certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (16 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



کیا آج کے مشاعرے اردو تہذیب کے زوال کا باعث

احسان حسن

آج اہل  زبان وادب اس امر پر متفق ہیں کہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ تہذیب ہے اور اس کا اصلی درس کتابوں سے نہیں بلکہ صحبتوں سے حاصل ہوتا ہے۔

حریم حن۔ معنی ہے جگر کا شائنہ اصغر

جو بیٹھو با ادب ہوکر تو اٹھو باخبر ہوکر

(جگر مرادآبادی)

اس لحاظ سے مشاعرے صحبتوں کا اہم مرکز قرار دیئے گئے ۔ مشاعروں نے اردو کی تہذیب کو پروان چڑھانے میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ اردو مشاعروں کی حیثیت ایک تہذیبی گہوارے کی رہی ہے۔ مشاعرے زبان کی سلیقہ مندی کا ہنر تو سکھاتے ہی ساتھ ہی ساتھ داد وتحسین لینے اور دینے کا شائستہ شعور بھی عطا کرتے تھے۔ مشاعرے نہ صرف مستقبل کے ادب کا پتہ دیتے تھے بلکہ آداب محفل اور اجتماعیت کی تہذیب نزاکتوں سے روبرو کراتے تھے افسوس ہے کہ مشاعرے جو اردو زبان وتہذیب کی درس گاہ سمجھے جاتے تھے آج بدزبانی وبے ادبی کی دلیل بن چکے ہیں کیونکہ :

1۔ مشاعروں میں شعرا کے بیٹھنے کی تہذیب ختم ہوچکی ہے ورنہ استاد شعرا آگے کے صف میں اور اردو مبتدی شعر اپیچھے کی صف میں مودبانہ بیٹھا کرتے تھے۔ آج نئے شاعروں میں گاؤ تکبہ کے سہارے آگے کی صف میں بیٹھنے کی بے قراری رہتی ہے جس سے کہ اگلے دن اخبار میں چھپنے والی تصویر میں ان کی شناخت باآسانی ہوسکے۔

2۔آج کے مشاعروں میں  زیادہ تر شعرا کا حال یہ ہے کہ جب اپنی پیش کش کے درمیانی لمحوں سے گذر رہے ہوتے ہیں تو خود کو مضطرب دکھانے کی کوشش کرتے ہیں  اور یہ شعر سنیے ! اور یہ شعر سنیے! جملے کے ساتھ گویا سامعین کوللکار تے ہیں۔ مشاعروں کی یہ تہذیب ہر گز نہ تھی۔ اس شعر کی اجازت فرمائیں یہ مصرعہ نذر کررہاہوں ’’ جیسے کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔

3۔ مقطع کو ختم کرنے میں عام طور پر شعرا جلد بازی ظاہر کرتے ہوئے تسلیم کے ساتھ واپس اپنی جگہ بیٹھ جانے کوشش کیا کرتے تھے تاکہ دوسرے شاعر کو موقع ملے لیکن اب یہ تہذیب ختم ہوچکی ہے۔ آج کا شاعر پور ا وقت لیتے ہوئے اپنے تخلص کے ساتھ مقطع کو دہرانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

4۔آج کے مشاعروں میں داد تحسین کے طریقے بدل چکے ہیں واہ ! واہ! کیا خوب ہے!’’ کیا کہنے صاحب!’’ جیسے قدر شناس جملوں کی جگہ تالیاں رائج ہوگئی ہیں ۔ تو وہیں شعرا نے اگر پسند آجائے تو داد ضرور دیجئے گا ، داد کی درخواست ہے، جیسے جملوں کو اپنی پیش کش کا بسم اللہ بنارکھا ہے اور حدتو تب ہوجاتی ہے جب تھوڑی بہت تالیوں پر تڑپ کر شاعر چیخ پڑتا ہے دل کھول کر داد دیجئے !’’ ادھر کچھ برسوں سے ایک نئی داد زور پکڑ تی جارہی ہے اور وہ ہے دعائیں چاہنے کی شاعر سامعین کی صف میں چندٹوپیاں دیکھ کر دو شعر پڑھتے ہی بڑی عاجزی سے دعائیں دینے کی درخواست کرنے لگتا ہے اس طرح مذہبی اقدار کے سہارے لوگ اپنی مقبولیت کے جھنڈے بلند کرنا چاہتے ہیں اردو مشاعروں کی تہذیبی روایت ان سب کی اجازت ہر گز نہیں دیتی ۔ شعرا اپنے وقار معیار کے ساتھ کلام پیش کیا کرتے تھے اور پھر کلام خود بخود داد وتحسین کی مقدار طے کرتا ۔

