certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (25 Feb 2019 NewAgeIslam.Com)



Has The Time Come For Islam To Go Local? عرب سامراجیت بمقابلہ اسلامی تکثیریت پسندی: کیا علاقائی رنگ روپ میں اسلام پر عمل کرنے کا وقت آ پہونچا ہے؟


سلطان شاہین ، فاؤنڈنگ ایڈیٹر ، نیو ایج اسلام

9  فروری 2019

ایک ترک قانون ساز اوزترک یلمز (Öztürk Yılmaz) نے تجویز پیش کی کہ ملک  میں مسلمانوں کو عربی کے بجائے ترکی زبان میں نماز کی دعوت دی جائے گی۔ ان کی ریپبلکن پپلز پارٹی نے انہیں جماعت سے اس مطالبہ کے لئے نکال باہر کر دیا، حالانکہ وہ جماعت جس وقت اقتدار میں تھی جو کہ اب اپوزیشن میں ہے ، آذان ترکی زبان میں ہی پکاری جاتی تھی ۔

صرف اذان ہی نہیں بلکہ 1950-1932 کے دوران ترکی زبان میں نمازیں بھی ادا کی جاتی تھیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ذہن و دماغ پر عربی  اقدار کا غلبہ اس قدر وسیع تھا کہ اس فیصلے کی پذیرائی نہ ہو سکی  اور جب 1950 میں یہ جماعت انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئی تو اس معمول کو کالعدم قرار دیا گیا۔

استنبول کی ایک مسجد میں جب پہلی بار ترکی زبان میں آذان پکاری گئی تو وہ 19 مارچ 1926 کی تاریخ اور اس سال رمضان کے پہلے جمعہ کا دن تھا ۔ کمال الدین آفندی نے جو کہ نماز کی امامت کر رہے تھے، یہ محسوس کیا کہ زیادہ تر لوگ اپنی نمازوں کو مکمل کئے بغیر ہی چھوڑ کر چلے جا چکے ہیں ۔

مقامی زبانوں میں نماز کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اسلام جزیرۂ عرب سے نکل کر ساسانی سلطنت میں داخل ہوا ۔ ساتویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں اسلام ایران کے اندر پھل پھول رہا تھا اور فارسیوں نے ان کی اپنی زبان میں نماز ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔

زبان ایک رکاوٹ

یہ ایک اچھی پہل تھی اور قرآنی ہدایت کے ساتھ ہم آہنگ بھی تھی کہ نماز اس زبان میں ادا کی جائے جو لوگوں کی سمجھ میں آتی ہو۔ قرآن کہتا  ہے کہ اللہ کے پیغمبر دنیا کے مختلف حصوں میں مبعوث کئے گئے جنہوں نے لوگوں تک ان کی مقامی زبانوں میں اللہ کا پیغام پہونچایا۔ اللہ نے قرآن میں عرب بالا دستی کا کوئی تصور نہیں پیش کیا ہے۔ اس پر فقہاء کی بھی آراء ہیں ۔ امام مالک بن انس، امام محمد الشافعی، امام احمد بن حنبل  اور تمام عرب فقہاء نے اس نظریہ کی مخالفت کی۔

فقہ حنفی کے بانی اور ایک عظیم فارسی نژاد فقیہ  امام ابو حنیفہ نے تبدیلی کی حمایت تو کی لیکن ان کے کئی پیروکاروں نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔

فقہ حنفی کو 16ویں صدی میں عثمانی ترک نے سرکاری طور پر اپنا لیا تھا اور مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا اورمشرق بعید میں بہت سے لوگ اسی فقہی مکتب کی پیروی بھی کرتے ہیں ۔ لیکن ابھی تک مقامی زبانوں میں نمازوں کے نظریہ کو عملی شکل نہیں دی جا سکی ۔

زبانوں کے دباؤ کی بنیادی طور پر دووجہیں ہیں: (۱) مقامی ثقافت پر فخر اور (۲) خدا کے ساتھ قریبی تعلق پیدا کرنے  کی خواہش۔

