certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Jul 2009 NewAgeIslam.Com)



Homosexuality and Moral System of World Religions ہم جنس پرستی اور مذاہب عالم کا اخلاقی نظام

فتح محمد ندوی

12جولائی، 2009

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابولحسن علی ندوی ؒ مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اس سیلاب اور اس کے خطرات او ر خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘اسی طرح اگر مغربی تہذیب اور اس کے وسائل وثمرات سے استفادہ باقاعدہ سوچی سمجھی اسیمے بصیرت وتدبر اور تیر وشر میں تمیز کی بنیاد پر ہوا تو یہ تہذیب ملک کے رہنما ؤں اور ارباب عقد اور علما دین کی مرضی اور خواہش کے خلاف اس ملک یا سوسائٹی پر جبراً قابض ہوجائے گی ۔عوام گرمجوشی کے ساتھ اس کا خیر مقدم کرینگے ،ادبا اہل فکر اس کے لئے راستہ صاف کریں گے، اور خیر وثر اور مفید ومفسر میں تمیز کئے بغیر اس ملک کے باشندے فاقہ زدوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں گے ۔ساری اخلاقی ودینی قدریں ا سکے ساتھ فنا ہوجائیں گی۔ ملک کے رہنما اور ذمہ دار سیاست داں اس صورت حال کے سامنے بے دست وپا اور مفلوج نظر آئیں گے اور ا ن کے ہاتھ سے نظام قیادت ہمیشہ کے لئے نکل چکی ہوگی۔’’

اس اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک کے علمائے دین اور اربان نظر وفکر نے تہذیب جدید کے اس چیلنج اور خطرے سے اپنی قوم کو پہلے ہی باخبر کردیا تھا، چونکہ وہ اس کی پیچیدگیوں اور معاشرے پر اس کے اثرات ومضمرات کو اپنے وسیع تجربات سے پہلے ہی دیکھ چکے تھے،پھر ان علموں کی صورت حال جہاں یہ تہذیب فاتحانہ داخل ہوئی ان کے سامنے تھی، اس سے انہوں نے ہمیشہ اس کے امنڈتے ہوئے سیلاب سے اپنے معاشرے اور سوسائٹی کو بچانے کیلئے نہ صرف حکومت کو خبردار کیا بلکہ خود بھی اس کے سدباب کیلئے جدوجہد کی کیونکہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ اگر یہ تہذیب دورے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی فاتحانہ داخل ہوگئی ،جیسا کہ زمانہ کا رجحان اس کو قبول کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے تو پھر ہمارے معاشرے کی بھی تمام اخلاقی قدریں فناہوں جائیں گی  ،اور معاشرے میں ایسا انتشار او ربحران پیدا ہوجائے گا جس کا طاقت اور قوت سے مقابلہ ناممکن ہوجائے گا۔

بہت حال ‘‘الکا فراسۃ واحدۃ’’ یعنی تمام کفر اسلام کے خلاف متحد ہے اور اتحاد کا یہ سلسلہ تاریخ بہت قدیم ہے دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اسلام کے خلاف جب بھی کوئی سازش اور پروپیگنڈہ رچا گیا تو دنیا کا تمام کفر ایک صف میں کھڑا نظر آتا ہے ، اور ایک آواز ہوکر وہ اپنی  طاقت وقوت کو اسلام کے خلاف لگادیتے ہیں، بات اس وقت ہم جنس پرستی کی چل رہی ہے ہم جنس پرستی کا جہاں تک تعلق ہے تو بشمول اسلام کے دنیا کے کسی اخلاقی نظام میں اس کو درست یا جائز نہیں بتا گیا ، چاہے وہ مذہب  اہل ہنود کا ہو یا یہودیوں کا ، عیسائیوں  کاہو یا مسلمانوں کا کسی مذہب میں بھی ا سکی اجازت نہیں تو پھر اس کو ہندوستان میں کیسے قانونی جواز مل گیا؟ کیا اہل ہند کے اخلاقی نظام میں اس کی کوئی گنجائش ہے تو شاید ایسا بھی نہیں  ، تو پھر اسکو قانونی جامہ پہنانے والے کون لوگ ہیں؟ اور ان کا تعلق کسی مذہب سے ہے؟ یا ان کا کوئی مذہب ہی نہیں جنہوں نے اس کو قانونی درجہ دیا۔ دراصل اسلام کے خلاف مغربی استعمار اپنے ذہن ودماغ سے اور من گھڑت فلسفوں سے جن چیزو ں کو ایجاد کرتے ہیں، اور پھر وہ اپنے ایجاد کردہ ان جھوٹے نظریات کو اسلام پر تھوپنے کے لیے ایسے افراد تلاش کرتے ہیں جن  کی ذہن سازی خود وہ اپنی آغوش میں کرتے ہیں جس سے انہیں اپنے مقصد کو پانے میں بڑی کامیابی مل جاتی ہے ۔ اور مغربی سامراج کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح اسلام کی روح کو ختم کردیں۔ اس کے نظام معاشرت اور نظام اخلاق ومعاملات کو بالکل نیست ونابود کردیں۔تاکہ لوگ اسلام کے تعلق سے شکوک وشبہات میں مبتلا ہوجائیں۔

