certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (24 Sep 2018 NewAgeIslam.Com)


Abrogation in Quran, Part-4 مسائل تنسیخ؛ چند بنیادی مباحث

 

 

مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام

22 ستمبر 2018

جیسا کہ دین کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کوئی بھی مفسر تفسیر قرآن پر اپنی کتاب تحریر کرتے ووقت اپنے ماسبق کے تمام معتبر و مستند مفسرین ،محدثین اور اصولین سے استفادہ کرتا ہے  حتی کہ بعض معاملات میں تاریخ ناگاروں اور واقعہ نگاروں کی رائے پر بھی اعتماد کرتا ہے محض اپنی رائے سے کوئی بات نہیں لکھتا ، لیکن اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ وہ ناقل محض ہوتا ہے جیسا کہ بعض اہل علم احباب کو اس کا مغالطہ لگا ، بلکہ فن تفسیر میں یہ ایک بڑی معروف بات ہے کہ اکثر مستند اور معتمد مفسرین جہاں دیگر اکابر مفسرین ، محدثین اور اصولین کی تفاسیر سے استفادہ کرتے ہیں وہیں اپنے مبلغ علم ، اپنے موقف ، اپنے مسلک اور اپنے نظریات کے مطابق اپنی تفسیر میں دیگر مفسرین اور محدثین کی رائے کو ایک دوسرے پر دلائل کے ساتھ ترجیح بھی دیتے ہیں اور اپنا موقف بھی پیش کرتے ہیں ، حتیٰ کہ بعض مسائل اکابر سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا ایک منفرد نظریہ بھی قائم کرلیتے ہیں جنہیں اس فن میں ان کا تفرد مانا جاتا ہے یعنی وہ ان کا انفرادی نظریہ ہوتا ہے جسے دیگر مفسرین یا اہل علم چاہیں تو تسلیم کر لیں یا چاہیں تو ان سے اختلاف کریں یا پھر دلائل کے ساتھ ان کا رد کریں یا پھر اس پر توقف اختیار کریں۔ چونکہ علامہ غلام رسول سعیدی (رحمہ اللہ) علم و تحقیق کی دنیا میں ایک قدآور شخصیت ہیں لہٰذا ان کی تصانیف پر گہری نظر رکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ اس معاملے میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں۔ اس بات کو میں متعدد مثالوں سے ثابت کر سکتا ہوں لیکن ابھی یہ ہمارا موضوع گفتگو نہیں اسی لئے ہم اس بحث کو یہیں ترک کرتے ہیں ، مقصد صرف یہ عرض کرنا ہے کہ جہاں کہیں بھی ایسی کوئی بات آئے تو برائے مہربانی اسے عجوبہ روزگار نہ سمجھا ئےبلکہ ماسبق گفتگو پر محمول کیا جائے۔ بقیہ چیزیں علم ، تحقیق اور بحث و تمحیص کا عنوان ہیں ، سو اسے جاری رکھا جائے۔ (و التوفیق باللہ تعالی)

اب ہم اپنے موضوع کی طرف رخ کرتے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سے ماسبق مضمون میں عرض کیا تھا کہ علامہ غلام رسول سعیدی (رحمہ اللہ) نے اپنی کتاب تبیان القرآن کے مقدمہ میں منسوخ الحکم آیات کی تعداد ۱۲ پیش کی تھی لہٰذا اس قبل کہ ہم انہیں کی کتاب سے نواسخ کے حوالے کے ساتھ ان منسوخ الحکم آیتوں کو پیش کریں ضروری ہے کہ پہلے ہم اختصار کے ساتھ اقسام منسوخ کا مطالعہ کر لیں۔

ملا احمد جیون اپنی کتاب تفسیرات احمدیہ میں رقمطراز ہیں:

قرآن کریم میں منسوخ کی چار اقسام ہیں:

اول: جس کی تلاوہ اور حکم دونوں منسوخ ہو گئی ہوں

جیساکہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروہ ہے : ‘‘عشر رضعیات معلوم یحرمن’’، دس مرتبہ دودھ پینا متحقق ہو تو اس سے حرمت (رضاعت) ثابت ہوگی۔ یہ الفاظ پہلے اترے تھے ان کی تلاوت ہوتی تھی اور ان میں مذکور حکم نافظ تھا۔ پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ (امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے سند کے بغیر ایک روایت ذکر کی ہے کہ ایک مرتبہ چند صحابہ نے رات کو قیام فرمایا ۔ دوران قیام انہوں نے ایک سورۂ مبارکہ کی تلاوت کرنا چاہی لیکن بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے علاوہ اسکا ایک لفظ بھی کسی کو یاد نہ رہا۔ صبح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں حاضر ہوئے اور رات کا واقعہ عرض کیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سورت کی تلاوت اور حکم دونوں اٹھا لیے گئے ہیں۔

۲۔ مروی ہے کہ سورہ احزاب کی تین یا دو سو آیات تھیں۔ اب ان میں سے جو قرآن کریم میں موجود ہیں وہ تہتر آیات ہیں۔

۳۔ اسی طرح سورۃ طلاق سورۃ البقرہ سے بڑی اور لمبی تھی۔ لیکن اب سورہ البقرہ لمبی ہے۔

