certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (31 Jul 2018 NewAgeIslam.Com)



Indian Secularism: Non-Religious, Irreligious or Anti-Religious? ہندوستانی سیکوملرازم: غیر مذہبی مذہب بیزار یا مذہب مخالف؟

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

14 جولائی 2018

ایک خود ساختہ سیکولر بنیاد پرست منی شنکر اییر لکھتے ہیں،

"سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہندوستانی سیکولرازم مذہب مخالف یا مذہب بیزار نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمارے شہری بڑے پیمانے پر مذہبی ہیں۔ لفظ سیکولرازم جہاں کی پیداوار ہے، یعنی مسیحی دنیا کے برعکس ، ہندوستان میں سیکولرازم کا معنی ریاست کو مذہبی اتھارٹی کے خلاف کھڑا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہاں سیکولرازم کا مطلب مذہبی امور کو ذاتی دائرے میں اور ریاستی امور کو عوامی دائرے میں رکھنا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسے کثیر المذاہب ملک میں، جہاں لوگ اپنے مذہب کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ضروری ہے کہ سیکولرزم تمام مذاہب کے مساوی احترام کے اصول پر مبنی ہو (اور جو کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے)۔ ان کے لئے ایک بار جواہر لعل نہرو نے کہا تھا، '[سیکولرزم] کا مطلب مذہب اور ضمیر کی آزادی ہے جس میں ان لوگوں کی آزادی بھی شامل ہے جو کسی بھی مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ اس کا مطلب تمام مذاہب کی آزادی ہے ، الا یہ کہ وہ ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کریں یا ہماری ریاست کے بنیادی تصورات میں کوئی خلل پیدا کریں۔ "( اییر 2004: ایک سیکولر بنیاد پرست کا اعتراف)۔

وہ مزید کہتے ہیں،

"تاہم، ریاستی معاملات کے سلسلے میں سیکولرازم کا مطلب ہر مذہب سے متعلق معاملات میں ریاست کا مساویانہ عمل دخل نہیں بلکہ تمام مذاہب سے ریاست کی علیحدگی ہے۔ سیکولر بھارت میں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہونا چاہئے۔ ایک ہندوستانی جس بھی مذہب کا ماننے والا ہو یا جس بھی مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرتا ہو یہ ریاست کے لئے شہریوں کا ایک نجی اور ذاتی معاملہ رہنا چاہئے۔ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے ہر شہری کو تحفظ ، یکساں مواقع اور مساوی فائدے پر توجہ دینی چاہئے۔ کسی بھی ایک مذہبی برادری کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہئے ۔ اور کسی بھی مذہبی برادری کو ناہلیت اور نقصان کا سزاوار نہیں بنانا چاہئے۔ "( اییر ، ایک سیکولر بنیاد پرست کے اعتراف، پینگوئن کتب، نئی دہلی، 2004)

سیکولرازم کی تعریف مختلف ممالک میں مختلف انداز میں کی گئی ہے۔ اکثر سیکولرزم لفظ کا استعمال عوامی زندگی اور حکومتی معاملات سے مذہب کی علیحدگی یا مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے لئے بیان کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر نام نہاد ترقی یافتہ ممالک مذاہب کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اسی لئے کسی خاص مذہب کی کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ ہندوستانی سیکولرازم کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کے سیکولرازم سے یکسر مختلف ہے۔ ہندوستانی سیکولرزم کا مطلب ریاست کی جانب سے تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک ہے۔ آئینِ ہند کی 42 ویں ترمیم میں جسے 1976 ء میں نافذ کیا گیا تھا، آئین کی تمہید میں صاف طور پر یہ کہا گیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ اگرچہ نہ تو آئین ہند میں اور نہ ہی اس کے قوانین میں مذہب اور ریاست کے درمیان تعلقات کی وضاحت کی گئی ہے ، تاہم، ہندوستان ہر مذہب کو تسلیم کرتا ہے اور ان تمام کو یکساں احترام عطا کرتا ہے۔ ہندوستان کے شہریوں کو ہندومت، اسلام، عیسائیت، جین مت، بدھ مت، سکھ مت وغیرہ جیسے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

چونکہ ہندوستانی سیکولرزم ہر شہری کو اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا حق عطا کرتا ہے اسی لئے اس سیکولرازم کو مذہب مخالف یا غیر اسلامی قرار دینا غلط ہوگا۔

