certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Aug 2009 NewAgeIslam.Com)



Lagacy میراث

جاوید چودھری

مسلم دنیا کا المیہ کیا ہے ؟ یہ ہم مسلمانوں کیلئے آج سب سے بڑا سوال ہے اور اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں تھوڑی سی ڈیٹیل میں جانا پڑے گا ‘فوزیہ علی آئی ایل اور (انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن) کی ملازم ہے’ یہ کینیا میں پیداہوئی اور آج کل صو مالیہ میں کام کررہی ہیں یہ ‘‘ہاف کاسٹ’’ ہے یعنی اس کا والد سیاہ فام اور والدہ سفید تھی لہٰذا یہ سفیدی اور سیاہی کا خوبصورت امتزاج ہے، فوزیہ الحمداللہ مسلمان ہے اور یہ ٹیورن کے کورس میں ہماری ساتھی تھی ، انٹر نیشنل ٹریننگ سنٹر کے اس کورس میں 16مسلمان تھے لیکن فوزیہ علی ان میں واحد خاتون تھی جو اسلام کے اصولوں پر مکمل طور پر کار بند نہیں ، یہ پورا لباس پہن کر آتی تھی، سر پر حجاب لیتی تھی ، بلاوجہ گفتگو نہیں  کرتی تھی اور نماز کی پابندی کرتی تھی لیکن ان تمام تر اسلامی احتیاط کے باوجود میں نے اس میں ایک عجیب عادت دیکھی، وہ جب میں شاپنگ یا سیر کیلئے باہر جانے لگتی تھی تو وہ ہمیشہ غیر مسلم لڑکوں یا حضرات کے گروپ کا  انتخاب کرتی تھی، وہ ہفتہ بھر کے کورس کے دوران کبھی کسی مسلمان لڑکے کے ساتھ سنٹر سے باہر نہیں گئی، میں نے ایک دن ا س وجہ پوچھی تو وہ ہنس کر ٹال گئی لیکن جب میں نے اصرار کیا تو اس نے ایک ایسا جواب دیا جس میں اسلامی دنیا کے تمام المیے دفن ہیں، فوزیہ علی کا جواب تھا‘‘میں غیر مسلموں میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہوں’’میں نے وضاحت چاہی تو وہ بولی ‘‘میں جانتی ہوں کہ کوئی غیر مسلم میری اجازت کے بغیر میری طرف دیکھنے تک کی جرأت نہیں کرے گا جب کہ میرا مسلمان بھائی میرے اکیلے پن کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا’’ فوزیہ علی کا جواب تلخ ضرور تھا لیکن حقیقت پر مبنی تھا، ہم مسلمان اخلاقی طور پر اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ہماری اپنی بہو، بیٹیاں اور بہنیں ہم پر اعتبار کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں، ہماری اسلامی دنیا میں کیا کیا گھناؤنے جرائم نہیں ہو تے، 11جولائی 2009کو کراچی میں کیا ہوا ،ساڑھے تین سال کی بچی ثنا کو کس طرح درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا، یہ اس نوعیت کا پہلا جرم نہیں ، پاکستان میں ہر دوسرے روز اس قسم کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور ہمارے چہرے پر دنیا بھر کی کالک مل جاتا ہے ،لاہور میں 8اگست 2009کو پانچ سال کی بچی ماہم مٹھائی لینے کیلئے گئی لیکن 8گھنٹوں بعد شہر کے پوش علاقے سے اس کی نعش ملی، اس بچی کو بھی درنگی کانشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا، اسی طرح 25اپریل 2009کو کراچی میں ایک ساتھ سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس مقابلے میں پورے یورپ ‘امریکا’ ‘کینیڈا ’ آسٹریلیا او رغیر مسلم مشرق بعید میں دس دس سال تک اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا وہاں خواتین رات رات بھر نیم برہنہ حالت میں گلیوں میں پھرتی رہتی ہیں ، ویک اینڈ پر لڑکیاں شراب پی کر کلبو ں میں ناچتی رہتی ہیں لیکن نشے کی انتہا تک پہنچ کر بھی کسی لڑے کو کسی لڑکی کو چھونے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا لیکن کیا ہم اس مقابلے میں 58یا 62اسلامی ملکوں میں ایسی توقع کرسکتے ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہماری خواتین دن کی روشنی میں پردے میں باہر نکلتی ہیں اور غیر محفوظ ہوتی ہیں او رہم انہیں اسلامی ملکوں میں اپنے گھر میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔

میں اپنے دوستوں کو جب بھی اسلام کے سنہرے دنوں کی باتیں سناتاہوں تو یہ لوگ ہنس کر جواب دیتے ہیں تم تہذیبی نرگسیت کا شکارہو ، تمہارا تعلق مسلمانوں کے اس گروہ کےساتھ ہے جس کی سوچ نوسو عیسوی پر پہنچ کر رک گئی تھی اور جس نے کبھی زندگی ،معاشرے اور تہذیب کو خلافت راشدہ یا اندلس کی مسلم ریاست سے باہر رکھ کر نہیں دیکھا ،میں بعض اوقات اپنے دوستوں سے اتفاق بھی کرتا ہوں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہم لوگ تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں، ہم بل گیٹس کا تقابل 510ہجری کے شام کے تاجروں کے ساتھ کرتے ہیں اور ابن رشد کو آئین سٹائن کا روحانی استاد ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باجود یہ حقیقت ہے حال اور مستقبل کی تشکیل کیلئے ماضی ضروری ہوتا ہے کیونکہ شاندار ماضی ہمیں نالائقیوں او ربے وقوفیوں کا احساس دلاتا ہے،یہ ہمیں بتاتا ہے تو کیا تھے اور اب تم کیا بن گئے ہو اور اگر تم ماضی کی تابناک روایات کی طرف واپس نہ گئے تو تمہارا کیا حشر ہوگا؟لہٰذا یہ نرگسیت نہیں حقیقت ہے کیونکہ اسلامی دنیا پر کبھی ایسا وقت بھی تھا جب غیر مسلموں کی خواتین تو بڑی بات بھیڑ بکریاں تک اسلامی سلطنت میں خود کو محفوظ محسوس کرتی تھیں’تجارتی قافلے جو ں ہی یورپ سے اسلامی سلطنت میں داخل ہوتے تھے تو یہ اپنے مال، جان اور آبرو کے خوف سے آزاد ہوجاتے تھے، مسلمانوں کی کریڈ یبلٹی کا یہ عالم تھا کہ ہسپانیہ کا عیسائی بادشاہ اپنے وزیر کی نوجوان بیٹی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو وہ مدد کیلئے موسیٰ بن نصیر کو درخواست کرتا ہے اور موسیٰ بن نصیر اپنے غلام طارق بن زیاد کو اسپین روانہ کردیتا ہے اور وہ چند ہزار لوگوں کے ساتھ اسپین پہنچ جاتا ہے، طابق بن زیاد کا یہ جذبہ آج بھی برننگ ڈیزائر ( آتشی خواہش) کے نام سے انگریزی کا محاورہ ہے چنانچہ یہ محض تہذیبی نرگسیت نہیں ، یہ اسلامی دنیا کی فراموش کردہ حقیقت ہے، ہم اکثر کہتے ہیں علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، میں ہمیشہ اس فقرے کو ادھورا سمجھتا ہوں کیونکہ میرا خیال ہے صرف علم ہماری کھوئی ہوئی میراث نہیں بلکہ کریڈ یبلٹی ‘ایمانداری’ صاف گوئی ،صفائی، انصاف، ٹیکنالوجی، کاروبار، امن، محبت اور ویلفیئر بھی مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، حاملہ خواتین کیلئے وظیفہ ہو، دودھ پیتے بچوں کیلئے وظیفہ ہو یا لازمی او رمفت تعلیم ،شہر، قصبوں او ر دیہات میں سٹریٹ لائیٹس واٹر سپلائی ،سڑکوں کی تعمیر بازار ،منڈیاں اورشاپنگ پلیس ،دنیا کے پہلے باقاعدہ تجارتی ضابطے ،یونیورسٹی ، رصد گاہیں ،آزاد اور خود مختار عدلیہ ،خواتین کے حقوق ،غیر مسلموں کو عبادت اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ،دنیا کی پہلی منجنیق ،پہلی نیوی، پہلی ریگولر آرمی ، پولس کا پہلا دستہ ،پہلا ڈاک خانہ ،خواتین کے پہلے تعلیمی ادارے، جانوروں کیلئے پہلا شفاخانہ ،گلیوں اور محلوں کی صفائی کیلئے سینی ٹیشن کا پہلا نظام ،دنیا کی پہلی پبلک لائبریری ، سائنس دانوں اور علما کیلئے وظائف کی پہلی اسکیم ،پہلی پبلک ٹرانسپورٹ ،خواتین کیلئے پہلا بازار ، معذوروں کی خدمت کا پہلا ڈیپارٹمنٹ ،دنیا کا پہلا پاگل خانہ، یتیموں ،بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کا پہلا ادارہ یا پھر سرکاری خرچ پر لاوار ثوں کی تدفین کی پہلی سکیم ہو یہ کس نے شروع کی تھی؟