certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (19 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Akhtar ul Iman's Poem 'Mosque' اختر الایمان کی نظم ‘مسجد’ انحطاط پذیر معاشرے، اس کے تہذیبی اقدار اورعصری مسائل کا نوحہ ہے


کوثر مظہری اور ذاکر خان ذاکر

18جون،2019

اس نظم میں شاعر نے کہیں دور اشارہ کر کے ایک مسجد کی نشاندہی کی ہے ۔ برگدی گھنی چھاؤں میں ماضی اور حال گناہگار نمازی کی طرح رات کی تاریک کفن کے نیچے اپنے اعمال پر آہ و زاری کرتے ہیں ۔ اسی برگد کی چھاؤں میں ایک ویران سی مسجد ہے جس کا ٹوٹا ہوا کلس پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے ۔ اسی مسجد کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر کوئی الّو (چنڈول) کوئی پھیکا سا گیت چھیڑ دیا کرتا ہے ۔ نظم میں برگدی گھنی چھاؤں ماضی سے مشابہ ہے ۔ رات کو تاریک کفن سے موسوم کیا گیا ہے ۔ ماضی و حال کا خاموش و ملول ہونا، شکستہ کلس کا ندی کو تکنا ، بے بسی، مایوسی اورپاسیت کو واضح کرتا ہے ۔ چنڈول ایک منحوس پرندہ مانا جاتا ہے اور پھر اس الّو کا کوئی پھیکا سا گیت چھیڑنا یہ بھی توجہ طلب ہے ۔ شاعر نے نظم میں ڈوبتے سورج کے لئے ’ سورج کے وداعی انفاس‘کا استعمال کیاہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے بھی اس مسجد کی طرف منہ موڑ لیا ہے ۔ نظم میں جوسب سے بڑی فن کاری دکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس دعاؤں کوسننے والا کوئی شخص نہیں بلکہ ان دعاؤں کے گواہ شام و سحر ہیں جن کی تجسیم کر کے ان میں شاعر نے حسرت بھی بھردی ہے اور اس حسرت میں قوت سماعت بھی آگئی ہے ۔ یہ حسرت ہی ہے جو اپنا ٹوٹا ہوا دل تھام لیا کرتی ہے ۔ اختر الایمان نے مجرد محسوسات اور جذبات کونہایت ہی تخلیقی ہنر مندی اور خوبصورتی کے ساتھ الفاظ کے پیکر میں ڈھال دیا ہے ۔

اس مسجد کی ویرانی کو مزید واضح کرنے کے لئے اختر الایمان دوسرے عوامل کابھی استعمال کرتے ہیں ۔ جیسے وہ یہ بتاتے ہیں کہ موسم سرما میں ابا بیل آکر اس کے محراب شکستہ میں پناہ گزیں ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ اس مسجد کی دیوار کے سائے میں کوئی بوڑھا گدھا بیٹھ کر اونگھ لیتا ہے یاپھر آنے جانے والا کوئی مسافر تھوڑی دیر کے لیے ڈرا سہما ہوا کچھ دم ٹھہر کر جاتا ہے ۔ اس عکس سے اس مسجد کی ویرانی او ربھی بڑھ جاتی ہے ۔ محراب شکستہ اس مسجد کی قدامت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بے توجہی کوبھی پیش کرتا ہے ۔ شاعر نے مسجد کو اسلامی حمیت اور ایمانی قوت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے ۔ موضوع کچھ بھی ہو ،دیکھنایہ ہے کہ موضوع فن پارہ بن پایا کہ نہیں ;238; میں جس تسلسل خیال اور ارتقائی صورت حال کا تقاضا ہوتا ہے وہ اس نظم میں بالکلیہ موجود ہے ۔ نظم آگے بڑھتی ہے تو اس کی پیکر تراشی کچھ اور بھی نکھر آتی ہے ۔ نظم کے مختلف بند پر اگر آپ غور کریں تو پائیں گے کہ اس المناک اور اس انگیز فضا میں بھی ایک طرح کا روحانی یا الوہی ارتفاہی نظر آتا ہے ۔ الفاظ کے تخصص و ترتیب سے اس میں فکری و فنی بلندی پیدا ہوگئی ہے ۔ الفاظ کی ہم آہنگی سے المیہ فن پارے میں بھی نغمگی اور موسیقیت پیدا ہوجاتی ہے ،اسلوب میں نکھار آجاتا ہے ۔ شاعر نے المناک مسقتبل کا اشاریہ پیش کیا ہے جوکہ در پردہ اپنے اندر انتباہ بھی رکھتاہے ۔ اب خدا کی طرف سے پیغام آنے کاسلسلہ ختم ہوچکا ہے، پہاڑی اور وادی اب صدائے جبرئیل سے محروم ہو چکی ہے ۔ اب شاید کسی کعبے کی بنیاد نہیں پڑسکتی کیونکہ آواز خلیل کہیں کھو گئی ہے ۔ یہاں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ بالکل سچ ہے لیکن اس کے باوجود اس میں انتباہ اور خوف کا رنگ بھی آگیا ہے ۔ اختر الایمان نے جو منظر کشی کی ہے وہ المناک ہوتے ہوئے بھی دل فریب ہے ۔