دراصل اسلام دشمن طاقتوں کو اسلام کی ترقی سے جب بوکھلاہٹ ہوجاتی ہے تو پھر وہ وقتاًٰ فوقتاً ایسی چیزوں کو منظر عام پر لاتے ہیں جس سے مسلمانوں کے اندر اضطراب کی کیفیت پیدا ہوجائے، پھر وہ جلسے وجلوس کریں احتجاج اور مظاہروں میں اپنا قیمتی وقت برباد کریں اور ہم مزے سے اپنی قیام گاہوں میں تماشا دیکھیں کیونکہ اسلام دشمن طاقتوں کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ جس طرح اسلام نے ماضی میں دنیا کے تمام چیلنجوں کا سامنا آسانی سے کیا ہے تو مستقبل میں بھی اسلام تمام چیلنجوں کا سامنا کر کے دنیا کو ایک صحیح نظام دے سکتا ہے ۔ اسلام کے پاس ایک ایسا نظام حیات ہے جس سے پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم سے انصاف کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے ۔ دوسری طرف اسلام دشمن طاقتوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مسلمانوں کو میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتے ،ان تمام  باتوں کو سامنے رکھ کر مغربی استعمار نے اسلام کے خلاف لوئس نہم 1214۔1270کی وصیت پرعمل کیا جو اس سے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد کی تھی کہ ‘‘تم لوگ میدان جنگ میں جنگی سہ زوں سامان اور کثرت تعداد کے باوجود مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے جب تک ان کا ایمان اور عقیدہ کمزور اور متزلزل نہ ہوجائے ۔لوئس نہم کا یہ وصیت نامہ چار اہم نکات پر مشتمل تھا۔(1) عیسائی مشینری (2) اشتراق (3) تجدد پسندی (4) اسی کو پیش نظر رکھ کر اہل یوروپ نے اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کی۔

ہم جنس پرستی جس کا کسی مذہب میں بھی تصور نہیں ،لیکن جہاں تک تعلق عیسائی او ریہودیوں کے مذہب کا ہے تو یہودی اور عیسائیوں نے مذہب کا تصور اپنے ذہن ودماغ سے نکال پھینکا ۔جب ان کے یہاں سرے سے مذہب کا تصور ہی نہیں تو پھر وہ لوگ ان کی اندھی تقلید کیوں کررہے ہیں جن کے یہاں ابھی مذہب کا کچھ تصور اور تہذیب باقی ہے، جب ہمارے پاس اپنا مذہب اور اپنی تہذیب باقی ہے تو ہم لکیر کے فکیر کیوں بنے ہوئے ہیں ؟کیا ہمیں اپنے مذہب او  رتہذیب کے بارے میں کچھ شک ہےکہ ہم دوسروں کی تہذیب کو اپنانے میں قانون کو بھی ختم کرسکتے ہیں ۔دنیا کی نظر میں شاید اس سے زیادہ ذہنی پستی اور کیا ہوسکتی ہے کہ بے حیائی کی ترویج اور مغرب کی اندھی تقلید میں اپنا سب کچھ داؤں پر لگا یا جاسکتا ہے ۔اس سے صاف طور پر یہ بھی بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ہمارے ملک کے باضمیر لوگوں کے اندر سے احساس زیاں جاتا رہا پھر وہ بھی اپنی نئی نسل کے تعلق سے لاپروا ہوگئے کہ انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

