certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Nov 2018 NewAgeIslam.Com)


Is It Possible To See Allah Almighty Through The Corporeal Eyes? What Does Quran Says? Part--7 کیا ان مادی نگاہوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے؟

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

2 نومبر 2018

شب معراج ہمارے نبی ﷺ کے حق میں رویت باری تعالیٰ پر جب گفتگو ہوتی ہے تو تو بنیادی طور پر سورہ النجم کو ضرور موضوع بحث بنایا جاتا ہے اسی سورہ مبارکہ کی ان پانچ آیتوں کو بالالتزام ذکر کیا جاتا ہے اس لئے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں جس کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ یہاں حضور پر نور ﷺ نے ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا ، لہٰذا ان آیات کی مختصر معرفت حاصل کرنا بے جا نہ ہوگا ۔ذیل میں ان آیتوں کی مختصر توضیح و تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ (نوٹ : چونکہ واقعہ معراج اور دیدار الٰہی سے متعلق آیات قرآنیہ کی تفسیر اور تشریح کافی طویل اور وسیع ہے لہٰذا درج ذیل آیتوں کی تفسیر میں طوالت سے بچنے کے لئے صرف علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ کی مایہ ناز تفسیر ‘‘تبیان القرآن’’ پر ہی اکتفاء کیا گیا ہے ، نیز مافی الضمیر کو کما حقہ ادا کرنے کے لئے اسی قدر تفصیل جامع ، کافی و وافی ہے ، دیگر کتب تفاسیر سے مراجعت کی حاجت نہیں؛

1.    عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ (النجم :14)

سدرة المنتہیٰ کے پاس

2.    عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ (النجم :15)

اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،

3.    إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ (النجم :16)

جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

4.    مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ (النجم :17)

آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی

5.    لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ (النجم :18)

بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ کنز الایمان

آیت ‘‘عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ - سدرة المنتہیٰ کے پاس (النجم :14) ، کی تفسیر

سدرۃ المنتہیٰ کی تعریف’ اس کے متعلق احادیث اور اس کی وجہ تسمیہ میں اقوال ۔

النجم :14میں فرمایا : سدرۃالمنتہیٰ کے نزدیک۔

’’ سدرۃ ‘‘ بیری کا ایک درخت ہے او راس کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے اور سدرہ ساتویں آسمان او راس سے اوپر والوں کے درمیان برزخ ہے‘ نیچے سے جو چیزیں اوپر چڑھتی ہیں وہ سدرہ سے اوپر نہیں جاسکتیں ‘ اوپر سے جو چیزیں نیچے اترتی ہیں وہ سدرہ سے نیچے نہیں جاسکتیں او رہمارے نبی سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج جاتے ہوئے سدرہ سے اوپر گئے اور واپسی میں سدرہ سے نیچے بھی آئے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق کی ایک حد ہے اور تمام مخلوق میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے‘ آپ جب نیچے سے اوپر گئے تو نیچے والوں کی حد توڑ دی اور جب اوپر سے نیچے آئے تو اوپر والوں کی حد توڑ دی۔ علامہ بوصیری نے کہا:

فان رسول اللہ لیس لہ حد         فیعرب عنہ ناطق بسفسم

ترجمہ: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کی کوئی ایسی حد نہیں ہے جس کو کوئی بتانے والا اپنے منہ سے بتا سکے ( الزبدرۃ العمدۃ ص 59جمعیت علما ء سکندریہ سندھ خیر پور)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مجھے اوپر کی طرف لے جایا گیا تو وہاں ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ تھی جس پر مقام ہجر کے مٹکوں کے برابر بیر تھے او راس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور اس کے تنے سے دو ظاہری دریا نکل رہے تھے اور دو باطنی میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کیسے دریا ہیں؟ انہوں نے کہا : دو باطنی دریا تو جنت میں ہیں اور دوظاہری دریا فرات اور دجلہ ہیں ۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث :164‘ سنن دارقطنی رقم الحدیث :29)

