certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)



Early Muslim History Needs Fresh Appraisal — XIII احادیث نے مسلمانوں میں سنگین فساد پیدا کئے اور انہیں قرآن کے خلاف لا کھڑا کیا


ایم عامر سرفراز

30 دسمبر، 2018

میں اب تک کی تحریروں میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ کس طرح احادیث نے مسلمانوں میں سنگین فساد پیدا کئے اور انہیں قرآن کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اس سلسلے میں ابھی ابتدائی مسلم تاریخ کے کردار کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس بات کے داخلی اور خارجی دونوں شواہد موجود ہیں کہ قرآن کے ہر لفظ کو محفوظ طریقے سے ہم تک منتقل کیا گیا اور ہر طرح سے اس کی حفاظت بھی کی گئی جبکہ احادیث وغیرہ پر مبنی ابتدائی مسلم تاریخ کی ایسی کوئی معتبریت نہیں ہے کیونکہ نہ ہی خدا نے اور نہ ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا ان کے صحابہ کرام نے اس کی تحریر یا حفاظت کی ذمہ داری لی تھی۔ امام بخاری کا مدون کردہ احادیث کا 'سب سے معتمد اور مستند ' مجموعہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے 250 سال بعد منظر عام پر آیا۔ اور تمام اسلامی تواریخ کا مصدر و مرجع الطبری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے 300 سال بعد لکھی گئی تھی۔ یہ دونوں کتابیں معاصرین کے زبانی بیانات پر موقوف ہیں جن کا نہ کوئی تحریری ثبوت یا کوئی حوالہ ہے۔

پیغمبر اسلام محمد ﷺ نے دین کے ایسے اصولوں پر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے تھے۔ چونکہ یہ دین آپ ﷺ کے بعد بھی باقی رہنا تھا اسی لئے آپ ﷺ اپنے قریبی صحابہ کرام کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک کمیونٹی (امت ) تیار کی۔ قرآن کا پیغام بڑا وضح ہے کہ ہر بچہ (انسان) اپنی قرابتداری، رنگ ، نسل، اور سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر قابل احترام ہے (17:70)۔ اور اس کی تعظیم و توقیر کی سطح کا تعین قرآنی اقدار کے مطابق اس کے طرز عمل کی روشنی میں کیا جائے گا (49:13)۔ اس کے علاوہ، ان کی حیثیت کا اندازہ ان کی قابلیت، علم اور مہارت کی بنیاد پر لگایا جائے گا (46:19)۔ اس امت کو براہ راست قرآنی پیغامات حاصل کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا ، اور اللہ عزوجل نے اس بات کی تصدیق کی کہ، "جو لوگ ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی ،جہاد کیا اور جنہوں نے ان  مہاجرین کی مدد کی اور انہیں پناہ دی وہ حقیقی مومن ہیں اور عزت و احترام کے حقدار ہیں (35:32؛ 8:73)۔

قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی زبردست انداز میں تعریف و توصیف بیان کیا ہے – ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے بے انتہا پیار اور محبت تھی (8:64)، انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں، (9:88)۔ سورہ الفتح میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہ صحابہ ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر مہربان تھے، اور اپنے دشمنوں کے لئے کتنے مضبوط اور ثابت قدم تھے۔ وہ ہمیشہ عاجزی و انکساری کے ساتھ دین کی راہ میں جدوجہد کرتے  رہے اور اس راہ میں ان کے عزم و استقامت کی لکیریں ان کی پیشانیوں پر عیاں تھیں۔ اور یہ کہ اللہ عزوجل کافروں کے خلاف ان کے ساتھ ہے اور ان کے لئے زبردست انعامات ہیں۔

قرآن مجید کے مندرجہ بالا حوالوں کی روشنی میں اب کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ قرآن کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا ذکر کس قدر احترام اور عزت افزائی کے ساتھ کرتا ہے۔ آئیے ہم اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ الطبری اور احادیث سے نکالی گئی ابتدائی مسلم تاریخ اس موضوع پر کیا کہتی ہے۔

