certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 May 2019 NewAgeIslam.Com)



Fasting purifies Our Souls-conclusion روزہ روح کو طہارت و پاکیزگی عطا کرنے کے لیے ہے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

17مئی 2019

اللہ کا فرمان ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:183)

‘‘اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیےگئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیںتمہیںپرہیز گاری ملے،’’۔ (ترجمہ : کنز الایمان)

اللہ نے مؤمنوں پر مختلف قسم کی عبادتوں کو فرض کیا ، مثلا نماز ، حج  اور زکوٰۃ ، اور نہیں میں سے ایک ماہ صیام کے روزے بھی ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی عبادت کا بنیادی مقصد اللہ نے حصول تقویٰ واضح الفاظ میں متعین نہیں کیا۔  اس  سے یہ بات پوری قطعیت کے ساتھ ثابت ہو جاتی ہے  کہ اس دنیا کے اندر روزے کا فوری اثر جو انسان کی شخصیت پر مرتب ہوتا ہے وہ تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہونا ہے۔  لہٰذا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوفیاء کرام اور صالحینِ امت نے تو حصول تقویٰ کے بے شمار راستے بیان کئے ہیں۔ لہٰذا، ماہ صیام اور اس کے روزوں کو ایسی کیا اہمیت اور خصوصیت حاصل ہے کہ اللہ نے ماہ صیام میں مکمل ایک مہینے کا روزہ ہمارے لئے فرض کیا ہے؟ جبکہ خود قرآن مقدس میں اللہ فرماتا ہے کہ بارگاہ ایزدی تک رسائی حاصل کرنے کے مختلف طریقے  اور راستے ہیں اور جو اس بارگاہ تک رسائی حاصل کرنے کی مخلصانہ جد و جہد کرتا ہے اللہ ان میں سے کسی ایک راستے یا طریقے کے ذریعہ اسے اپنی بارگاہ تک رسائی عطا فرماتا ہے اور اپنے قرب سے نوازتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (69:29)

‘‘اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے ا’’۔ (ترجمہ : کنزالایمان)

لہٰذا، اس معمہ کو حل کرنے کے لئے ایک بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ، اور وہ یہ کہ حضرت انسان لطیف روح اورمادی جسم کا مجموعہ ہے ، اور خود انسان کا وجود دو ازلی دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ انسان کا ایک دشمن شیطان ہے اور دوسرا دشمن خود اس کا نفس ہے۔

چونکہ روح ایک غیر مادی اور لطیف شئی ہے جس کا تعلق عالم ملکوت سے ہے ، اور اس میں کثافت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔  ابھی ہمارے جسم کے اندر جو روح موجود ہے ، جس کی وجہ سے زندگی کی ساری بہاریں ہمیں میسر ہیں وہ ایک مدت تک عالم ملکوت، عالم ارواح  اور عالم امر کی سیر کر چکی ہے ، اللہ نے خود ہماری روحوں کی پرورش اپنی ذات و صفات کے انوار و تجلیات سے کی اورپھر اسے اپنی معرفت کے چشموں سے ایک زمانے تک سیراب کیا ۔ اور جب ہماری روحوں کی تہذیب و تربیت ہو چکی تو پھر اللہ نے ہماری روحوں سے پوچھا ‘‘الست بربکم ، (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟- القرآن 7:172)’’، (اسے عرفاء جام الست سے  بھی تعبیر کرتے ہیں)، تو روحوں نے کہا تھا ‘‘بلیٰ ، (ہاں کیوں نہیں تو ہی ہمارا رب ہے!)’’۔

