certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (15 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Kashmir Is Too Diverse, Too Multicultural A Land To Turn Into A Radical Islamist State کشمیر ایک کافی متنوع اور کثیر ثقافتی ریاست ہے اور آسانی کے ساتھ انتہا پسند اسلامی ریاست میں تبدیل ہو سکتا ہے

 

 

 

غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

09 جون 2018

رمضان جنگ بندی کے دوران سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کشمیر کے اپنے دو روزہ دورے پر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کا "چہرہ اور قسمت" دونوں بدل دے گی۔

اس تناظر میں اس امر پر گفتگو ضروری ہے کہ راجناتھ سنگھ کا وادی کشمیر کا یہ دورہ جموں و کشمیر میں سیاسی اتھل پتھل کا ایک اہم سبب ثابت ہو گا۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے پہلے ہی جنگ بندی کے اعلان کی توسیع کے بعد ان کا یہ دورہ کافی اہم ہو چکا ہے۔ ان کا جموں و کشمیر کا یہ دو روزہ دورہ مبینہ طور پر رمضان المبارک کے مہینے کے دوران 16 مئی کو وزیر داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ مشروط جنگ بندی پر مرکوز تھا۔

یہاں یہ ذکر کرنا دلچسپ ہے کہ راجناتھ سنگھ نے حال ہی میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ حکومت نے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کو باندھا نہیں ہے۔ ٹائمز ناؤ کی ایک رپورٹ کے مطابق راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ، "یہ کوئی جنگ بندی نہیں ہے رمضان کے پیش نظر آپریشن کو کچھ دنوں کے لئے معطل کر دیا گیا ہے"۔ انہوں نے اسے جنگ بندی کہنا پسند نہیں کیا بلکہ اسے 'آپریشن کی تعطیل' قرار دیا۔ اس کے لئے تکنیکی اصطلاح این آئی سی او (Non-Initiation of Combat Operations) ہے۔ لہٰذا، اس کا واضح طور پر مطلب یہ تھا کہ اگر وادی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے شروع ہوتے ہیں تو یہ آپریشن دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

اب یہ مقدس مہینہ اختتام پر پہنچنے کو ہے۔ اور کشمیر کے لئے اس سال کا رمضان نسبتاً مفاہمت ، عدم تشدد اور جنگ بندی جیسی سوغاتوں سے بھرا ہوا تھا ، جس کی طرف پہل رمضان کے شروع میں مرکزی حکومت نے کی تھی۔ اگرچہ جنگ بندی میں مزید توسیع کی جائے یا اس کی توسیع نہ کی جائے اس کا انحصار جنگ بندی کے بعد کے حالت پر جو تفصیلات راجناتھ سنگھ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے حاصل کریں گے ان پر ہوگا ، اور وادی میں زخموں کو مندمل کرنے اور بغاوت کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات و انتشار کے ماحول کو کم کرنے کے لئے اس طرح کے مثبت امکانات کا خیر مقدم ہے۔ اگر چہ رمضان المبارک میں جنگ بندی سے جموں و کشمیر کے پریشان حال لوگوں کو کافی راحت ملی ہے ، لیکن عسکریت پسند اور باغی عناصر اب بھی تشدد کے راستے پر جمے ہوئے ہوئے ہیں اور قیام امن کے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پر امید ہو کر یہ ٹویٹ کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ‘‘ان کی سرگرمیاں لاحاصل ہیں’’ ، اور دونوں ڈی جی ایم او کی جانب سے سرحد پر جنگ بندی کے فیصلے کو برقرار رکھے جانے کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۔ "اس سے قرب و جوار میں رہنے والوں کو کافی راحت ملی ہے۔ ہماری سرحدوں پر امن ایک بڑے پیمانے پر مفاہمت کے لئے سب سے پہلا اور لازمی قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ مسلسل جاری رہے گا......"

