certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (05 Oct 2009 NewAgeIslam.Com)



’اقبال سمّان’ کے خلاف بی جے پی کی مہم

آتمہ دیپ

جناح تنازعہ سے پریشان بی جے پی کے لیڈر گرجا شنکر شرما نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے ملک کی تقسیم کے لئے جناح کے ساتھ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ ترانہ کے خالق علامہ اقبال کو بھی قصور ٹھہراتے ہوئے ان کے نام اقبال ایوارڈ دیئے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ یہ سالانہ ایوارڈ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے 87۔1986 سے دیا جارہا ہے۔

مسٹر شرما نے وزیر اعلیٰ کو لکھا ہے کہ کانگریس کی موتی لال وورا سرکار نے مسلمانوں کی ناز برداری کی پالیسی کے تحت یہ ایوارڈ شروع کیا تھا۔ بی جے پی سرکار کو ا یسے شخص کی یاد میں ایوارڈ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جس کی تصویر ایسے فرقہ پرست شخص کی ہے جس نے متحدہ ہندوستان کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر تقسیم کر کے پاکستان بنانے کے لئے نقشہ تیار کیا۔ اقبال نے پاکستان کے تصور کوفروغ دیا اور ا س حالت می ں لئے گئے کہ کچھ ہی عرصے میں ان کا خواب پورا ہوگیا۔ اس لئے اقبال کے نام پر ہرسال دیا جانے والا دولاکھ روپے کا یہ انعام فو راً بند کردینا چاہئے۔

بی جے پی لیڈر نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور وزیر ثقافت کو لکھنے کے علاوہ یہ معاملہ اسمبلی میں بھی دوبارہ اٹھایا ہے ۔ دونوں بار ان کی پارٹی کی سرکار کا مطالبہ تسلیم کرنے کو راضی نہیں ہوئی ۔پہلے جواب میں وزیر ثقافت لکشمی کانت شرما نے انہیں بتایا کہ اس معاملے کی جانچ جارہی ہے۔ مگر حکومت کی طرف سے ابھی تک اقبال ایوارڈ بند کئے جانے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ دوسرے جواب میں وزیر نے شرما کو بتایا ک کسی بھی ایوارڈ کو روکنے یا بند کرنے کی بلاوجہ کوشش کی گئی یا فیصلہ لیا گیا تو ملکی سطح پر اس کا رد عمل ہوسکتا ہے۔ ایسے ناپسند یدہ فیصلہ سے ریاستی حکومت کی شبیہ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لئے سبھی ایوارڈ ز کو نہ صرف قائم رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ان کے وقار کو اور بڑھانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ وزیر ثقافت نے شرما کوجانچ کے نتائج سے باخبر کرتے ہوئے لکھا کہ مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے تخلیق ادب کے مختلف پہلوؤں کے لئے قائم کئے گئے مختلف ایوارڈ وں میں اقبال سمان بھی شامل ہے۔ یہ ایوارڈ 87۔1986 سے اب تک برابر دیا جارہا ہے۔ اردو ادب میں تخلیق کے لئے قائم یہ ایوارڈ ملک کا باوقار ایوارڈ ہے۔ اب تک اردو کے کئی ادباء وشعراء یہ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ اسے بند کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ حکومت میں تبدیلی کے باوجود ان سبھی ایوارڈ وں کا وقار باقی ہے۔ کسی ایوارڈ کو روکنے پابند کرنے کا فیصلہ حکومت کے دل میں کبھی نہیں آیا۔

بی جے پی لیڈر اس جواب سے مطمئن نہیں ہیں ۔چار سال سے اس ایوارڈ کے خلاف آواز اٹھارہے شرما کا خیال ہے کہ اقبال نہ صرف گاؤ کشی پر پابندی اور وندے ماترم کے مخالف تھے بلکہ انہوں نے 1930میں ہی پاکستا ن کا تصور پیش کردیا تھا جسے 1940میں مسلم لیگ نے قبول کیا۔ مسلم لیگ کے الہٰ آباد اجلاس میں صدر کی حیثیت سے محمد اقبال نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلم حکومت کا قیام مسلمانوں کا انصاف پسند مطالبہ ہے۔ مسلم مفادات کی حفاظت علیٰحدہ مسلم مملکت کی تشکیل سے ہی ممکن ہے۔ مسلمانوں کی آخری قسمت برطانوی ہندوستان کے شمال مغرب میں مسلم حکومت کے قیام پر منحصر ہے۔ اس لئے پنجاب ،شمال مغرب میں سرحدی علاقہ سندھ اور بلوچستان کو شامل کر کے یہ ملک بنایا جائے ۔ بعد میں یہ مطالبہ پاکستان کی تشکیل کے مطالبہ میں تبدیل ہوگیا۔