5۔ ادھر تقریباً ایک ڈیڑھ د ہائی سے شاعرات کی آمد نے مشاعروں کی تہذیب پر بڑا ظلم ڈھایا ہے۔ کچھ شاعرات بلاغت سے بھرپور بناؤ سنگار کرتی ہیں جس میں فصاحت کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا ۔مقام کی مناسبت دیکھتے ہوئے سامعین سے اپنے رشتے استوار کرنے لگتی ہیں مثلاً ‘‘میرے سسرال والوں !’’ وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے ایسی شاعرات کا نہ ہی شعر وسخن سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی اردو تہذیب سے ورنہ ایک زمانہ تھا کہ شاعرات کی موجودگی مشاعروں میں توازن پیدا کرتی تھی جس سے نہ صرف شعر وسخن اور زبان وادب کی جمہوری قدروں میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ تہذیبی عناصر کو بھی جلا ملتی تھی۔ برصغیر ہند وپاک کی مختلف شاعرات نے اس کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں اور اپنے کلام کی بالیدگی سے سامعین کی بے شمار داد وتحسین حاصل کی ہیں مثلاً مینا قاضی ( ممبئی) شمع زیدی (دہلی) یا ددہلوی ، داراب بانو وفا(لکھنؤ) زاہدہ،  ساجدہ دیدی، زہرہ نگاہ فاطمہ حسن، شاہدہ حسن اور پروین شاکر وغیرہ۔

6۔ متشاعر وں کی تعداد میں اضافہ بھی مشاعروں کی پستی کا ایک بڑا سبب ہے ایسے ایسے لوگ شعرا کی صف میں شامل ہوچکے ہیں جنہیں ارد ولکھنا پڑھنا تک نہیں آتا ۔ دیو ناگری میں اشعار لکھوا ئے جاتے ہیں اور پھر ان کے دم پر مشاعرے لوٹنے کا عزم رکھتے ہیں اب کلام خریدے اور بیچے جانے لگے ہیں  اساتذہ کو اپنا کلام بیچنا ہے خرید نے والا یا والی کوئی بھی ہے۔ اسے اردو آتی بھی ہویا نہیں زبان سے ہی تہذیب اورکلچر کو جلامتید ہے آج مشاعرو ں میں شرکت کرنے والوں کا ایک بڑا طبقہ اردو زبان و ادب سے نابلد رہتا ہے جس سے شائستہ گفتگو کیے امید ہی بے معنی ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ محرومی شعر ا اور سامعین دونوں ہی پہلوؤں پر برقرار ہے آج فلمی دھنوں کے طرز پر غزلیں پڑھی جارہی ہیں۔ ورنہ اردو مشاعروں میں کلاسکی ترنم کاایک اپنا احترام ہوتا تھا۔ غزل ہو یا نظم شعرا اس کے تخلیق مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترنم کا اہتمام برتتے تھے ۔مشاعروں میں ترنم کاا پنا انداز ہوا کرتا تھا جس سے سامعین کے دل ودماغ پر ایک گہرا ودیر پا تاثر قائم ہوتا تھا ۔ استاد شعر ا کے ترنم کا تو سامعین کو بے صبری سے انتظام رہتا کیو نکہ ان کے اتار چڑھاؤ کا ان کے آہنگ اور ان کی لے کا اپنا مخصوص طریقہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ سب قدر یں دم توڑ چکی ہیں سادگی کی معصومیت ک لہجے غائب ہوچکے ہیں ترتم کے نام پر پیروڈی رائج ہوتی جارہی ہے۔

7۔ اردو مشاعروں کی اپنی روایت میں اچھے تحت کو ترنم سے کم اہمیت کبھی نہیں دی گئی ۔ پاٹ دار آواز میں حساس طریقہ سے پیش کئے گئے تحت کو سامعین کی بے شمار داد وتحسین ملتی تھی اس ضمن میں کیفی اعظمی ، علی سردار جعفری  ، سلام مچھلی شہری، قیصر زیدی، اعجاز صدیقی اور شاد تمکنت وغیرہ کے تحت کی مثالیں موجود ہیں لیکن آج کے کچھ شعرا تحت کے نام پر  جس طرح غیر سنجیدگی سے بیچ بیچ میں ہنس کر اور مسلسل ہاتھ پیر کی حرکت کے ساتھ کلام پیش کرتے ہیں اس سے نہ صرف شاعرانہ قدریں مجروح ہوتی ہیں بلکہ سامعین کی بھی بے حرمتی ہوتی ہے پھر تو مشاعرے میں شرکت کی بجائے ڈرامہ دیکھنا اور دکھانا بہتر ۔