مسلم تاریخ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی گمراہ کن، متضاد اور شرمناک تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں ان کے بارے میں قرآن کریم کا نظریہ بھی شامل ہے لیکن اس میں ڈرامائی انداز میں ان مقدس شخصیات اور ان کے دور میں پیش آنے والے واقعات کی منفی تفصیلات پیش کی گئی ہیں جن سے ان کے بارے میں قرآنی تصور مندمل ہو جاتا ہے۔ ہماری تاریخ نبی ﷺ کے قریبی صحابہ کرام کی اکثریت کو بوالہوس،متعصب و تنگ نظر اور سازش رچنے والوں کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ نبی ﷺ کی وفات کے واقعے کے حوالے سے ایک اہم روایت گڑھی بھی گئی۔

الطبری اور دیگر احادیث سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ کے مقرر کردہ جانشین (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو نکار دیا ، آپ ﷺ کو وصیت نہیں لکھنے دیا، اقتدار کی جدوجہد میں مصروف ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کی تجہیز و تکفین کا بھی خیال نہ کیا، وہ ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے (دھکا مکی کرنے لگے،مارپیٹ کرنے لگے، ایک دوسرے کی داڑھیاں کھینچنے لگے اور اپنی تلواریں میان سے باہر نکالنے لگے) تاکہ دوسروں کو حضرت ابو بکر کی خلافت پر متفق کر سکیں، کیوں کہ قیادت کرنے کا حق صرف قریش کو تھا، وہ قبل از اسلام کے معتقدات پر واپس پلٹ آئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جسمانی طور پر تکلیف دی گئی اور ان کے گھر جلا دینے کی دھمکیاں دی گئی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک کی وراثت سے ظلماً محروم کر دیا گیا اور اسلام میں غلط بدعات و خرافات داخل کر دی گئیں۔ ہمیں ان ‘معتمد’ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرابت داری کی بنیاد پر خلافت کا دعوی کیا لیکن اس خوف سے کبھی اس کے حصول کی کوشش نہیں کی کہ ان کے دعویٰ کو مسترد کر دیا جائے گا اور پھر کبھی انہیں دوسرا موقع نہیں ملے گا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی کے لئے حمایت اکٹھا کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی جانشینی کو مسترد کر دیا، اسی بے اطمینانی کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی اور خفیہ طور پر آپ رضی اللہ عنہا کو دفن بھی کر دیا گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکمت عملی کے تحت حضرت ابوبکر کی خلافت قبول کر لی، باوجود اس کے کہ وہ اس سے قبل ایسا نہ کرنے کی قسم کھا چکے تھے۔

ہم مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری تاریخ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی جو تصویر پیش کی ہے وہ قرآن سے پوری طرح مختلف ہے۔ لہذا ہم بجا طور پر یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں ایسی تاریخ مسترد کر دینی چاہئے کیونکہ قرآن اس سے زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔ تاہم، یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ بالا تاریخ کا مصدر و مرجع امام بخاری کی احادیث کا ایک مجموعہ ہے ۔ بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں کا یہ ماننا ہے کہ یہ قرآن ہی جیسی ایک اہم کتاب ہے اور علماء کی ایک بڑی اکثریت دراصل قرآن کریم پر احادیث کو فوقیت بھی دیتی ہے۔ وہ بعد ازاں قرآن مجید کی ان آیتوں کو ہی منسوخ قرار دیتے ہیں جو احادیث سے متصادم ہیں۔ اگر آپ اس کے برخلاف نظریہ رکھتے ہیں جو کہ زیادہ معقول بھی ہے ، اور یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید سے متصادم احادیث (یا اسلامی تاریخ) کو مسترد کر دیا جانا چاہئے تو آپ کو کافر اور سزائے موت کا حقدار بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

