certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (17 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Islamic Shariat and the Individual Muslim اسلامی شریعت اور انفرادی مسلمان


نصیر احمد، نیو ایج اسلام

1 مئی 2019

اسلامی شریعت کے احیائے نو کے نام پربہت سی جماتیں سرگرم عمل ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی شریعت ؟ ایک قدیم منجمد شریعت ہے جس کی بنیاد سابقہ کتب سماویہ کے نمونوں اور موضوع احادیث پر ہے جو کہ قرآن کریم روح سے متصادم ہے۔یہوہی شریعت تھی جس نے ہمیں کئی صدیوں تک پرنٹنگ پریس کے استعمال سے روکے رکھا جس کی وجہ سے ہم یورپسے پیچھے ہو گئے۔یہ وہی شریعت ہے جس نے سائنسی علوم کے حصول پر پابندی عائد کر دی اور جہالت پسندی کو فروغ دیا۔یہوہی شریعت ہے جس نے ہمارے اوپر اللہ کے قہر و غضب کو دعوت دی جس نے اس سے راحت دینے کے لئے ہمارے اوپر استعماری حکومت کو مسلط کیاتاکہ ہم از سرنوایک نئی شریعت تیارکر سکیں ۔ کیا ہم نے قرآن مجید کی صحیح تفہیم کوبنیادبنا کر ایسی کوئی شریعت تیار کی ہے جس سے سابقہ کتب سماویہ کے نمونوں اور موضوع احادیث کو الگ رکھا گیا ہو؟ نہیں! ہم نے ایسا نہیں کیا۔ لہذا، اگر ہم پھر اسی شریعت کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ اللہ کے غضب کو ایک بار پھر دعوت دینا اور اپنے اوپر پر ایک غیر ملکی حکومت کو مسلط کرنا ہے۔

اس شریعت کی طرف لوگوں کو حاکمیت الٰہ کے نام پر بلایا جاتا ہے۔ کیاحاکمیت الٰہ کا دعویٰ کرنا اور اسے قائم کرنا ہم انسانوں کا کام ہے؟ اللہ تعالی جس دن چاہے اپنی مرضی ہمارے اوپر مسلط کر سکتا ہے اور ہماری آزادی اور خود مختاری ہمارے ہاتھوں سے چھین سکتا ہے جیسا کہ ہمیں استعماری حکومتوں کے تابع بنا کر کیا تھا ۔مسلمان اس طرح کے گمراہ کن سیاسی نعروں کا شکار ہرگز نہ ہوں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اللہ کی شریعتیا اللہ کے دین کی پیروی کرنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن کلاسیکی اسلامی فقہ ہمیں جو تعلیم دیتی ہے وہ قرآنی شریعت کے ساتھ ایک بھدا مذاق ہے۔

انفرادی طور پر شریعتیا اللہ کے دین کا مطلب ہمارے لئے کیا ہے؟ یہ من و عناللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ چین اور روس کے سوا ہم جس ملک میں بھی رہتے ہوں اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔مثلاً انفرادی طور پر ہمیں اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہئے اور زناکاری سے بچنا چاہئے۔ زناکاری پر قرآن مجیدکی سزا کا نفاذ ریاست کی ذمہ داری ہے کسی فرد یا شخص کی نہیں ۔یہاں تک کہ اگر اس طرح کے قوانین نفاذ ہو جائیں تب بھی ہمارا مذہب ہمیں مجرموں کو سزا دینےکی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں گواہ بننے سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے اور اگر چار گواہوں کے ساتھ جرم ثابت نہ ہو سکا تو ایسے گواہوں کے لئے ۸۰ کوڑے مارنے کا حکم ہے، اگر چہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گواہی دینے والے جھوٹ بو ل رہے ہیں ۔ دین ہمیں جرم کرنے والوں کیاصلاح کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن انہیں سزا دینےسے روکتا ہے۔اور اس کی وجہ سے ہمارے اسلام میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ ریاست قرآنی قوانین نافذ نہیں کرتی ہے، کیونکہ اگر ریاست قرآنی قوانین نافذ کرتی تب بھی ہم گناہ کرنے والوں کی اصلاح کرنے کی ہی کوشش کریں گے بجائے اس کے کہ ہم حکام کو اس کی اطلاع دیں اور مجرم کو سزا دلوانے کے لئےگواہی دیں ۔ تاہم ، جو شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے۔وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ انہوں نے " حاکمیت الٰہ" قائم کر دی ہے سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مجرموں پر سخت سزائیں نافذ کرتے ہیں۔یہ ستم گر کیا ہی بدصورت اسلام قائم کرنا چاہتے ہیں !