ہم جنس پرستی بلکہ دوسرے الفاظ میں دور جدید کا  ۔معاشرے کے لئے ایسا ناسور ہے جس کےلئے کوئی بھی دوا کار گر ثابت نہیں ہوگی۔ جس کے جراثیم معاشرے کی تمام اخلاقی قدروں کو اس طرح ختم کردیں گے کہ شرم وحیاکا شعور معاشرے کے اندر سے بالکل ختم ہوجائے گا ان یہودیوں کے ساختہ اور پرداختہ لوگوں کو نئی نسل معاف نہیں کرے گی جو ہم پرستی کی وکالت کررہے ہیں اور اس کومعاشرے پر نافذ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ ان لوگوں کی خوشی کیلئے ہورہا ہے جن کے یہاں عفت وپاکبازی اور شرم وحیا کا ہردن خون ہوتا ہے ۔ خیانت کی اشاعت ان کے یہاں عام ہے۔ ایک موقع پر سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا تھا کہ عنقریب ہماری قوم کی اکثریت حرام زادوں پر مشتمل ہوگی بلکہ ان کے الفاظ تھے۔

Wed lock born without any way ‘‘یعنی بغیر شادی کیےہوئے حرام بچوں کی ولادت’’ اسی طرح سابق صدر بش نے کہا تھا کہ ایشیا کو Modernize کرنا چاہتے ہیں تو اس مذکورہ اقتباس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں سپرپاور ممالک کے صدر بے حیائی اوردوسرے الفاظ میں حیوانیت کے فروغ کے لئے کتنی جد وجہد کررہے ہیں اور اس طرح کی ایک مثال نہیں بلکہ ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ اہل یوروپ نے مغربی تہذیب کے احیا کے لئے اپنی جان ومال اور قیمتی اثاثہ صرف کیا اور کررہے ہیں۔

عدالت کے توسط سے ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم ہوگیا۔ ہم عدالت کے تمام فیصلوں اور قانون کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر کوئی قانون فطرت کو چیلنج کرتا ہے اور خدا کے بنائے ہوئے نظام میں دخل دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ قانون ،قانون نہیں رہ جاتا بلکہ ایک چیلنج کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، اور خدا کے بنائے ہوئے قانون سے جب کوئی قانون بالا تر سمجھا جانے لگتا ہے اور اس کو چیلنج کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے تو اس قانون کو نہ صرف ماننے سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اس کے خلاف جدوجہد بھی واجب ہوجاتی ہے ۔ ہم جنس پرستی  کو عدالت کے کچھ ججوں نے فطری کے قانون اور ضابطوں سے بغاوت کر کے قانونی شکل دیدی تو ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم عدالت کے اس فیصلہ پر سرتسلیم خم کرلیں ۔ ویسے ہم عدالت کے ہر فیصلہ کو مانتے ہیں اور اپنے ملک کے ان تمام قوانین کو جن کا تعلق نسل انسانی کے ان اصول اور ضابطوں سے ہے جو خود کے بنائے ہوئے نظام سے تصادم نہیں کرتے لیکن اگر کوئی قانون خدا کے قانون سے متصادم ہوتا ہے تو یہ خدا کے قانون کے خلاف سراسر بغاوت ہے۔ہم اس کو کسی بھی صورت میں نہیں مان سکتے ، چونکہ ہمارے نزدیک خدا کے بنائے ہوئے قانون کو چیلنج کرنا ہلاکت اور بربادی کا سبب ہے وہ قومیں اس کا مشاہد ہ بھی کرچکی ہیں جنہوں نے خدا کے قانون کو چیلنج کیا ہے۔

ہمیں سب سے زیادہ افسوس اپنی موجودہ حکومت پر ہے کہ وہ اس سنگین اور قومی مسئلہ پر خامو ش کیو ں ہے؟ کیا حکومت ان چند لوگوں سے خوف کھارہی ہے جو اس کی وکالت کررہے ہیں یا پھر دیگر معاملات کی طرح حکومت اس میں بھی اپنا مستقبل دیکھ رہی ہے ،حکومت ہند اس حساس ونازک مسئلہ پر خاموشی سے کام نہ لے اور ان لوگوں کی سرپرستی سے اپنے دامن کو بچائے ،کیونکہ یہ مسئلہ صرف ہم جنس پرستوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ اگر حکومت ہند نے اس کے اقدام کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو ہمارا معاشرہ مغربی معاشرہ کی طرح قوم لوط کی بستی بن جائے گا اورا صلاح کا کوئی بھی نسخہ کار گر ثابت نہیں ہوگا۔اس لئے حکومت عدالت کے اس فیصلہ کو کسی بھی صورت میں کالعدم قرار دے۔

