certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (14 Feb 2014 NewAgeIslam.Com)



Accepting Offers of Peace امن کی پیشکش قبول کریں

 

 

 

 

 

مولانا وحید الدین خان

11 فروری 2014

قریش مکہ کی حملہ آوری ان کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک جنگ کا سبب بنی۔ اس موقع پر جو آیتیں نازل کی گئیں ان میں سے چند یہ ہیں:

‘‘اور اگر وہ (کفار) صلح کے لئے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ بیشک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے، اور اگر وہ چاہیں کہ آپ کو دھوکہ دیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی’’۔ (8:61-62)

قرآن کی ان آیات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے مطابق امن ایک ایساراستہ ہے کہ جہاں تک بھی ہو سکے ممکنہ حد تک امن پر قائم رہنے اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے اور اس حد تک امن بحال رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جب تک کہ اس سے کوئی خطرہ مستلزم نہ ہو اگر صورت حال ایسی بھی ہو تب بھی یہی نظریہ قبول کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ اگر حالت جنگ میں بھی فریق مخالف امن کی پیشکش کرے تو تاخیر کیے بغیر ہی اسے قبول کر لینا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر اس بات کا شک بھی موجود ہو کہ امن کی پیشکش میں کوئی دھوکہ دہی یا سازش شامل ہے تو بھی اس پیشکش کو قبول کیا جانا چاہیے، اس بات پر ایمان رکھ کر بھی فریق مخالف کے ساتھ امن قائم کیا جا سکتا ہے کہ اللہ ہمیشہ امن چاہنے والوں کے ساتھ ہےدھوکہ اور فریب دینے والوں کے ساتھ نہیں۔

اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ آج امن قائم کرنے کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں وہ بلند ہمت لوگ ہیں۔ اس دنیا میں لوگوں اور جماعتوں کو ہمیشہ ایک دوسرے سے کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی ہے۔ یہاں ہمیشہ حقوق کی پامالی اور نا انصافی کا مسئلہ پیش آتا رہے گا۔ ایسے حالات میں وہی امن قائم کر سکتا ہے جو کسی بھی قیمت پر امن قائم کرنے کے لیے دوسروں کو آمادہ کرے گا۔ صرف اس قسم کے باہمت لوگ ہی اس دنیا میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ جن کے اندر ایسی ہمت نہیں ہو گی وہ صرف اختلافات ہی پیدا کر سکتے ہیں اور امن قائم کرنے میں اپنا کوئی تعاون نہیں پیش کر سکتے۔

ایک عظیم تدبیر

قرآن کی آیت (20:131) میں ان الفاظ میں زندگی کی ایک حقیقت کو بیان کیا گیا ہے:

‘‘اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان (ہی چیزوں) میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے’’۔

دو راستے ہیں جن پر آپ اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ پہلا راستہ اس مادی دنیا کو ہی اپنا مطمح نظر بنانا اور دنیاوی حصول اور عہدوں میں ہی کامیابی تلاش کرنا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اس دنیا میں ہمیشہ لوگوں کے درمیان مقابلہ آرائیاں ہوتی رہتی ہیں اور اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ مادیت پرست لوگ ہمیشہ یہ گمان کرتے ہیں کہ دوسروں نے ان کے حقوق سلب کر لیے ہیں۔ اور یہی وہ احساس ہے جو آپسی حسد، انتقام اور تشدد کو جنم دیتا ہے۔

زندگی گزارنے کا ایک اور راستہ یہ ہے کہ زندگی میں ایک عظیم مقصد کے حصول میں اپنی ساری توانائیاں صرف کی جائیں۔ جو لوگ اس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنے آپ میں مطمئن ہیں۔ انہیں جن چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے انہیں اپنے اندر ہی پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ناراض ہونے یا ان سے نفرت کرنے یا ان پر جبر و تشدد کرنے سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انہیں اللہ نے حکمت و تدبر عطاء کیا ہے۔ اللہ کی عطاء کردہ حکمت و دانائی یہ ہے کہ ہم اس بات پر پختہ یقین رکھیں کہ ہم نے اس سچائی کو حاصل کر لیا ہے کہ ہم نے اس وجود کو دریافت کر لیا ہے کہ جو اللہ نے ہمیں عطا کیا وہ سونے اور چاندی کے خزانوں سے بھی قیمتی ہے۔ جس انسان کو اللہ کی یہ حکمت و دانش حاصل ہو جاتی ہے وہ اس روشن خیالی کے ساتھ جیتا ہے گوکہ پوری دنیا اس کےلیے روحانی اور عقلی سکون کا ایک گہوارہ بن گئی ہو۔ ایسا انسان اتنا بلند و بالا مقام حاصل کر لیتا ہے کہ دولت اور پاور جیسی چیزیں اس کے لیے انتہائی حقیر ہو جاتی ہیں۔ اس کا طرز فکر اسے امن پسند بنا دیتا ہے۔ وہ نفرت اور تشدد کو اتنا بے معنی گرداننا شروع کر دیتا ہے کہ وہ نہ تو کسی سے نفرت کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی پر ظلم و تشدد کر سکتا ہے۔ جس شخص کو اس قدر پیش بہاء خزانہ حاصل ہو گیا ہو وہ ان حقیر چیزوں کے پیچھے کیوں بھاگے گا؟

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

مولانا وحید الدین خان نیودہلی میں سینٹر فار پیس اینڈ اسپریچویلٹی (Centre for Peace and Spirituality) کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/maulana-wahiduddin-khan/accepting-offers-of-peace/d/35690

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan,-tr-new-age-islam/accepting-offers-of-peace-امن-کی-پیشکش-قبول-کریں/d/35746

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content