certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Nov 2019 NewAgeIslam.Com)



Islamic Teachings and Prophet’s Behaviour with Non Muslims اسلامی تعلیمات اور غیر مسلموں کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کاحسن سلوک

مولانا خالد سیف الله رحمانی

8نومبر،2019

پیغمبر اسلام نے اپنے مختلف ارشادات میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو:کلکم من آدم و آدم من تراب (مجمع ال زوائد، حدیث نمبر : 1389)

آپ نے حجت الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں اپنی تعلیمات کا خلاصہ دو جملوں میں پیش فرمایا:ان الٰہُکم واحدو ان آباءُکم واحد(کنزالعمال،حدیث نمبر:5652) یقیناًٍٍ  تمہارا خدا ایک ہے اور تمہاےباپ بھی ایک ہی ہیں۔ تمام انسانوں کی ایک ماں باپ سے پیدائش کے تصور سے دوسرا تصور انسانی ا خوت کا پیدا ہوتا ہےکہ تمام انسان ، چاہے وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں ، کسی خاندان سے ان کا تعلق ہو، کالے ہوں یا گورے، سب بھائی بھائی ہیں؛ چنانچہ آپ   نے ایک موقع پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام بنی آدم بھائی بھائی ہیں۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر:1510)

دوسرا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان قابل احترام ہے، اور دنیا کی جو بے شمار نعمتیں ہیں، چاہے ان کا تعلق خشکی سے ہو یا سمندر سے ، اور الله تعالیٰ  نے اس کائنات میں جو بھی پاک غذائیں پیدا کی ہیں ان سب میں تمام انسانوں کا حق ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں:

"ہم نے بنی آدم کو با عزت بنایا ہے، ہم نے ان کو خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا ہےاور انھیں پاکیزہ  روزی  عطا کی ہے۔" (بنی اسرائیل :70)

رسول اللہ نے بھی اپنے مختلف ارشادات میں انسان کی فطری شرافت و وقار کا ذکر فرمایا ہے۔ (کنز العمال،حدیث نمبر : 34621) گویا اسلام اور پیغمبر اسلام  کے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہویا غیر مسلم، انسان ہونے کی حیثیت سے قابل احترام اور با عزت ہے اور کائنات میں الله تعالی نے جو وسائل رکھے ہیں ، ان پر صرف مسلمانوں کا حق نہیں ہے؛ بلکہ تمام انسانوں کا حق ہے۔

یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن پر اسلامی نقطۂ نظر سے مسلم وغیرہ مسلم تعلقات کی بنیاد ہے اور رسول الله نے اپنے اخلاق و اصول کے ذریعہ اس کے عملی  نمونے پیش کئے ہیں۔

اکرام و احترام

رسول الله غیر مسلم حضرات کے ساتھ ہمیشہ باہمی احترام و اکرام کا معاملہ فرماتے تھے، آپ نے متعدد وغیر مسلم بادشاہوں اور سرداروں کو خطوط لکھے اور انھیں اسی لقب سے مخاطب کیا، جس لقب سے ان کی رعا یا  ان کا ذکر کیا کرتی تھی، جیسے روم کے بادشاہ ہرقل کے لئے 'عظیم الروم ' ایران کے بادشاہ کسریٰ کے لئے 'عظیم الحبش (بخاری، حدیث نمبر:1، کنزالعمال، حدیث نمبر:11302،نصب الریہ:500/4) ۔ عظیم سے مراد عظمت والی شخصیت ،با عزت ہستی، ظاہر ہےکہ اس میں مخاطب کا احترام ہے۔ ابو جہل آپ کا برتن دشمن تھا، اس نے آپ کو تکلف پہنچانے اور برابھلا کہنے میں کوئی کسر نہیں چوڑی ؛ چوں کہ اس کے اندر فیصلہ کرنے اور لوگوں کے معاملات کو حل کرنے کی خاص صلاحیت تھی؛ اس لئے اہل مکہ اس کو 'ابوا لحکم  کے لفظ ہی سے مخاطب فرمایا کرتے تھے۔ (سیرت ابن ہشام :1:389)

ابو سفیان ایمان نہیں لائےتھے اور وہ اہل مکہ کے سردار تھے۔ جب مکّہ فتح ہوا اور حضور نے عمومی معافی کااعلان فرمایا تو آپ نے کہا:جو لوگ اپنے گھر میں داخل ہو جائیں ، ان کے لئے امن ہے:من دخل دارہ فھو ا من، آپ کے ارشاد میں ابو سفیان کا گھر بھی داخل تھا؛ لیکن ابو سفیان کے اعزاز و اکرام کے لئے آپ نے خصوصی طور پر اعلان فرمایا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے ، اس کے لئے امن ہے: من دخل دارا ابی سفیان فھو امن(مسلم ، حدیث نمبر:1780)