آپ کو حیرت ہوگی یہ ساری اسکیمیں ،یہ سارے ادارے، یہ سارے ڈیپارٹمنٹس اور یہ ساری معاشرتی روایات مومنوں کی کھوئی ہوئی میراث ہیں، دنیا کا پہلا ہسپتال اور اس ہسپتال میں مفت علاج کی روایت بھی ہم مسلمانوں نے شروع کی تھی اور اونٹوں ، کدھوں اور خچروں کے حقوق بھی ہم نے ہی طے کئے تھے اور دنیا کی پہلی و اکنگ سٹریٹ ،دنیا کا پہلا پبلک پارک اور ملازمین کیلئے دنیا کا پہلا کوڈ آف کنڈکٹ بھی ہم نے تشکیل دیا تھا لیکن پھر ہماری یہ میراث وقت کی گرد میں کھوگئی اور ہم وہاں پہنچ گئے جہاں کبھی ہمارے دشمن ہوتے تھے او رہمارے دشمن وہاں آگئے جہاں کبھی ہم ہوتے تھے چنانچہ آج ہم نے تعلیم حاصل کرنی ہو، علاج کرانا ہو، شاپنگ کرنا ہو حتیٰ کہ ہم نے امن کے ساتھ زندگی گزارتی ہوتو ہم مکہ، مدینہ اور قم کی بجائے کیلی فورنیا، واشنگٹن ،نیوریاک، لندن، پیرس، فرینکفرٹ اور ٹوکیو جاتےہیں ،ہم اور ہماری بچیاں مسجدوں میں محفوظ نہیں ہیں  لیکن یہ لندن ،پیرس اور واشنگٹن میں آزادانہ گھوم سکتی ہیں روم کی سڑک ،لندن کی پکاڈلی سرکس اور نیویارک کی موٹروے پر کوئی غیر مسلم صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف زیادہ سپیڈ میں گاڑی چلانے کا رسک نہیں لے سکتا جبکہ اسلامی دنیا میں بڑے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے ملازمین میں بڑے بڑے قانون توڑ دیتے ہیں اور کوئی ان کی طرف آنکھ تک اٹھا کر نہیں دیکھتا ۔ یورپ کے بادشاہ صدر اور وزیر اعظم اپنے لان کی گھاس خود کاٹتے ہیں جبکہ اسلامی دنیا کے  حکمرانوں نے جرابیں پہنا نے کیلئے بھی ملازمین رکھے ہوئے ہیں ، ہمارے خانہ کعبہ میں طواف کے دوران لو گوں کی جیبیں کٹ جاتی ہیں ، لوگ احرام باندھ کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے بیگ چوری کرلیتے ہیں اور احراموں میں ہیروئن چھپا کر سعودی عرب لے جاتے ہیں ،پوری اسلامی دنیا میں خواتین اور بچوں پر تشدد ہوتا ہے، ہم لو گ آب زم زم میں بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے،ہم جنازوں کے دوران دوسروں کی جیبیں کاٹ لیتے ہیں او ر ہماری تعلیمی حالت یہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں بین الاقوامی معیار کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں، ہم غلاف کعبہ کیلئے دھاگہ اور رنگ بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں ، ہمارے لئے تشبیحات اور جائے نماز چین بناتا ہے اور ہم نمازوں کے اوقات تک طے کرنے کیلئے یہودیوں کے تشکیل کردہ نظاموں کے محتاج ہیں۔

یہ کیا ہے؟ یہ ہماری کھوئی ہوئی میراث ہیں، اسلام نے ہمیں برداشت رواداری ،کرٹسی ، تحمل اورشائستگی بھی دی تھی لیکن ہم نے یہ میراث بھی کھودی چنانچہ آج پاکستان جیسے اسلامی ملک میں غیر مسلم شہریوں جو جلایا جارہا ہے اور شیعہ سنی ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں ،آج مسلمان مسلمان پر خود کش حملے کررہا ہے، مسجدوں اور قبرستانو ں میں بم دھماکےہو رہے ہیں آج دنیا کا ہر اسلامی ملک غیر محفوظ اور بے امن ہوچکا ہے اور دنیا کا کوئی مہذب شخص کسی مسلمان ملک میں پاؤں تک رکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم علم سے لے کر انصاف تک دنیا کی بدترین قوم ثابت ہورہے ہیں، یہ ہماری وہ کھوئی ہوئی میراثیں ہیں جو جب تک ہمیں واپس نہیں ملیں گی ہم اس وقت تک اقوام عالم کی دہلیز پر گدا گری کرتے رہیں گے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/lagacy-میراث/d/1633

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content