certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Nov 2019 NewAgeIslam.Com)



Demolished Babri Masjid—Proposed Ram Janambhoomi Mandir Dispute مسمار شدہ بابری مسجد اور مجوزہ رام جنم بھومی تنازع: اقلیتی مسلمانوں کے لیے ہندو اکثریت کی خیر سگالی حاصل کرنےکا ایک اور موقع

 

سلطان شاہین ، فاونڈنگ ایڈیٹر نیو ایج اسلام

ہندوستان میں مسلمانوں کا قدرے مضطرب ہونا فطری بات  ہے کیونکہ ملک کو ایودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے جو کہ چند ہی دنوں میں آنے والی ہے۔ طرح طرح کی  افواہیں گرد ونواح میں  پھیل رہی ہیں جو ہمارے میڈیا کے کسی بھی ذمہ دار حصے میں قابل تکرار تصور نہیں کی جاتی  حالانکہ اس  معاملہ سے   بیشتر مسلمانوں کو مزاحمت کا سامنا ہے ۔

تاہم ہر چنوتی  ایک موقع فراہم کرتا ہے ۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام نے بھی مسلمانوں کو ایک موقع دیا ۔ اب جب کہ مسجد ہی نہ رہی  اور مسلمان کا معاملہ  یہ ہے کہ وہ اینٹوں، مارٹر یا زمین کے پلاٹوں کی پوجا نہیں کرتے، ایسے میں مسلمان  مسجد توڑنے والے  شرپسندوں کو معاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں  اور پھر  مندر کی تعمیر کے لئے زمین تحفہ میں دیتے ہوئے آگے قدم بڑھا بھی  سکتے ہیں۔ یہی بات میں نے 13 جنوری 1995کو  ہندوستان ٹائمز نئی دہلی میں  شائع ہونے والے "“Opportunity for Muslim یعنی مسلمانوں کے لئے مواقع" کے عنوان سے ایک مضمون میں بھی کہی تھی۔ پھر یکم جولائی 2009 کو اسی   نقطہ  نظر کو  مشہور ویب سائٹ  نیو یج اسلام ڈاٹ کام نے بھی از سر نو پیش کیا تھا۔

میں یہاں آپ کو تقریبا 25 سال قبل لکھے گئے اس مضمون کے کچھ متعلقہ اقتباسات پیش کررہا ہوں۔

۔۔۔۔‘‘میرا اصل عریضہ یہ ہے کہ عفو ودر گزر  ہندو اور مسلم دونوں مذہب کی روحانی اقدار میں شامل ہیں۔ عفو ودر گزر ہی برائی اور  برے کام (کرما) کے آہنی پنجہ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔  اس بات پر ہمارا ایمان  ہےکہ قیامت کے دن ہرفردکو ذاتی اور اجتماعی اعمال   کا حساب دینا ہوگا۔  ہندو اور مسلم دونوں کی مذہبی روایتیں خدا کو سب سے اعلیٰ وافضل معلم تسلیم کرتی ہیں،   اس دنیا کو ایک عظیم درسگاہ، اور اس مایا جال  میں  پیش آنےوالے حوادث کو درس عبرت قرار دیتی ہیں۔

اس مقام پر خصو صی  طور پربابری  مسجد رام جنم بھومی تنازع سے پیدا شدہ حالات میں ہماری مذہبی  تعلیم کیا پیغام دیتی ہے ؟  شاید عفو ودر گزر کی تعلیم ہی سب سے اہم ہے جو دونوں  ہی فریق کو آپسی افہام و تفہیم  کی دعوت  دیتی ہے۔ او رکچھ لو۔ کچھ دو۔ کے اصول پرعمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ معاف کرنے کی روش  اور تعلیم پر عمل کے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ سال ۔ اس سال ۔ صدی ہزاروں برس بھی لے سکتی ہے ۔ شرط یہ ہے کہ ہمیں معاف کرنا سیکھنا ہے ۔ اور اس سے قرار نہیں ہے۔ خدا ہی ہمارا بہترین معلم ہے جو ہمیں عفو و  در گزر کی تعلیم دیتا ہے ۔ ابھی ہمارے پاس اس تعلیم کو سیکھنے کا موقع ہے تو ضروری ہے کہ ہم اسے سیکھیں اوراس پر عمل کریں۔

اپنے مضمون کے اخیر میں پھر میں نے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘‘اب اگر دونوں فریق ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے ، آپسی افہام و تفہیم سے کام نہیں لیتے اور اسی طرح اگر موجود  ہندو اور مسلم رہنما جو اپنے اپنے  فرقے کے نمائندہ  کہے جاتے ہیں اس سلسلے میں قدم نہیں اٹھاتے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ عمل میں نہیں آسکتا اس مقام پر دونوں ہی فرقہ کے عام آدمیوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہئے اور اس معاملہ میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہئے ۔ اس لئے کہ ملک میں امن و  شانتی کے لئے یہ نہایت  ضروری ہے اور کسی وجہ سے اگر ایسا نہیں  ہوتا تو بھی بحیثیت مسلمان ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے  جس نے  ہمیں ایک سنہرا  موقع دیا ہے ۔ تاہم معاف کردینے کے اپنے اختیار کا استعمال کرسکیں ۔ اور خدا کی دی ہوئی زمین کا ایک حصہ ایک خاص شرط کے ساتھ  بطور عطیہ انہیں  دے دیں ۔ شرط یہ ہوگی کہ اس زمین  کا استعمال صرف عبادت خانہ کی تعمیر کے لئے ہی ہوگا۔ تاکہ اس کا تقدس بر قرار رہے ۔

