جملہ (Elements)بھی اسلام میں شامل ہیں، اس میں عقائد کا عنصر کا بھی ہے ،ایمانیات ہیں، پھر اس کے مراسم عبودیت ہیں، نماز،روزہ ہے، حج اور زکوٰۃ ہے، چنانچہ صحیح یہ ہوگا کہ یوں کہا جائے کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، ایک دین ہے ۔ اس میں جہاں مذہب کاپوراخاکہ موجود ہے وہاں ایک مکمل نظام زندگی بھی ہے ۔لہٰذا اسلام اصلاً ایک دین ہے۔

اب اس حوالے سے ایک اہم حقیقت پر بھی غور کیجئے کہ کسی ایک خطہ زمین میں مذاہب تو بیک وقت بہت سے ہوسکتے ہیں ،لیکن دین ایک وقت میں صرف ایک ہی ہوسکتا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور اشترا کی نظام کسی خطہ زمین پر یا کسی ایک ملک میں بیک وقت قائم ہوں۔ حاکمیت تو کسی ایک ہی کی ہوگی۔ یہ ہونہیں سکتا کہ ملوکیت اور جمہوریت دونوں بیک وقت کسی میں نافذ ہوجائیں ۔ اللہ کا نظام ہوگا یا غیر اللہ کا ہوا، نظام دونہیں ہوسکتے ۔جبکہ خطہ زمین میں مذاہب بیک وقت بہت سے ممکن ہیں، ہاں نظاموں کے ضمن میں ایک امکانی صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ ایک نظام غالب وبرتر ہو اور وہی حقیقت میں ’نظام ‘ کہلائے گا اور دوسرا نظام سمٹ کر اور سکڑ کر مذہب کی شکل اختیار کرلے اور اس کے تابع زندگی گزارنے پر آمادہ ہوجائے ، جیسے علامہ اقبالؒ نے فرمایا:

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

دین جب مغلوب ہوتا ہے تو ایک مذہب کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ اس صورت میں وہ دین نہیں رہتا بلکہ مذہب بن جاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ اسلام کے دور عروج میں غالب نظام تو اسلام کا تھا لیکن اس دین کے تابع یہودیت ، مجوسیت اور نصرانت مذہب کی حیثیت سے برقرار تھے۔ انہیں رعایت دی گئی تھی اور صاف الفاظ میں سنادیا گیا تھا کہ اگر وہ اسلامی حدود کے اندر رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا ہوگا اورچھوٹے بن کر رہنا ہوگا۔’’یہاں تک کہ و جزیہ دیں اور اپنے ہاتھ سے چھوٹے بن کر رہیں‘‘ (التوبہ۔25) ۔ملکی قانون اللہ کا ہوگا، غالب نظام اللہ کا ہوگا، اس کے تحت اپنے پرسنل لا ء میں اپنی ذاتی زندگی میں محدود سطح پر وہ اگر اپنے مذاہب اوراپنے عقائد ورسوم کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہیں تو اسکی انہیں اجازت ہوگی۔ اسلام کے دور زوال وانحطاط میں یہ صورت برعکس ہوگئی۔ یوں کہا جاکستا ہے کہ اس برصغیر میں دین انگریز کا تھا۔ دین انگریزکے تحت اسلام نے سمٹ کر ایک مذہب کی صورت اختیار کر لی تھی کہ نماز یں جیسے چاہو پڑھو ،انگریز کو کوئی اعتراض نہ تھا، اذانیں بخوشی دیتے رہو، وراثت اورشادی بیاہ کے معاملات بھی اپنے اصول کے مطابق طے کرلو ،لیکن ملکی قانون انگریزکی مرضی سے طے ہوگا۔ یہ معاملہ تاج برطانیہ کے تحت ہوگا، اس میں تم مداخلت نہیں کرسکتے ۔ یہ تھا وہ تصور جس کے بارے میں علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی پھبتی چست کی تھی۔

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

یعنی اسلام آزاد کہا ں ہے ؟ وہ سمٹ سکڑ کر اوراپنی اصل حقیقت سے بہت نیچے اتر کر ایک مذہب کی شکل میں باقی ہے۔

دین ہے ہی وہ کہ جو غالب ہو۔ اگر مغلوب ہے تو دین نہیں رہے گا۔ بلکہ ایک مذہب کی صورت میں سمٹ جائے گا اور سکڑ جائے گا۔اس کی اصل حیثیت مجروح ہوجائے گی۔ اس پہلو سے غور کیاجائے تو معلوم ہوا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ نظام بھی اگر صرف نظری اعتبار سے پیش کیا جارہا ہے، صرف کتابی شکل میں نسل انسانی کو دیا گیا ہوتو وہ ایک خیالی جنت کی شکل اختیار کرسکتا ہے ،لیکن حجت نہیں بن سکتا ۔ نوع انسانی پر حجت وہ اس وقت بن سکتا ہے جب اسے قائم کر کے ،نافذ کر کے اور چلا کر دکھایاجائے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/دین-اور-مذہب-میں-فرق/d/1887

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content