certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (09 Mar 2017 NewAgeIslam.Com)


Islamic World and Helpless Humanity-2 عالم اسلام اور بلکتی ہوئی انسانیت





مصباح الہدیٰ قادی، نیو ایج اسلام

8 مارچ 2017

گفتگو جب داعش اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کی ہو تو ہمارے ذہنوں میں ان کی سب سے نمایا علامت یہ ظاہر ہوتی ہے کہ ان کا علم سیاہ رنگ کا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی ان کی ایسی متعدد علامتیں بیان کی جاتی ہیں جو کسی اور جماعت یا تنظیم کے نمائندوں میں نہیں پائی جاتیں۔ مثلاً، ان کے مظالم کی شدت کا عالم یہ ہے کہ گویا ان کے دل پتھر کے نہیں بلکہ لوہے کے ہوں، وہ اسلامی ریاست (الدولۃ الاسلامیۃ) کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتے، وہ حق اور اسلام کی دعوت تو دیتے ہیں لیکن وہ نہ تو اہل حق میں سے ہیں اور نہ ہی اہل اسلام میں سے ہیں، وہ اپنی اصل نام سے نہیں بلکہ اپنی کنیت سے مشہور ہیں۔

 داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے تمام لیڈروں کے اصل ناموں سے کوئی واقف نہیں، مثلاً، ابو بکر البغدادی، ابو عبد الرحمان البیلاوی، ابو بلال المشعدانی، ابو الایمن العراقی، ابو علی، ابو لقمان، ابو مسعب، ابو عمر قرداش، ابو ناصر، ابو انس،ابو العمر، ابو الاصیل، ابو جاثم، ابو لقمان، ابو جلال، ابو خلیفہ، ابو بصیر وغیرہم۔ اس طرح ان کے لیڈروں کی ایک طویل فہرست ہے، اور ان سب کے ناموں میں لفظ (ابو) ملحق ہے جو کہ کنیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ان کے اصل ناموں سے کوئی واقف نہیں۔ ان کی نسبت مخصوص علاقوں اور قصبوں کی طرف کی جاتی ہے، مثلاً ابو بکر البغدادی۔ ان کے بال عورتوں کی طرح ہوتے ہیں،وہ اپنے سر اور بالوں کو اونٹ کی کہان کی مانند کپڑوں سے باندھے ہوئے ہوتے ہیں، اگر انٹرنیٹ پر ان جماعتوں کے لیڈروں کی تصویر دیکھیں تو وہ اس سے مختلف نہیں ہوگی۔

دہشت گرد جماعتوں کے سربراہوں کی ان چند مخصوص علامتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ غیب داں پیغمبر اسلام ﷺ نے آج سے تقریباً 14 سو سال پہلے اپنی حیات مبارکہ میں ہی ان دہشت گرد جماعتوں کی نشاندہی فرمادی تھی اور ان کی ایک ایک علامات کو بیان کر کے اپنی امت کو ان سے آگاہ فرما دیا تھا۔ مثلاً یہ حدیث ملاحظہ کریں:

حدثنا الوليد ورشدين عن ابن لهيعة عن أبي قبيل عن أبي رومان عن علي بن أبي طالب رضى الله عنه قال إذا رأيتم الرايات السود فالزموا الأرض فلا تحركوا ايديكم ولا أرجلكم۔ ثم يظهر قوم ضعفاء لا يؤبه لهم قلوﺑھم كزبر الحديد هم أصحاب الدولة لا يفون بعهد ولا ميثاق يدعون إلى الحق، وليسوا من أهله أسماؤهم الكنى ونسبتهم القرى وشعورهم مرخاة كشعور النساء (کتاب الفتن: حدیث نمبر 583)

ترجمہ:

