certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



مدرسہ بورڈ کی تجویز ،مسترد ضرور کیجئے ،لیکن داخلی اصلاح سے گریز نہ کیجئے

مولانا ندیم الواجدی

حال ہی میں مرکزکی نئی حکومت نے مدرسہ بورڈ بنانے کے اپنے منصوبے کااعلان کیا ہے ابھی اس کے خدوخال واضح نہیں ہیں، اس لیے یقینی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت اس بورڈ کے ذریعہ ہمارے دینی مدرسوں کو کس طرح کی سہولتیں فراہم کرنا چاہتی ہے او ربدلے میں ان سے کیسی توقعات رکھتی ہے، تاہم ماضی میں مسلمانوں کے معاملات میں حکومتوں کی جو سرد مہری رہی اور مدارس کے لئے سیاست دانوں کے دلوں میں جوزہریلے خیالات رہے ہیں ا ن کے پیش نظرعلما کرام او ر ارباب مدارس نے حکومت کے اس منصوبے سے اپنی بے زاری کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے گا کہ تمام بڑے مدارس نے ، بیشتر ملی تنظیموں نے اور زیادہ ترمسلم قائدین نے حکومت کے اس منصوبے کو بالکلیہ مسترد کردیا ہے اگر چہ کچھ حضرات نے اس کا مشروط خیر مقدم بھی کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے حکومتوں کے مسلسل تغافل ،مدارس عربیہ کے کردار اور خدمات کو نظر انداز کرنے کی لگاتار کوشش بلکہ ان پر بنیاد پرستی، تنگ نظری اور دہشت گردی جیسے الزامات لگانے کی مسلسل مہم نے اس منصوبے کی افادیت ختم کردی ہے، آج ہر طرف سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آخر حکومت کو ساٹھ سال کے بعد مدارس کی حالت سدھار نے کا خیال کیسے آگیا ،مسلمانوں کا یہ شک اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ حکومت مدارس کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوف زدہ ہے اور وہ ان کے فعال کردار کو محدود کرنا چاہتی ہے او ریہ کام اسی طرح ممکن ہے کہ انہیں مدرسہ بورڈ کی بھول بھولیوں میں الجھا دیا جائے۔

مدرسہ بورڈ کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بہار ، بنگال، اترپردیش اور دوسرے صوبوں میں یہ بورڈ قائم ہیں اور ان سے کچھ مدارس کا الحاق بھی ہے، ان میں کئی  مدرسے معر وف ومشہور ہیں، سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے تمام مدارس سرکاری اسکولوں کی طرح بے اثر بن کر رہ گئے ہیں، ان میں پڑھا نے والے اساتذہ حکومت  سے ملنے والی تنخواہوں میں اتنے مست ہیں کہ انہیں اپنے فرائض منصبی کا خیال تک نہیں آتا ، ایسا تو نہیں کہ حکومت باقی ماندہ مدارس کے اساتذہ ومعلمین کو موٹی تنخواہوں کا لالچ دے کر عوام کے سامنے جوا ب دہی سے بے خوف اور دین کی خدمت سے بے نیاز بنانا چاہتی ہو، دوسری طرف جو طلبہ ان مدارس میں زیر تعلیم ہیں وہ صرف وظیفے حاصل کرنے کےلئے پڑھتے ہیں، یا اس لیے داخل ہوتے ہیں کہ ان مدرسوں سے ملنے والی ڈگری کی بنیاد پر ان کے لئے سرکاری ملازمت کا حصول آسان ہوجائے گا۔ اسی مقصد کے لئے بہار، بنگال وغیرہ کے بعض مدرسوں میں غیر مسلم طلبا بھی زیر تعلیم رہتے ہیں اور سرکاری امداد یافتہ ہونے کی وجہ سے ان مدارس کے ذمہ داروں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان غیر مسلم طلبہ کو داخل ہونے سے روک سکیں۔

