certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (18 Mar 2017 NewAgeIslam.Com)


Muslims Need To Reclaim Spiritual Values زوال بندۂ مؤمن کا بے زری سے نہیں



مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

15 مارچ 2017

کب تلک طُور پہ دَرْیُوزَہ گَرِی مثلِ کلیم

اپنی ہستی سے عَیاں شعلۂ سینائی کر

ہو تری خاک کے ہر ذرّے سے تعمیر حرم

دل کو بیگانۂ اندازِ کلیسائی کر (اقبال)

قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(آل عمران:139)

ترجمہ:

‘‘اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو’’۔

آج جب ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ آج دنیا کے ہر خطے میں مسلمان ذلت و رسوائی اور قتل و غارت گری کی چکی میں پس رہا ہے۔ برما، کابل، قندھار، قلعہ جنگی، تقریط، موصل ،بغداد، القدس، غزہ، آزربائیجان، صومالیا، بغداد، عراق، فلسطین، شام، مصر، الغرض عرب و عجم میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ بیت رہا ہے کیاہم اس سے واقف نہیں؟ آج پوری امت جس کربناک صورت حال سے گزر رہی ہے کہ کیا وہ کسی سے مخفی ہے؟

حالآنکہ آج امت مسلمہ جس عددی کثرت کی حامل ہے اس سے قبل کبھی نہیں رہی، اور آج جو مادی وسائل ہمیں میسر ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ ان تمام کے با وجود آج ہمیں جس قدر ذلت و رسوائی، پستی، زبوں حالی اور شکست و ریخت کا سامنا ہے اس کی مثال پوری تاریخ انسانیت میں ہمیں نہیں ملتی۔ آج ہمارے اوپر اتنے مصائب اور اتنے مسائل مسلط کئے جا چکے ہیں کہ اگر ہم انہیں شمار کرنا چاہیں تو وقت کا دامن بھی تنگ پڑ جائے۔ لہٰذا، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آج امت مسلمہ اس قعر مذلت میں کیوں گری۔

کچھ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ آج ہم اس پستی میں اس لیے ہیں کہ ہم نے مادی طور پر اتنی ترقی نہیں کی جو دوسری قوموں نے کی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی دنیا میں ایجادات اور فتوحات کی داستانیں ہم رقم نہیں کر رہے۔ آج تسخیرِ کائنات کا سہرا ہمارے سر نہیں۔ تعلیمی طور پر ہم پسماندہ ہیں اور معاشی وسائل سے ہمارے دامن خالی ہیں۔

لیکن شاعر مشرق اور اپنے دور کے ایک عظیم مفکر اقبال کی رائے اس معاملے میں کچھ اور ہی ہے جو کہ ترقی اور فتح و نصرت کے قرآنی نظریہ کے عین مطابق ہے، اقبال کہتا ہے:

سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے!

زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں

بات ایسی نہیں ہے کہ اسلام نے ترقی اور عروج و سربلندی کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس میں مادی اور معاشی ترقی کی نفی کی گئی ہے ، اور اقبال بھی اس امر سے بخوبی واقف ہے۔ لہٰذا، اقبال کہتا ہے:

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات!

جو فقر سے ہے میّسر تو نگری سے نہیں

اگر جواں ہوں مری قوم کے جُسور و غیور!

قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں

معلوم ہوا کہ تمام شعبۂ حیات میں ہماری پستی اور پسماندگی کی وجہ مادی زوال نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری قوتِ فکر وعمل پہلے فنا ہوئی ہے اور اس کے بعد ہماری شان و شوکت پر زوال کا خزاں طاری ہوا ہے۔ فکری بحران اور عملی سرطان نے پہلے ہمارے دامن میں پناہ لی ہے اور اس کے بعد صحتِ عمل اور اصول و معتقدات کی تصحیح و تطہیر کی فکر نے ہمارے اندر سے دم توڑا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالق ارض وسماوات کی ان خاص عنایتوں سے ہم محروم ہو گئے جو اس نے ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے عطا فرمایا تھا۔

اللہ کا فرمان ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔ (الجمعہ:2)

‘‘وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں’’۔

اس آیت کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ اسلام کی بنیاد مادیت پر نہیں بلکہ روحانیت پر رکھی گئی ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ بھی بے زری نہیں بلکہ اس کی حقیقی وجہ مسلمانوں کے اندر سے روحانیت اور روحانی اقدار کا دم توڑناہے۔ اور مسلمانوں کا اس مرکزِ روحانیت سے دور ہو جانا ہے جس نے مسلمانوں کو فتح و نصرت اور عزت و سرخروئی سے ہمکنار کیا تھا۔

رہی بات شکست و ریخت اور غربت و بے بسی کی تو اسلام کے دامن میں اس کی داستانیں بڑی دل آویز اور لرزہ خیز ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ شکست و ریخت اور غربت و افلاس کے اس دل آویز دور میں بھی ہم نے عزیمت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جن کی طرف دنیاآج بھی حیرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اقبال کہتا ہے:

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر

چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر

تو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک

بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر

نفس گرم کی تاثیر ہے اعجاز حیات

تیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر

کب تلک طور پہ دریوزہ گری مثل کلیم

اپنی ہستی سے عیاں شعلۂ سینائی کر

ہو تری خاک کے ہر ذرے سے تعمیر حرم

دل کو بیگانۂ انداز کلیسائی کر

اس گلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھا

ناز بھی کر تو بہ اندازۂ رعنائی کر

پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے

پھر جہاں میں ہوس شوکت دارائی کر

مل ہی جائے گی کبھی منزل لیلی اقبال!

کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر

جاری.......

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/muslims-need-to-reclaim-spiritual-values--زوال-بندۂ-مؤمن-کا-بے-زری-سے-نہیں/d/110435

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-   2


  • شکریہ جناب عالی!

    درست فرمایا آپ نے (دیر آید درست آید) ۔ بے انتہاء مسرت ہوئی۔ پوری آزادی کے ساتھ اس فورم پر آپ اپنی بات رکھیں۔ انشاء اللہ، آپ کی بات پوری غیر جانب داری کے ساتھ لوگوں تک پہنچائی جائے گی۔

    مصباح الہدیٰ 


    By misbahul Hoda - 3/23/2017 4:15:52 AM



  • ماشاء اللہ! آپ کی حالیہ اشاعت ‘‘مصباح ادب’’ موصول ہوئی۔ اللہ زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق بخشے(آمین)۔ چونکہ آپ سے میرے تعلقات بہت قریبی ہیں اسی لیے یہ دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک ہوئی کہ کل جو ہمارے ہم جماعت (class fellow) تھے آج وہ حوصلہ شکن حالات میں بھی قابل قدر کارنامے انجام دے رہیں۔ خاکسار کی مصروفیت کا تو آپ کو اندازہ ہے ہی، پھر بھی میں نے آپ اصرار پر آپ کی ویب سائٹ کا مطالعہ کیا، مجھے محسوس ہوا کہ کافی پہلے ہی مجھے آپ کی باتوں پر کان دھرنا چاہیے تھا (خیر دیر آید درست آید)۔ ساتھ ہی ساتھ مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ اعتدال کی بات کرنے والے ہمارے کچھ اہل علم دوست ہی بعض معاملات میں غیر معتدل رویہ رکھتے ہیں۔ (مفتی ارشد جمال، الٰہ آباد)
    By Mufti Arshad Jamaal - 3/22/2017 7:13:50 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content