certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (29 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Lataif-e-Ashrafi: Sufi Anecdotes of Makhdoom Ashraf Jahangir Simnani لطائف اشرفی: توحید کے اسلامی نظریے پر مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی صوفیانہ حکایات و روایات

 

 

 

 

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

4 جنوری 2016

حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی (1287تا 1386 عیسوی) فارسی نژاد کے ایک عظیم ہندوستانی صوفی اور شیخ اکبر ابن العربی کے زبردست پیروکار تھے۔ وہ خاص طور پر وحدۃ الوجود کے ابن العربی کے روحانی نظریے سے شرابور تھے۔ تصوف کے 14 مختلف سلاسل سے اجازت یافتہ حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے ہندوستان میں چشتی اور قادری صوفی سلسلے کے فروغ میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہے۔

مخدوم اشرف جہانگیر کی پیدائش 708 میں ایران کے سمنا میں ہوئی تھی۔ اس دور کے تمام اسلامی ممالک میں ایک سالک کی حیثیت سے ایک پر مشقت روحانی سفر کے بعد وہ آخر میں ہندوستان آکر آباد ہوگئے اور امبیڈکر نگر، اتر پردیش میں اپنی خانقاہ قائم کی جو "آستانہ حضرت مخدوم جہانگیر سمنانی" کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کا خاندان امام حسن رضی اللہ عنہ کے نسب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہے۔ روحانیت میں وہ بنگال میں 13ہویں صدی کے ممتاز چشتی صوفی بزرگ حضرت علاء الحق پانڈوی کے شاگرد تھے، جو کہ بنگال ایک اور ممتاز چشتی صوفی خواجہ اخی سراج آئنہ ہند کے شاگرد تھے۔ مخدوم سمنانی نے 11ہویں پشت میں براہ راست معروف صوفی شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی اولاد اور اپنے ایک روحانی شاگرد حضرت سید شاہ عبدالرزاق نور العین کے ذریعے خود اپنے ایک صوفی سلسلہ کی بنیاد رکھی۔ آپ کے سلسلے کے طالبوں کو اشرف جہانگیر سمنانی کی طرف منسوب کر کے "اشرفی" کہا جاتا ہے۔

مخدوم سمنانی نے "لطائف اشرفی" کے عنوان سے ایک کتاب میں اپنے روحانی نظریات اور خیالات کو درج کیا ہے جس میں انہوں نے صوفی حکایات و واقعات کی تعبیر و تشریح کی ہے۔ در اصل یہ 8ویں صدی ہجری میں مرتب کی گئی تصوف کی مختلف جہات اور موضوعات پر ایک تاریخی دستاویز ہے۔ ملفوظات (روحانی نصیحت) پر مبنی یہ صوفی اصول و معمولات اور احکام و روایات کا ایک بے مثال خزانہ ہے۔ اس کی صداقت اور ثقاہت ایک پیمانے کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے کہ اس کی تصنیف اور تدوین مخدوم سمنانی کے سب سے زیادہ پرانے اور قریبی شاگرد نظام یمانی نے کی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تصدیق و توثیق خود سید اشرف جہانگیر رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔

لطائف اشرفی میں پیش کی گئی روحانی تعلیمات کے مطالعہ کے بعد میں نے بنیادی اسلامی عقیدہ ‘توحید’ (خدا کی وحدانیت) کے حوالے سے مخدوم سمنانی کی ایک بہت ہی دلچسپ اور مفید گفتگو کو آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ اپنی اس گفتگو میں انہوں نے اسلام کے سب سے پہلے ستون توحید پر ایمان کے بارے میں اپنے شاگردوں کی سمجھ بوجھ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ در اصل انہوں نے اس بنیادی اسلامی نظریے کی تائید کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ایک صوفی نقطہ نظر کو اپنایا ہے۔

توحید کی صوفیانہ تعریف

بالکل شروع میں مخدوم سمنانی نے توحید کی حیرت انگیز اور شاندار تعریف پیش کی ہے۔ وہ عربی میں فرماتے ہیں:

 "التوحيد فناء العاشق في صفات المحبوب"

واضح طور پر اس کا ترجمہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ "توحید کا مطلب محب کا محبوب کی صفات میں فنا ہونا ہے"۔

اس تناظر میں مخدوم سمنانی نے بجا طور پر ابتدائی اسلامی ادوار کے ایک جلیل القدر فارسی صوفی سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی کا قول پیش کیا ہے، جنہیں بہت سے صوفی سلاسل میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ توحید پر ان کا حوالہ عربی میں ایک قابل ذکر صوفی کہاوت کی صورت میں اس طرح ہے:

