certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 Jul 2018 NewAgeIslam.Com)


Madrasa Education should be discussed with Open Heart, بات کھل کر ہونی چاہئے ورنہ اصلاح کا دروازہ نہیں کھُلے گا

 

 

 

ڈاکٹر قیصر شمیم ، نیو ایج اسلام

 ان دنوں اخبارات میں، اور اس کے حوالہ سے سوشل میڈیا میں، ان خبروں کا بہت چرچا ہے جس کے مطابق ،مدارس کے بچوں کو، ونیز ان کے ساتھ سفر کر رہے مدارس کے اساتذہ یا کلرک کو ،ریلوے اسٹیشنوں پر پولس نے روکنا اور حسبِ موقع حراست میں لینا شروع کردیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جھارکھنڈ کے جن بچوں کو لے جاتے ہوئے ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا ان میں چھ سے چودہ سال کی عمر کے بچے تھے۔ کون سا ماہر اطفال، ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم، چھ سال کے بچے کو اس کے ماحول اور والدین سے جدا کرنے کو جائز ٹھہرا سکتا ہے؟ اس کے باوجود ’’ ملی‘‘ رہنماؤں کے جو بیانات اور مطالبات سامنے آرہے ہیں ان میں کا کوئی ذکر نہیں؛ گویا، اربابِ مدارس پر بچوں سے متعلق کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔  ... تمام ماہرین تعلیم اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم ہمہ جہت ہونی چاہیے ، نہ کہ تخصیص کے ساتھ، مگر اربابِ مدارس عام طور سے اس کے پابند نہیں؛ شاید ان میں سے بیشتر اس کا مطلب بھی نہیں سمجھتے۔ بہرحال قانون تو اپنا کام کرے گا اور وہ دن بھی دور نہیں جب بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ہمہ جہت تعلیم کا مطالبہ کریں گی؛ آپ پسند کریں یا نہ کریں۔ ... اس کا بھی ذکر کم ہی ہورہا ہے کہ اگر پسماندہ صوبوں میں دینی تعلیم کے پھیلانے کا اتنا ہی خیال ہے تو ان علاقوں میں مدارس قائم کرنے میں کیا قباحت ہے، جہاں کے بچوں کو اتنے لمبے سفر پر ؒلے جایا جاتا ہے۔عیسائی مشنریوں کے کام کے نمونے موجود ہیں۔ایسی روایت مسلمانوں کے یہاں کیوں نہیں بن پائی؟

     ایک زمانہ تھا جب، مدارس تحریک سےاجتماعی طور پر وجود میں آتے تھے۔ مقامی لوگوں کا معمولی چندہ بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ رمضان میں باقاعدگی سے گوشوارہ چھپتا تھا، جو عوامی جانچ پڑتال کی راہ کھول دیتا تھا۔ تب لوگ مدارس کو ملّی اثاثہ سمجھتے تھے اور موقع پڑنے پر اس کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔  1970کی دہائی سے رفتہ رفتہ، مدارس بھی، دُکان کی طرح ، افراد کی ملکیت بنتے گئےجن میں مہتمم کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ چندہ بھی ’’باہر ‘‘سے آنے لگا۔ گوشوارہ کی روایت اٹھادی گئی۔جب مقامی چندہ کم یا ختم کیا گیا تو مقامی بچّوں کا جھنجھٹ کیوں پالا جائے، جن کے والدین کبھی بھی آکر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ سن2001 کی بات ہوگی جب ہماچل پردیش کے لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے یہاں اتنا بڑا مدرسہ بنا ہے مگر اس میں مقامی بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا ہے؛ سارے بچے بنگال، بہار اور دوسری ریاستوں سے لائے جاتے ہیں۔ مہتمم صاحب نے (جن کو اب مالک کہا جانا زیادہ مناسب ہوگا) مجھ سے کہا : جب میں کسی سے چندہ نہیں لیتا تو پھر میری مرضی، کہیں کے بچوں کو داخلہ دوں۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہ ’’باہر‘‘ سے چندہ لاتے ہیں۔دہلی کے یا کسی اور جگہ کے مدارس میں جاکر دیکھ لیجیےکہ مقامی بچوں کا فیصد کیا ہےاور اکثر مدارس میں، باہر سے لائے گئے بچوں سے کس قسم کی خدمت لی جاتی ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، جو لوگ سیر کے لیے انڈیا گیٹ جاتے رہے ہوں گے، انہوں نے وہاں بچوں کو آئس کریم بیچتے دیکھا ہوگا۔ ایک زمانے میں وہ سیاحوں کے لیے گھوڑے اور اونٹ لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اس پر کسی بڑے عالم یا ’’ملّی‘‘ رہنما نےاعتراض نہیں کیا۔ اس کے قریب ہی نائب صدر جمہوریہ کا مکان ہونے کی وجہ سے مسجد کے احاطہ میں گھوڑا اور اونٹ رکھنے پر پولس نے اعتراض کیا۔ ایسا کیوں ہے کہ خرابی پیدا ہوتی ہے، بڑھتی جاتی ہے مگر اصلاح کی بات تب ہی ہوتی ہے جب حکومت کی طرف سے احتساب شروع ہوتا ہے۔ ’’ملّی اتحاد‘‘ کو بچانے کا یہ کون سا نمونہ ہے؟