موبائل نمبر:9268308182

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/homosexuality-and-moral-system-of-world-religions-ہم-جنس-پرستی-اور-مذاہب-عالم-کا-اخلاقی-نظام/d/1542

 




TOTAL COMMENTS:-   13



  • We need to look at this issue in different situations. Sometimes it is not possible to provide separate schools for boys and girls in many places because education and literacy may not be a priority in such places, or population is too less for starting separate schools which means separate establishments and the cost of having separate establishments may be a deterrent factor.
    However along with religion, education and literacy especially among the Muslim Men and Women should become a priority agenda not only for parents but for the community itself.
    We find that many of the problems faced by the Muslim Women are because of a lack of knowledge of how to go forward in life, to handle situations, to solve issues, and thereby being exploited and with a low self esteem. Well this I say from the majority of the population where the girl child is brought up in seclusion and protection and is denied access to meeting people, interacting until her marriage.
    I believe strongly that parenting is an important factor of a child’s life and once this is in place and we are not over protective or fanatically steadfast about some ideologies then the child has a happy childhood and the formative years make a child stable and ready to face many a circumstance in the future.
    It is also to do with parents as role models and how the child views them in the formative years of a childs upbringing. For this, other than the peace and harmony among the parents, it is also necessary that parents keep channels open for children to discuss and talk all their doubts, fears and consternations in life which they come across everyday.

    Mixing with cousins, meeting people and interacting, reading relevant books commensurate with the age, going out more often with parents to places of interest, involving in activities like summer camps etc and meeting other children with similar interests all help a child to develop an individuality and also for the parent to understand the nature, aptitude and attitude of the child.
    Instead of chiding the child about certain happenings, it is necessary that the parent makes a note of happenings and see the frequency of repetition so that they are then able to take the issue in hand and tackle it diplomatically and with reasoning.
    Coming to schooling, it is not uncommon that parents are ready to blame when something goes wrong. Whether it is teaching, disciplining, attitude or any matter - It is primarily a blame game and parents usually think that once the child has been admitted and a fat fee has been paid their responsibility is over.. But it is very necessary that parenting extends in the school where the child and the teacher are aware of the parent’s involvement and care of their child. A lot of issues are thus avoided. It helps the parent to assess the atmosphere in which the child is growing and how to handle issues of the childs friends without being too fastidious of who the other child is. Very often we have blocks in our mind which the child does not have. And it is these blocks which cause prejudice and differences within us. By projecting these we are teaching our own child bias - rich/poor, fair/dark. clever/dull, etc etc.. Again it is also necessary that children are not stressed about performing.
    Now coming to the question of co-ed schools - if parents can be monitoring their child in school as I have mentioned and have a good built in relationship then they would be able to keep channels open with communication with their child, they would then be able to understand the school management, other classmates, parents of class mates, teachers. This applies to any parent and any child and not necessarily uslims alone.

    So whichever the school it is the trust a parent builds with their child which will pave the way for a comfortable schooling atmosphere for the child wherever they be.

    The problem among the muslim children is the question of segregation. This in itself can have a lot of side effects where the child is not allowed to inter mingle with the opposite sex. While girls have to go to a higher extent in maintaining this, the boys are allowed some amount of freedom – they are given more freedom to go out with friends, and this exposure itself is enough most often. Do we realise because the parents word is final we do not even listen to the little voices - and very often do not hear about many of their issues including abuse and sexual abuse. I have come across a minimum of about 7 cases of incest in Muslim families and no one has known how to handle the situation – and thus the child was continuing to be harassed to protect identity, family name etc etc.. If you look deeper it is the segregation or the upbringing of the adult who is the offender and the root of the problem.

    I dont know how many here are aware of the problems of extreme segregation which occurs due to our way of upbringing. There are schools - and I would not like to mention the names of these schools - because it is not the school to blame. But due to the segregation and no modulation by parents or their non flexible nature, children in the exploratory age of growth can get into homosexuality - both among boys and girls - in hostels and schools.. THis is not natural but due to circumstances because a child needs attention, care, touch and love gives into this convoluted love under the given circumstances.

    Therefore once again I reiterate that parents should give their children more freedom of speech and freedom of movement.. We are exposed to many developments today and the children are too. You cannot be the only parent who does not send her child to a neighbours birthday party. The child has to know good and bad, right and wrong and no one but a parent can take this up. To attain this flexibility and give it within limits it is good to set up professional counsellors who can guide with parenting.

