certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Aug 2010 NewAgeIslam.Com)



سائنس سمینار میں سمانہ نقوی کو پہلا مقام

August 2, 2010

 

Muradabad: Samana Naqvi, a student of Prabha Devi  Adarsh Kanya Inter College, Muradabad added one more feather to her cap by bagging the first prize in the Science Seminar held by the UP government’s Department of Education. She will now get an opportunity to prove her mettle in the district level seminar on August 12. Winning first prizes is not new for this student who has already been awarded by the Chief Minister Mayawati. The prizes won from school to state level are a testimony to this. She has won the first prize in the block level debate on the topic, ‘India and World Science: Where are we placed?’ by qualifying in the 6 minute speech session followed by 2 minutes question time and finally the written test of 20 minutes. The second position was won by the student of Arya Kanya College. A total of 19 students had participated in the debate. Samana’s father, Shabeeh Asghar Naqvi said that Samana had already won hundreds of awards. In 2006-7, she won the state level debate on environment in Lucknow and. She won the first place in the debate on the topic ‘sarva jan hitaye sarva jan sukhaye’ on March 2008 and was felicitated by the Chief Minister Mayawati and awarded a cash prize of Rs 25,000 in Lucknow. Apart from that she won the second prize in the state level Science Seminar on August 2009 in Allahabad.

 

Maharashtra government’s hard stance on minority institutions

August 2, 2010

Mumbai: Welcoming the decision of the Maharashtra Government on granting admission to minority students in Mumbai according to prescribed percentage, the guardians' bodies, Muslim intellectuals and religious scholars said that the decision would put an end to the problems faced by Muslim students in getting admissions. A few days ago, the Minister for Minority Welfare, Maharashtra, Md Arif Nasim Khan had convened a meeting of higher officials and told them about the news that the minority especially Muslim students were being denied admissions in educational institutions granted minority status. Mr Khan said that according to the law, Muslim students should get 50% seats in those institutions but the rule was being violated by not granting them admission. He warned that if those institutions did not give admission to Muslim students in prescribed percentage, their minority status would be revoked. He said that if minority students were not seeking admissions in those institutions, they can fill the seats after getting permission from the government. A housewife of Nagpada, Bilqees Maqbool Ahmad said that there were a number of English medium schools in the area which had the minority status but the children of minority community found it difficult to get admission in these schools. After this decision, her daughter got admission in an English medium school of her choice. A member of the guardians' body of English medium school, St. Peter's, Shamsi said that the decision was really commendable as the percentage of admission allotted in the English medium schools in the area was only 15% which would go up after this decision. A social activist Shabbir Somji who is associated with educational institutions, said that a reputed college of the city, Narsi Monji College had the minority status on linguistic basis which would grant admission only Gujarati speaking majority community students where as there are sects in Muslims like Memon, Khwaja, Bohra, Shia Asna Ashri and others whose mother language is Gujarati but they were denied admission in the college. Mr Somjee said that it was for the first time after the independence that Narsi Monjee College had to grant admission to the Muslim students after the hard decision taken by the government. The President of the All India Ulema Board, Allama Nayeem Hussain praised the govenment's action and said that the minority students would benefit from this decision and suggested that the government should also solve the problems of the teachers and other staff of these institutions. An engineer Afroz Ansari said that there are istitutions of the Muslims that have the minority status but unfortunately they do not give admission to Muslim students and give admissions to students of other communities for donations. This decision of the government will put an end to all these unfair practices. In Maharashtra there are 1217 institutions with minority status.

Source: Sahafat, New Delhi

URL: http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=3227

 

فہیم انصاری

وزیر اعلیٰ مایاوتی بھی کرچکی ہیں سرفراز

مراد آباد ،یکم اگست : محکمہ تعلیم کی جانب سے منعقد سائنس مذاکرہ میں پربھا دیوی آدرش کنیا انٹر کالج کی ہونہار طالبہ سمانہ نقوی نے پہلا مقام حاصل کر کے اپنے اعزازات میں ایک اعزاز کا اور اضافہ کرلیا ہے۔ سمانہ کو اب 12اگست کو ضلعی سطح کے مذاکرہ میں قسمت آزمانے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ہاتھوں اور اعزاز یافتہ نویں جماعت کے طالبہ سمانہ نقوی کے لئے پہلا مقام حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں رہ گئی ہے۔ ان کے ذریعہ اسکول سے لے کر صو بائی سطح تک کے مختلف مذاکرہ میں حاصل کئے گئے اعزازات اور اسناد اس کی مثال ہیں۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے سرکاری انٹر کالج میں بلاک سطح پر آج ہوئے مذاکرہ میں دئے گئے عنوان ‘بھارت اور وشو وگیان /کہاں ہیں ہمارا استھان’ پر 6منٹ کی تقریر اور 2منٹ کا وقفہ سوالات اور 20منٹ کے تحریری امتحان کو پار کرنے کے بعد دیگر امیدوار وں کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ دوسرا مقام آریہ کنیا انٹر کالج کی طالبہ کو ملا ۔بلاک کے بعد اب 12اگست کو ضلع اور 17اگست کو ڈویژن کی سطح پر مذاکرہ ہونگے۔ آج کے مذاکرہ کے کور آڈی نیٹر جی آئی سی کے پرنسپل شیام سندرم سکسینہ رہے ۔مقابلہ میں کل 19طالبات نے حصہ لیا تھا۔ اس ہونہار طالبہ کے والد اور سرکاری ملازم شبیہ اصغر نقوی سرسوی نے بتایا کہ سمانہ سینکڑوں ایوارڈ پہلے مقام کے ساتھ جیت چکی ہیں ۔ جن میں سال 07۔2006 میں ماحولیات پر صوبائی سطح کے مذاکرہ میں لکھنؤ میں پہلا مقام اور 15مارچ 2008کو ‘سروجن ہتائے سروجن سکھائے’ کے موضوع پر پہلا مقام حاصل کیا تھا۔ لکھنؤ میں ہوئے اس سمینار میں وزیر اعلیٰ مایاوتی نے 25ہزار روپے نقد رقم کے ساتھ اعزاز بخشا تھا۔ اس کے علاوہ صوبائی سطح کی ہی 20اگست 2009کوالہٰ آباد میں ہوئے صوبائی سائنس سیمینار میں دوسرا مقام کیا تھا ۔ مسلسل ایوارڈ جیتنے سے سمانہ نقوی کے والدین کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی اسکول اور شہر کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کا نام بھی روشن کرے۔

