certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (27 Sep 2018 NewAgeIslam.Com)


Abrogation in Quran, Part-6 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث

 

 

مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام

25 ستمبر 2018

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل عرض کیا تھا کہ آیات قرآنیہ کی تنسیخ میں بعض اہل علم کا اختلاف ہے ، لیکن نسخ کے خلاف غلام احمد پرویز صاحب کے مقدمات بڑے عجیب اور ان کے دلائل خود متضاد ہیں ۔ ہم ان کا مقدمہ بلا تبصرہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کے دلائل کا علمی اور عقلی محاسبہ کیا جائے گا۔علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں،

 غلام احمد پرویز صاحب کے نزدیک پچھلی شریعتیں منسوخ ہو گئی ہیں اور قرآن کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے اور قرآن مجید میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد شرائع سابقہ کا منسوخ ہونا ہے‘‘۔ ( مقدمۃ تبیان القرآن صفحہ نمبر72)

 لہذا جب یہ بات ثابت ہوگئی غلام احمد پرویز صاحب اگرچہ آیات قرآنیہ کے نہیں لیکن سابقہ امتوں کی شریعتوں کے منسوخ ہو جانے کے قائل ضرور ہیں ، لہٰذا پہلے امم سابقہ کی شریعتوں کی تنسیخ پر ان کے دلائل دیکھ لیتے ہیں تاکہ آیات قرآنیہ میں تنسیخ پر خود ان کے استدلال کی کمزوری واضح ہو سکے، وہ لکھتے ہیں:

 اہل کتاب (بالخصوص یہود) قرآن کریم اور رسالت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف اعتراضات کرتے ہیں (قرآن کریم ان اعتراضات کا جواب دیتا ہے)۔ اسی سلسلے میں ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا (اور یہ اعتراض بڑا اہم تھا) کہ جب خدا نے انبیائے سابقین (مثلا حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ) پر اپنے احکام نازل کر دیے تھے ، اور وہ احکام تورات وغیرہ میں موجود ہیں۔ تو پھر ان کی موجودگی میں اس نئے رسول اور نئے نبی کی ضرورت کیا تھی؟ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ خدا کی طرف سے سلسلہ رشدوہدایت حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے مسلسل چلا آ رہا ہے۔ لیکن اسکی صورت یہ رہی ہے کہ مختلف انبیاء کی وساطت سے جو وحی بھیجی جاتی تھیں ان میں ایک حصہ ان احکامات پر مشتمل ہوتا تھا جو وقتی ہوتے تھے اور ان کا تعلق خاص اسی قوم سے ہوتا تھا جس کی طرف وہ احکام بھیجے جاتے تھے۔ اور انہیں انہی حالات میں نافذالعمل رہنا ہوتا تھا جو اس زمانے کے تقاضے سے پیدا ہوئے تھے۔ بعد میں جب وہ قومیں نہ رہتی یا زمانے کے تقاضوں سے و حالات بدل جاتے تو ایک اور رسول آجاتا اور وہ ان احکام کی جگہ دوسرے احکام لے آتا۔ اس طرح یہ جدید وحی اس سابقہ وحی کی قائم مقام (ناسخ) بن جاتی۔  یہ سلسلہ شروع ہی سے ایسا چلا آرہا ہے چنانچہ تم خود دیکھ رہے ہو کہ توریت کے کتنے احکام ہیں جنہیں حضرت عیسیٰ نے آکر بدل دیا ہے ( یہ بدلے ہوئے احکام انجیل میں موجود ہیں)۔

 دوسری بات یہ ہے کہ انسانیت کے تقاضے اور اس کی ذہنی سطح بھی اپنے ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہوئی اور اوپر کو اٹھتی چلی آرہی ہے۔ اس لیے ہر قوم کو اسکے حالات اور ارتقائی سطح کے مطابق ہی احکام دیے جاتے تھے۔ ان کی سطح سے بلند احکام و قوانین روک لئے جاتے تھے۔ حتی کہ ان کے بعد دوسری قوم آتی جو ارتقائی منزل میں ان سے آگے ہوتی۔ تو وہ ‘‘روکے ہوئے’’ احکام و قوانین اس وقت نازل کر دئے جاتے۔ تنزیل وحی میں یہ اصول بھی کار فرما رہا ہے۔