    Schools on the other hand - whether segregated or co-ed require really professionally trained staffing who are balanced and experienced in handling different children in different ages and concerning their different problems at this time.
    It is also to do with the ratio of teacher to child.
    But most often we compromise on quality and therefore face the breakdowns we do.. Sometimes even the interference of management in school functioning dilutes many issues which can otherwise be run professionally.

    Ultimately education should be treated as a speciality and a necessity for the community. Not something which we find fault with the system or use it just as a stop gap arrangement till a girl attains puberty or finds a match. If it should be given the seriousness of a long standing goal of “making an effective person”, then involvement of the parent will be complete. No one can do that better than a parent.

    The more controlled a child, the more rebellious they become. It is best to give a child a conducive atmosphere and normal growing conditions. Otherwise a child tends to question, explore and experiment without guidance.

    Nishath


    By nish basheer -



  • assalamu alaikkum,
     
    if it not all possible to establish a seperate educational institution for girls,  then we can think of co eduation in muslim institutions as a last resort.
    having resources at our disposal and without using them,  just opt for co educataion in muslim institution for charm and lusture, it is a not only a mistake but a sin for which they will be accounted for in the hereafter.
    at the same time others  sould try to understand the difficulties and compulsion under which it is decided to open a co eduction classes and try  to sort their problem with negotiation and pursuation.
     
    vassalam
    tmark khalid


    By T M Abdur Ravoof Khalid -




  • Please let me have your views about co-education in Muslim institutions.
    VMK


    By KHALEELUR RAHMAN -



  • Does it mean that all those who are gay need to be hanged? Would it not mean all minority views and culture should be nipped in the bud as practiced by Hitler against Jews and the present day Sangh Parivar and Talibans who would not brook any deviation from their understanding of what is good and bad? The connotation of such prescriptions by flaunting religion would have far reaching consequences .These actions against  minority habits could be sited as precedents in the future by any majority formation to root out minority opinion.
    All people whether belonging to a religion or an atheist, heterosexual or homosexual or any other deviant tradition form has a right to exist in a plural society. People can be persuaded by parallel educative programmes of respective ideologies and dissuaded in following relatively deviant paths, but cannot be forced into following any one particular path.
    Kasim


    By Kasim sait -



  •  Dear Asgar Saheb
     Your statistics that 1% of Muslims may be gay and that it does not matter when compared to the percentage of poverty amongst Muslims is not free of danger. One drop of poison will spoil a potful of milk. This one percentage will slowly improve and lead to the repetition of history of Quome-Looth (Aly). Therefore this evil practice should be knitted in the bud.

     N.ROOHULA


    By Roohulla Neri -



  •  Oh! My God...asghar! How can a human being speak so thoughtlessly about another human being...i'm appalled and speechless!
     Zohra


    By zohra javed -



  •  I think poverty and education deserve more importance than writing on homosexuality. 90% of Muslims are poor but hardly 1% of Muslims may be gay. So why give it so much importance? Let the homosexuals die with AIDS and go to hell.
             Asghar


    By Asghar Ahmed -



  • Delhi High Court has only removed the co-habitation of any two consenting individuals, irrespective of what sex they belong,from the danger being held to ransom by some corrupt police personnel due to a legal ambiguity.What is the problem in this as far as the two individuals do not cause any physical harm or infringe on  any of their fundamental rights?

    It is very dangerous to seek the help of lumpen elements like Muthallick of the Sangh parivar conveniently and blame the same goons when such fascist forces endanger the peaceful secular fabric.Secularism is entwined in tolerance with different points of view and different evolving cultural forms and systems.It cannot be matter of convenience to demand unity for a very questionable cause and at the same time raise a hue and cry against victimisation of minorities which is endorsed by the dangerous Frankenstein monsters.

     I am sure better sense will prevail.

     Kasim


    By Kasim sait -



  • I think poverty and education deserve more importance than writing on homosexuality. 90%

    of muslims are poor but hardly 1% of Muslims may be gay. So why give it so much

    importance? Let the homosexuals die with AIDS and go to hell.
     
    Asghar


    By Asghar Ahmed -




  • Delhi High Court has only removed the co-habitation of any two consenting individuals,irrespective of what sex they belong,from the danger being held to ransom by some corrupt police personnel due to a legal ambiguity.What is the problem in this as far as the two individuals do not cause any physical harm or infringe on  any of their fundamental rights?
     