مسلمانوں کے عقیدے کے تناظر میں ہندوستانی سیکولرازم مسلمانوں کو ان کی بنیادی مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے نہیں روکتا جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں مذکور ہے،

"اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں" (51:56)۔

ہندوستانی سیکولرزم مسلمانوں کو اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ ہاں! وہ تقوی حاصل کرنے اور روحانی ترقی کے حصول کے لئےاپنی تمام مذہبی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے، روزہ رکھنے، حج کرنے ، زکوٰۃ دینے، مراقبہ کرنے ، اللہ کا ذکر کرنے اور روحانی کمال حاصل کرنے سے ہندوستانی مسلمانوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

بعض متعدد اسلامک اسکالر نے سیکولرازم کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ مانا ہے۔ مثال کے طور پر، ایموری یونیورسٹی میں قانون کے ایک پروفیسر اور ‘Islam and the secular state: negotiating the Future of Sharia’ نامی کتاب کے مصنف عبد اللہ احمد النعیم کہتے ہیں، ''شریعت کو ریاست کی طاقت کے بل بوتے پر نافذ کرنے سے اس کی مذہبی حیثیت ختم ہو جاتی ہے اس لئے کہ اس صورت میں مسلمان ریاستی قانون پر عمل پیرا ہوں گے اور یہ آزادانہ طور پر بحیثیت مسلم ان کی مذہبی ذمہ داری نہیں ہو گی۔"[ Islam and the secular state ۔۔۔ کیمبرج ہارورڈ یونیورسٹی پریس 2008]

"سر دھرم سما بھوا "یا" تمام مذاہب کا یکساں احترام " کو عام طور پر ایک ہندو تصور گمان کیا جاتا جسے رام کرشنا، ویویکانندا اور گاندھی نے اختیار کیا ہے۔ تاہم بعض ہندو اسے ہندو روایت کا ایک حصہ تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ وہ اس قول کو گاندھی سے منسوب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ گاندھی نے پہلی مرتبہ ستمبر 1930 میں اس وقت کہا تھا جب وہ اپنے پیروکاروں سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ختم کرنے کی بات کر رہے تھے۔ تاہم، ہندوؤں کی ایک غالب اکثریت اس جملے کو ہندوستانی سیکولرازم کے اہم اصولوں میں سے ایک تصور کرتی ہے، جہاں ریاست تمام مذاہب کو یکساں احترام عطاء کرتی ہے۔

( پارسی برادری کے ایک ثقافتی تہوار ) ‘‘ایران شاہ ادودا اتسو 2017 کے دوران اپنی تقریر میں نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈیو نے کہا کہ تھا کہ، "میں یہ کہہ رہا ہوں کہ در حقیقت سیکولرزم آئین ہند میں پیش کئے جانے سے قبل تر ہر ہندوستانی باشندے کے ڈی این اے میں شامل تھا۔ ‘سرو دھرم سما بھوا ’ ہندوستان کے سیکولر اخلاقیات کا ائینہ دار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ بھارت متعدد ثقافتوں اور مذہبوں کا ملک ہے، ملک کی سیکولر بنیادوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہئے اور مذہبی انتہا پسندوں کے حقیر مفادات کے پیش نظر مذہب کے نام پر اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں کا سر کچلا جانا چاہئے"۔

بلا شبہ ہندوستان جیسے ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی ملک میں سیکولرزم ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم ہندوستان کی خصوصیت ہے ،اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام مذاہب کو یکساں احترام عطاء کرتا ہے اور اس کے آئین میں تمام باشندگان وطن کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق یکساں گزر بسر کرنے کی اجازت ہے ۔ لہذا تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہندوستانی سیکولرزم کے اسی بنیادی تصور کو ذہن میں رکھیں اور ملک میں امن و شانتی قائم رکھیں ، اس کے لئے انہیں اجتماعی شکل میں پر امن بقائے باہمی کے نقاط کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، ہم ہندوستانیوں کو اپنے طالب علموں، بچوں اور شہریوں کو اس کے متعلق بتانا چاہئے تاکہ وہ ملک میں پنپنے والی کسی منفی ذہن سازی کا شکار نہ ہو سکیں۔

URL: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/indian-secularism--non-religious,-irreligious-or-anti-religious?/d/115832

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/indian-secularism--non-religious,-irreligious-or-anti-religious?--ہندوستانی-سیکوملرازم---غیر-مذہبی---مذہب-بیزار--یا-مذہب-مخالف؟/d/115985

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content