اس مسجد کو انہوں نے نگار دل یزداں کہاہے جو کہ بہت ہی با معنی اور پر قوت و پر جمال ہے ۔ انہوں نے کس تخلیقی طباعی اور ہنر مندی سے چاندستارے اور شبنم سب کو اسی مسجد کے ساتھ شریک کرلیا ہے ۔ سب سے زیادہ بلیغ اور تخلیقی نشان تو ہے مسجد کو نگار دل یزداں قرار دینا ۔ ساتھ ہی شاعر نے اس مسجد کے دیئے کوبھی قوت ہم کلامی عطا کردی ہے ۔

نظم کے آخری بند میں اختر الایمان نے مسجد کے پاس بہتی ہوئی ندی کواتنا تونگر اور پرتمکنت بنا کر پیش کیا ہے کہ اس کائنات کی نا پائیداری کا برملا اظہار ہوجاتا ہے ۔ ایک ویران سی مسجد کا شکستہ ساکلس ، پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے، اس تکا کرنے میں جو بے چارگی اور خود سپردگی کے آثار ہیں وہ کوئی سر بستہ راز نہیں ۔ اگر ندی کو وقت کا استعارہ تسلیم کولیں تو پھر مطلع اور بھی صاف ہوجاتاہے کہ وقت تو سب سے زیادہ بلوان ہوتا ہے ۔ اس کے آگے سب کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔ تو کیایہ نظم عظمت رفتہ کے زوال کا نوحہ ہے;238; میرے خیال سے موضوع یا مضمون زوال آمیز یا زوال زدہ یاپھر زوآگیں ہوسکتا ہے لیکن ایک ادب کے قاری یا طالب علم کے لیے اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ یہ زوال آمیز مضمون فن پارہ کے وجودپذیر ہونے میں حارج تو نہیں ;238; نظم پر غور کریں تو یہ اندازہ ہوگاکہ اس میں وہ کردار ہیں جو مہذب انسانی معاشرے پر طعنہ زن ہیں ۔ یہی وہ کردار ہیں جو عہدرفتہ کی کہانی بھی پیش کرتے ہیں اور جھوٹے مہذب سماج کی قلعی بھی کھولتے ہیں ۔ ساتھ ہی ایک ایسا شعری مرقع پیش کرتے ہیں جو ادب کے قاری کوصرف پسند ہی نہیں آتا بلکہ اس کے باطن اس طرح اتر تاہے کہ وہ مرقع اس کے لئے حرزجاں بن جاتا ہے ۔

