certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (03 Aug 2019 NewAgeIslam.Com)



Divine Guidelines for a Peaceful Human Society-part—1 ایک پر امن اور خوشحال انسانی معاشرے کے قیام کے لئے آسمانی احکام و ہدایات


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

1 اگست 2019

آج ہمارا معاشرہ کس کرب ناک دور سے گزر رہا ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ مثلاً مجرم و بد دیانت افراد کا شتر بے مہار ہونا، بے گناہ انسانوں کا خون ناحق بہنا، سچ اور جھوٹ اور حق و باطل کے درمیان کی تمیز کا دم توڑ دینا، شرپسند عناصر کی سنی سنائی باتوں پر فتنہ و فساد کا بازار گرم ہو جانا، مظلوم افراد کے حق میں گواہوں کا پھر جانا یا ان کا قتل کر دیا جانا ، لوگوں کا برائی اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کی اعانت کرنا،اور اعلیٰ سیاسی عہدیداروں کا مجرمین کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنا۔ یہ ہمارے معاشرے میں پنپنے والے چند ایسے ناسور ہیں جو دن بہ دن گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیںاور اندیشہ ہے کہ کہیں یہ رفتہ رفتہ لا علاج کینسر کی طرح ہمارے پورے معاشرے میں نہ پھیل جائیں۔

اگر ہم غور کریں یہ تو یہ پائیں گے کہ یہ ایسی سماجی اور معاشرتی برائیاں ہیں جو ہمارے معاشرے کے نہ تو کسی ایک طبقے تک محدود ہیں اور نہ ہی کسی ایک خاص مذہب اور کسی خاص فرقے تک۔ بلکہ یہ وبا کسی نہ کسی صورت میں ہمارے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی چپیٹ میں لے رہی ہے۔ جب کوئی ایسے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے یا جب ہمارے معاشرے سے ایسی باتیں نکل کر سامنے آتی ہیں تو کہیں یہ باتیں انفرادی طور پر اپنا اثر چھوڑتی ہیں اور کہیں اس کے مہلک اثرات اجتماعی سطح پر سامنے آتے ہیں۔

معاشرے کو ظلمت کدہ بننے سے کیسے بچایا جائے؟

آج ہمارے معاشرے میں انجام دیئے جانے والے جرائم کی نوعیتیں مختلف ہیں اور ان کے اسباب و علل بھی جدا جدا ہیں ۔ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے کہ کس برائی کی جڑ کیا ہے اور کس جرم کے اسباب و محرکات کیا کیا ہیں ۔اب بعض معاملات کے حوالے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انہیں سیاسی مفادات کے تحت انجام دئے جاتے ہیں۔لہٰذا،اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بحیثیت مسلم خود کو علم و فکر،شعور و آگہی اور نور و عرفان کے کس چشمےسے وابستہ کریں کہ ہماری زندگی اور ہمارا معاشرہ ایک ظلمت کدہ بننے سے بچ جائے اور ہماری زندگیوں سے ظلم و جہالت کی تاریکی فنا ہو جائے؟ تو ہمارے ان تمام سوالوں کا جواب ہے قرآن ۔ قرآن علم و فکر،شعور و آگہی اور نور و عرفان کا ایک ایسا زندہ و تابندہ مصدر و سرچشمہ ہے جو ہر موڑ پر اور زندگی کے تمام مرحلوں میں ہمیں رشد و ہدایت کی ڈور سے باندے رکھتا ہے اور ہماری بندگی کی تکمیل کے سامان فراہم کرتا ہے۔ مثلاً ذیل میں ہمارے معاشرے کی صلاح و فلاح اور امن و امان کے متعلق قرآن کےچند احکام و ہدایات ملاحظہ کریں:

مجرمو بد دیانتلوگوں کی طرفداری کرنا

ذیل کی آیت کریمہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو صاحب اقتدار ہیں یا جن کے ہاتھوں میں فیصلے کی باگ ڈور ہے وہ لوگوں کے درمیان عدلوانصاف سے فیصلہ کریں اور عوام کو بھی یہ چاہئے کہ وہ مجرمو بد دیانتلوگوںکی طرفدارینہ کریں، اور ان کی کبھی وکالت نہ کریں جو جرائم کا ارتکاب کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ورنہ ان مجرموں کی مجرمانہ ذہنیت کی چنگاری کل ان کے بھی آشیانے کو جلا کر خاکستر کر دے گی ۔ ارشاد ربانی ہے؛