قرآن سے برتر احادیث کے مکمل طور پر ایک غیر معقول اور غیر اسلامی معمہ نے بڑے بڑے علماء اور عامۃ المسلمین دونوں کو ایک مہلک بندش کا شکار بنا دیا ہے۔ ایسی تاریخ اور ان احادیث نے صدیوں سے مسلمانوں کو علمی و فکری سطح پر اور روزمرہ کی زندگی میں ایک مضحکہ خیز موقف اختیار کرنے کا عادی بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر مودودی نے اس ہتھیار کا غلط استعمال ایک سے زیادہ مواقع پر کیا ہے۔ انہوں نے گرما گرم بحث کے دوران جس کے بعد 1960 میں جماعت اسلامی تقسیم ہو گئی اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لئے 'قریش سے قیادت' کی مثال کا استعمال کیا۔ در اصل 1985 میں انہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ اسلام میں عملی مقاصد کے تحت جھوٹ بولنا جائز ہے (واضح طور پر ان کا انحصار ان احادیث پر تھا جن میں نبیوں نے بشمول محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مختلف مواقع پر (نعوذ باللہ)جھوٹ کا سہارا لیا ہے)۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/338625/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-xiii/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/ahadith-have-contributed-to-serious-discords-and-brought-muslims-in-direct-conflict-with-the-quran--early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-xiii/d/117397

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-xiii--احادیث-نے-مسلمانوں-میں-سنگین-فساد-پیدا-کئے-اور-انہیں-قرآن-کے-خلاف-لا-کھڑا-کیا/d/117513

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   5


  • Comment 3 

    پھر علامہ حامد رضا حجۃ الاسلام مزید رقمطراز ہیں:

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرقہ مخزولہ کا رد اس حدیث میں فرمایا کہ ارشاد فرماتے ہیں :

    الا سألوا إذا لم يعلموا فانما شفاء العي السوال یعنی کیوں نہ پوچھا  جب نہ جانتے تھے کہ تھکنے کی دوا تو پوچھنا ہے (رواہ  ابو داود عن جابر رضی اللہ تعالی عنہما)

    اور دوسرے طائفہ ملعونہ کا رد اس حدیث میں فرمایا کہ ارشاد فرماتے ہیں :

    الا اني اوتيت القرآن ومثله الا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فاحلوا وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وان ما حرم رسول الله (صلى الله عليه وسلم) كما حرم الله

    یعنی سن لو مجھے قرآن عطا ہوا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل ، خبردار نزدیک ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر پڑا کہے یہی قرآن لیے رہو اس میں حلال پاو  اسے حلال جانو اور جو حرام پاو اسے حرام مانو حالانکہ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کی وہ اسی کے مثل ہے جو اللہ نے حرام فرمائی  (رواہ الائمہ  احمد والدارمی وابو داود والترمذی وابن ماجہ عن المقدام بن معدیکرب ونحوہ عندھم ما خلا الدارمی وعند البیھقی فی الدلائل عن ابی رافع وعند ابی داود عن العرباض بن ساریۃ رضی اللہ عنہم)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کے مطابق اس زمانہ فساد میں ایک تو پیٹ بھرے بے فکرے نیچری حضرات تھے جنہوں نے حدیثوں کو یکسر ردی کر دیا  اور بزور زبان صرف قرآن عظیم پر دار ومدار رکھا حالانکہ واللہ وہ قرآن کے دشمن اور قرآن ان کا دشمن وہ قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اور مراد الہی  کے خلاف اپنی ہوائے نفس کے موافق اس کے معنی گڑھنا ۔

    اب  دوسرے یہ حضرات نئے فیشن کے مسیحی اس انوکھی آن والے پیدا ہوئے کہ ہم کو صرف قرآن شریف سے ثبوت چاہیے جس کے تواتر کے برابر کوئی تواتر نہیں ہے تو بات کیا ہے کہ دونوں گمراہ طائفے دل میں خوب جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں ان کا ٹھکانہ نہیں حضور کی روشن حدیثیں ان مردود خیالات کے صاف پرزے پارچے بکھیر رہی ہیں اسی لیے اپنی بگڑی بنانے کو پہلے ہی دروازے بند کرتے ہیں کہ ہمیں صرف قرآن  شریف سے ثبوت چاہیے جس میں عوام بیچاروں کے سامنے اپنے سے لگتے لگا لینے کی گنجائش ہو۔

