certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Mar 2017 NewAgeIslam.Com)


Muslims Need To Reclaim Their Spiritual Values -2 زوال بندۂ مؤمن کا بے زری سے نہیں





مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

16 مارچ 2017

تاریخِ اسلام اس امر پر شاہد ہے کہ ملت بیضاء کی پستی اور پسماندگی کی اصل وجہ مادی زوال نہیں ہے بلکہ پہلے ہماری قوتِ فکر وعمل فنا ہوئی ہے اور اس کے بعد ہماری شان و شوکت پر زوال کا خزاں طاری ہوا ہے۔ فکری بحران اور عملی سرطان نے ہمارے دامن میں پہلے پناہ لی ہے اور اس کے بعد صحتِ عمل اور اصول و معتقدات کی تصحیح و تطہیر کی فکر نے ہمارے اندر سے دم توڑا ہے۔ رہی بات شکست و ریخت اور غربت و بے بسی کی، تو اسلام کے دامن میں اس کی داستانیں بڑی دل آویز اور لرزہ خیز ہیں۔ ہمیں وہ دن یاد ہیں جب ہمیں تن ڈھکنے کے لئے کپڑے اور پیٹ بھرنے کے لئے روٹیاں بھی دستیاب نہیں تھیں، بلکہ ہم شکم پر پتھر باندھ کر اپنا گزارا کرتے تھے۔ ہم نے وہ دن بھی دیکھا ہے جب ہم اپنے شکم پر پتھر باندھ کر صرف دوگھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ تلواروں کے ساتھ اپنے وجود کی بقاء کے لیے ایک مسلح لشکر جرار سے ٹکرانے میدان جنگ میں اترے تھے۔ ہم نے فاقہ مستیوں کے وہ رنگ بھی دیکھے ہیں کہ جب ہم جس کھجور کو چوس کر روزہ رکھتے تھے اسی کھجور کو چوس کر افطار بھی کرتے تھے۔

بلکہ ہم اسلام کی غربت کی وہ داستان اب تک نہیں بھولے کہ میدان احد میں ستر شہیدانِ وفا کی لاشیں پڑی ہیں اور انہیں کفن دینے کے لئے ہمارے پاس کپڑے بھی دستیاب نہیں ہیں، دریں اثناء پیغمبر اسلام ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ اپنے بھائی حضرت حمزہ کو کفن دینے کے لئے دو چادریں لے کر آتی ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ فرماتے ہیں کہ جس قبر میں میرے چچا حمزہ کو دفن کیا جا رہا ہے اسی قبر میں مصعب بن عمیر کی بھی تدفین کی جائے۔ اور آپ ﷺ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ سے کہا کہ آپ میرے چچا حمزہ کے کفن کے لئے جو دو چادریں لائی ہیں ان میں سے ایک چادر سے مصعب بن عمیر کو بھی کفن دے دیں۔ لہٰذا،  ایک چادر سے مصعب بن عمیر کو کفن دے دیا گیا اور دوسری چادر جب حضرت حمزہ کے اوپر ڈالی گئی تو وہ چھوٹی تھی، جب اسے حضرت حمزہ کےچہرے پر ڈالا جاتا تو حضرت حمزہ کے پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور جب اس چادر میں آپ کا پاؤں چھپایا جاتا ہے تو آپ کا چہرہ نمودار ہوجاتا ہے، یہ دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس چادر سے میرے چچا کا سر چُھپا دو اور ان کے پاؤں پر گھانس ڈال دو تاکہ وہ نظر نہ آئے۔

آو ذرا ہم جانیں کہ یہ مصعب بن عمیر کون ہے؟ مکہ میں ایک انتہائی امیر ترین خاتوں ہے جس کے ایک جواں سال بیٹے کا نام مصعب ہے، وہ اپنے بیٹے کو انتہائی اعلیٰ ترین لباس پہناتی ہے اور اسے اس قدر عمدہ عطر میں معطر کرتی ہے کہ جس گلی سے اس کا گزر ہوتا ہے کافی دیر تک وہ گلیاں مہکتی رہتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ضرور اس راستے سے مصعب گزرا ہے تبھی یہ گلیاں خوشبوؤں سے معطر ہیں۔ آخر کار ایک دن شہر مکہ کی گلیوں میں اس خوش پوش اور خوش باش نوجوان کی نظریں آمنہ کے لال کی نگاہ ناز سے ٹکرا جاتی ہے اور یہ نوجوان آپ ﷺ کی زلفوں کا اسیر بن جاتا ہے۔

