certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (03 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)


Early History of Muslims Needs Fresh Appraisal — VII منظم علماء کی بیڑیوں نے اسلام کو یرغمال بنا لیا


ایم عامر سرفراز

28 نومبر، 2018

آج جس عیسائیت پر عمل کیا جا رہا ہے یہ وہ عیسائیت نہیں ہے جس کے لئے الناصرہ کے حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی جان لگا دی تھی۔ جب اس کی شروعات ہوئی تو یہ موجودہ صورت حال کے خلاف بغاوت تھی۔ غریب کسان ان بےایمان پادریوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے جو رومن گورنر کی مدد سے انہیں ماتحت کرنے کے لئے اپنے مذہب (یہودیت) کا استعمال کر رہے تھے۔ جب یسوع مسیح نے مال بٹورنے والوں کی دکانوں پر حملہ کیا اور گرجاگھر کے بڑے پادری کو علی الاعلان چیلنج کیا تو انہیں باغی قرار دیکر سولی پر لٹکا دیا گیا۔ ان کی قربانی کے بعد یسوع مسیح کی تحریک ہر طرف پھیل گئی اور ان کے بھائی جیمز کی قیادت میں مذہبی نظم سلجھا لیا گیا۔ اس اصلاح پسند تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہو کر مذہبی ادارے نے اپنے کارکانے کا آخری ہتھیار استعمال کیا۔

پول (اصل نام تورس یا ساؤل) اس تحریک کا ایک پرعزم دشمن تھا اور حتی المقدوردشمنی نبھا کر اس نے اپنے پیروکاروں کی زندگی مشکل  میں ڈال دی۔ اس کی فتح کا اندازہ ہونے پر اس نے 'دمشق کی سڑک پر مشاہدہ' کیا اور یسوع مسیح کا زبردست پیروکار بن گیا۔ ایک کرشمائی فرد ہونے کی وجہ سے وہ جلدی ہی قیادت کی کرسی تک پہنچ گیا اگر چہ مختلف مواقع پر اسے اس کے انتہاپسندانہ نظریات اور تشدد پسندانہ تدابیرکے لئے تنبیہ بھی کی گئی۔ رومن حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے پر سینٹ پال کی حیثیت سے "عیسائیت" کی قیادت پر قبضہ کرنے میں اسے زیادہ عرصہ نہیں لگا۔ رضا ارسلان نے اپنی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ' The Zealot' میں بیان کیا ہے کہ کس طرح ایک اصلاح پسند تحریک نے اپنے انقلابی کردار کو ایک اور منظم مذہب کی شکل میں تبدیل کر دیاجس کا نام عیسائیت پڑا۔

اسلام بھی ایک انقلابی دین تھا کیونکہ یہ جزیرۂ عرب اور اس کے باہر بھی تیزی کے ساتھ پھیلا۔ تاہم، تقریبا 700 عیسوی میں خفیہ مجوسی (آتش پرست) اور ان کے ساتھی پرانے (عربی) اور نئے (عجمی) مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے میں مصروف تھے ۔ حکومت بنو امیہ کے اختتام پر مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی تقسیم کی بنیاد ڈال دی گئی جس میں انہوں نے حضرت علی کی اولادوں کی حکمرانی کے حق یا اس کے برعکس کی حمایت کی۔

اسلام میں ان لوگوں نے انجانے میں یا جان بوجھ کر ایک اور رہبانی راستہ متعارف کرایا جو نجات تو چاہتے تھے مگر غیر جانبدار بھی رہنا چاہتے تھے۔ اس زاویہ نگاہ سے دیکھنے والا سب سے پہلا دانشور واصل بن عطاء تھا جس نے امامت کے مسئلے پر (حضرت علی کے پوتے) ابن الحنفیہ اور ایک صوفی حسن البصری سے الگ ہو کر ایک دوسرا نظریہ قائم کیا۔ وہ روایات (احادیث)، تصوف اور ( شیعہ سنی) کی سیاست کے دلدل سے نکلنے کے لئے اختیار اور عقلیت پسندی کو فروغ دینے لگا۔

بن عطاء کا نظریہ آنے والے برسوں میں پھیل گیا جہاں اور اس کے جانشینوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے مخالفین کو شکست دی بلکہ یونانی فلسفہ کے ذریعہ اس حملے سے اسلام کو بھی محفوظ کیا۔ اسلام اس وقت عروج پر تھا جب برامکہ نے اپنے دوست اور خلیفہ ہارون الرشید کو عقلیت پسندوں اور اس کے سیاسی اثرات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے برامکہ کو اپنی لسانی مہارتوں کے ذریعہ اس تحریک کو بے اثر کرنے کے لئے کہا۔ جیسے ہی عقلیت پسندوں کے درمیان شیعہ سنی کا تفرقہ پیدا ہوا اور شیعیت کی طرف رجحان رکھنے والے بشر بن المعتمر کے تحت بغداد میں اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کے لئے بصرہ کو چھوڑ کر نکل گئے، بغداد کا (امامی) مکتب مامون سمیت عباسیوں کے قریب ہو گیا، اور ان کا مسلک پورے ملک میں پھیل گیا جس کے لئے کبھی کبھی جبر و اکراہ کا بھی سہارا لیا گیا۔ لیکن ابھی تک ان کا اصل مقصد واضح نہیں ہوا تھا۔