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا (105) وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (106) وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا(4:107)

ترجمہ: اے رسولِ گرامی!) بیشک ہم نے آپ کی طرف حق پر مبنی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس (حق) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے، اور آپ (کبھی) بددیانت لوگوں کی طرف داری میں بحث کرنے والے نہ بنیں - اور آپ اللہ سے بخشش طلب کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے - اور آپ ایسے لوگوں کی طرف سے (دفاعاً) نہ جھگڑیں جو اپنی ہی جانوں سے دھوکہ کر رہے ہیں۔ بیشک اللہ کسی (ایسے شخص) کو پسند نہیں فرماتا جو بڑا بددیانت اور بدکار ہے۔عرفان القرآن

سچ کو جھوٹ کے ساتھ ملانا اور جان بوجھ کر سچ کو چھپانا

سچ کو جھوٹ کے ساتھ ملانا اور جان بوجھ کر سچ کو چھپانا حکام اور اعلی عہدیداروں کی طرف سے انجام دیا جانے والا ایک ایسا جرم ہے جو انصاف کا گلا گھونٹ کر رکھ دیتا ہے، جس سے مظلموم کے ساتھ انصاف کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ انصاف تو دور ایسا کرنے سے بعض اوقات عدالتوں کی نظر میں مظلوم ہی ظالم قرار پاتے ہیں۔اور نتیجہً عام لوگوں کا بھروسہ انصاف کی کچہریوں سے ہی اٹھ جاتا ہے، اور یہی بات آگے چل کر کئی سماجی برائیوں کی وجہ بن جاتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے؛

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (2:42)

ترجمہ: اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ۔عرفان القرآن

جھوٹے اور مکار لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے افواہوں کا بازار گرم کرنا

جھوٹے اور فساق و فجار کی سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے افواہوں کا بازار گرم کرنے کا سلسلہ ابھی عروج پر ہے ۔ اب تو ہر ہفتے اور ہر مہینے ہمارے ملک میں کہیں نہ کہیں سے افواہوں کی بنیاد انجام دئے جانے والے جرائم کی خبریں قومی اخباروں کی شہ سرخی بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔اِنہیں غلط افواہوں کی بنیاد پر کہیں کسی کو پیٹ پیٹ کر اپاہج بنا دیا جاتا ہے تو کہیں کسی بے گناہ کو بے رحمی کے ساتھ قتل(Lynch)کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ غلط افواہوں پر یقین کرنا خون انسانی کی حرمت اور انسانی زندگی کے تقدس کی پامالی کا سبببنتا جا رہا ہے۔قرآن اس سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے، ارشاد ربانی ہے؛

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔عرفان القرآن

اور اس سے بھی سنگین بات یہ ہے کہ اب یہ بیماری ایک کینسر بن کر ہمارے ملک میں ہر مذہب اور ہر طبقےکے افراد کو ایک بڑے پیمانے پر متاثر کر چکی ہے۔ اس کا شکار ہو کر کوئی قاتل بنتا ہے تو کوئی مقتول ، اور ہر دو صورت میں عافیت کسی کے بھی حصے میں نہیں، نا قاتل کے اور نہ ہی مقتول کے۔ لہٰذا، حکومت اس کے سد باب کے لئے کچھ کرے یا نہ کرے، ہم انفرادی طور پر کم از کم یہ کر سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی سنسنی خیز، بھڑکاؤ یا برانگیختہ کرنے والی کوئی خبر سوشل میڈیا یا کسی دوسرے ذرائع سے ہم تک پہونچے توسب سے پہلے ہم اس بات کی جانچ کر لیں کہ ان خبروں میں کتنی سچائی ہے ؟ یا کہیں ان خبروں کی اشاعت ہمارے سماج کے امن و امان کو غارت کرنے کی نیت سے معاشرے کے شر پسندعناصر تو نہیں کر رہے ہیں ؟ تاکہ ان ناگہانی حادثوں کا قبل از وقت سد باب ہو جا سکے اور کسی مظلوم کی جان وقت رہتے بچائی جا سکے۔

جاری………….

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/divine-guidelines-for-a-peaceful-human-society-part—1--ایک-پر-امن-اور-خوشحال-انسانی-معاشرے-کے-قیام-کے-لئے-آسمانی-احکام-و-ہدایات/d/119375

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content