certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (28 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Islamic Concept of Tolerance—an Essential Prerequisite for Peaceful Coexistence اسلام کا تصور برداشت: پرامن بقائے باہمی کے لیے لازمی شرط

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

19 جون 2018

(انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام )

اسلام میں تحمل و برداشت(ٹولیرینس ) کا صحیح معنیٰ کسی مخالف کی رائے یا عمل کے خلاف صبر وتحمل کا اظہار کرنا ہے ۔ٹولیرینس کا یہ مفہوم بہت سے ایسے لوگوں کے لیے باعث حیرت بن سکتا ہے  جو ٹولیرینس کو صرف 'قبولیت' یا 'اتفاق' کے مترادف مانتے ہیں۔ ایک ملک جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ امن و شانتی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں وہاں اسلام کا تصور ٹولیرینس یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اس ملک کی امن و شانتی کا خیال رکھیں اور جب کبھی کوئی ماحول خراب کرتا نظر آئے تو ضرورت ہے کہ وہ اسلام کے تصور برداشت (ٹولیرینس) پر عمل کریں اور اپنے مخالف کی انتہا پسندانہ رویہ پر صبر وتحمل سے کام لیں ۔

شریعت اسلامیہ کا صدق دل سے مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مقصد در اصل امن و شانتی کا قیام ہے ۔قیام امن کی خاطر جب کبھی صبر وتحمل سے قائم لینے کی ضرورت پڑے تو اسلام اس کی تعلیم بھی بڑے خوبصورت انداز میں دیتا ہے، خواہ یہ صبر وتحمل سماجی، ثقافتی، نسلی، سیاسی، قبائلی، مذہبی یا گھریلو سطح پر ہو۔  عدم تحمل جو قتل، نسل کشی، تشدد، مذہبی ظلم و تشدد، ناانصافی اور فساد کاباعث بنتا ہے ، اسلام اس کی پرزور مذمت کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو اس روکتا ہے۔

تنوعات میں برداشت

اسلام نے تنوعات کو اہل علم کے لئے اللہ کی  نشانیوں میں شمار کیا ہے، جیسا کہ قرآن کا فرمان ہے، ‘‘اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بیشک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لیے’’ (30:22)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رنگ اور زبانوں میں بھی اختلافات اللہ کی نشانیوں میں شامل ہیں۔ انسان مختلف نسلوں میں بٹے ہوئے ہیں جن کی جسمانی ساخت اور رنگت بھی مختلف ہے، ان میں کچھ کا رنگ سفید، کچھ کا سیاہ اور کچھ کا زرد ہے۔ اور "اہل علم" اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا،

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ (49:13)

اور اگرتمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے (11:118)

اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔ "(5:48)

مندرجہ بالا آیات جنس رنگت ، جلد ، زبان اور مذہب میں تنوعات اور اختلافات کو تسلیم کرتی ہے؛ جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اختلافات کا ہونا ایک امر ناگزیر ہے جس کی نہ صرف یہ کہ توقع کی جانی چائے بلکہ انہیں برداشت بھی کیا جانا چاہئے۔ لہذا معتقدات اور تہذیب و ثقافت میں تنوعات کو تسلیم کر کے اسلام  لوگوں اللہ تعالی کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے اور اللہ کی معرفت حاصل کرنے کی  دعوت دیتا ہے  اور اس کے ساتھ ساتھ  وہ مختلف رنگ، نسل اور مذہب کے ماننے والوں  کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے ۔

اسلام غیر مسلموں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لئے مسلمانوں کے لئے ایک پختہ معیار پیش کرتا ہے۔ اسلام کے لئے قیام امن ہی ایک حتمی مقصد ہے، اور جہاں امن ہوگا وہاں  ٹولیرینس  ضرور ہوگا اور ٹولیرنیس کا مظاہرہ صرف تنوعات اور اختلافات کے تناظر میں ہی کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات بھی دنیا میں تنوعات کے وجود کو  تسلیم کرتی ہیں اور اسلام کے تصور برداشت کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے،

اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کی خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔ (17:70)

‘‘اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔’’ (5:32)

‘‘اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے’’۔(6:98)

‘‘یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں’’۔ (2:136)

"تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ دین ٹھیک رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے۔"(42:13)

