certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Jan 2017 NewAgeIslam.Com)



Beautiful Behaviour of Prophet Muhammad (saw) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک


مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

6جنوری، 2017

انسان عام طور پر اپنے بزرگوں سے جھک کر ملتا اور تواضع اختیار کرتاہے ، اکثر اس کا جھکاؤ اور بچھاؤ میں مذہب، زبان اور علاقہ کا فرق بھی رکاوٹ نہیں بنتا ، اسی طرح انسان چھوٹوں اور بچوں کے ساتھ شفقت اور پیار سے پیش آتا ہے،اس میں بھی مذہب ، علاقہ ،زبان کاکوئی فرق نہیں ہوتا ، یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے، جیسے پھول کو دیکھ کر انسان کو اس کو دیکھنے اور سونگھنے کی رغبت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کو دیکھ کر دل میں شفقت کا جذبہ ابھر تا ہے اور اس سے پیار کرنے کو دل چاہتا ہے، مگر انسان کے برتاؤ او رمزاج کا امتحان اس وقت ہوتا ہے ، جب وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ ہو، بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ اللہ نے اس کو اپنے ہم عمروں او رہم عصروں کے مقابلہ بلند مقام ومرتبہ سے نوازدیا ہو، جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں، وہ ایسے مواقع کو اپنی بڑائی کے اظہار اور دوسروں کو نیچا دیکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ جہاں زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بہترین اسوہ ہے، اسی طرح آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دوستوں کے ساتھ سلوک وبرتاؤ کے سلسلہ میں بھی بہتر ین رہنمائی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے محبت کا اظہار کرتے، ان کی خوبیوں کا اعتراف فرماتے، ان کے خصوصی وصف اور امتیازی مقام کو بر سر عام بیان کرتے ، جیسے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ علیہ وسلم وعمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اہل زمین میں میرے وزیر ہیں :’’ و اما وزیر ای من اھل الارض فابوبکر و عمر ‘‘ (سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3680) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ حیا کرنے والے ہیں : ’’ احیا ھم عثمان‘‘ ( کنزالعمان ، حدیث نمبر:33121) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ میں علم کا شہر ہوں او رعلی اس کا دروازہ ہے: ’’ انا مدینۃ العلم و علی بابھا‘‘ ( المعجم الکبیر ، حدیث نمبر1061) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اپنا حواری قرار دیا ، ( صحیح بخاری ، کتاب الجہاد ،حدیث نمبر :2691) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو اپنا محرم راز بنایا ، ( صحیح بخاری ، باب مناقب عمار و حذیفہ ، حدیث نمبر:3533) حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ جو بات ان کو پسند ہے میں نے بھی اس کو اپنی امت کیلئے پسند کیا: ’’ رضیست لا متی مارضی لھا ابن ام عبد‘‘ ( مستدرک حاکم: 3،317) اس طرح کے توقیر واحترام کے بہت سے الفاظ ہیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اپنے مختلف رفقاء کے لئے ارشاد فرمائے ہیں، اس سے سبق ملتا ہے کہ ایک مسلمان کے اندر اپنے ہم عصروں کی خوبیوں ، صلاحیتوں او رکارناموں کے اعتراف کا جذبہ ہونا چاہئے: البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں مبالغہ نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر اور اشرف الانبیاء ہے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بارے میں مبالغہ کرنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میری تعریف میں اس طرح کا مبالغہ نہیں کرنا، جو عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کیا تھا،حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ او راس کا رسول ہوں۔ ( صحیح بخاری ، عن ابن عباس ، باب قول اللہ واذ کرفی الکتاب مریم ، حدیث نمبر:3445)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقاء سے گہرا رابطہ رکھتے تھے ، ایسا تعلق ہوتا جیسے گھر کے افراد کا ایک دوسرے سے ہوتا ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ ایسا دل موہ لینے والا ہوتا تھا کہ ہر ساتھی گمان ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسب سے زیادہ محبت ان ہی سے ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نسبتاً نو عمر صحابی حضرت عبداللہ بجلی رضی اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ جب بھی ان کو دیکھتے تبسم فرماتے ، یہاں تک کہ ان کو خیال ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تمام صحابہ میں سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں، چنانچہ انہوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ ہی لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے ، ( کنزالعمال :13، 123، حدیث نمبر :36446) اسی دوستانہ رفاقت کا اثر تھا کہ آپ اپنے رفقاء کے ساتھ کھانے پینے میں شریک رہتے، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گذر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا ، ہم دونوں چلے،یہاں تک کہ بعض ازواج مطہرات کے حجرہ کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر چلے گئے، پردہ کرادیا، پھر مجھے حاضری کی اجازت دی، میں بھی اندر داخل ہوا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ عرض کیا گیا: ہاں، اور (روٹی) کے تین ٹکڑے لائے گئے، ایک ٹکڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے رکھا، ایک میرے سامنے ، تیسرے کے دو حصے کردیئے، آدھا خود رکھا، آدھا مجھے عنایت فرمایا، پھر دریافت کیا: کوئی سالن بھی ہے؟ جواب ملا : نہیں، صرف سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لاؤ توسہی ، یہ تو بہت اچھا سالن ہے ۔(مسلم ، باب فیضلۃ الخل والتادم بہ ، حدیث نمبر 2052) ۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے تکلیف اپنے رفقاء کی دعوت قبول فرماتے تھے، اگر دوسرے رفقاء بھوکے ہوں ، تو جو بھی میسر ہوتا، ان میں سب کو شامل فرماتے، غزوۂ خندق کے موقع پر بڑی تنگی تھی، صحابہ فاقہ سے دو چار تھے ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت بھی یہی تھی، اس موقع پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے تنگی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا سا کھانا بنایا، اور دعوت پیش کی، ان کا منشا تھا کہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو دعوت دے دی، حضرت جابر اس صورت حال سے پریشان ہوگئے، لیکن اہلیہ نے اطمینان دلایا، کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صورت حال سے واقف ہونے کے باوجود سبھوں کو دعوت دی ہے تو انشاء اللہ کمی نہیں ہوگی ، چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی برکت سے تمام لوگوں نے سیر ہوکر کھایا ۔(بخاری، کتاب الجھاد والسیر، حدیث نمبر: 2039)