شرما کا خیال ہے کہ جناح کی طرح اقبال بھی پہلے محب وطن تھے بعدمیں انہوں نے فرقہ پرستی اور علیٰحدگی اختیار کی ۔ ایک ملک کی شکل میں پاکستان کی عقیدت کے جوتین اہم بنیاد بنے ان میں اسلام اور جناح کے ساتھ اقبال بھی شامل ہیں۔ جناح پر تحقیق کررہے پاکستانی محقق ڈاکٹر زیڈ زیدی نے لکھا ہے کہ 1938میں اقبال سخت بیمار کی حالت میں لاہور میں اپنی رہائش گاہ میں جاں گئی کے عالم میں تھے ۔ اس وقت انہوں نے اپنے مداحوں سے کہا تھا کہ میں نے اپنا مشن حاصل کرلیا ہے۔ اب سبھی جائیں اورجناح کی کامیابی اور ان کی درازی عمر کے لئے دعا کریں۔ انہیں ابھی اپنا مشن پورا کرنا ہے۔ اقبال برطانیہ میں اپنی تعلیم کے دوران 1908میں ہی مسلم لیگ کے رکن بن گئے تھے ۔ جو ہندستان کو دوٹکڑے کرانے کی سازش میں کامیاب ہوگئے۔ اقبال کے کہنے پر ہی جناح نے محب وطن ذہنیت ترک کردی ۔ شرما ملک کی تقسیم پر کئی دانشوروں کی کتابوں کا حوالہ کے طور پر وزیر اعلیٰ کو بھیج چکے ہیں ۔ اس میں اقبال کے کردار کا تذکرہ ہے۔ بھوانی پرساد چٹواپادھیائے کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ اقبال نے مسلم لیگ کے اسٹیج سے آزاد مسلم ملک کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا ترانہ کے تخلیق کا ر اقبال نے ہی بعد میں مسلم ہیں ہم وطن ہے ،ساراجہاں ہمارا ،جیسا ترانہ لکھا۔ مسلم لیگ کے صدر کے طورپر اقبال نے ہندوستان کے اندر مسلم مملکت کے مسلمانوں کے دعوے کو انصاف پسندانہ ٹھہرایا تھا۔

ڈاکٹر دینا ناتھ ورما نے اپنی کتاب ’’آدھونک بھارت‘‘ میں لکھا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کے علیٰحدہ مملکت کا خیال اقبال کا ذہنی تصور ہے۔ ایل پی شرما کی کتاب میں اقبال کے اس خط کا تذکرہ ہے جس میں انہوں نے جناح کو لکھا تھا کہ اگرشمالی ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک یازیادہ مملکتوں کا قیام ناممکن ہے تو خانہ جنگی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو ہندو مسلم فسادات کی شکل میں کچھ عرصے سے جاری ہے۔ پرتاپ سنگھ کتاب میں اقبال کو تقسیم کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ویریند رسنگھ برن وال کی کتاب جناح میں کہا گیا ہے کہ جناح نے پاکستان کے تصور کو فرو غ دینے کی وجہ سے ہی اقبال کو اپنا روحانی استاد تسلیم کیا تھا۔ اقبال کے رابطہ میں آنے کے بعد جناح کے تیور بالکل بدل گئے۔

دوسری جانب کچھ ادباء کا خیال ہے کہ اقبال ایوارڈ کو سیاست میں نہیں گھسیٹا جانا چاہئے ۔ یہ ایوارڈ اردو ادب میں نمایا خدمات کے صلہ میں دیا جاتا ہے ۔ اسے سیاست کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جانا چاہئے ۔ یہ صحیح ہے کہ اقبال نے اپنے ترانہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کو کئی بار بدلا ۔ جسونت سنگھ کی کتاب میں بھی یہ ترانہ شائع ہوا ہے جو اقبال کی بدلی ہوئی ذہنی تصور کا احساس کراتا ہے ۔ مرزا غالت کے بعد اقبال اور فیض احمد فیض ہی اردو کے بڑے شاعر ہیں جن کا تعلق بدقسمتی سے سرزمین پاکستان سے ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=1850

 




TOTAL COMMENTS:-   1


  • yeh hamri Khosh qismati hay keh Dr. Mohamad Iqbal awr faiz ka teloq Pakistan sy hay. Ore yeh Aap ki bad qismati hay keh App ka teloq hindostan say hay .


    By Asif -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content