ابو الحسن الاشعری نے بصری مکتبہ فکر میں تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک سینئر اور نامور شاگرد تھے۔ اختیار کی آزادی کے مسئلے میں انہوں نے اچانک اپنے استاد سے اختلاف کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد جلد ہی انہیں اپنا ایک الگ اشعری مکتبہ فکر قائم کرنے کے لئے 'الہی حمایت' حاصل ہوئی جہاں قدیم قرآن جیسے قدامت پرست تصورات کا دفاع کرنے کے لئے عقلیت پسندوں کا طریقۂ کار استعمال کیا گیا۔

قسمت یعنی سب کچھ 'خدا کی مرضی' سے ہوتا ہے، اس پر اشعری کا عقیدہ سیاسی طور پر عیار خلیفہ المتوکل کو کافی بھایا۔ اس نے اس اصول کو اپنے حکمرانوں کو مقبول بنانے کی خاطر لوگوں پر جبر و اکراہ کرنے کے لئے استعمال کیا خواہ وہ انصاف پرست ہوں خواہ ظالم۔ آخر کار اس کی حکومت "خدا کی مرضی" کا ہی تو ایک حصہ تھی، جس کے بارے میں بحث و تکرار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس نے اپنی حدود سلطنت میں اشعری فکر و عقیدے کو نافذ کیااور عقلیت پسندوں کی جم کر سرکوبی کی۔

اشعری اور ان کے جانشینوں نے اسلام کے ساتھ وہی کیا جو پال نے عیسائیت کے ساتھ کیاتھا۔ اشعری مکتبہ فکر نے مذہب اسلام کے سماجی، سیاسی اور مذہبی شعبوں کے تمام تر پہلوؤں پر قبضہ کر لیا اور آج تک اسی مکتبہ فکر کو غلبہ حاصل ہے۔ جبکہ اس دور میں غزالی اور ابن تیمیہ جیسے لوگ بھی پیدا ہوئے لیکن صرف عقلیت پسندی کو ختم کرنے کے لئے۔

عقلیت پسندوں کو نیست و نابود کردیا گیا اور ان کے علمی کارناموں کو منظم طریقے سے گڈمڈ اور تباہ و  برباد کر دیا گیا۔ انہیں ملحد فلسفی کے طور پر پیش کیا گیا جن کا ماننا تھا کہ عقل و استدلال وحی سے زیادہ اہم ہے۔ اسی دوران شیعوں نے مظلومیت کی اپنی الگ داستانیں تیار کر لیں جنہیں ہر زمانے میں فروغ حاصل ہوتا گیا ، جس کی وقتاً فوقتاً کئی شاخیں بھی اپنی ایک مخصوص فقہی نظریہ کے ساتھ معرض وجود میں آتی گئیں، جنہیں صرف ظلم و تشدد، علیحدگی اور پسماندگی کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اور ان سب واقعات و حادثات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام ایک اور منظم مذہب بن کر سامنے آ گیا۔

بعض لوگوں نے مسلمانوں کو دوبارہ اپنے اصل سے جوڑنے کی جی توڑ کوششیں کیں لیکن صرف دھمکیاں اور جور و جفا ہی ان کے ہاتھ لگی۔ منظم علماء کی بیڑیاں اتنی مضبوط ہیں کہ اسلام ہمیشہ ان کے ہاتھوں یرغمال ہی بنا رہا۔ برصغير ​​میں علامہ اقبال ہی 'اسلام میں مذہبی افکار و نظریات کے احیا’ کے سب سے بڑے حامی تھے۔ انہوں نے 1908 کے قریب پوری گرمجوشی کے ساتھ اس کی شروعات کی لیکن جلد ہی وہ قومی سیاست میں مصروف ہو گئے اور اسرار خودی کی اشاعت پر ملحد قرار دئے جانے کے بعد اپنی ہار مان لی۔ جو لوگ اس کام کو آگے بڑھنا چاہتے ہیں ان کے لئے انہوں نے راستے واضح کر دئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی رہنمائی فرمائی کہ ہم کس طرح صرف قرآن ہی کے ذریعہ اسلام کا احیائے نو کر سکتے ہیں جو کہ خود مجوسیت سے متاثر تراجم اور احادیث اور شان نزول پر مبنی تفاسیر کی وجہ سے گم ہو کر رہ گیا ہے۔

اسلام کے احیائے نو کا جو فارمولہ علامہ اقبال نے پیش کیا ہے وہ انتہائی اہم اور کافی دور اندیش ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلام میں قرآن ہی ایک واحد حقیقت ہے۔ اور حقیقی اسلام کو سمجھنے کے لئے کسی کو قرآن کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ اور قرآن کو بھی سمجھنے کے لئےصرف قرآن کی ہی ضرورت ہے کیونکہ خدا کے فرمان کے مطابق یہ خود کو بیان کرتا ہے۔ چنانچہ، ایک عظیم شاعری کی طرح قرآن بھی ناقابل ترجمہ ہے، اس کا اصل معنی صرف قرآن کریم کے 'کلیدی الفاظ' کے معنی پر غور و فکر کر کے ہی اخذ کیا جاسکتا ہے جس کے اندر غیر متبدل تصورات مضمر ہوتے ہیں ۔۔۔۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/326920/early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-vii/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/the-shackles-of-organised-clergy-put-islam-a-hostage--early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-—-vii/d/117032

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-—-vii--منظم-علماء-کی-بیڑیوں-نے-اسلام-کو-یرغمال-بنا-لیا/d/117345

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content