کسی خیال یا موضوع کو فن پارہ اور اس فن پارہ کو اس طرح پیش کرناکہ وہ ایک مرقع بن جائے آسان نہیں ۔ غور طلب امرہے کہ اختر الایمان نے اپنی تخلیقیت میں جو توانائی بھرنے کا فریضہ انجام دیا ہے وہ مضمون کے سبب ہے یا پھر ان کی قوت تخلیق ہے جو خود آگ سے پیدا ہوکر آگ کا سا اثر پیدا کرتی ہے ۔ اختر الایمان نے سیدھے اورسپاٹ مگر کہرے بیانیہ اندازکی نظ میں بھی کہیں ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے ترقی پسندوں کی حد درجہ اوڑھی ہوئی مقصدیت اور جدیدیت کی بے جا جدت طرازی اورآپا دھاپی سے خود کوبچائے رکھا اور ن م راشد اور میرا جی کے بعد بلکہ دونوں کے ساتھ ساتھ اقبال کے بعد نظمیہ شاعری کی تثلیت بنائی ۔ یہ کام آسان نہ تھا ۔ ہم آختر الایمان کی شاعری کو ان کے مخصوص نظام شاعری میں رکھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔

 

اختر الایمان کی نظم ’ مسجد‘ ایک دلکش مرقع ہے

ذاکر خان

18جون،2019

اختر الایمان کی شاعری قدامت پسندی سے پرے نئے رنگ و آہنگ اور اچھوتے اسلوب سے عبارت ہے ۔ اجتماعی زندگی کے معاملات و مسائل ان کی نظموں میں کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ایک نئے لہجے کی جستجو میں رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ روایتی موضوعات کے بجائے انہوں نے ہمیشہ ان موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایاجو ان کے پیشتروشعراء کے یہاں نظر نہیں آتے ۔ اختر الایمان کا ایک خاص وصیف پیکر تراشی بھی رہا ہے ۔

الفاظ کی جادو گری سے پیکر تراشنے کاہنر اختر الایمان بخوبی جانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی کئی نظ میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں او رانہی شکاہکار نظموں میں ’ مسجد‘ کا بھی شمار ہوتا ہے ۔ مسجد کی ٹوئی ہوئی دیوار پر چنڈول کامرثیہ عظمت رفتہ پڑھناظاہر کرتا ہے کہ اختر الایمان زریں ماضی کو اپنی عظیم روایتوں کا اہم حصہ سمجھتے ہیں اور اپنے عہد کو ابتری کی اخلاقی قدروں کے زوال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ۔

نظم مسجد ایک دلکش مرقع ہے ۔ یہاں اختر الایمان مسجد کانقشہ کچھ اس انداز سے کھینچے ہیں کہ پہلے بند سے آخر ی بند تک نظروں کے سامنے ایک جیتی جاگتی تصویر نظر آنے لگتی ہے ۔ رات کے تاریک کفن کے نیچے ماضی و حال کا گناہ گاروں کی طرح مل کر اپنے اعمال پر رولینا، ویران سی مسجد کے شکستہ کلس کا پاس بہتی ندی کو تکنا ، گرد آلود چراغوں کا ہوا کے زور سے مٹی کی تہوں میں دب جانا ،حسرت شام و سحر کا پریشان دعاؤں کو سننا ، تسبیح کے دانوں کے نظام کا کالعدم ہو جانا، طاق میں ٹھہرے ہوئے شمع کے آنسو ،چاند کی پھیکی سی ہنسی ، اور اس جیسی بے شمار ترکیبات اور علامتیں یہ ظاہر کرتیں ہیں کہ اختر الایمان کا زندگی اور فن کے تعلق سے اپنا ایک الگ نظریہ تھا جو کسی اور نظریے کو من و عن قبول کرنے سے انہیں روکتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مکمل ترقی پسند ہوسکے اورنہ ہی حلقہَ ارباب میں شامل ہوسکے ۔ ان کے شاعرانہ میلان میں تجربہ پسندی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی نظر آتی ہے ۔ ان کی اپنی ترجیحات تھیں جو سب سے الگ تھیں اور مسجد میں بھی ان کا یہی رنگ واضح نظرآتا ہے ۔

18جون،2019 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kausar-mazahari-and-zakir-khan-zakir/akhtar-ul-iman-s-poem--mosque--اختر-الایمان-کی-نظم-‘مسجد’--انحطاط-پذیر-معاشرے،-اس-کے-تہذیبی-اقدار-اورعصری-مسائل-کا-نوحہ-ہے/d/118919

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content