مذہبی آزادی سے ٹولیرینس  کا تعلق

ٹولیرینس کا تعلق مذہبی آزادی سے بھی ہے۔ اس تناظر میں سورۃ البقرہ کی آیت (2:256) کا حوالہ اکثر پیش کیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالی کا فرمان ہے، ‘‘کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں، اور اللہ سنتا جانتا ہے’’ (2:256)۔ یہ آیت ایک بنیادی اسلامی اصول وضع کرتی ہے جس پر عدم جبر و اکراہ کا تصور مبنی ہے، جس میں ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں، بودھوں اور سکھوں وغیرہ سمیت تمام غیر مسلموں کے لئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

کلاسیکی مسلم علماء کی غالب اکثریت (علماء جمہور) کے مطابق یہ آیت (2:256) غیر منسوخ ہے اور مدنی دور میں نازل ہوئی ہے ، جب مسلمانوں کو سیاسی عروج حاصل ہو چکا تھا اور جب وہ کمزور نہیں تھے بلکہ طاقتور ہو چکے تھے۔ سر تھامس واکر آرنولڈ (1913) اور مستشرقین سمیت بہت سے جدید علماء بھی اسی نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں (ملاحظہ کریں ‘‘Preaching of Islam: A History of the Propagation of the Muslim Faith’’ ، صفحہ 6)۔ اس آیت میں ایک الہی پیغام ہے کہ مسلمان کسی دوسرے کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ مختلف مکابت فکر سے تعلق رکھنے والے جو مشاہیر علماء اور فقہاء اس آیت کو غیر منسوخ  مانتے ہیں (2:256) ان میں امام جلال الدین سیوطی (الاتقان فی علوم القرآن ۔ جلد 2)، النحاس(الناسخ و المنسوخ فی القرآن الکریم)، الجساس(احکام القرآن)، ابن عاشور ( التحریر والتنویر )، الطبری ( جامع البیان عن تاویل القرآن)، ابی عبید (کتاب الناسخ و المنسوخ)، مکی بن ابی طالب (الایضاح لناسخ القرآن و المنسوخ)، ابن تیمیہ ( قاعدہ مختصرہ فی قتال الکفار)، ابن قیم (احکام الذمہ) اور دیگر بہت سے دوسرے علماء کے نام قابل ذکر ہیں۔

حنبلی فقیہ ابن قدامہ المقدسی لکھتے ہیں (عربی سے ترجمہ) " اسلام قبول کرنے کے لئے کسی بھی غیر مسلم کو مجبور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے شخص کو مسلمان بھی نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو جاتی کہ اس نے اپنے آزادانہ اختیار کے ساتھ مذہب اسلام قبول کیا ہے۔ "وہ مزید کہتے ہیں کہ،" کسی بھی قسم کے جبر  و اکراہ کی ممانعت کی وجہ یہ قرآنی آیت ہے، " کچھ زبردستی نہیں دین میں "(ملاحظہ ہو ؛ المغنی)۔

مروی ہے کہ اگرچہ باعتبار نزول اس آیت 2:256 کا مصداق انصار ہیں لیکن معنوی طور پر اس کے پیغام کا اطلاق و اجراء عمومی ہے (تفسیر ابن کثیر)۔ مشہور مقولہ "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب"، معنی "معتبر زبان کی عمومیت ہے وحی کے سبب کی خصوصیت نہیں"، کے پیش نظر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت (2:256) معنی کے اعتبار سے عام ہے اور اس کا اطلاق تمام غیر مسلموں پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس عمومیت کے پیچھے استدلال اس طرح بیان کی گئی ہے کہ چونکہ وحی نے گمراہی کی راہ سے ہدایت کے راستے کو ممیز و ممتاز کر دیا ہے، اور اب ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے لہٰذا جبر و اکراہ کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنا کسی کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

خاص طور پر مروی ہے کہ جب حضرت حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ایک بوڑھی عیسائی عورت کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو اس نے جواب میں کہا: "میں موت کے قریب ایک بوڑھی عورت ہوں۔" یہ سن کر حضرت عمر نے اسے مجبور نہیں کیا کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائے۔ اور انہوں نے آیت مذکورہ کی تلاوت فرمائی ‘‘کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے’’ 256 (النحاس ‘‘الناسخ و المنسوخ’’)