 "التوحيد معنى تضمحل فيه الرسوم و تندرج فيه العلوم و يكون الله كما لم يزل"

اس کا مطلب یہ ہے کہ "جب کوئی توحید کا حقیقی جوہر حاصل کر لیتا ہے تو عقیدے اور رسومات و معمولات کے تمام بیرونی مظاہر ختم ہو جاتے ہیں اور صرف ایک خدا کا وجود ہی اس شکل میں برقرار رہتا ہے جس میں وہ ایک زمانے سے ہے"۔

ایک جامع اور وسیع ترین اسلامی اصطلاح کے طور پر 'توحید' پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئےمخدوم سمنانی نے تفصیل کے ساتھ توحید کے مختلف درجات کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں متعدد زمرے شمار کئے ہیں،(1) توحید ایمانی، (2) توحید علمی (عقل و فہم میں وحدانیت) اور (3) توحید حالی (ذاتی حالت میں وحدانیت)۔انہوں نے پوری خوبصورتی کے ساتھ توحید کے ہر ایک زمرے کی ایک ایسے انداز میں تشریح کی جو روحانی مفہوم پر مبنی ہے۔ میں مختصر طور پر ان اصطلاحات کے معانی میں ان کے اہم افکار و خیالات کا خلاصہ ذیل میں پیش کر رہا ہوں۔

توحید ایمانی (عقیدے میں وحدانیت)

توحید ایمانی کے حوالے سے مخدوم سمنانی فرماتے ہیں کہ:

"توحید ایمانی کو قرآن مجید اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مذکورہ احکام کے مطابق صفات باری تعالیٰ کی انفرادیت اور اہمیت کو دل سے تصدیق اور زبانی طور پر تسلیم کرتے ہوئے بندوں کا ایک عمل سمجھایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، توحید ایمانی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیغامات کی صداقت پر پختہ عقیدے کا مطالبہ کرتی ہے"۔۔۔۔۔۔ لہذا، صوفیوں اور تمام وفادار مسلمانوں کو اس بنیادی ضرورت کی تکمیل سے آگاہ رہنا چاہیے"۔

توحید علمی (عقل و فہم میں وحدانیت)

 توحید علمی کی وضاحت کرتے ہوئے مخدوم سمنانی فرماتے ہیں:

"توحید کا یہ دوسرا درجہ داخلی روحانی علم کے ذریعے خود اپنے اندر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسے "علم الیقین" (تصدیق علم) کہا جاتا ہے جو کہ تصوف کے ابتدائی مراحل میں سے ایک ہے، جو اس بات کی تصدیق کرنے اور یہ عقیدہ بنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی وجود نہیں ہے۔ دیگر تمام شخصیات، فضائل اور اعمال اس کی ہستی، فضائل اور اعمال کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ توحید کے اس مقام پر ہر ایک شخص کی ترقی اور ارتقا کو ذات خداوند تعالیٰ کا مظہر تسلیم کرنا اور تمام فضیلتوں کو فضائل کے مصدر مطلق کی عکاسی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

توحید حالی (ذاتی حالت میں وحدانیت)

توحید کے مندرجہ بالا درجات کی وضاحت کرنے کے بعد مخدوم سمنانی توحید کے تیسرے درجے "توحید حالی" کی تشریح کرتے ہیں، جسے وہ ایمان کا تیسرا درجہ سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

"اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید کا حال روحانی سالک کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وجود کی تمام تاریکیاں توحید کی روشنی میں گم ہو جاتی ہیں۔ اس مقام پر توحید کی روشنی میں خود کو اس طرح فنا کر دینا چاہیے کہ جس طرح ستاروں کی روشنی سورج کی روشنی میں فنا ہو جاتی ہے۔ اور طلوع فجر کے وقت اس کی روشنی پھیلنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ تمام ستاروں کی روشنی پر غالب آ جاتی ہے۔

مخدوم سمنانی مزید فرماتے ہیں:

"توحید کا یہ اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے بعد مومن کا حال ذات وحد ہ لاشریک کی معرفت کی تجلیات میں مکمل طور پر اس حد تک فنا ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی ذات یا صفات کی خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔ اور اس عمل میں مشاہد اور سالک اس حد تک چلا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے ہی وجود کو ذات باری کا وجود تصور کرنے لگتا ہے، اور اپنے مشاہدے کو اس کا مشاہدہ تصور کرنے لگتا ہے۔ اور اس طرح وہ جس قدر زیادہ سے زیادہ توحید کے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتا ہے، اللہ کی ذات و صفات کی تجلیات میں اتنا زیادہ فنا ہوتا جاتا ہے۔