 نیز یہ شکل بھی ہوتی ہے کہ ایک رسول کے چلے جانے کے بعد اس کی قوم اس کی وحی کے بعض حصوں کو ترک کر دیتی۔ بعض کو فراموش کر دیتی۔ اس لئے ان ترک کردہ یا فراموش کردہ حصوں کو (جن میں کسی تغیر و تبدل کی ضرورت نہ ہوتی) بعد میں آنے والے رسول کی وحی سے از سر نو تازہ کر دیا جاتا۔

 یہود سے کہا گیا کہ وحی کا سلسلہ اس طرح چلا آرہا ہے۔ اب وہ دور آگیا ہے جس میں انسانی شعور پختگی حاصل کر لے گا۔ لہذا اب انتظام یہ کیا گیا ہے کہ،

1.     سابق انبیاء کی وحی کے وہ تمام احکام جو ان کی قوم کے حالات اور ان کے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ مخصوص تھے منسوخ کرکے ان کی جگہ دوسرے احکام و قوانین بھیج دیئے جائیں۔ اور چونکہ وحی کا یہ سلسلہ اب ختم ہو رہا ہے اس لیے یہ احکام وقتی اور ہنگامی نہیں ہونگے بلکہ ابدی طور پر انسانیت کا ساتھ دینے والے ہوں گے۔ اس لیے یہ احکام و قوانین سابقہ احکام سے بہتر ہونگے۔

2.      وہ قوانین جنہیں پہلے روک لیا گیا تھا کیوں کہ ہنوز انسانیت اس سطح پر نہیں پہنچ سکی تھی کہ انہیں سمجھ سکے یا اپنا سکے ، اب انہیں بھی نازل کردیا جاتا ہے ، کیونکہ قرآن کریم انسانیت کی بلند ترین سطح تک اس کا ساتھ دے گا ۔

3.      اور سابقہ انبیاء کی وحی کے وہ احکام و قوانین جنہیں ان کی قوموں نے ترک کر دیا تھا یا فراموش کر دیا تھا (یا جن میں انہوں نے تحریف کر دی تھی) ان کی تجدید کردی گئی ہے۔ ( ان کی مثل احکام دے دیے گئے ہیں)۔

 یہ ہے وہ ضرورت جس کے لئے ایک نئے رسول اور نئی کتاب کو بھیجا گیا ہے اور یہ ہے وہ وجہ کہ اب تمام سابقہ کتابوں کی جگہ اسی قرآن کریم پر ایمان لانا اور عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ اب اس کے سوا ہدایت کی کوئی اور راہ نہیں۔

 فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۔ (2:137)

 ترجمہ : اگر یہ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح ائے جماعت مومنین تم ایمان لائے ہو تو پھر یہ لوگ ہدایت پا سکیں گے ۔ اور اگر اس راہ سے اعراض برتیں گے تو پھر خدا کے راستے کے مخالف سمت جائیں گے ’’۔ (لغات القرآن ۔ ص 1610-1609 – مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام)

اب ہم آیات قرآنیہ کی تنسیخ کے خلاف میں غلام احمد پرویز صاحب کے دلائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لفظ ناسخ کے لغوی معنیٰ و مفہوم بیان کرنے کے بعد غلام احمد پرویز صاحب لکھتے ہیں؛

 ناسخ و منسوخ کا مروجہ مفہوم یہ ہے کہ قرآن کریم میں متعدد آیات ایسی ہیں (بعض کے نزدیک ان کی تعداد500تک ہے) جو پڑھی تو جاتی ہیں لیکن جن کا حکم منسوخ ہو چکا ہے ۔ پھر سن لیجیے کہ (اس عقیدے کے مطابق) قرآن کریم میں 500 کے قریب ایسی آیات ہیں جنہیں محض ‘‘ثواب’’ کی غرض سے پڑھا جاتا ہے لیکن ان میں جو احکام ہیں وہ سب منسوخ ہوچکے ہیں۔ بعض احکام قرآن کریم کی دوسری آیات نے منسوخ کردیے ہیں اور بعض احکام احادیث نے منسوخ کردیے ہیں اسکے ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی ہے کہ بعض آیات ایسی بھی ہیں جو قرآن کریم کے اندر موجود نہیں لیکن ان کا حکم موجود ہے۔ ( مثلا آیت رجم - یعنی زانی کو سنگسار کرنے کے حکم والی آیت) ۔ اس عقیدہ کی رو سے قرآن کریم کی شکل یوں بنتی ہے کہ:-