آپ نے مکّہ سے ہجرت کرنے سے پہلے چاہا کہ کعبۃاللہ میں دو  رکعت نماز پڑھنے کا موقع مل جائے ، کعبہ کی کنجی قبیلہ  بنو  شیبہ کے پاس رہا کرتی تھی اور اس وقت یہ کنجی اس قبیلہ کے ایک شخص عثمان بن طلحہ شیبی کے پاس تھی، کسی شخص کے پاس کعبت الله کی کنجی کا ہونا اس کے لئے بہت اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی؛ چنانچہ رسول الله کے خاندان بنو ہاشم کے لوگ چاہتے  تھے کہ کنجی انھیں مل جائے ۔ ان کی طرف سے حضرت علی رضی الله عنہ____جو آپ کے چچا زاد بھائی بھی تھےاور داماد بھی ____نے درخواست کی کہ کلید کعبہ بھی ہمیں دے دی  جائے ؛ تا کہ کعبت الله کی خدمت "سقایہ" (پانی پلائی) تو پہلے سے بنو ہاشم کے پاس ہے، یہ دوسرا اعزاز'حجاج'(کلید برداری) بھی بنو ہاشم کو مل جائے ۔ جب آپ کعبت الله سے باہر تشریف لائے تو عثمان شیبی کو طلب کیا اور انھیں یہ کہتے ہوئے کنجی واپس واپس فرمادی کہ آج کا دن حسن سلوک کا اور عہد کو نبھانے کا دن ہے۔ (سیرت ابن ہشام :2/412) ۔ یہ عربوں کے معا شرہ میں غیر معمولی اعاز کی بات تھی اور اس اعز از و اکرام کامعاملہ آپ نے ایک ایسے شخص کے ساتھ فرمایا، جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے اور جنھو ں نے آپ کی خواہش کے باوجود کعبہ میں دو رکعت نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔(الخصا ئص الکبری:1/446)

آپ نے اس کی زندگی میں ہی نہیں ؛ بلکہ مرنے کے بعد بھی اس تکریم و احترام کو پیش نظر رکھا؛ چنانچہ حضرت سہل بن حفیف رضی الله عنہ اور قیس بن سعدرضی الله عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں قادسیہ (ایران کے مقام کا نام)-----میں بیٹھے ہوئے تھے ---- سامنے سے جنازہ گزرا تو یہ دونوں حضرات کھڈے ہو گئے ، کہا گیا :یہ کسی مسلمان کا جنازہ نہیں ہے، غیرمسلم کا جنازہ ہے۔ رسول الله کے سامنے سے جنازہ گزرا تو آپ بھی کھڑے ہو گئے ، آپ سے عرض کیا گیا: تو ایک یہودی کا جنازہ ہے!آپ نے فرمایا: کیا وہ انسان نہیں تھا؟ الیست نفسا (بخاری، حدیث نمبر:125، مسلم حدیث نمبر:961)

اسی طرح آپ نے اپنے سے بڑی عمر والوں کی عزت و توقیر کا حکم دیا ہے(ترمزی،حدیث نمبر:1921) اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔

غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ

مسلمانوں کے جو غیر مسلم رشتہ دارو ہوں، ان کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کی تاکید کی گئی ،قرآن مجید میں بارہ مواقع پر رشتہ و قرابت کا لحاظ رکھنے کا حکم فرمایاگیا ہے، نیز رسول الله نے فرمایا:قرابت دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں دوہرا ثواب ہے، صدقه کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی(ترمزی ، حدیث،نمبر ؛618) ۔

ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا:جو چاہتا ہےکہ اس کی روزی میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اس کو رشتوں کا خیال رکھنا چاہئے (بخاری، حدیث نمبر :991) ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا: جو برابر سرابر کا معاملہ کرنے والا ہو، وہ رشتوں کا پاس و لحاظ کرنے والا نہیں ؛ بلکہ پاس و لحاظ رکھنے والا وہ ہےکہ جو اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہیں کرے، وہ اس کے ساتھ بھی صالح رحمی کا معاملہ کرے (بخاری، حدیث نمبر:5946)