‘‘مجھے اس بات کا علم ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے کہ معاف کرنا آسان  نہیں ہوتا۔ ہاں اگر روحانی طور پر اس کی نشو ونما ہو تو عفو وودر گزر تیسیر وسہولت کی منزل اختیار کر لیتا ہے ۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں۔  ہمارے پاس بہت کچھ ہے او رنہایت اہم کام ہمیں اس دوران کرنا ہے ۔ ہمیں صرف انہی الجھنوں میں گھرے نہیں  رہنا ہے ۔ کیونکہ تقسیم وطن کے بعد پنجاب  اورپانی پت میں سکھ سرداروں نے بہت ساری  مسجدو ں پر قبضہ کرلیا ۔ او راسے رہائش اور جانوروں کے باندھنے کے لئے  استعمال کر رہے ہیں ۔ کچھ  مسجدوں کو مندروں اور گروداروں میں بھی تبدیل کیا گیا ہے ۔ وہ آج مسلمانوں کے نہیں بلکہ ہندؤں اور سکھ سرداروں  کے عبادت خانے میں  کسی صورت وہاں ایک خدا کی خواہ وہ بھگوان کے نام ہو یا واہے گرو کے نام عبادت تو ہو رہی ہے ۔ خواہ وہ کسی دیگر رائج طریقہ سے ہو عبادت عبادت ہے ۔ ’’

تاہم تنگ نظر اور خود ساختہ رہنماؤں کی رہنمائی کی وجہ سے  مسلمانوں نے اس  موقع کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اب پھر ایک مرتبہ ان کے پاس ایک موقع ہے ۔ اس سرزمین کی اعلی عدالت اپنا آخری فیصلہ سنانے والی ہے۔ سب سے پہلے مسلمانوں کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ فیصلے کی پاسداری کریں گے خواہ  فیصلہ کچھ بھی ہو ، اسے خوشی خوشی قبول کریں گے۔ یہی کام ہمارے  قائدین پہلے بھی کر چکے ہیں۔ لیکن یہ دوبارہ اہمیت کی حامل ہے ، بالخصوص بیشتر میڈیا بشمول پرنٹ ، الیکٹرانک اور سماجی میڈیا کی تفرقہ انگیز بلکہ روانڈا فطرت کے پیش نظر، جس نے شمالی ہندوستان میں مواصلات کے تقریبا تمام ذرائع کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے کو تقسیم کرنے کی واضح کوششوں کو جواز فراہم کرتے ہوئے  کچھ جاہل اور لالچی ملا بھی پرائم ٹائم کی ان  مرغ بازیوں میں  حصہ لیتے ہیں جو ٹیلیوزن ڈیبیٹ کے نام پر ہوتی ہیں۔

 اس قومی سلامتی کے  خطرے  سے نمٹنے کے لئے مسلمان کم از کم  جو کر سکتے تھے وہ یہ تھا کہ وہ  ان غدار جاہلوں کا سماجی بائیکاٹ کرتے جنہیں ہماری میڈیا  بڑے احترام سے علماء کا خطاب دیتی ہے ۔مگر یہ کسی اور دن کا موضوع ہے ۔  ان تاریک بادلوں میں چاندی کی تہہ یہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی سیکولر اور کثرتیت کی بنیادیں اتنی گہری ہیں کہ انہیں  ان  ڈھونگیوں کے ذریعے ہلائی نہیں جا سکتی جنہیں میڈیا نے مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔  مجھے  اس بات کی بھی اظہار کر لینا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں کثرتیت کا سہرا زیادہ تر ہندو مذہب کی وسعت  قلبی کو جاتا ہے  جو تمام مذاہب کو ایڈجسٹ کرنے کا خواہاں ودلداہ ہے۔

مسلمانوں کو اب سپریم کورٹ پر اپنے اعتماد کا اعادہ کرلینا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے جب ۲۳ اپریل ۱۹۸۵ کو سپریم کورٹ  کا ایک فیصلہ آیاتھا  جو کہ اسلام کی شفقت پسندانہ نوعیت پر مبنی تھا ، مسلمانوں نے اس فیصلے  کو بدلنے کے لیے  اس وقت کی موجودہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بنیادی غلطی کی تھی۔  سپریم کورٹ نے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 125 کی استدعا کی جو بلا تفریق نسل وذات اور مذہب ہر فرد پر  منطبق ہوتا ہے، اور یہ حکم دیا کہ  طلاق یافتہ خاتون  شاہ بانو جس کے پاس نان ونفقہ کا کوئی ذریعہ نہیں  ، اسے نان ونفقہ کی رقم ادا کی جائے ۔ سپریم کورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "دفعہ 125 کی دفعات اور مسلم پرسنل لاء کے دفعات کے مابین اس سوال پر کوئی نزاع نہیں کہ مسلم شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلاق یافتہ عورت کو نان ونفقہ دے جو خود کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔

اس موضوع  پر قرآن مجید کو تشریعی حاکمیت کا سب سے اول مصدر سمجھتے ہوئے  عدالت نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مسلم شوہر پر طلاق یافتہ بیوی کے لئے نان ونفقہ ودار سکنی کی  ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ لیکن مسلم قیادت  ملا  اور غیر ملا دونوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اس پس منظر میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ پر اپنے اعتماد کا بار بار  اعادہ کریں اور اعلان کریں کہ اگر وہ اس فیصلے کو ہر حال میں قبول کریں گے اگرچہ فیصلہ ان کے خلاف  ہی کیوں نہ ہو ، کیوں کہ یہ  فیصلہ اس ملک کی اعلی ترین عدالت کا ہوگا ۔

یہ بات قرآن وحدیث کی تعلیمات کے موافق بھی ہے۔اسلام کے تمام مکاتب فکر  اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اسلام مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے وہ کہ  حکمران کے عقیدے سے قطع نظر ، اپنے ملکی آئین وقوانین کے تئیں وفادار رہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے ، "اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول  کی اطاعت کرو اور ان کی اطاعت کرو جو تم  میں سے اختیار والے ہیں" (4:60)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،  "جو حکمران کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے ، اور جو حکمران کی نافرمانی کرتا ہے وہ میری نافرمانی کرتا ہے" (صحیح مسلم) اور دوسری حدیث میں ہے کہ  "اپنے حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو  اگرچہ تم  [اس کو ناپسند] جانتے ہو۔" (بخاری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے مکہ میں  تقریبا بارہ سالوں تک سخت اذیتیں برداشت کیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے حکومت مکہ کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے قرآنی پیغام  "زمین میں خلل پیدا نہ کرو" (۲:۱۳) کے بعد پر امن طور پر مکہ چھوڑ دیا۔ در حقیقت اسلام نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو حکومت کی اتباع کرنے کی تعلیم دیتا ہے  بلکہ اپنے ملک سے محبت کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے ۔ ایک معروف حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ  " ملک سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے" (سخاوی؛ سفینۃ البافر ، جلد ۸ ، صفحہ ۵۲۵؛ میزان الحکمۃ ، حدیث # ۲۱۹۲۸)

دوسری بات  یہ کہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اگلے کچھ دنوں تک خود احتسابی کریں اور غور کریں کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ کیا کریں گے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ موجودہ کشیدگی،  ہندو تقاضوں اور زمین کے اس حصہ پر مندر تعمیر کرنے کی تیاریوں کی جگہ پر جہاں بابری مسجد کی عمارت  تقریبا پانچ صدیوں تک قائم رہی  وہاں اب مسجد بنانا مسلمانوں کے لیے  ناممکن ہوگا۔  بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ: کیا ایسا کرنا بھی مسلمانوں کے لئے ضروری ہے؟ بابری مسجد ایک وراثتی  عمارت تھی۔ افغانستان میں بامیان بودھا کی طرح ، اب یہ بھی ہمیشہ کے لئے کالعدم ہو گیا ہے۔ اسے دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا عقل اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ مسلمان مندر کی تعمیر کے لئے زمین کا یہ ٹکڑا عطیہ کردیں جسے ہمارے ہندو بھائی بہنیں اتنی شدت سے حاصل کرنا چاہتے  ہیں۔ یہ دلیل بنانا کہ اس زمین کے تئیں رام جنم بھومی کا عقیدہ مصنوعی عقیدہ ہے ، یہ غیر معقول ہے ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کس طرح  ایک  عقیدہ وجود پذیر ہوگیا ۔ یہ تو اب عقیدہ بن ہی چکا  ہے اور چونکہ مسلمان خود یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ بشمول غیر معقول حصوں کے قابل احترام ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ  تاریخی صداقت سے قطع نظر دوسروں کے عقیدے کا احترام کریں۔

 

English Article: 

Demolished Babri Masjid—Proposed Ram Janambhoomi Mandir Dispute: Another Opportunity for Minority Muslims to Earn Hindu Majority’s Goodwill

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/سلطان-شاہین-،-فاونڈنگ-ایڈیٹر-نیو-ایج-اسلام/demolished-babri-masjid—proposed-ram-janambhoomi-mandir-dispute-مسمار-شدہ-بابری-مسجد-اور-مجوزہ-رام-جنم-بھومی-تنازع--اقلیتی-مسلمانوں-کے-لیے-ہندو-اکثریت-کی-خیر-سگالی-حاصل-کرنےکا-ایک-اور-موقع/d/120154




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content