بلاشبہ اسلام قبول کرنے کے لئے جبر و اکراہ کا نظریہ بالکل ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب اسلام ظاہری جسمانی ردعمل سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دل سے ہے۔ (ملاحظہ کریں تفسیر قرطبی)

اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے تئیں ٹولیرینس کا تصور

اسلام مسلمانوں کو امن پسند غیر مسلموں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کے بھی قتل کو ناجائز و حرام قرار دیتا ہے جب تک کہ انہیں کسی قتل کی سزا یا کسی بڑے جرم کی سزا نہ دی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے:

‘‘تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو"۔ (6:151)

اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا،

‘‘اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں’’۔ (5:32)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل کرنا ہے اور کسی ایک شخص کی زندگی بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے۔ اس آیت کا پیغام مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا،

أَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"

ترجمہ: "خبردار ہو جاؤ، اگر کوئی کسی پرامن غیر مسلم شہری [ معاہد ] پر ظلم کرے ، یا اس کا حق کم کرے، یا اس کی صلاحیت سے بڑھ کر اسے کام کرنے پر مجبور کرے، یا اس کی رضامندی کے بغیر کچھ بھی اس سے چھین لے، میں قیامت کے دن اس کا وکیل ہوں گا’’۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:

‘‘جو بھی کسی معاہد [اقلیت میں رہنے والے کسی پرامن غیر مسلم] کو قتل کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، اگرچہ اس کی خوشبو چالیس سال (سفر کے) کے فاصلے سے ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ( صحیح بخاری ، کتاب 87، حدیث 52)

اسی طرح کی حدیث نسائی نے بھی روایت کی ہے ( سنن نسائی ، کتاب 45، باب " معاہد کو قتل کرنے کی سنگینی "، حدیث 42)، ابو داؤد ( سنن ابی داؤد، کتاب 15، حدیث 284) ترمذی (جامع ترمذی ، کتاب 16، حدیث 19)، ابن ماجہ ( سنن ابن ماجہ ، کتاب 21، حدیث 2789-عربی حوالہ)۔

گھریلو معاملات میں ٹولیرینس

اسلام نے خاندان کے افراد ، زوجین ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے درمیان بھی ٹولیرینس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اگر رواداری پر عمل کیا جاتا ہے تو ہمارے گھریلو معاملات میں تشدد کا معمول جنم نہیں لے گا۔

قرآن مجید مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "ماں باپ سے بھلائی کرو" (4:36)، "اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو" (29:8) "اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے" (46:15)، اور قرآن انہیں اُف کہنے سے بھی منع کرتا ہے"۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ، "وہ ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بچوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا احترام نہیں کرتا " ( ترمذی اور الحاکم) اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرض شناسی کا رویہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے "(بخاری)۔ قرآن مجید کی یہ آیات اور احادیث نبویہ ﷺ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جب والدین اور بچوں کے درمیان بھی فکر  و عمل کا تضاد ہو جائے تو محبت و رحمت  اور حسن سلوک کا رویہ اپنانا چاہئے۔

شوہر اور بیوی کے درمیان ٹولیرینس کو فروغ دینے کے لئے قرآن کریم مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے"(4:19)۔ ایک حدیث کے مطابق وہ لوگ سب سے بہتر ہیں جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں (بیہقی)۔ بیوی اور بیٹی کے لئے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لئے یہ ایک شوہر یا والد پر عدم رواداری سے دور رہنا ضروری ہے۔

پڑوسیوں کے ساتھ ٹولیرینس

پڑوسیوں کے ساتھ ایک اچھا اور مضبوط رشتہ برقرار رکھنے کے لئے رواداری ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے،" کہا گیا ، " کون یا رسول اللہ؟" آپ ﷺ نے فرمایا جو اپنے پڑوسیوں کو امن اور سلامتی فراہم نہیں کر سکتا۔ "(صحیح البخاری، جلد 8، حدیث نمبر 45)۔ یہ اور مندرجہ ذیل احادیث مومنوں کو اچھے تعلقات فروغ دینے کی تعلیم دیتے ہیں۔

"رشتہ داروں کے ساتھ پہتر تعلقات اور اچھے اخلاق قائم رکھنا اور پڑوسیوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے سے گھر میں رحمتیں آتی ہیں اور عمر دراز ہوتی ہے۔" (ابن ماجہ)۔