    مسلمانو! تم ان گمراہوں کی ایک نہ سنو اور جب تمہیں قرآن میں شبہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو اگر اس میں این وآں نکالیں تم ائمہ کا دامن پکڑو اس تیسرے درجے پر  حق وباطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہو اسارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا  ، اس وقت یہ ضال مضل  (اپنی ہوائے نفس  میں) بھاگتے نظر آئیں گے ۔

    اول تو حدیثوں ہی کے آگے انہیں کچھ نہ بنے گی صاف منکر ہو بیٹھیں گے اور وہاں کچھ چوں وچرا کی تو ارشادات ائمہ معانی حدیث کو ایسا روشن کر دیں گے کہ پھر انہیں یہی کہتے بن آئے گی کہ ہم حدیث کو نہیں جانتے یا اماموں کو نہیں مانتے اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ ان کا امام ۔۔۔ہے جو انہیں لیے پھرتا ہے اور قرآن وحدیث وائمہ کے ارشادات پر نہیں جمنے دیتا

    ولا حول ولا قوۃ باللہ العلی العظیم

    یہ نفیس وجلیل فائدہ ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھو ہر جگہ کام آئے گا اور باذن اللہ ہزار گمراہیوں سے بچائے گا

    انتھی قولہ (ماخوذ از فتاوی حامدیہ)


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 1/21/2019 7:09:01 AM



  • COMMENT 2 

    پھر علامہ حامد رضا رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تو اس سلسلہ ہدایت  رب العزت کا قائم فرمایا ہوا ہے جو اسے توڑنا چاہے وہ ہدایت نہیں چاہتا بلکہ صریح ضلالت کی راہ چل رہا ہے اسی لیے قرآن عظیم  کی نسبت ارشاد فرمایا:

    ‘‘یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا’’ اللہ تعالی اسی قرآن سے بہیتروں کو گمراہ کرتا اور بہیتروں کو سیدھی راہ عطا فرماتا ہے ’’

    جو سلسلے سے چلتے ہیں بفضلہ تعالی ہدایت پاتے ہیں اور جو سلسلہ توڑ کر اپنی ناقص اوندھی سمجھ کے بھروسے قرآن عظیم سے بذات خود مطلب نکالنا چاہتے ہیں چاہ ضلالت میں گرتے ہیں اسی لیے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

    سیاتی ناس یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ  یعنی قریب ہے کہ کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو تم سے قرآن عظیم کے مشتبہ کلمات سے جھگڑیں گے تم انہیں حدیثوں سے پکڑو کہ حدیث والے قرآن کو خوب جانتے ہیں (رواہ الدارمی ونصر المقدسی فی الحجۃ ۔۔۔)

    آپ آگے یہ بھی نقل فرماتے ہیں : اسی لیے امام سفیان بن عینیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

    الحدیث مضلۃ  الا الفقہاء  یعنی حدیث گمراہ کر دینے والی ہے مگر ائمہ مجتہدین کو ۔

    تو وجہ وہی ہے کہ قرآن مجمل ہے جس کی توضیح حدیث نے فرمائی اور حدیث مجمل ہے جس کی تشریح ائمہ مجتہدین نے کر دکھائی تو جو ائمہ کا دامن چھوڑ کر قرآن وحدیث سے اخذ کرنا چاہے بہکے گا اور جو حدیث چھوڑ کر قرآن مجید سے لینا چاہے وادی  ضلالت میں پیاسا مرے گا تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش کر رکھو کہ جسے کہتا سنو ہم اماموں کا قول نہیں جانتے ہمیں تو قرآن وحدیث چاہیے جان لو یہ گمراہ ہے اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں تو قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بد دین  خدا کا بد خواہ ہے ، پہلا فرقہ قرآن عظیم کی پہلی آیت ‘‘فاسئلو اھل الذکر ’’ یعنی اے لوگو! علم والوں سے پوچھو ’’ کا مخالف مستکبر اور دوسرا طائفہ قرآن عظیم کی دوسری آیت ‘‘لتبین للناس مانزل الیھم’’ یعنی لوگوں کو اس کی شرح بیان فرمادیں  جو ان کی طرف اترا ’’ کا منکر ہے