اقلیتی طلبہ کا داخلہ نہیں تو اقلیتی درجہ ختم کیا جائے گا

اگر رجوع نہیں کرتے ہوں تو یہ ادارے حکومت سے اجازت حاصل کر کے اپنی نشستیں پر کرسکتے ہیں: عارف نسیم خان

ممبئی : اقلیتی درجہ رکھنے والے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ کو مقررہ تناسب کے اعتبار سے داخلہ دینے سے متعلق مہاراشٹر حکومت کے حالیہ فیصلے کا تنظیم والدین اور سرکردہ مسلم دانشور وں او رعلماے کرام نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے رو سے ریاست کے مسلم طلبہ کو داخلوں میں ہونے والی دشواریوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مہاراشٹر کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد عارف نسیم خان نےاعلیٰ سرکاری افسران ایک میٹنگ طلب کی تھی اور کہا تھا کہ ایسی شکایات ملی ہیں کہ لسانی اور مذہبی اقلیتی درجہ رکھنے والے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ خصوصی طور سے مسلمانوں کو ہی داخلے سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ مسٹر نسیم خان نے اس موقع پر کہا کہ قانون کے مطابق ان اداروں میں پچاس فیصد اقلیتی طلبہ کو داخلہ دیا جانا چاہئے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان اداروں میں تناسب کے مطابق اقلیتی طلبہ وداخلہ نہیں دیا گیا تو ا ن اداروں کے اقلیتی درجوں کو ردکیا جائے گا نیز اگر ان اداروں میں اقلیتی طلبہ داخلے کیلئے اگر رجوع نہ کرتے ہوں تو یہ ادارے حکومت سے اجازت حاصل کر کے اپنی نشستیں پر کرسکتے ہیں ۔حکومت کے اس فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے ناگپاڑہ نامی گنجان مسلم آبادی والے علاقے کی گھریلو خاتون بلقیس مقبول احمد نے کہا کہ مسلم علاقوں میں اور اس کے اطراف کئی ایک انگریزی میڈیم اسکول موجود ہیں جو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ رکھتے ہیں اور ان اسکولوں میں داخلوں کے لئے اقلیتی طبقہ کے طلبہ خاص کر مسلم بچوں کو کافی دقتوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس فیصلے کے رو سے گذشتہ کئی دنوں سے پریشان بلقیس بانو کی دفتر کو اپنی پسند کے انگریزی میڈیم اسکول داخلہ مل گیا۔ انگریزی اسکول سینٹ پیٹر کے تنظیم والدین کے ایک عہدیدار شمسی نے بتلایا کہ حکومت کا یہ یقیناً قابل ستائش ہے نیز گنجان مسلم آبادی والے مسلم علاقوں میں واقع انگریزی میڈیم اسکولوں میں مسلم طلبہ کا تناسب صرف پندرہ بیس فیصد ہے اور فیصلے کے بعد یہ تناسب میں اضافہ ہوگا۔ ممبئی کے کئی ایک تعلیمی اداروں سے وابستہ سماجی خادم شبیر سومجی نے کہا کہ شہر کے ایک اثنا ئے عشری اور دیگر ایسے فرقے موجود ہیں جن کی مادری زبان گجراتی ہے لیکن انہیں یہ مراعات حاصل نہیں تھیں۔ شبیر سومجی نے کہا کہ آزادی کے بعد غالباً پہلی مرتبہ اس قسم کے سخت احکامات کے بعد نرسی مونجی کالج جیسے باوقار ادارے کو اپنا سیکولر واپس لینا پڑا اور لسانی بنیاد پر مسلم طلبہ کو بھی داخلہ دینا پڑا ۔ آل انڈیا علما بورڈ کے صدر علامہ نعیم حسین نے ان ہدایات کی ستائش کی او رکہا کہ جہاں اس حکم سے اقلیتی فرقے کے طلبہ فیضیاب ہوں گے وہیں حکومت کو ان اداروں کے ملازمین خاص طور سے اساتذہ کرام اور دیگر کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے حل کرنا چاہئے جن کے حقوق اسلئے تاخیر سے حاصل ہوتے ہیں کہ وہ اقلیتی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ صابو صدیق انجینئر نگ کالج سے فارغ التحصیل انجینئر افروز انصاری نے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کے ایسے بھی کئی ایک ادارے ہیں جو اقلیتی درجہ رکھتے ہیں لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ان اداروں میں مسلم طلبہ کو تناسب کے اعتبار سے داخلہ نہیں ملتا اور دیگر اقوام کے طلبہ کو ڈ ونیشن کے عوض داخلہ دیا جاتا ہے اس حکم سے ان تمام چیزوں پر روک لگ جائے ۔ ریاست مہاراشٹر میں کل 1217ایسے تعلیمی ادارے ہیں جنہیں اقلیتی ادارہ کا درجہ حاصل ہیں۔

(بشکریہ صحافت ، نئی دہلی)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslim-student-bags-first-prize-in-science-seminar-in-up/d/3227

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content