"کیا تمہیں معلوم ہے کہ صدقہ ، روزہ اور نماز سے بہتر کیا ہے ؟ یہ لوگوں کے درمیان امن اور اچھے تعلقات قائم رکھنا ہے، اس لئے کہ جھگڑے اور برے جذبات انسانوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ "(البخاری و مسلم)

"جو کوئی لوگوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے اللہ اس کے ساتھ مہربانی کرے گا۔ لہذا تم زمین کے اوپر انسانوں پر حم کرو اور آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"(ابو داؤد اور ترمذی)

"جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی طویل ہو اور اسے زیادہ مراعات حاصل ہوں اور برے کاتمہ سے محفوظ رہے وہ اللہ سے ڈرے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے۔" (الحاکم)

نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ "رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے سے رشتہ داروں کے درمیان محبت پیدا ہوتی ہے ، مال و دولت میں برکت ہوتی ہے اور زندگی طویل ہوتی ہے '(الترمذی)۔

ایک اور حدیث ہے، "اے لوگوں سلام پھیلاؤ ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم اللہ کے حضور سجدہ کرو اور تم جنت میں حفاظت کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے" (الحاکم)

مندرجہ بالا حدیثیں تمام پڑوسیوں  پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ غیر مسلم، اور رواداری کے لئے ایک بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ٹولیرنیس کی مثالیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ٹولیرنیس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ، جنہیں قرآن میں پوری انسانیت کے لئے ایک نمونہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ ان کی بہت ساری پالیسیوں سے دوسروں کے ساتھ ٹولیرنیس کے قرآنی اصول کی عکاسی ہوتی ہیں۔

اس کی ایک مثال ‘‘میثاق مدینہ’’ کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے جس میں مسلمانوں ، یہودی اور کافروں کو ‘‘ایک نیشن’’ قرار دیا گیا تھا ، جن پر خارجی حملہ آوروں سے ایک دوسرے کی مشترکہ طور پر حفاظت کرنا ضروری تھا اور ان میں سے ہر ایک گروہ کو ان کے مذہب کی آزادی حاصل تھی۔

ایک مرتبہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے اس راستے سے گزر رہے تھے جہاں حجاز کے امراء موسم گرما میں موج مستی کر کے وقت گزارا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے اتنی بری طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر برسائے کہ آپ کا سارا جسم اقدس لہو لہان ہو گیا۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کی کوشش کی تو انہوں نے آپ کی حکمت بھری باتیں سننے کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گلی کے بدمعاش بچوں کو لگا دیا جنہوں نے غروب آفتاب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا۔ اس کے باوجود بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت نہیں بھیجی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر سے لیکر پاؤں تک لہو لہان ہو کر درد سے مکمل طور پر چور ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا ہی فرمایا: " اے میرے رب میری قوم کو سچے راستے کی ہدایت نصیب فرما اس لیے کہ وہ حقیقت سے ناواقف ہیں"۔

ایک حدیث کے مطابق جب بھی کبھی قانونی قصاص کا کوئی مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا جاتا تو آپ ہمیشہ اپنی امت کو صبر کرنے اور مجرم کو معاف کر دینے کی تلقین کرتے تھے ۔

انس ابن مالک سے مروی ہے کہ:

 "میں نے ہمیشہ یہ دیکھا ہے کہ جب بھی کسی قانونی قصاص کا کوئی معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا جاتا تو آپ ہمیشہ مجرم کو معاف کر دینے کی تلقین کرتے۔ ( سنن ابو داؤد 4497، ماخذ: صحیح)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، "جو شخص تکلیف اٹھاتا ہے اور (اس کے  ذمہ دار شخص کو) معاف کر دیتا ہے ، تو الله اس کے درجات بلند کر دیتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔" (سنن الترمذی)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اپنے لوگوں کی طرح بے دماغ مت بنو، اور یہ نہ کہو کہ اگر لوگ میرے ساتھ بھلائی کریں گے تو میں بھی ان کے ساتھ بھلائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ برائی کریں گے تو میں بھی ان کے ساتھ برا برتاؤ کروں گا۔ بلکہ اگر لوگ تمہارے ساتھ بھلائی کریں تو ان کے ساتھ بھلائی کرو اور اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کریں تو بھی ان کے ساتھ بلائی کرنے کی عادت ڈالو۔ "( سنن الترمذی)