قرآن کریم میں صرف اللہ نے  ہی نہیں بلکہ اپنے آخری خطبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ دوسروں پر عرب کو  کوئی برتری حاصل نہیں ہے ۔

لیکن سامراجی مقاصد کے حصول کے لئے عربی کا استعمال کرنے والے عربوں نے نہ صرف یہ کہ دوسروں پر اپنی زبان تھوپنے  کی کوشش کی بلکہ اپنے طرز  لباس ، فن تعمیر اور دیگر ثقافتی شناخت اور نشانیوں کو بھی ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے بعض معزز علماء خود کو عرب روحانی شخصیتوں کا غلام اور یہاں تک کہ ان کاکتا کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔

میری نگارشات

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا اپنا کوئی علاقائی رنگ روپ نہیں ہے؟ نہیں۔ ہندوستانی اسلام کی خصوصیات ایسی ہیں کہ جن سے عرب کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر ہمارا ذات پات کا نظام، ہمارے ہاں جہیز کا معمول ، شادی شدہ خواتین کا بندی اور سندور لگانے کا عمل ۔ لیکن علماء نے ہندوستانی اسلام کے اس امتزاج  کو ختم کرنے کی ہر  ممکن  کوشش کی ہے۔

شاہ رفیع الدین نے قرآن کے ترجمہ میں عبادت کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ‘پوجنا’ ہےجو کہ  ہندو رسوم و رواج سے ملتا جلتا ہے ۔ 18ویں صدی میں، مقامی لفظ پوجا اور عربی لفظ عبادت دونوں ایک دوسرے کے درست متبادل تھے۔ لیکن صرف ایک صدی کے بعد  جب مسلم شناخت کی حدود مضبوط ہونا شروع ہوئیں تو عربی لفظ کا استعمال لازمی ہو گیا۔

اسلامی یکسانیت اور علیحدگی پسندی کی تبلیغ و اشاعت کے لئے  دنیا کی سب سے بڑی تحریک تبلیغی جماعت 1927 میں ایک دیوبندی عالم دین مولانا الیاس کاندھلوی نے شروع کی تھی اس لئے کہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ میوات کے مسلمان اپنی اصل ہندو ثقافت میں اب بھی اچھی طرح گھلے ملے ہوئے ہیں ۔

سعودی پٹرول ڈالر کے ذریعہ اس تبلیغی تحریک کی مدد کی گئی ۔ اب ایک دوسرے کو جاننے والے مسلمان ملاقات ہونے پر خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ کہتے ہیں۔ اب کسی مسلم عورت کو حجاب میں یا کسی مسلمان مرد کو عبایہ میں یا کوفیہ میں دیکھنا کوئی خاص بات نہیں رہی ۔ مغربی ایشیاء میں اس طرح کے لباس اچھے ہیں  جہاں یہ سورج، دھول اور گرد و غبار کی طوفان سے بچاتے ہیں ، لیکن کلکتہ، جکارتا، لندن، پیرس یا بوسٹن میں ان لباسوں کا کیا کام؟ یہ ایک مغلوب مسلم ذہنیت کی علامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

دوسرے مذاہب کے لئے بھی مقامی زبانوں میں ڈھلنا آسان نہیں رہا ہے۔ کوئی مخصوص پاکیزگی خود کو کچھ زبانوں میں منسلک کرپاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ویدی سنسکرت ہندوؤں کے لئے مقدس ہے اور عبرانی یہودیوں کے لئے ۔ لاطینی اور یونانی زبانوں میں بائبل کو برقرار رکھنے کے لئے عیسائیت کی جدوجہد انتہائی شدید اور خون ریز تھی اس لئے کہ طاقتور چرچ اس کا سخت مزاحم تھا۔ بالآخر، بائبل کو ان کی اپنی زبانوں میں پیش کر ہی دیا گیا ۔

ہندوستانی علماء اس مقدس کتاب کے اردو یا انگریزی ترجمہ کو قرآن تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ مساجد میں بھی قرآن کے تراجم نہیں رکھے جاتے ، لیکن یورپ اور امریکہ میں ایسا کیا جاتا ۔ دراصل  اب زیادہ تر اسلامی کتب کے تراجم نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں ۔