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رطب کھجور پیش کی، جو وہاں کی عمدہ کھجور سمجھی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا: حضرت سلمان عرض کیا: یہ آپ کے اورآپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے، ارشاد ہوا: اسے اٹھالو ، کیونکہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا، اگلے دن پھر اسی طرح کھجور لائے، خدمت اقدس میں پیش کیا، آپ نے آج بھی کھجور کے بارے میں دریافت فرمایا، کہنے لگے: یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دستر خوان بچھاؤ: چنانچہ سب نے مل کر تناول کیا، (مسند احمد ،عن بریدہ اسلمی ، حدیث نمبر: 22997) ۔ دراصل حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تو رات کے بڑے عالم تھے او روہ یہ جانناچاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ نبوت صحیح ہے یا نہیں، کیونکہ انبیاء صدقہ نہیں کھاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ساتھیوں کی ضیافت کرنے اور ان کے ہم طعام ہونے کے بہت سے واقعات حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔

غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام معاملات میں ان کے ساتھ شریک رہتے تھے، تقریبات میں بھی، کھانے پینے میں بھی خوشی اور غم میں بھی، اسی لئے آپ کا اپنے صحابہ سے بے حد قریبی تعلق تھا اور آپ کو اس طرح ٹوٹ کر چاہتے تھے کہ گویا ایک شمع کے گرد پروانے ہوں، ابوسفیان نے مسلمان ہونے سے پہلے اس بات کا اعتراف کیا کہ جس طرح محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی ان سے کرتے ہیں، میں نے کسی شخص کو دوسرے شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا : ’’ مارأیت من الناس احد ایحباحد ا کحب اصحاب محمد محمداً ‘‘۔ ( سیرت ابن ہشام :2،172) ۔