    بات صرف اتنی نہیں ہے! یہ عام نظارہ ہے کہ مدرسہ کھولتے وقت مہتمم، اکثر، سائیکل سوار ہوتا ہے مگر مدرسہ کے قیام کے بعد موٹر نشین ہوجاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ مہنگی گاڑی میں نظر آتا ہے، کھیت اور باغات خریدتا ہے، بچوں کی شادی اور دوسری تقریبات میں کثیر رقم خرچ کرتا ہے ، اور کثیر منزلہ گھر بنواکر اس پر لکھواتا ہے: ہٰذا من فضلِ ربی... کیا عام لوگوں کو آنکھ نہیں کہ یہ خوشحالی کہاں سے آرہی ہے؟اب اگر محکمہ انکم ٹیکس سوال کرے تو اسے ملّی مسئلہ بنادیا جاتا ہے۔ مقامی لوگ بول نہیں سکتے۔ اسے علما کی توہین اور دینی تعلیم میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے۔

    یہ بھی سن 2001-2 کی بات ہے۔سونی پت کے مسلمان شکایت لے کر میرے پاس آئے کہ ان کی عید گاہ پر قبضہ کرکے کسی نے مدرسہ بنادیا ہے۔ اب ان کے پاس عیدین کی نماز کے لیے جگہ نہیں ہے۔کسی عید گاہ کو مدرسہ میں بدلنے کا شرعی یا قانونی جواز کیا ہے؟ مگر تمام اعتراضات کے باوجود وہاں مدرسہ چلتا رہا۔ یہ کوئی اکیلی مثال نہیں ہے۔دہلی، ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیس میں اس کی وافر مثالیں مل جائیں گی، اور اس کے قائم کرنے والوں میں بعض’’ بڑے‘‘ علماء بھی ملیں گے۔ پھوڑے کا علاج نہیں کیا جائے گا تو اسے کینسر بننے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ اب جب ساری غلاظت ابھر سامنے آنے لگی ہے تو اصلاح کی بات شروع ہورہی ہے؛ اور وہ بھی آدھی ادھوری۔کسی میں جرأت نہیں کہ کسی ’’مولوی‘‘ کی ایسی قابل اعتراض باتوں کا سیدھا ذکر کرسکے۔ پھر بھلا اصلاح کیسے ہوگی؟

     1970 کی دہائی سے نئے مدارس کھولنے کا جو سلسلہ دراز ہوا اس نے رفتہ رفتہ سیلاب کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں جو بچے مدارس سے نکلتے ہیں ان کے لیے مسجد کی امامت میں کہاں تک کھپت ہوسکتی ہے۔ کوئی اور کام آتا نہیں۔حساب کتاب سے نابلد۔ اگر زکوٰۃ کا حساب لگانا ہو یامثلاً شرعی طور پر، ترکہ کا فیصلہ کرنا ہو،تو ان کی حالت دیکھنے کی ہوتی ہے۔انگریزی اور ہندی کو چھوڑیئے، ان گلی کوچوں میں کھلنے والے مدارس سے جو بچے نکلتے ہیں ان کو اپنی مادری زبان اردو بھی ٹھیک سے نہیں آتی۔ لہٰذااردو میں ٹائپ کا کام کرنے والے بچے جو اکثر ان مدارس کے ہوتے ہیں، ذرا ان سے کام کرا کر دیکھ لیجیے کہ کس قسم کی زبان سیکھ کر آتے ہیں۔ پیشہ ورانہ طور طریقہ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جس طرح پی ایچ ڈی کرنے والے کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں اسی طرح جسے دیکھیے مفتی کی سند لیے گھوم رہا ہے۔ پی ایچ ڈی کرنے والے بی اے تک کئی مضامین پڑھ کر آتے ہیں جن کی بازار میں ضرورت ہوتی ہے مگر مدارس سے نکلے مفتیاں کا معاملہ اور بھی سنگین ہوتا ہے۔ پھر کیا ہے ان میں جو ذراسا ہوشیار ہوتا ہے، یا جسے کسی مسجد میں جگہ مل جاتی ہے، چند بچوں کو جمع کرکے مدرسہ کی رسید چھپوالیتا ہے جو اس کی زندگی میں خوشحالی لے آتی ہے۔

    ان تمام معاملات میں چشم پوشی سے جو کام لیا گیا اس نے مسئلہ کو سنگین بنا دیا گیا ہے۔ایک بدلتا ہوا جمہوری سماج جس میں بچوں کے حقوق پر اتنا زور ہے اور جو اس معاملہ میں نئی دنیا کت ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہتا ہے ، اس میں ایسی باتیں کب تک نظر انداز ہوسکتی ہیں اگر تعلیم کے میدان میں اصلاح کا، جرأت مندانہ ہمہ جہت منصوبہ نہیں بنایا جائے گا تو لیپا پوتی والی باتوں سے کچھ نہیں ہونے والا ہے؛ جرأت مندانہ اس لیے کہ مصلحت اور منافقت کے ماحول میں سچ بولنے اور احتساب کرنے کےلیے جرأت رندانہ درکار ہوگی۔ یہ کام اگر خود نہیں کریں گے تو سماج اور اس کا قانون کرے گا۔ محض واویلا مچانے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

ڈاکٹر قیصر شمیم مرکزی وقف کونسل نئی دہلی کے سابق سیکریٹری اور پنجاب وقف بورڈ کے سابق منتظم رہ چکے ہیں جو اس وقت پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کا ایک عام بورڈ تھا۔

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/madrasa-education-should-be-discussed-with-open-heart,---بات-کھل-کر-ہونی-چاہئے-ورنہ-اصلاح-کا-دروازہ-نہیں-کھُلے-گا/d/115896

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content