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کیا گیا تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سدرہ کی ایک شاخ کے سائے میں ایک سوار سو سال تک سفر کرتا رہے گا ایک سو سوار اس کے سائے میں ہوں گے۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :2541)

علامہ ابوعبداللہ قرطبی نے کہا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کی وجہ تسمیہ میں نو اقوال ہیں :

(1) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نیچے کی تمام چیزوں کی انتہا ء اس درخت پر ہوتی ہے اور اوپر کی تمام چیزوں کی انتہاء بھی اس درخت پر ہوتی ہے۔

(2)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمام نیبوں کے علوم کی انتہا ء سدرہ پر ہوجاتی ہے اور اس کے پار کی چیزوں کا علم ان سے غائب ہے۔

(3)ضحاک نے کہا کہ اعمال کے اوپر چڑھنے کی انتہا ء سدرہ پر ہوتی ہے او ریہاں سے ان کو وصول کر لیا جاتا ہے ۔

(4) کعب نے کہا کہ ملائکہ او رعام انبیاء کی انتہا ء سدرہ پر ہے۔

(5) ربیع بن انس نے کہا کہ ارواح شہداء کی انتہا ء سدرہ پر ہے۔(اس میں یہ اشکال ہے کہ شہداء کی روحیں جنت کی کیاریوں میں چرتی ہیں اور عرش کی قندیلوں میں لٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔ سعید ی غفرلہ)۔

(6) قتادہ نے کہا کہ ارواح مومنین کی انتہا ء سدرہ پر ہے۔

(7)حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت او رآپ کے منہاج کے موافق چلنے والے ہر شخص کی انتہا ء سدرہ پر ہے۔

(8) کعب کا دوسرا قول ہے کہ اس درخت کی بلند شاخوں کی انتہاء حاملین عرش کے سروں کے اوپر ہے اور وہیں مخلوق کے علوم کی انتہا ء ہوتی ہے‘ جیسا کہ اوپر گزرچکا ہے کہ اس درخت کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں او راس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے۔

(9)جو سدرہ تک پہنچ گیا وہ اپنے کمالات کی انتہاء تک پہنچ گیا ۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز 17ص 89دارلفکر بیروت 1415ھ)

·        آیت عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ- اس کے پاس جنت الماویٰ ہے (النجم :15) کی تفسیر

’ جنت الماوی ‘‘ کی تعریف میں متعدد اقوال

النجم :15 میں فرمایا : اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔

الماویٰ کا معنی ہے : روجوع کرنے کی جگہ پناہ حاصل کرنے کی جگہ ‘ ٹھکانا ۔

جنت الماویٰ کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) حسن بصری نے کہا: یہ وہ جنت ہے جس میں متقین جائیں گے۔

(2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ وہ جنت ہے جس میں ارواح شہداء ٹھہرتی ہیں۔

(3) ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ جنت ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام ٹھہرتے تھے حتی کہ آپ وہاں سے زمین پر آئے او ریہ جنت ساتویں آسمان میں ہے۔

(4) ایک قول یہ ہے کہ وہ جنت ہے جس میں تمام مومنین کی ارواح ٹھہرتی ہیں اور اس کو جنت الماویٰ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ارواح مومنین کا مسکن ہے او ریہ عرش کے نیچے ہے‘ پس وہ روحیں جنت کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتی ہیں او راس کی خوشبو سے شاد کا م ہوتی ہیں۔

(5)ایک قول یہ ہے کہ یہ جنت حضرت جبریل او رمیکائل کامسکن ہے ۔( الجامع لاحکام القرآن جز 17ص90)

(بحوالہ: تبیان القرآن مصنفہ علامہ غلام رسول سعیدی ، ج۱۱، صفحہ۵۰۰- ۴۹۹)

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part--1--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116668

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part-2--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116688

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part-3--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116705

URL for Part-4: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part-4--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116722

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part-5--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116743

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-part-6--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116760

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-possible-to-see-allah-almighty-through-the-corporeal-eyes?-what-does-quran-says?-part--7--کیا-ان-مادی-نگاہوں-سے-ذات-باری-تعالیٰ-کا-دیدار-ممکن-ہے؟/d/116769

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content