8۔مشاعرے میں ناظم کی اہمیت سے کسے انکار ہوسکتا ہے کیونکہ ناظم ہی شعر ا اور سامعین کے درمیان سنانے اور سننے کا رشتہ قائم کرتا ہے۔ ناظم ہی مشاعرے کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے اور اس کی رفتار اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے مشاعرے کی تہذیبی صورتوں اور ادب وآداب کا بہت کچھ دارومدار ناظم مشاعروں پر ہی ہوتا ہے اسی لئے نظامت کی ایک نازک فریضہ تصور کیا جاتا ہے اور حاضر جواب ،فراخ دلی وغیر جانبدار لوگوں کو خصوصاً اس کے قابل سمجھا جاتا ہے اردو مشاعروں میں نظامت کا ایک اعلیٰ معیار رہا ہے او راپنے اپنے عہد میں کچھ شخصیتیں نظامت کے لئے ہی مخصوص رہی ہیں آج بھی سامعین ان کی نظامت سے لطف اندوز ہونے کےلئے کھینچے چلے آتے ہیں مثلاً ملک زادہ منظور احمد، عمر قریشی ،انور جلالپوری وغیر ہ اور مرحوم ثقلین حیدری نظامت کا بھی اپنا مخصوص انداز تھا لیکن آج کے بیشتر مشاعروں کو آواز دیتا ہوں، اب وہ شاعر آپ کے بیچ آرہا ہے وغیرہ وغیرہ اگر کوئی شاعرہ ہے تو اس کے لئے ایک مخصو ص لہجے میں کچھ اس قسم کے جملے (فقرے) استعمال ہوتے ہیں اب ایک ابھرتی ہوئی شاعری، سامعین اپنا دل تھام لیں کیونکہ اب ایک ایسی آپ کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں! اب میں اس شاعرہ کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں’’ وغیرہ وغیرہ۔

دراصل آج لوگوں نے مشاعروں کو اپنے اپنے طور پر مختلف مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ مشاعرہ برائے مشاعرہ کے تصور نے جہاں ایک زمانے تک اردو زبان وادب اور خصوصاً اردو تہذیب کو توانائی بخشی تھی وہیں اب مشاعرہ برائے قومی یکجہتی مشاعرہ برائے مشترکہ تہذیب ، مشاعرہ برائے تحفظ امن وامان کی نئی روش نے مشاعروں کو پروپیگنڈہ سے قریب تر کردیا ہے لوگوں نے اس بنیادی امر کو فراموش کردیا ہے کہ اردو زبان وادب کاوجود بذاب خود قومی یکجہتی ،مشترکہ تہذیب اور باہمی اتحاد کا نتیجہ ہے۔ خواہ وہ اردو زبان کی تشکیل و اس کی نشو نما کو پہلو ہو یا پھر اس کی ادبی وتہذیبی قدروں کی پرورش کا پہلو لیکن جب سے یہ تھیس ویلو میں ہوئی ہے کہ اردو تقسیم کی زبان ہے اردو مشکوک ومتعصب نظروں کا شکار ہونا پڑا ہے اس ناانصافی کے لئے اہل اردو بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے کہ نااہل اردو دور حاضر کے مشاعروں پر سیاسی رنگ غالب ہوگیا ہے پہلے کےمنتظمین مشاعرہ کسی ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ان میں نہ صرف زبان وادب کا ذوق وشوق ہوتاتھا بلکہ تہذیبی شعور بھی ہوتا تھا جبکہ آج زیادہ تر مشاعروں کے کنوینر سیاسی لوگ ہوا کرتے ہیں جب چاہا مشاعرے کے نام پر ہزاروں کا مجمع اکٹھا کرلیا چونکہ مشاعروں کے سامعین میں اکثریت اقلیتی طبقہ کی ہوتی ہے اس لئے ایک طرح اس اقلیت کو خوش کرنے اور اس تک اپنی بات پہنچانے کا ایک پلیٹ فارم بھی بنالیا گیا ہے مشاعرے کے اسٹیج کو غور طلب ہے کہ اس عمل میں مالی طور پر بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ چندے باز اور سیاست باز منتظمین نے مشاعروں کو حصول زر کا اچھا ذریعہ بنا لیا ہے ظاہر ہے ایسے میں شعرا وشاعرات کے انتخاب کا اندازہ بھی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے اور کوئی اچھا شاعر آتا بھی ہے تو وہ کنوینر نے کتنا منحرف ہوپائے گا کیونکہ آئندہ بھی تو آتا ہے غالباً اسی لئے آج زیادہ تر مشاعرے محض انٹریٹمنٹ اوین بن کر رہ گئےہیں کیونکہ اہل زبان وادب کی گرفت مشاعروں پر کمزور پڑتی جارہی ہے اور اردو کی بدولت تھری اسٹار لائف اسٹیل میں رہنے والے لوگ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ہماری شناخت اور ہمارے تہذیبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہم سے چھوٹتا جارہا ہے۔

URL for this article:

http://newageislam.com/articledetails.aspx?ID=1922

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content