اگر زیر تشکیل بورڈ بھی کچھ ایسا ہی ہے تو مسلمانوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا، سوائے اس کے کہ چند سو، یا چند ہزار اساتذہ کو کچھ زیادہ تنخواہ مل جائے گی اور بدلے میں وہ اس جذبۂ خدمت سے محروم ہوجائیں گے جو عوام کے چندوں سے چلنے والے اداروں میں رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے، جو مدرسے صوبائی بورڈوں سے الحاق کئے ہوئے ہیں ان کے اساتذہ اپنی تنخواہوں اور بھتّوں میں اضافوں کے لئے رات دن احتجاجی مظاہروں میں مشغول رہتے ہیں ،آپ نے کبھی سنا ہوگا کہ دارالعلوم دیوبند یاکسی دوسرے مدرسے کے اساتذہ  نے اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے کوئی دھرنا دیا ہو یا جلوس نکالا ہو۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ کچھ دن پہلے مرکزی حکومت نے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کی قیادت جسٹس راجند سنگھ سچر کررہے تھے ،اس کمیٹی نے اپنے طویل مشاہدے اور تفصیلی تجزیئے کے بعد جو  رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے وہ بھی آج کل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، اس رپورٹ میں مسلمانوں کی اقتصادی زبوں حالی اور تعلیمی انحطاط کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا گیا ہے،اس میں حکومت کو عملی اقدامات کے لئے کچھ مشورے بھی دئے گئے ہیں اگر سچر کمیٹی کا قیام محض سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے تھا تو حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکی ہے اور اگر اس کا مقصد واقعی ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے دائرے میں لانا تھا تو اسے کمیٹی کی سفارشات پر صدق دلی کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔

مدرسوں کے تعلق سے اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کے ان مدارس میں مسلمانوں کے 4فیصد بچے زیر تعلیم ہیں، اگر چہ تجزیہ غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ دینی مدارس میں محض 1؍فیصد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ،تاہم اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ تعداد سچر کمیٹی کے جائز ے کےمطابق 4؍فیصد ہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کو 4؍فیصد بچوں سے اس قدر ہمدردی کیسے پیدا ہوگئی جب کہ 96فیصد بچے اس کی تو جہات سے محروم ہیں، اگر حکومت مسلمانوں کو پس ماندگی کے معاملے میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے چاہئے کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنائے ، مدارس کو ان کے حال پر چھوڑ دے ، مدارس کی روح اسی وقت باقی ہے جب تک وہ حکومت کی مداخلت سے محفوظ ہیں، دارالعلوم دیوبند کے بانی اور 1857کے بعد مدرسہ تحریک کے روح رواں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے اپنے اساسی اصول ہشتگانہ میں حکومت وقت کی امداد حاصل کرنے سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے، انہوں نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ کسی امری محکم القول کے وعدے پر بھی تکیہ نہ کیا جائے۔

جہاں تک نصاب تعلیم میں عصری علوم کی شمولیت کا سوال ہے تو مدارس اس کو مسترد کرتے ہیں، کیونکہ مدارس کا قیام اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارے طلبا عصری علوم حاصل کریں، بلکہ وہ علوم اسلامیہ کی اشاعت اور دین کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے ہیں ، تاہم اگر مدارس اپنے نصاب اور نظام کے متعلق وقتاً فوقتاً جو کچھ میڈیا میں آتا ہے اس پر مدارس کے ذمہ داروں کو سنجیدہ غور وفکر کرنا چاہئے ،اصل بات یہ ہے کہ خودروپودوں کی طرح اگنے والے مدارس پر روک لگانے کی ضرورت ہے اور یہ کام عوام کے تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتا ،آج عوام کے خون پسینے کی گاڑھی کمائی ایسے ہزاروں مدارس پر صرف ہورہی ہے جن کا صرف کاغذ پر وجود ہے، یہ مدارس ان مدرسوں کی بھی حق تلفی کررہے ہیں جو ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ دین کی خدمت میں مصروف ہیں، اس حقیقت کا سب اعتراف کرتے ہیں کہ مدارس میں ضابطہ اخلاق کے نفاذ ، دستور پر عمل در آمد اور داخلی اصلاح کی سخت ضرورت ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ملت کے باشعور او رمخلص حضرات سامنے آئیں او روہ مدارس کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل تجویز کریں،سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ اور طلبا کو عصری تقاضوں اور ضرورتوں کے تحت مناسب تنخواہوں کی اور قیام ، طعام اور تعلیم کی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کے منتظمین مخلص ، دیانت دار اور باشعور افراد ہوں، اس کام کے لئے مسلمانوں کی خود ہی آگے آنا چاہئے ،حکومت کی راہ سےہونے والی کوئی بھی کوشش ہمارے مدارس کے تشخص کونقصان پہنچا سکتی ہے، راقم السطور بہت عرصے سے مدارس عربیہ کے ایک ایسے وفاق کی تشکیل کی تجویز پیش کرتا رہا ہے جو ان کے تمام داخلی اور خارجی حقوق وفرائض پر نظر رکھے او رکوئی ایسا لائحہ عمل طے کرے جس کی موجودگی میں ہمارے مدارس داخلی انتشار سے محفوظ رہیں ،مسلمانوں کا سرمایہ صحیح مصروف ہوں ، ذمہ دار حضرات عوام کے سامنے پوری طرح جواب دہ ہوں اور مدارس کی جو اصل روح ہے وہ پوری طرح باقی ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/reject-madrasa-board-but-practise-internal-reform-of-religious-education/d/1954





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content