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس رمضان لمبارک کے دوران ایک یک طرفہ جنگ بندی کے مرکز کے اعلان نے عام طور پر کشمیریوں کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا ایک ماحول فراہم کیا ہے۔ لہذا، وادی میں اکثر امن پسند نوجوان سختی کے ساتھ اس میں توسیع کی حمایت کر رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے بجا طور پر یہ اشارہ کیا ہے کہ "یہ بچے زندہ رہنا چاہتے ہیں، کھیلنا چاہتے ہیں، اور مسکرانا چاہتے ہیں ..... جیسے اس ملک کے دیگر حصے میں لوگ رہتے ہیں"۔

راج ناتھ سنگھ کے کشمیر کے اس دورہ سے ایسی قیاس آرائیاں ایک نئے سرے سے شروع ہو چکی ہیں کہ مرکزی حکومت رمضان جنگ بندی میں توسیع کر سکتی ہے۔ لیکن اس جنگ بندی نے بہت سے کشمیری دانشوروں کو ایسے سوالات میں الجھا دیا ہے کہ : کیا کشمیر کی آزادی تشدد کو دعوت دینا ہے؟ کیوں کشمیر کا مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہونے دیا گیا تاکہ وہ تشدد سے نکل کر راحت کی سانس لے سکے؟ جو لوگ وادی کے حالات اور ماحول میں پیدا ہونے والے نشیب و فراز کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں وہ اب تیزی کے ساتھ بڑھنے والے تشدد کے نظریات سے کافی فکر مند ہیں۔

سرینگر میں رہنے والے ایک ایک نوجوان کشمیری قلمکار اور کارکن ایم ایچ اے سکندر نے اہم معلومات پر مبنی ایک شاندار مضمون لکھا جس میں انہوں نےیہ سوال اٹھایا ہے کہ : کیا تشدد ہی آخری راستہ ہے؟ وہ نیو ایج اسلام پر لکھتے ہیں: " گزشتہ ایک دہائی کے دوران کشمیر میں مزاحمت کے ایک آلہ کار کے طور پر بندوق کے استعمال کی روایت کو ایک نیا رجحان حاصل ہوا ہے...... موت اور تشدد کا یہ شیطانی سلسلہ ٹوٹنا ضروری ہے۔"

کیا تشدد ہی ایک آخری راستہ ہے؟

http://www.newageislam.com/urdu-section/mushtaq-ul-haq-ahmad-sikander,-new-age-islam/is-violence-the-only-way-out--کیا-تشدد-ہی-آخری-راستہ-ہے؟/d/115469

سرینگر کےیہ قلمکار اور کارکن نے ایک تاریخی مطالعہ پیش کیا ہے کہ وادی میں کس طرح اسلامی ریاست کے ایک غلط تصور کے ساتھ تشدد کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں: "اب اسلامی ریاست کا نظریہ کوئی نیا نہیں رہا۔ 1990ء میں اکثر پاکستان نواز عسکریت پسند تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کے بعد اپنا مقصد اسلامی ریاست قائم کرنا ظاہر کر دیا ہے۔ ..... داعش اور القاعدہ جیسی اسلام پرست عسکریت پسند تحریکوں کے عروج کے بعد کشمیر میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی بات ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اور اس کی نمائندگی انصار غزوۃ الہند نامی تحریک کر رہی ہے جس کی قیادت ذاکر موسیٰ کر رہا ہے۔"

انصار غزۃ الہند کے ظہور نے بہت سے عسکریت پسندوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کشمیر ایک علاقائی جنگ یا ایک مذہبی جنگ لڑ رہا ہے؟ کشمیر کی تمام باغی جماعتیں اب اسی خط پر تقسیم ہو چکی ہیں۔ عام کشمیریوں کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ خود ساختہ 'اسلامی ریاست' کی اس تحریک کو اپنی حمایت دیں یا جنگ بندی کے اعلان کے بارے میں فورسز کو جھوٹ بولنے کے لئے ذمہ دار ٹھہرائیں۔ ہم بحیثیت ایک آبادی اس جدوجہد کے بارے میں اب کافی الجھن کا شکار ہیں کہ ان سب کے پیچھے کون ہے۔