    It is very dangerous to seek the help of lumpen elements like Muthallick of the Sangh parivar conveniently and blame the same goons when such fascist forces endanger the peaceful secular fabric.Secularism is entwined in tolerance with different points of view and different evolving cultural forms and systems.It cannot be matter of convenience to demand unity for a very questionable cause and at the same time raise a hue and cry against victimisation of minorities which is endorsed by the dangerous Frankenstein monsters.
     
    I am sure better sense will prevail.
     
    Kasim

     


    By Kasim sait -



  • Salams to everybody.


    The nation is witnessing rabid moral degradation and the recent HC judgment on Gay sex has opened a pandora's box.

    I think this is the greatest challenge we are facing today. There is a deep-rooted conspiracy to dismantle the family system and also spread the dreaded diseases like AIDS in the country.


    Besides there is a pattern in these sinister moves. I remember, when an article on so called gay newspaper was published in a leading newspaper, the tone was more apologetic. Then with the advent of Globalisation in 1990s the scenario started changing slowly. Deepa Mehta's 'Fire' was released. It was also a calculated move to nurture public opinion and mute the 'shock value' over the issue. Newspapers and magazines started publishing articles, experiences, gory tales of gays and lesbians openly without any inhibition. The zeitgeist magazine section of The New Indian Express published from Chennai is at the forefront in glamourising perverted sex practices. This 'trend' spread its tentacles in Bollywood too. 'Fire' and similar films are offbeat films made for selective audiences. But 'Dostana' and other films come under mainstream film category and they involved big stars in the lead roles. And all these culminated into the open, blatant talk of legalising unnatural, perverted sex practises.


    It is ironic that the socalled moral police bricade like Ram Sena, Muthalik, Bajrang Dal etc etc are silent over the issue.

    The Congress, the BJP, the regional satraps and their parties, the communists are all in the same boat. They are sitting in the wall and refuse to take a clear stand in the vital issue.

    With established 'scholars' like Amarthya Sen, Arundhati Roy etc supporting this perverted act, the responsiblity of saving the society from moral decay rests on Muslims.


    Particularly, learned scholars of this forum are more responsible. It is high time the elders, thinkers, leaders of the Muslim society in Chennai take initiative and launch a mass awakening campaign. The country's moral fabric and family system is at stake.

    We cannot remain isolated, actively engaged in this and that petty squabbles over whether this hadith is mursal or not and so on. We owe a moral responsibility. It is also one of the basic duty of all of us. Our peace activist and writer Faizur Rahman and Kasim Sait should take a leading role in this noble task.

    Let us do something in this regard.


    Here is an interesting article on the ongoing debate on legalising the sin of the peole of Prophet Lut(AS).

    The URL of the article is http://ummid.com/news/July/27.07.2009/dead_sea_can_help_gov_take_a_decision_on_gay_sex.htm


    Wassalam


    By T Azeez Luthfulalh -



  •  Dear Dr.Farooq,

      It is deeply hurting me when I see that our scholar, intellectual like you intends to withdraw from the very important debate.

    Dr. Farooq you are the asset of our people and you please take it as a challenge to put your point and defend the issue. Allah has blessed you with the Dr. level of education, so don’t you feel that defending the point of your people is or should be your commitment.

    We know that there are systematic conspiracies working behind the scene to weaken us but that does not mean that for a simple reason of emotional hurt we withdraw. If every scholar does that then you know what we are heading for. 

    Islam has most humanitarian, highly civilized, polite, deeply social & extremely secular character It believes in peace. The only thing which matters is by whom and how it is being presented. Therefore being a scholar & intellectual you have to come forward to perform this job. A layman like me cannot do it; he can only practice it in his innocent way because he is born here.

     

    Shabih H Zaki


    By Shabih H Zaki -



  • from Dr. Mohammad O. Farooq
    to Sultan Shahin Editor@NewAgeIslam.com
    date 12 July 2009 12:05
    subject Re: India’s syncretic Sufi Islam: Visiting Khawja Moinuddin Chishti’s Dargah at Ajmer, NewAgeIslam.Org - 09 Jul, 2009

    May I request that I am removed from the mailing list of this newsletter? Quite clearly, there is clever agenda in the background to introduce homosexuality related discourse in the Muslim community.
     
    M. Farooq


    By Dr. Mohammad O. Farooq -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content