certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (04 Dec 2013 NewAgeIslam.Com)



Reconciliation is Best مصالحت بہتر ہے

 

 

مولانا وحید الدین خان

8 اکتوبر 2013

قرآن (4:128) میں ایک فطری قانون کو اس طرح‘‘الصلح خیر’’ بیان کیا گیا  ہے ۔جب  دو فریقوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو  جائے تو وہ تصادم اور تشدد میں مشغول ہو سکتے ہیں ۔ لیکن ایسی صورت حال میں بھی ایک ایسا راستہ ہے جسے وہ اختیار کر سکتے ہیں اور وہ راستہ  فوراً صلح  کرنا اور اختلافات کو ختم کرنا ہے ۔ اسی کو مصالحت کہا جاتا ہے ۔

تاہم دونوں فریقوں کی توقعات اور ضروریات کا اس قسم کی مصالحت کے ذریعہ پورا ہونا  شاذ و نادر ہے ۔ اکثر معاملات میں  اسے ایک یکطرفہ بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  دونوں میں سے کوئی ایک فریق اپنے مطالبات اور خواہشات کو برطرف کر دیتا ہے اور دوسرے فریق کی مرضی کے مطابق اپنا تنازع ختم کرنے پر متفق ہو جاتا ہے ۔

کبھی آپ نے غورکیا کہ اس قسم کی یکطرفہ صلح  کو کیوں بہتر قرار دیا گیا ہے ؟ اسکی وجہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ  متنازع فیہ صورت حال میں ایک سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے ۔ دوسرے فریق کے ساتھ مصالحت پر اتفاق کر کے ایک فریق بے سود تنازع  میں  وقت،  طاقت و قوت اور  ذرائع کے ضیاع سے بچ جاتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ تعمیری کوششوں پر توجہ کر سکتا ہے ۔جو پالیسی مصالحت کے خلاف ہوگی وہ لازمی طور پر تباہی و بربادی کا سبب بنے گی۔جبکہ مصالحت کا راستہ بہر صورت سودمند ہے ۔

تاریخ اس حقیقت کی  شاہد ہے کہ ہر کامیاب انسان نے  کسی بھی طرح کی کامیابی  مصالت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد ہی حاصل کی ہے ۔پوری تاریخ انسانیت میں کبھی بھی کسی نےتشدد اور تصادم کے ذریعہ حقیقی اور بامعنیٰ کامیابی حاصل نہیں کی ہے ۔مصالحت کی اہمیت اس حقیقت میں  پنہا ہے کہ اس سے دستیاب مواقع کو مکمل طور پر استعمال کرنے کا موقع میسر ہوتا ہے ۔جبکہ دوسری طرف تصادم اور تشدد کے ذریعہ تعمیری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی  تمام چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں اور اس طرح اس کےپاس تعمیری کاموں میں مشغول ہونے کے لئے وقت ، ذرائع اور طاقت  و قوت کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔ کامیابی کا راز مثبت تعمیری کام میں پوشیدہ ہے کسی غیر حقیقی دشمن کی تباہی میں بالکل ہی نہیں ۔

روئے زمین پر فساد نہیں 

قرآن (2:11) انسانی فطرت   کا ایک مخصوص طرز ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔

‘‘اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں’’۔

اس قرآنی آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو بظاہر کچھ اصلاح پسند کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن ان کا طریقہ کار غیر مناسب ہے۔ ان  کا طریقہ ایسا ہے جو فساد فی الارض اور انتشار کا سبب ہے ۔ اس مقام پر فساد کا مطلب لوگوں کے درمیان تنازع اور انتشار   ہے ۔ ان کے طرز عمل سے لوگوں کے درمیان زبردست نفرت پیدا ہوتی ہے اور ان کی اخلاقی حساسیت زوال پذیر ہوتی ہے ۔ وہ منفی سوچ اور تخریبی جذبات کو  بھڑکاتے ہیں ۔ یہ تمام کےتمام فساد فی الارض ‘یا زمین میں فساد ’ کے زمرے میں آتے ہیں جس کے بارے میں قرآن گویا ہے ۔وہ امن کی فضا کو مکدر کرنے کا سبب ہیں جس سے تشدد اور تصادم رونما ہوتے ہیں ۔

قرآنی تعلیمات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی عمل کو مناسب سمجھنے کے لئے اسے بظاہر ایک اچھے مقصد کے لئے انجام دیا جانا کافی نہیں ہے ۔ اسکے علاوہ  اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اصلاح کے نام پر ان سرگرمیوں کے نتائج کیا ہیں ۔ اور اگر وہ سرگرمیاں ، نفرت ، کشیدگی اور تشدد وغیرہ کو جنم دیتی ہیں تو ان سرگرمیوں کے بارے میں اگر چہ اصلاح پسند ہونے کا دعویٰ کیا جاتا رہے درحقیقت وہ اصلاح پسند نہیں ۔ بلکہ وہ تخریبی اور تباہ کن سرگرمیاں ہیں جن سے زمین پر فساد پیدا ہوتا ہے۔جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں وہ یقیناً نہ تو مصلح ہیں اور نہ ہی انسانیت کے خادم ہیں بلکہ وہ مجرم ہیں اور پوری انسانیت کےدشمن ہیں ۔

اسلام کے مطابق کسی بھی سرگرمی کو ایک  عظیم اصلاح پسند کوشش گرداننے کے لئے انہیں امن اور انسانیت کے حدود میں ہی انجام دیا جانا چاہئے ۔ ایسی تمام سرگرمیاں غلط ہیں  جو اصلاح کےنام پر انجام  تو دی جائیں لیکن  ان کے نتیجے میں سماجی امن و سکون غارت ہو ، زندگیاں تباہ ہوں اور جائدادیں  لوٹی جائیں۔ اصلاح کے نام پر انجام دی جانے  والی سرگرمیوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کے نتیجہ میں بھی اصلاح ہی برآمد  ہو ۔ اس کے بجائے اگر ان کے نتیجے میں وہ پیدا ہوتا ہے  جسے قرآن زمین پر فساد  قرار دیتا ہے تو ایسی سرگرمی خوبصورت اور پر کشش الفاظ سے قطع نظر  اپنے آپ میں ایک فساد ہے۔

مولانا وحیدالدین خان دلی میں واقع سینٹر  فار پیس اینڈ اسپریچویلٹی کے سربراہ ہیں 

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/maulana-wahiduddin-khan/reconciliation-is-best/d/13886

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan,-tr-new-age-islam/reconciliation-is-best-مصالحت-بہتر-ہے/d/34707

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content