1.     قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جن کے احکام تو منسوخ ہوچکے ہیں لیکن جن کی تلاوت ہوتی رہتی ہے ۔ اور

2.      ایسی آیات بھی ہیں جو قرآن کریم کے اندر تو نہیں لیکن ان کا حکم موجود ہے ۔ دوسری قسم کی آیات کے لئے تو دلیل صرف روایات کی ہے ۔ لیکن پہلی قسم کی آیات کے لیے خود قرآن کریم ہی کی ایک آیت سے دلیل لائی جاتی ہے ۔ اور وہ آیت یہ ہے؛

 مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  ۔ (2:106)

 اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے ،

 ہم جس آیت کو بھی منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی اور آیت لے آتے ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔

 اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ خدا نے قرآن کریم میں کسی بات کا حکم دیا ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اس نے سوچا کہ اس حکم کو منسوخ کر دینا چاہیے ۔ چنانچہ اس نے ایک اور آیت نازل کر دی جس سے وہ پہلا حکم منسوخ ہوگیا۔ یہ حکم اس سے پہلے حکم سے بہتر ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ اس نئی آیت میں یہ کہیں نہیں بتایا جاتا تھا کہ اس سے فلاں آیت کو منسوخ سمجھا جائے ۔ اس لیے قرآن کریم میں منسوخ آیات بھی اسی طرح سے موجود ہیں اور ناسخ آیات بھی ۔ اللہ نے ان کے مطابق کہیں نہیں بتایا کہ فلاں آیت منسوخ ہے فلاں آیت سے ۔ یہ تعین بعد میں روایات کی رو سے یا مفسرین کے اپنے خیالات کی رو سے کیا گیا ۔ چنانچہ ان آیات کی تعداد ہمیشہ گھٹتی اور بڑھتی رہی  ہے۔ حتی کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے نزدیک ان کی تعداد صرف پانچ ہے ۔

 باقی رہا فراموش کرا دینے کا سوال ۔ سو اس کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے آیات نازل ہوتی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معاذ اللہ) انہیں بھول جاتے تھے ۔ تو پھر انہیں جیسی آیات اور نازل ہو جاتی تھیں ۔ یہ مراد ہے او ننسیھا سے ۔ اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جاتی ہے ۔ سنقرئك فلا تنسى الا ما شاء الله (87:6) جس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ ہم تجھے پڑھائیں گے سو تو نہ بھولے گا ، ہاں مگر جو اللہ چاہتا ہے ۔

 اس عقیدے کی رو سے آپ دیکھیے کہ خدا ، قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس قسم کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔ خدا کا تصور اس قسم کا کہ وہ آج ایک حکم صادر کرتا ہے لیکن بعد کے حالات بتا دیتے ہیں کہ وہ حکم ٹھیک نہیں تھا اس لئے وہ قرآن کریم کے اس حکم کو منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسرا حکم دے دیتا ہے ۔

 قرآن کریم کے متعلق یہ کہ اس میں بے شمار آیات ایسی ہیں جن کا حکم منسوخ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود ان کی تلاوت برابر ہو رہی ہے ۔ اور یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ کونسی آیت منسوخ ہے اور کونسی ناسخ ۔ اسے لوگوں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اس کا فیصلہ کریں کہ کونسی آیت منسوخ ہے اور کونسی اس کی ناسخ ۔

 اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تصورکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے نازل کردہ قرآنی آیات کو بھی بھول جایا کرتے تھے ۔ یا للعجب! (لغات القرآن ۔ ص 1608-1607 – مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام)

جاری........

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-1---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116373

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/abrogation-in-quran,-part-2---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116397

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-3---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116442

URL foe Part-4:  http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-4---مسائل-تنسیخ؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116467

URL for Part-4: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part--5--مسائل-تنسیخ؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116488

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/abrogation-in-quran,-part-6---مسائل-تنسیخ-؛-چند-بنیادی-مباحث/d/116499

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content