اس طرح مخدوم سمنانی فرماتے ہیں کہ ‘‘مومن توحید کے موجیں مارتے ہوئے سمندر میں ایک بوند کی طرح ہے’’۔ وہ فرماتے ہیں:

"التوحید بحر والموحد فيه قطرة لم يبق منه أثر"

"توحید ایک سمندر ہے اور موحد صرف پانی کے ایک ایک قطرے کی مانند ہے جس کا اپنا کوئی وجود یا اپنا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے"۔

اس سلسلے میں مخدوم سمنانی ایک جنید بغدادی کے شاگرد اور ایک ممتاز صوفی شیخ ابو بکر شبلی (946 تا 861) کا حوالہ پیش کرتے ہیں:

التوحید غریم لایقضی دینہ وغریب لایودی حقہ

اس کا مطلب یہ ہے کہ: موحد ایک قرض دہندہ ہے جو اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا جو اور ایک ایسا غریب ہے جو اپنا بقایا ادا نہیں کر سکتا۔ مخدوم سمنانی اس حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "توحید حالی (حالت میں وحدانیت) میں سالک کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ تمام عملی مقاصد کے لئے تمام رسوم و رواج اور علامات اس کے لئے فنا ہو جاتے ہیں"۔ وہ بجلی کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ‘‘جس طرح روشنی کی ایک چمک ایک لمحے کے لئے آتی ہے اور فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے اسی طرح تصوف کے ایک سالک کے لیے تمام انسانی رسوم و علامات ایک لمحے کے لیے ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ایک بہت ہی مختصر وقت کے بعد کافور ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جب ایک صوفی مکمل طور پر اپنی ذات سے کفر و الحاد کو ختم کر دیتا ہے"۔

اس کتاب میں مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کو اکثر "قدوۃ الکبری" کے لقب کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے لطائف اشرفی فارسی میں لکھی گئی تھی ہے اور سب سے پہلے اس کے صرف پہلے 9 ابواب کا اردو ترجمہ سید محمد مدنی اشرفی الجیلانی کے دادا حاکم نذر اشرف نے کیا تھا۔ اس کے بعد اس کا مکمل اردو ترجمہ اردو، فارسی اور عربی کے ماہر، مشاق اور قابل مترجم اور اسلامی اسکالر علامہ شمس بریلوی نے کیا۔ ایک بڑی تعداد میں فارسی اور عربی سے ہندوستانی اسلامی کتب کا اردو ترجمہ انہیں کی بدولت آج ہمارے سامنے ہے۔ مثال کے طور پر ان کے قابل ذکر تراجم میں امام غزالی کی "مکاشفۃ القلوب" اور ممتاز اسلامی اسکالر شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی (مدارج النبوۃ) شامل ہے۔

علامہ شمس بریلوی کی خرابیٔ صحت کی وجہ سے اس سے قبل کے تراجم کے ساتھ اصل مسودات کا موازنہ اور توثیق کا کام علم تصوف میں ماہر اور فارسی زبان و ادب اور تاریخ کے ایک ممتاز عالم ڈاکٹر خضر نوشاہی کے حوالے کیا گیا۔ اس کتاب کو مسلم کمرشل آف پاکستان کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سید مختار اشرف (سرکار کلاں) کے خلیفہ نذر اشرف شیخ محمد ہاشم رداء اشرفی کی ہدایات اور نگرانی میں شائع کیا گیا تھا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-personalities/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/lataif-e-ashrafi---sufi-anecdotes-of-makhdoom-ashraf-jahangir-simnani-on-the-islamic-doctrine-of-tawheed/d/105861

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/lataif-e-ashrafi--sufi-anecdotes-of-makhdoom-ashraf-jahangir-simnani--لطائف-اشرفی--توحید-کے-اسلامی-نظریے-پر-مخدوم-اشرف-جہانگیر-سمنانی-کی-صوفیانہ-حکایات-و-روایات/d/106146

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-   1


  • ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ الفاظ جو ہر کسی کی سمجھ میں آسکتے ہیں اللہ پاک ہمیں بزرگوں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین  ناچیز حقیر و فقیر سید محمد بلال نظامی پاکپتن شریف حال 
    By سیدبلال نظامی - 9/8/2019 11:50:44 PM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content