 اور اس کے بعد جب اللہ کی مرضی ہوئی تو اللہ نے ہماری روحوں کو اس مادی جسم کا لباس عطا کر کے  اس دنیا میں بھیج دیا جو کہ ایک قسم کا ظلمت کدہ بھی ہے۔  لیکن روح میں ظلمت کا کوئی نام نہیں کیوں کہ روح نورانی ہے ، روح کو خباثت  راس نہیں آتی  اس لیے کہ روح طہارت و پاکیزگی سے عبارت ہے۔ روح کی توانائی اور سیرابی اللہ کے ذکر ، اللہ اطاعت اور اللہ کی معرفت میں مضمر ہے۔روح کی غذا طہارت ، پاکیزگی ، نفاست  اور تقویٰ  ہے ۔ اور اللہ نے ماہ صیام کے روزوں میں تقویاور ان تمام روحانی اقدار کا نور رکھا  ہے تاکہ انسان تقویٰ کے اس نور سے اپنی روح کو توانائی بخشے اور اپنے دونوں ازلی دشمن -شیطان اور نفس کا مقابلہ کر سکے۔  اور حقیقت بھی یہی ہے کہ شیطان اور نفس کو شکست دینے کا جس قدر وافر موقع ماہ رمضان المبارک میں انسان کو میسر ہوتا ہے وہ کسی اور مہینے میں ممکن نہیں۔

اللہ کے پیارے بنی ﷺ نے فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ۔ (البخاري (1899) ومسلم (1079)

ترجمہ: ‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جبماہ صیام کی آمد ہوتی ہے توجنتکےدروازےکھولدئےجاتےہیںاورجہنمکےدورازےبندکردئےجاتےہیںاورشیاطینپابند سلاسل کر دئیےجاتےہیں’’ ۔

مذکورہ بالا متفق علیہ حدیث رسول سے یہ بات متحقق ہو جاتی ہے کہ ماہ صیام کے روزوں سے قطع نظر ، صرف اس مہینے کی آمد پر اللہ اپنے بندوں پر اتنا بڑا احسان فرماتا ہے کہ وہ اس ماہ کا چاند نظر آتے ہی تمام شیاطین کو پابند سلاسل فرمادیتا ہے۔ اور اس ماہ مبارک میں انسان شیاطین کے وساوس اور برے خطرات سے محفوظ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کا نیکی اور تقویٰ کے راستے پر چلنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

یہ تو تھا شیطان کا معاملہ، اب رہ گیا نفس اور شہوت کا خطرہ  ، تو اسکا سد باب اللہ نے روزے میں رکھا ہے۔ ہر روزہ دار اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ جب بھوک اور پیاس کی شدت ہوتی ہے تو انسان پر نفس کا غلبہ کمزور ہو جاتا ہے اور کافی حد تک وہ شہوات اور خواہشات نفسانیہ سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔  پیارے نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہے کہ روزہ قاطع شہوات ہے۔یعنی جسے اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر گرفت مضبوط کرنی ہو اسے چاہئے کہ روزے رکھے:

اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ (البخارى:412) ومسلم:128)

ائے نوجوانوں کے گروہ !تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ بلاتاخیر نکاح کر لے اور جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ قاطع شہوات ہے۔

محترم قارئین ! آپ نے ملاحظہ کیا کہ ماہ صیام میں کس طرح اللہ نے ہمارے لئے حصول تقوی کے لئے راستے آسان کئے۔ ایک                   طرف شیطان قید کر لیا گیا اور دوسری طرف بھوک اور پیاس کی شدت سے نفس کمزور ہو گیا۔ اب دل عبادات کی طرف راغب ہوتا ہے،  پیشانی میں سجدوں کی تڑپ بیدار ہو تی ہے اور روح کو عبادتوں کی لذت ملنے لگتی ہے۔  لیکن یہ یاد رہے کہ ماہ صیام میں شیطان کا قید کیا جانا  نفس پر غلبہ حاصل کرنے کی مشق کے لئے ہے۔  ماہ رمضان ہمیں ایک سنہرا موقع عطا کرتا ہے کہ ہم اپنے نفس ، اس کی شہوات اور اس کے رذائل کو مغلوب کرنے میں ماہر ہو سکیں۔  تاکہ جب ایک ماہ کے بعد شیطان آزاد ہو تو اس کا بس ہمارے اوپر نہ چل سکے۔  اس لئے کہ نفس جو کہ انسان کا ایک خفیہ دشمن ہے ،  اس کے تعاون کے بغیر شیطان کے لئے بھی کوئی راستہ نہیں بچتا۔  کیوں کہ اہل یہ علم جانتے ہیں کہ شیطان کو شیطان بنانے والا بھی خود اس کا نفس ہی ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/fasting-purifies-our-souls-conclusion--روزہ-روح-کو-طہارت-و-پاکیزگی-عطا-کرنے-کے-لیے-ہے/d/118656

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content