جنوبی ایشیا میں مقامی زبانوں میں اذان یا نماز کا کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے ۔ لیکن اگر مسلمان جس زبان میں نماز ادا کر رہے ہیں وہی زبان نہیں سمجھتے تو وہ کس طرح اللہ سے قریب ہو سکتے ہیں ۔ شاید ترکی میں ڈبیٹ ہمارے دل و دماغ کے دریچے کھول دے۔

سلطان شاہین دہلی کی ایک ترقی پسند اسلامی ویب سائٹ NewAgeIslam.com کے فاؤنڈنگ ایڈیٹر ہیں ۔

نوٹ: یہ مضمون سب سے پہلے 9 فروری 2019 کو ہفتہ وار فرسٹ پوسٹ ، نئی دہلی کے پرنٹ ایڈیشن میں شائع ہو چکا ہے ۔

ماخذ:

firstpost.com/india/time-may-have-come-for-islam-to-go-local-6048201.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/sultan-shahin,-founder-editor,-new-age-islam/arabic-imperialism-vs-islamic-pluralism--has-the-time-come-for-islam-to-go-local?/d/117702

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founder-editor,-new-age-islam/has-the-time-come-for-islam-to-go-local?--عرب-سامراجیت-بمقابلہ-اسلامی-تکثیریت-پسندی--کا-علاقائی-رنگ-روپ-میں-اسلام-پر-عمل-کرنے-کا-وقت-آ-پہونچا-ہے؟/d/117838

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   1


  • مجھے فخر ہے کہ میں ہندستانی مسلمان ہوں

    ڈاکٹر ساحل بھارتی

    ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان آبادی کے تناسب سے دوسرے پوزیشن پر ہیں، ہندستانی مسلمان اپنی قومی شناخت پر فخر کرتے ہیں اور با ر بار اپنے ہندستانی ہونے کاثبوت دیا ہے۔'ہندستانی' ایک پہچان ہے جو قوم پرستی، ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے اور جس میں ملک کی 'یکجہتی میں اتحاد' کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی و ثقافت بھی باقی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبیپاک سے پہلے اس زمین پرقدرتی خوبصورتی ،پر وقار، صوفیانہ فلسفہ اور سائنسی سلسلے کی آراء کے ساتھ کئی انبیاء کرام بھیجے ہیں۔

    اس سلسلے میں قرآن پاک کے کئی مقامات پرخدا کریم ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوا ہے تو جب ان کا رسول ان کے پاس تشریف لاتا تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جا تا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جا تا ہے(10:47)۔دوسری جگہ ارشاد ہے۔ترجمہ: اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ خوشخبری دیتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے بھیجا اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو(35:24)ایک اور جگہ آیا ہے، ترجمہ: (اے مسلمانو!)تم کہو: ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لائے اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب علیھم السلام اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا اور موسیٰ و عیسیٰ علیھما السلام کو دیا گیا اور جو باقی انبیاء کرام کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا۔ ہم ایمان لانے میں ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہوئے ہیں(2:136)۔ ارشاد رباّنی ہے۔ ترجمہ: اور انہیں برا بھلا مت کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ زیادتی کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے کیونکہ ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کر دیا پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتا دے گا جو وہ کرتے تھے(6:108)۔

    ہندستان میں مسلم سماج بنا کسی قسم کی خواہش،اپنی الگ پہچان،شہریت یا امتیازی سلوک کا مطالبہ کئے ہندستان میں بخوشی اپنی زندگی بسر کر رہا ہے۔ہندستانی مسلمانوں کی قومی شناخت ملککے خون میں ہے جوملک کو تیزی سے ترقی کی طرف بڑھانے کے علاوہ ہم آہنگی و رواداری کے ساتھ متحد رکھتا ہے۔


    By ڈاکٹر ساحل بھارتی - 3/23/2019 3:44:59 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content