 حضرت مصعب کی ماں ایک کافرہ ہے اور اسلام سے دشمنی رکھتی ہے۔ جب اس کے کانوں سے یہ بات ٹکراتی ہے تو فوراً وہ حضرت مصعب سے زرق برق لباس چھین لیتی ہے اور دم بھر میں انہیں تمام تر آسائشوں اور سہولیات سے محروم کر کے گھر سے نکال دیتی ہے۔ دن گزرتے گئے، پھر وہ وقت بھی آیا کہ شہر مکہ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور مجبوراً حضرت مصعب بھی مسلمانوں کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کر گئے۔ پھر بعد میں جب شہر مکہ کے حالات کچھ خوش گوار ہوئے اور حضرت مصعب جب اپنے شہر مکہ واپس پلٹے تو ان کے جسم پر ایک پھٹی پرانی چادر تھی جس میں جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر پیغمبر اسلام ﷺ کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہی مصعب ہے کہ اس سے خوش پوش اور خوش باش انسان میں نے پورے مکہ میں کبھی نہیں دیکھا۔

صرف یہی نہیں، اسلام پر وہ دور بھی گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر اسلام ﷺ مسجد نبوی سے باہر تشریف لاتے تو دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر و عمر باہر دروازے پر کھڑے ہیں اور ان کے چہروں پر اداسی اور نقاہت کی ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے دریافت کیا، ‘‘اے ابو بکر و عمر یہاں کیوں کھڑے ہو’’؟ انہوں نے عرض کیا حضور ہمیں بھوک نے گھر میں ٹِکنے نہیں دیا، ہم نے چاہا کہ حضور کا چہرہ دیکھ لیں تو اس بھوک کی شدت میں دل کی تسکین کا سامان ہو سکے۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام ﷺ لب کشا ہوئے کہ ‘‘اے ابو بکر و عمر میرا بھی یہی حال ہے، جس چیز نے تمہیں گھروں میں ٹکنے نہیں دیا وہی چیز مجھے بھی گھر سے نکال لائی ہے’’۔

بہر کیف! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر و عمر کے ہمراہ خرام ناز کرتے ہوئے حضرت ایوب انصاری کے گھر سے گز رہے تھے کہ وہ حضور کی خوشبو پا کر گھر سے باہر نکل آئے اور عرض گزار ہوئے ‘‘بندہ نواز! آج آپ میرے گھر کے مہمان نہیں بنتے’’۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری مرضی۔ پھر وہ آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر و عمر کو اپنے گھر کے اندر لے گئے، چٹائی بچھائی اور اس پر حضور کوبیٹھایا۔ اس کے بعد حضرت ایوب انصاری نے فوراً بکری کا ایک بچہ ذبح کیااور گھر والوں کو کہا کہ جلدی کھانا پکاؤ حضور کو بھوک لگی ہے۔ پھر وہ آپ کے پاس آکر بیٹھے ہی تھی کہ ان کی نظر آپ ﷺ کے چہرہ انور پر پڑتی ہے شدید بھوک اور نقاہت کے آثار دیکھ کر آپ لرز جاتے ہیں اور فوراً اٹھ کر باغ میں جاتے ہیں کھجور کا ایک خوشہ توڑ کر پیش کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ حضور جب تک کھانا تیار نہیں ہو جاتا آپ اسے تناول فرمائیں۔ بھر جب تھوڑی دیر بعد جب کھانا تیار ہو گیا اور آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے دسترخوان سے ایک روٹی اور گوشت کی چند بوٹیاں اٹھا کر ایک خادم کو دیا اور فرمایا کہ جاؤ میرے گھر یہ کھانا دے آؤ میری بیٹی فاطمہ کتنے دنوں سے بھوکی ہے۔

معزز قارئین! یہ اسلام کی غربت کی وہ دل آویز داستان ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن غربت و افلاس کے اس دور میں بھی اسلام اور مسلمان اس طرح ذلیل و خوار نہیں تھا جس طرح آج ہے۔ بلکہ اس دور میں بھی مسلمان سرخرو اور سر بلند تھا۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/muslims-need-to-reclaim-their-spiritual-values--2--زوال-بندۂ-مؤمن-کا-بے-زری-سے-نہیں/d/110451

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content