صلہ رحمی کی بنیاد مذہب پر نہیں ہوتی ، رشتہ و قرابت پر ہوتی ہے، رشتہ دار چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، آپ نے ان کے ساتھ حسن کا حکم دیا ہے، حضرت اسماء بنت ابی بکر جو آپ کی نسبتی ہمشیرہ تھیں، ان کی والدہ ان کے پاس مدینہ آئیں، حضرت اسماء نے حضور سے دریافت کیا:کیا میں ان کو کچھ دے سکتی ہوں؛ حالا ں کہ ابھی وہ مشرک تھیں، تو آپ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا (بخاری، حدیث نمبر:3012)اسی طرح مختلف صحابہ  کے والدین تا ماں باپ میں سے کوئی ایک غیر مسلم تھے ، جیسے حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کے والد مکہ فتح ہونے تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ؛ لیکن حضرت ابو بکر رضی الله عنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے۔ حضرت ابو ہریرہ  رضی الله عنہ کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں اور رسول الله کوئی برا بھلا کہتی تھیں پھر بھی آپ ان کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے(الد را لمنشور :6/521)

اسی طرح کا معاملہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی والدہ کا بھی تھا، آپ نے ان کے ساتھ بھی بہتر سلوک جا ری رکھنے کی تلقین  فرمائی۔ مدینہ کے کئی انصاری صحابی اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کی مالی مدد کیا کرتے تھے، ان مسلمانوں نے اپنے ان رشتہ داروں کو اسلام لانے کی دعوت دی ، مگر وہ مسلمان ہونے کو تیار نہیںہوئے، تو انھوں نے ان کی مدد روک دی، ان کے اس طرز عمل کو قرآن نے منع کیا (تفسیر قرطبی:3/337) کہ ان کی ہدایت تمھارے ذمہ نہیں ہے، الله جس کو چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں: (البقرہ:272) ۔ حضرت ابو طالب ایمان نہیں لائے ؛ لیکن آپ ان کی مدد کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ حضرت علی رضی الله عنہ کی پرورش کا ذمہ آپ نے قبول فرمالیا اور آپ ہی کی توجہ دہانیپر ان کے ایک اور صاحبزا دہ حضرت عقیل رضی الله عنہ کی پرورش کی ذمہ داری حضرت عباس رضی الله نے قبول فرمائی۔ اہل مکہ قریب قریب سبھی آپ کے رشتہ دار تھے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا خیال رکھتے تھے؛ چنانچہ ----جیسا کہ آگے آ رہا ہے-----جب مکّہ میں شدید قحط پڑا تو آپ نے ان کا خطیر مالی تعا ون فرمایا۔

غیر مسلم پڑوسی

جیسے رشتہ داری کا تعلق ایک قریبی تعلق  ہوتا ہے اسی طرح کا تعلق پڑوس کا ہے، قرآن مجید میں دو طرح کے پڑوسیوں کا ذکر کیا گیا ہے ، ایک رشتہ دار پڑوسی دوسرے اجنبی پڑوسی (النساء:36) جس کو 'الجا رالجنب ' سے تعبیرفرمایا گیا پڑوسی ہی مراد لیا ہے(تفسیر ابن کثیر، آیت مذکرہ) اور ان دونوں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیاہے، رسول اللہ  نے خاص طور پر اس کی تاکید فرمائی ----آپ نے فرمایا: وہ شخص  صاحب ایمان نہیں------جسکا پڑوسی اس کے شر سے مطمئن نہ ہو، یہ بات آپ  نے تین بار قسم کھا کر ارشاد فرمائی۔ (بخاری، حدیث نمبر:5670) پڑوسی سے مراد وہ شخص ہے جس کا مکان اس کے مکان سے قریب ہو ، اس میں آپ صلی الله علیہ وسلّم  نے مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ان ہی تعلیمات کا اثر تھا کہ آپ کے صحابہ غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا خاص خیال رکھتے تھے، حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ کے یہاں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ گھر تشریف لے گئے تو دریافت کیا: کیا میرے فلاں یہودی پڑوسی کو گوشت بھیجا گیا؟ پھر کہا کہ رسول الله صلی  الله  علیہ وسلم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے(ابو داوؤد، حدیث نمبر:5154) ۔ پڑوسی کی ایک اور قسم "وقتی پڑوسی" کی ہے، جیسے ٹرین یا ہوائی جہاز یا  بس کا ساتھی، اس کو قرآن مجید کی اس آیت میں "صاحب الجنب " کہا گیا ہےاور ان سے اچّھے سلوک اور بہتر برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے، اس حکم میں بھی مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں-

(باقی آئندہ ہفتے)

 8نومبر،2019بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

URL:   http://www.newageislam.com/urdu-section/مولانا-خالد-سیف-الله-رحمانی/islamic-teachings-and-prophet’s-behaviour-with-non-muslims--اسلامی-تعلیمات-اور-غیر-مسلموں-کے-ساتھ-پیغمبر-اسلام-ﷺ-کاحسن-سلوک/d/120236





TOTAL COMMENTS:-   1


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content