عقبہ  ابن عامر بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور میں نے آپ ﷺ کا دست مبارک تھام کر یہ پوچھا ، اے اللہ کے رسول مجھے نیک اعمال کے بارے میں بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،" اے عقبہ جو تمہارے ساتھ قطع تعلق کرے اس کے ساتھ مصالحت کرو ، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس سے دور ہو جاؤ۔

ایک دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، " جو تمہارے ساتھ قطع تعلق کرے اس کے ساتھ رشتے استوار کرو ، جو تمیں مایوس کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو ، جو کوئی میں رزق میں اضافہ اور اپنی زندگی میں برکت چاہتا ہے [اور خوفناک موت سے نجات چاہتا ہے]، وہ اللہ سے ڈرے اور اپنے رشتہ داروں کی مدد اور ان پر مہربانی کرے"۔

للہ تعالی فرماتا ہے: "اور ہم نے آپ کو بھیجا مگر ساری جہان کے لئے رحمت بنا کر۔" ( الانبیا 21:107)۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کی منفرد خصوصیت یہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے افعال و اقوال میں نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے  رحمت تھے۔ آپ ﷺ کی تمام تر جانفشانیاں صرف تمام انسانوں میں محبت، امن اور سکون تقسیم کرنے کے لئے تھیں۔

صحیح مسلم میں مندرج ایک روایت کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں نے اپنے مظالم کی انتہا کر دی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان پر لعنت کرنے کے لئے آپ ﷺ سے درخواست کی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، "میں لوگوں پر لعنت کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔" آپ ﷺ کے مخالفین نے آپ ﷺ پر اور آپ کے صحابہ پر اپنے وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری رکھا لیکن آپ ﷺ نے ہمیشہ ان کے لئے دعا ہی کی۔

مذکورہ گفتگو سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اسلام کا تصور برداشت  ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مختلف مذہبی عقائد، رنگوں ، زبانوں، نسلوں، قبیلوں اور قوموں کے لوگ بھی ٹولیرنیس کے مستحق ہیں۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو ایسی عدم تحمل  سے روکتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں قتل، نسل کشی، تشدد، مذہبی ظلم و تشدد ، نا انصافی اور فساد کا سبب بنے۔

قتل وغارت گری، نسل کشی ، تشدد اور دہشت گردی کا سبب بننے والے اکثر معاملات مکمل طور پر عدم تحمل (انٹولیرینس)  کا ہی نتیجہ ہیں۔ عدم تحمل کی آگ نے انسانیت کے ایک بڑے حصے کو جلا کر خاکستر کر دیا ہے اور ابھی جو انسانیت بچی ہوئی ہے وہ ان لوگوں کی مرہون منت ہے جو کسی بھی قیمت پر عدم تحمل کے راستے پر جمے رہتے ہیں یا اسے فروغ دیتے ہیں۔ اگرچہ، میں نے عدم تحمل  کے اسلامی تصور کو پیش کرنے کی تھوڑی بہت کوشش کی ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں صرف مسلم معاشرے میں عدم تحمل کا مظاہرہ دیکھ رہا ہوں ۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا کے اندر رہنے والی کسی بھی برادری میں عدم تحمل وبرداشت نظر آسکتی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری مسلم برادری سب سے پہلے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے تصور برادشت کو اختیار کرے اور پھر اس کے بعد دوسری برادریوں کو بھی ٹولیرینس کی دعوت دے ۔ اس کے لئے میں تمام مسلم دانشوروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ رواداری کے اقدار اور اس کی اہمیت پر ایک خاص نصاب تیار کریں اور اپنے مدرسوں ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مذہبی یا سیکولر اداروں میں اس کی تعلیم دیں۔ غیر مسلم تنظیمیں بھی لازمی طور پر ایسا ہی ایک نصاب تیار کریں تاکہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے اور ملک کے تمام طبقوں میں ٹولیرینس کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/islamic-concept-of-tolerance—an-essential-prerequisite-for-peaceful-coexistence/d/115581

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/islamic-concept-of-tolerance—an-essential-prerequisite-for-peaceful-coexistence--اسلام-کا-تصور-برداشت--پرامن-بقائے-باہمی-کے-لیے-لازمی-شرط/d/115662

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content