ولید اور رشدین نے ابن لہیعہ سے، انہوں نے ابو قبیل سے، انہوں نے ابو رومان سے روایت کی کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم سیاہ جھنڈے دیکھ لو تو زمین پر پڑے رہو، نہ اپنے ہاتھ کو حرکت دو نہ اپنے پاؤں کو حرکت دو، پھر ایک کمزور قوم ظاہر ہو گی جسے لوگ خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ ان کے دل لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، وہ ریاست (اسلامی ریاست) کی بات کریں گے، وہ نہ عہد پورا کریں گے اور نہ وعدہ وفا کریں گے، ان کے نام کنیتوں پر ہوں گے، انہیں ان کے علاقوں اور ان کی بستیوں کی طرف منسوب کیا جائے گا (مثلاً، ابو بکر البغدادی)، اور ان کے بال عورتوں کی طرح کندھوں تک دراز ہوں گے۔

اب میں جو حدیث نقل کرنے جا رہا ہوں اسے پڑھنے کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیمیں ان خوارج کی ہیں جن کی نشادہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مقدسہ میں ہی کر دی تھی۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے ان کی تمام سرگرمیوں کو اور ان کے تمام حرکات و سکنات اور منصوبوں کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے:

قال محمد بن مهاجر وحدثني بن ميمون عن صفوان بن عمرو عن أبي هريرة رضى الله عنه قال الفتنة الرابعة عمياء مظلمة تمور مور البحر لا يبقى بيت من العرب والعجم إلا ملأته ذلا وخوفا تطيف بالشام وتعشى بالعراق وتخبط بالجزيرة بيدها ورجلها تعرك الأمة فيها عرك الأديم ويشت فيها البلاء حتى ينكر فيها المعروف ويعرف فيها المنكر لا يستطيع أحد يقول مه مه ولا يرقعوﻧﻬا من ناحية إلا تفتقت من ناحية يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ولا ينجو منها إلا من دعا كدعاء الغرق في البحر۔(کتاب الفتن: حدیث نمبر 676)

ترجمہ:

محمد بن مہاجر نے ابن میمون سے، انہوں نے صفوان بن عمرو سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ چوتھا فتنہ سخت تاریک ہوگا، اس کے ظالم و جابر علم برداروں کی جماعت سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہوئی اٹھے گی یہاں تک عرب و عجم کا کوئی گھر ایسا نہ بچے گا جسے وہ ذلت اور خوف سے نہ بھر دیں۔ وہ شام اور عراق میں اپنے مظالم کا مظاہرہ کریں گے اور جزیرہ کو اپنے قدموں سے روند ڈالیں گے، وہ پوری امت کو کھال کی طرح نچوڑ کر رکھ دیں گے، وہ لوگوں پر سختی کی انتہاء کر دیں گے یہاں تک کہ لوگ ان کے شر سے اچھائیوں کو چھوڑ دیں گے اور برائیوں کی تعریف کریں گے، کسی کے اندر انہیں روکنے کی استطاعت نہیں ہوگی، جب انہیں ایک سمت سے روکا جائے گا تو وہ دوسری سمت سے یلغار کریں گے، یہ فتنوں کا وہ دور ہوگا کہ جب لوگ صبح کو مؤمن اور شام کو کافر ہوں گے اور ان کے شر سے کوئی نجات نہیں پا ئے گا سوائے اس کے جو سمندر میں ڈوبنے والے شخص کی طرح دعا کرے۔

حدثنا الوليد بن مسلم عن عبد الجبار بن رشد الأزدي عن أبيه عن ربيعة القصير عن تبيع عن كعب قال تكون بعد فتنة الشامية الشرقية هلاك الملوك وذل العرب حتى يخرج أهل المغرب۔(کتاب الفتن: حدیث نمبر ۵۶۰)

ترجمہ:

ولید بن مسلم نے عبدالجباررشد الازردی سے، وہ اپنے والد سے، وہ ربیعہ القصیر سے اور وہ تبیع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شامی مشرقی فتنہ کے بعد بادشاہوں کی ہلاکت ہوگی اور عالم عرب ذلیل ہوگا یہاں تک کہ اہل مغرب خروج کریں گے۔

جاری..........

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/islamic-world-and-helpless-humanity-2--عالم-اسلام-اور-بلکتی-ہوئی-انسانیت/d/110335

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content