    جاری


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 1/21/2019 6:25:00 AM



  • امام عارف باللہ عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب ‘‘میزان الشریعۃ الکبری ’’ میں اس معنی کو جا بجا بتفصیل تام بیان فرمایا ازاں جملہ فرماتے ہیں :

    ‘‘اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن کی تفصیل نہ فرماتے تو قرآن یونہی مجمل رہتا اور اگر ائمہ مجتہدین مجملات حدیث کی تفصیل نہ کرتے تو حدیث  یونہی مجمل رہتی اور اسی طرح ہمارے زمانے تک کہ اگر کلام ائمہ کی علمائے مابعد شرح نہ فرماتے تو ہم اسے سمجھنے کی لیاقت  نہ رکھتے’’


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 1/21/2019 3:50:57 AM



  • COMMENT 1

    علامہ حامد رضا خان نے کیا ہی بات لکھی ، وہ فرماتے ہیں

    ‘‘مسلمانوں ! میں پہلے تمہیں ایک سہل پہچان گمراہوں کی بتاتا ہوں جو خود قرآن مجید وحدیث حمید میں ارشاد ہوئی ۔ اللہ عزوجل نے قرآن عظیم اتارا :

    ‘‘تبیانا لکل شئی ’’ یعنی جس میں ہر چیز کا روشن بیان ’’

    تو کوئی ایسی بات نہیں جو قرآن میں نہ ہو مگر ساتھ ہی فرمادیا :

    ‘‘ومایقلھا الاالعالمون ’’ یعنی اس کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو ’’

    اس لیے فرماتا ہے :

    ‘‘فاسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ’’ یعنی علم والوں سے پوچھو اگر تم نہ جانتے ہو’’

    اور پھر یہی نہیں کہ علم والے آپ سے آپ کتاب اللہ کے سمجھ لینے پر قادر ہوں ، نہیں بلکہ اس کے متصل ہی فرمادیا:

    ‘‘وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم’’ یعنی  اے نبی ہم نے یہ قرآن تیری طرف اس لیے اتارا کہ تو لوگوں سے (اس کی) شرح بیان فرمادے اس چیز کی جو ان کی طرف اتاری گئی ’’

    اللہ اللہ قرآن عظیم کے لطائف ونکات منتہی نہ ہوں گے ، ان دو آیتوں کے اتصال  سے رب العالمین نے ترتیب وار سلسلئہ فہم کلام الہی کا منتظم فرمادیا کہ اے جاہلو  تم کلام علما کی طرف رجوع کرو اور اے عالمو تم ہمارے رسول کا کلام دیکھو تو ہمارا کلام سمجھ میں آئے ۔غرض ہم پر تقلید ائمہ واجب فرمائی اور ائمہ پر تقلید اور رسول پر تقلید قرآن :

    وللہ الحجۃ البالغہ والحمد للہ رب العالمین ، یعنی اللہ ہی کے لیے حجت بالغہ ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے جو رب العالمین ہے ’’ ()


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 1/21/2019 3:43:02 AM



  • ‘‘احادیث نے فساد پیدا کیا اور قرآن کے خلاف کے لوگوں کو لا کھڑا کیا ’’ اس طرح کے خیال سے  انتہائی غیر منصفانہ مزاج کی عکاسی ہوتی ہے ۔احادیث کیا ہے ؟ صحت احادیث کیا ہے ؟ علم الرجال کیا ہے ؟ علم الجرح والتعدیل کیا ہے ؟ راجح ومرجوح کیا ہے ؟ وہ کونسی احادیث ہیں جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں ؟ اور وغیرہ وغیرہ

    اٹکل پچو سے یہ کہ دینا ہے احادیث فساد کا سبب ہے محض باطل وفاسد خیال ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اگر تعلق ہے تو محض جہالت سے ہے  ۔

    چند احادیث جن میں تفصیلات کی ضرورت ہے ان تفصیلات کو سمجھے بغیر کل پر حکم لگانا انتہائی غیر منصفانہ مزاج ہے  جو نہ کبھی مقبول ہوا اور نہ ہو سکے گا ۔



    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 1/21/2019 3:29:32 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content