دوسری طرف پاکستان ایس اے ایس جیلانی جیسے رہنماؤں کو فروغ دے رہا ہے جو ' آزادی برائے اسلام' کا مقصد حاصل کرنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کشمیر میں ان مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ صدیوں سے مسلمان تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ امن سے رہتے اور ترقی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلامی نظام حکومت ( نظام مصطفی) کے نام پر پاکستان اپنی سرحدوں میں اضافہ کرنا اور دونوں طرف اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے ، خواہ وہ طالبان پیدا کرنا ہو خواہ کشمیر میں مداخلت کرنا ہو۔ ناگزیر طور پر اپنی سرحدوں پر پاکستان سے امداد یافتہ عسکریت پسند اور انتہا پسند اسلامی ریاست کا پروپیگنڈہ کرنے والے دنیا بھر میں اسلامفوبیا کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔

کیا وہ آزادی ہے جو کشمیری مسلمانوں کا ایک طبقہ تشدد، بندوقیں اور پتھروں سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ اور خود ساختہ اسلامی ریاست کی اس توسیع پسندانہ عزائم کا سہارا لے رہے ہیں تو آج بھی 1947 میں پاکستان منتقل ہونے والوں کو مہاجرین ؟

یہ ریاست کی ایک انتہائی افسوسناک صورت حال ہے جہاں جو کوئی اسلام کے بارے میں بات کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے ہاتھ میں بندوق یا پتھر ہے وہ ‘‘امیر المومنین’’ ہے۔ سول سوسائٹی کو تیار ہونے کی ضرورت ہے اس لئے کہ ابھی کشمیری مسلمانوں کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ وہ بندوق اور تشدد کے اس مضحکہ خیز کلچر میں اپنا کیا کچھ گنواں رہے ہیں۔

آج وادی کے اندر معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں سمجھ بوجھ کا مکمل فقدان ہو چکا ہے یہاں تک کہ ان کے جذبات بھی کچھ اس طرح بہک چکے ہیں کہ ایک جذباتی شخص بھی ان کے اس عمل کو غیر انسانی اور کشمیریت مخالف قرار دیگا۔ اب کشمیر کی صورت حال یہ ہے کہ یہاں سادہ لوح نوجوانوں کے ذہن میں نفرت و عداوت پر مبنی کٹّر مذہبی نقطہ نظر گھر کر چکا ہے۔

اس سے بھی زیادہ پریشان کن صورت حال یہ ہے کہ وادی میں پاک کے ذریعہ فروغ دئے جا رہے نفرت اور تشدد نے کشمیری معاشرے کے اندر ایک یہ قبائلی نقطہ نظر پیدا کر دیا ہے جمہوری نظام زندگی ان کے لئے موزوں نہیں ہے اور انہیں مہذب ہونے کے لئے عسکریت پسندی ضروری ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ایک پیشن گوئی جو دن بہ دن سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں ان کے منصوبے کبھی سامنے نہیں آئے تھے اور ان کی تکمیل کے لئے کبھی راہیں ہموار نہیں کی گئی تھیں۔

لیکن اب چونکہ جنگ بندی کی صورت میں امن اور مصالحت کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں جن کی امید ایک طویل عرصے سے کی جا رہی تھی ، تو اس کے خلاف کچھ تو ہونا ہی تھا۔ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ مین اسٹریم کشمیری عوام اپنی گمشدہ روایت کشمیریت کی بازیافت پر توجہ مرکوز کریں جو کہ صوفیوں کی اس سرزمین پر رشیوں اور صوفیوں کی روایت کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ دراصل کشمیر ایک کافی متنوع اور کثیر ثقافتی ریاست ہے اور آسانی کے ساتھ انتہا پسند اسلامی ریاست میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں ایک طویل اور سخت سیاسی بحران کے بعد وزیر داخلہ کے اس دورے سے حالات معمول پر آ جائیں گے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/kashmir-is-too-diverse,-too-multicultural-a-land-to-turn-into-a-radical-islamist-state/d/115497

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/kashmir-is-too-diverse,-too-multicultural-a-land-to-turn-into-a-radical-islamist-state--کشمیر-ایک-کافی-متنوع-اور-کثیر-ثقافتی-ریاست-ہے-اور-آسانی-کے-ساتھ-انتہا-پسند-اسلامی-ریاست-میں-تبدیل-ہو-سکتا-ہے/d/115547

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content