 ‏دوم: تلاوت منسوخ ہو اور حکم باقی رہے

 اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ قول ہے:

 الشيخ و الشيخۃ اذا زنیا فارجموھما نکالا من اللہ و اللہ عزیز حکیم

 بوڑھا یا بوڑھی (یعنی شادی شدہ) جب زنا کریں تو انہیں رجم کردو اللہ تعالی کی طرف سے یہ سامان عبرت ہے اور اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔ حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فرمانا پڑا کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اور اب اس کی تلاوت کو منسوخ پاتے ہیں۔ اگر مجھے لوگوں کی طرف سے یہ بات سننے کا خطرہ نہ ہو تاکہ ’’عمرنے اللہ کی کتاب میں اپنی طرف سے اضافہ کردیا ہے‘‘ تو میں اپنے ہاں موجود مصحف میں اپنے ہاتھ سے اس آیت کو شامل کردیتا۔

( نوٹ) امام مسلم اور بخاری رحمتہ اللہ علیہما نے اسے یوں روایت کیا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ان پر کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب میں جو آپ پر اللہ تعالی نے اتاری ، رجم کی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا ہم نے اسے یاد کیا اور ہم نے اسے بخوبی سمجھا۔ سو حضور حتمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا نافذ فرمائی۔ ہم نے بھی آپ کے وصال شریف کے بعد رجم کی سزا دی۔ سو مجھے زیادہ وقت گزرنے کے ساتھ اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں کوئی کہنے والا یہ نہ کہنا شروع کردے کہ کتاب اللہ میں ہمیں رجم کی سزا کا وجود نہیں ملتا۔ (لہذا یہ سزا نہیں دی جا سکتی) تو لوگ اس کی بات کو مان کر رجم جیسے فرض سزا کو ترک کر کے گمراہ ہوجائیں گے۔  جس سزا کو اللہ تعالی نے اتارا۔ دیکھو اللہ تعالی کی کتاب میں رجم کی سزا بالیقین ہے اور یہ حق ہے یہ سزا اس مرد اور عورت پر نافذ ہوتی ہے جو شادی شدہ ہوں اور ان کے اس فعل پر گواہ موجود ہوں یا حمل ظاہر ہو یا خود اقرار کر لیں۔ ( متفق علیہ)

 سوم: حکم منسوخ ہو لیکن تلاوت موجود ہو

 اس کی مثال سورہ الکافرون ہے اور وہ آیات جن میں اس سورۃ مبارکہ کے مضمون کی طرح مضامین ہیں۔ یعنی ‘‘لکم دینکم ولی دین’’ میں کفار کو ان کے من پسند دین پر ڈٹے رہنے پر کوئی جواب دہی نہیں اور نہ ہی انہیں دین اسلام کی طرف آنے کے لئے تبلیغ کرنے کا کہا گیا۔ لیکن یہ بات ابتدا میں تھی۔ بعد میں کفار کو کفر چھوڑنے اور دین اسلام قبول کرنے کی باقاعدہ تبلیغ اور انکار کرنے پر جہاد کا حکم دیا گیا۔

 چہارم: حکم میں موجودہ وصف کا منسوخ ہونا

 اس کی مثال یہ ہے کہ مطلق کو مقید کر دیا جائے جیساکہ قرآن کریم کی نص دونوں پاؤں کا دھونا ‘‘مطلق’’ بیان کر رہی ہے اور حدیث مشہور جوموزوں پر مسح کے متعلق ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ جب موزوں کو پہنا ہو تو ان کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کیا جائے اور یہ مطلق حکم کو مقید کرنا ہے اور نص قرآنی پر زیادتی کرنا ہے۔ ہم احناف کے نزدیک یہ بھی نسخ کی ایک قسم ہے۔ لیکن امام شافعی رضی اللہ ہو تعالی عنہ اسے نسخ کے بجائے‘‘بیان’’ کے زمرے میں لاتے ہیں۔

لیکن نسخ کی پہلی قسم یعنی (جس کی تلاوہ اور حکم دونوں منسوخ ہو گئی ہوں)کے حوالے سے ملااحمدجیون لکھتے ہیں:

‘‘ ہم کہتے ہیں کہ علمائے اصول نے ایسی آیت کا بالکل ذکر نہیں کیا جو‘‘منسی’’ یعنی بھلادی گئی ہو۔ اور ایسی آیت جس کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں اس کی ہمیں کوئی مثال نہیں ملی۔ اور نہ ہی ہم نے ذکر کی۔ لہذا ممکن ہے کہ ایسی آیت ان آیات میں سے ہوں جو دلوں اور ذہنوں سے نکال لی گئی ہے۔ اس اعتبار سے وہ ( منسوخ کی بجائے) بھلا دی گئی ( منسی) آیات میں داخل ہوجائے گی’’۔ (تفسیرات احمدیہ ، مصنفہ ملا احمد جیون صفحہ 41-39)

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-1---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116373

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/abrogation-in-quran,-part-2---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116397

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-3---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116442

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-4---مسائل-تنسیخ؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116467

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content