باوجود یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی خود قناعت کے ساتھ گذرتی او رکئی کئی وقت فاقہ کی نوبت آجاتی، لیکن اس کے باوجود آپ اپنے ساتھیوں کی مالی اعانت کابھی خیال رکھتے، کوئی تحفہ آتا تو اسے لوگوں میں تقسیم کردیتے، یہاں تک کہ رمضان المبارک میں آپ کا جو دوسخا تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتا، (کنزالعمال :6،515) دوستوں کے ساتھ دادو دہش کا مختلف انداز اختیار فرماتے، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سفر میں آپ کے ساتھ تھے، ان کی اونٹنی بڑی سست رفتار تھی، آپ نے ان سے ڈنڈا لیا اور چند دفعہ اونٹنی کو ہلکے طور پر مارا ، پھر کیا تھا اونٹنی اتنی تیز چلی کہ وہ آپ کے اونٹنی کے برابر میں چلنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا وہ اونٹنی فروخت کریں گے ؟ حضرت جابرنے پیش کش کی کہ آپ اسے ہدیتاً قبول فرمالیں، لیکن آپ نے اسے خرید نے پرہی اصرار کیا ، ایک درہم سے بات شروع ہوئی، آپ قیمت بڑھاتے چلے گئے ، یہاں تک کہ چالیس درہم تک بات پہنچی ،پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے پیسے بھی ادا کردیئے اور اونٹنی بھی ہدیتاً واپس کردی، (مسلم ، باب استحباب نکاح البکر ،حدیث نمبر:715)۔ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک سامان خریدا، اور ان ہی کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ہدیہ کردیا۔ (کنزالعمال :4،283)۔

یہ عطا کرنے کے مختلف طریقے تھے، اس کانتیجہ تھا کہ آپ کے پاس کثرت سے مال غنیمت آتا، مختلف علاقوں کے محصولات آتے، لیکن کوئی چیز آپ کے پاس باقی نہیں رہتی ، ایک دن چند درہم بچ گئے، تو آپ بے چین تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی بے چینی دیکھ کر خیال کیا کہ شاید کوئی تکلیف ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں اس لئے بے قرار ہوں کہ کہیں اس حال میں میری موت نہ آجائے کہ یہ سکے میرے پاس موجود ہوں، ( مسند حمیدی ، حدیث نمبر :283، بخاری ، حدیث نمبر:1163) خاص طور پر نو مسلموں کا آپ اتنا گرانقدر تعاون فرماتے کہ خود انہیں بھی حیرت ہوئی، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمادیتے، ایک ایسے ہی صاحب آئے تو آپ نے دو پہاڑوں کے درمیان موجود پوری بکریاں انہیں عطا فرمادیں، وہ جب اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے تو کہنے لگے: اے لوگو! اسلام قبول کرلو، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اتنا عطا فرماتے ہیں کہ اپنے فقر و فاقہ کا بھی کوئی خوف نہیں کرتے۔ (مسلم ، باب ماسئل رسول اللہ شیئاً قط الخ ، حدیث نمبر:2312)

دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو بے تکلفی ہے ، اس بے تکلفی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ ساتھیوں سے مزاح بھی فرمایا کرتے تھے، اورآپ کی بے تکلفی کو دیکھتے ہوئے آپ کے رفقاء بھی آپ سے مزاح کرتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زاہر نام کے ایک صاحب دیہات سے آتے تھے او ردیہات کی چیزوں کا تحفہ آپ کو پیش کرتے تھے، پھر جب واپس ہونے لگتے تو آپ کو سامان و اسباب دے کر رخصت فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا : زاہر ہمارے دیہاتی ساتھی ہیں او رہم ان کے شہری ساتھی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بڑی محبت فرماتے تھے، وہ خوش شکل آدمی نہیں تھے، ایک دن جب وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو پیچھے سے اس طرح اپنی گود میں لے لیا کہ وہ دیکھ نہ سکے، کہنے لگے :مجھے چھوڑ دو، یہ کون شخص ہے؟ پھر انہوں نے محسوس کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : کون ہے جو اس غلام کو خرید لے؟ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول تب توآپ مجھے کھوٹال پائیں گے، ارشاد ہوا، لیکن تم اللہ کے پاس کھوٹے نہیں ہو، یا فرمایا: تم اللہ کے پاس بہت قیمتی ہو: ’’ لکن عنداللہ أنت غالی‘‘۔( مسند احمد ، عن انس ، حدیث نمبر:12669)۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، آپ کی خو ش اخلاقی اور بے تکلفی سے حوصلہ پاکر بعض دفعہ خود صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاح کرلیتے تھے، غزوۂ تبوک کے موقع سے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا: اندر آجاؤ، حضرت عوف ابن مالک رضی اللہ عنہ نے ازراہ مزاح عرض کیا : اللہ کے رسول! کیا پورا کا پورا آجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورے پورے آجاؤ، چنانچہ عوف ابن مالک رضی اللہ عنہ اندر تشریف لائے، (ابوداؤد، باب ماجاء فی المز اح ، حدیث نمبر:5000) ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو کھجور کھاتے ہوئے دیکھا، حالانکہ ان کے آنکھ میں تکلیف تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری آنکھ میں تکلیف ہے، پھر بھی کھجور کھاتے ہو، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جس طرف تکلیف نہیں ہے، اس طرف سے کھاتا ہوں، آپ ان بے ساختہ جواب پر ہنس پڑے۔ (مستدرک حاکم، باب ذکر مناقب صہیب ، حدیث نمبر :5303)۔

لیکن مزاح میں بھی آپ کی زبان سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی تھی، جو حق اور سچائی کے خلاف ہو، آپ کے مزاح کرنے پر تعجب کرتے ہوئے بعض صحابہ نے دریافت کیا: کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن میں کوئی ایسی بات نہیں کہتا، جو حق اور سچائی کے خلاف ہو: ’’ انی لااقوال الاحقا‘‘۔(مسنداحمد، حدیث نمبر:8481)۔

البتہ آپ کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ ہنسی مذاق تکلیف دہ اور اہانت آمیز ہوجائے، یا کسی کو اس بہانے سے دل آزار بات کہی جائے، عبداللہ رضی اللہ عنہ نام کے ایک صاحب تھے، جن کو لوگ غالباً مذاق سے حمار (گدھا) کہا کرتے تھے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسایا کرتے تھے، ایک دن ان پر آپ کے حکم سے شراب پینے کی سزا جاری کی گئی، لوگوں میں سے ایک صاحب کہنے لگے :یہ کس قدر بار بار یہ حرکت کرتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہیں بھیجو ، خدا کی قسم! جہاں تک مجھے معلوم ہے، وہ اللہ او راس کے رسول سے محبت کرتاہے،(بخاری، کتاب الحدود، حدیث نمبر:6398) اسی طرح جب بھی آپ کے سامنے کوئی ایسی بات آتی ، جس سے بے توقیری کاپہلو ظاہر ہوتا ہو تو آپ اس کی نفی فرماتے، ایک بار حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسواک توڑنے کے لئے ایک درخت پر چڑھے ، ان کی پنڈلیاں بہت پتلی تھیں، ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے ہوا ان کو اڑا لے جائے گی، لوگ ہنسنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں ہنستے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا : ان کی پتلی پتلی پنڈلیوں کی وجہ سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ کی ترازو میں ان کا وزن اُحد پہاڑ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ (مسند احمد ، عن عبداللہ ابن مسعود، حدیث نمبر :3991)

(جاری)

6جنوری، 2017 بشکریہ: روز نامہ ہندوستان ایکسپریس، نئی دہلی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/beautiful-behaviour-of-prophet-muhammad-(saw)-پیغمبر-اسلام-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-حسن-سلوک/d/109685

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content