جب مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اپنی ذاتی زندگی میں قرآنی شریعت نافذ کر لے تبھی ریاست کے قوانین میں تبدیلی ہو سکے گی۔ جمہوریت ایک بہترین اور واحد راستہ ہے اور یقیناًیہی ایک ایسے مذہب میں تبدیلی پیدا کرنے کا اسلامی راستہ ہے جس کا اعلان یہ ہے کہ "دین میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے"۔اس کا نفاذ سیاسی عہدوں پر قابض جبر و اکراہ سے کام لینے والی جماعتیں نہیں کر سکتیں ۔اس لئے کہ بلاشبہ جب وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو لوگوں پر ایک ظالم و جابر حکومت مسلط کر دیتے ہیں ۔

نام نہاد کلاسیکی اسلامی شریعت کچھ بھی ہو مگراسلام نہیں ہے‘ اور یہ ہم پر استعماری حکومت نافذ کر کے ختم ہونے کے لئے ہی تھی۔ قرآن گزشتہ تمام آسمانی صحیفوں سے اپنے اس جامع اصول کی وجہ سے ممتاز ہے کہ "دین میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے"۔لہٰذا ایساکوئی قانون یا قاعدہ نہیں بنایا جا سکتاجس میں کسی مسلمان کو نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے یا مسلم عورتوں کو حجاب پہننے یا پردہ کرنے پر مجبور کیا گیا ہو یااپنے مذہب کو چھوڑنے پر کسی مسلمان کو سزا دی جاتی ہو۔یہ فیصلہ کرنے کا حق انفرادی طور پر صرف عوام کو ہے کہ وہ کیا کریں گے یا کیا نہیں کریں گے بشرطیکہ ان کے کسی عمل یا حرکت سے دوسروں کے حقوق یا عوامی نظم و ضبط میں کوئی خلل نہ پیدا ہوتا ہو۔

ہر موضوع ہر قرآنی شریعت کلاسیکی شریعت سے مختلف و متصادم ہے۔ مثال کے طور پر،

1۔ ہم جنس پرستی کے لئے کوئی سزا نہیں ہے بشرطیکہ معاشرہ اسے سختی کے ساتھ نامنظور نہ کرتا ہو، اور سزا صرف کھل کر فحاشی کرنے پر ہے۔

2۔قرآن میں ارتداد کے لئے کوئی سزا نہیں ہے۔اس میں توہین رسالت اور الحاد کے لئے بھی کوئی سزا نہیں ہے۔ عوامی نظم و ضبط میں خلل پیدا کرنےیا نفرت انگیزی کے خلاف قانون ہوسکتا ہے لیکن علمی و فکری آزادی یا تنقیدکے حق کے خلاف کوئی قانون نہیں ہو سکتا۔

3۔ قرآنی شریعت کے مطابق طلاق کا عمل کلاسیکی اسلامی شریعت سے مختلف ہے ۔

4۔ کلاسیکی اسلامی فقہ وراثت سے متعلق حساب و کتاب میں خطا کا شکار ہے۔

5۔ کلاسیکی اسلامی فقہ خواتین کی گواہی کے معاملے میں بھی غلطی کا شکار ہے۔

6۔ کلاسیکی اسلامی شریعت میں جنگ کے قوانین غلط طور پر پیش کئے گئے ہیں۔ مسلمانوں پر ایسا کوئی فریضہ عائد نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو محکوم بنائیں اور انہیں اسلامی شریعت کے تحت لائیں۔

7۔ 'دوسروں' یا غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کلاسیکی اسلامی شریعت میں غلط بیان کیے گئے ہیں۔

8۔ غیر مسلموں پر ' جزیہ ' کا نفاذ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں بھی کوئی مذہبی فریضہ نہیں تھا۔

اب مسلمانوں کو توجہ کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کس طرح متعصب اسلامی علما و فقہا نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے، اور ضروری ہے کہ وہ اس فرسودہ کلاسیکی اسلامی شریعت کو مسترد کریں جو گزشتہ کتب سماویہ اور موضوعاحادیث پر مشتمل ہے ، اور قرآن کریم کی مستند تعلیمات پر مبنی از سرنو ایک نئی شریعت مدون کریں ۔اس کے لئے ایک جمہوری طریقہ کار کی ضرورت ہے۔اب اس بات کی کوئی اہمیت و افادیت نہیں بچی کہ ماضی میں کس طرح جمہوری طریقہ کارکے بغیر اسلام کا قیام ہوا تھا۔ آج ہمارے درمیان ایسا کوئی پیغمبرنہیں ہیں جسے ہماری ہدایت کے لئے براہ راست خدا سے وحی حاصل ہو رہی ہو اور آنکھ بند کر کے ہم جس کی پیروی کر سکیں۔آج ہمارے درمیان ظالمانہ اور متعصب اسلامی نظریات کے حامل بھول چوک کرنے والے انسان ہیں جو خود کے لئے ایک نبی کا اختیار اور حیثیت حاصل کرنے اور اپنی ظالمانہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان مکاروں کو خود سے دور کریں۔

ہمارے پاس آج قرآن کی شکل میں ایک ایسی کتاب ہے جسے مختلف لوگ مختلف انداز میں سمجھتے ہیں لہٰذا کسی بھی فرد، گروہ یاطبقہ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا نظریہ باقی تمام لوگوں پر نافظ کرے۔ہمارے پاس جمہوری طریقہ کار کی پیروی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ انفرادی طور پر اللہ کے تئیں ہمارا فریضہ ہے کہ ہم قرآن پڑھیں، جہاں تک ممکن ہو اسے بہتر انداز میں سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اسے نافظ کریں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں اور اسے فروغ بھی دیں ۔ ہم ایک ملت، ایک معاشرہ، ایک قوم اور ایک امت کے طور پر اس میں تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہم سب سے پہلے اپنے کاموں کو انفرادی طور پر انجام دیں ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/naseer-ahmed,-new-age-islam/islamic-shariat-and-the-individual-muslim/d/118474

URL: http://newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/islamic-shariat-and-the-individual-muslim--اسلامی-شریعت-اور-انفرادی-مسلمان/d/118898

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content