certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (11 Jul 2018 NewAgeIslam.Com)


Spiritual Significance of Repentance and its Guiding Principles in the Light of Sufi Discourse بزبانِ تصوف: سیر الی اللہ میں توبہ کے رہنما اصول اور ان کی روحانی اہمیت و افادیت

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

9 جولائی 2018

سید السالکین ، زبدۃ العارفین مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا مطالعہ ہر سالکِ راہ حق کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ راقم الحروف نے جس موضوع پر کسی مکتوب شریف کا مطالعہ کیا یہ پایا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایک مکتوب شریف شریعت و طریقت کا جامع اور معرفت الٰہیہ کا وہ بحر ناپیدا کنار ہے جس میں جتنا غوطہ لگایا جائے اتنا ہی عجز و تنگ دامنی کا احساس دامن گیر ہوتا ہے۔ اس کے ایک ایک حرف سے علم و معرفت کے چشمے جاری ہیں ۔

 آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف میں علمِ طریقت اور رازِ معرفت کے پیچیدہ ترین مسائل اس حسن و خوبی کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں کہ اس کے مطالعہ کے بعد دماغ پر کوئی بوجھ یا قلب میں کوئی تنگی باقی محسوس نہیں ہوتی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے شرابِ عرفانِ وحدۃ کی لطافتوں کو ایک ایسے عمدہ پیرایۂ بیان میں پیش کیا ہے کہ قاری کے فکر و عقیدے میں کوئی کجی باقی نہیں رہتی اور اہل علم کے بڑے بڑے تنازعات پل میں بے حقیقت معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اور دل بے ساختہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ معرفتِ توحید کا حق اگر کسی نے ادا کیا ہے تو وہ یہی روشن ضمیر صوفیائے کرام ہیں۔ اگر اس روئے زمین پر کوئی ایسا طبقہ ہے جس کی تعلیمات دل کو تائب ہونے پر مجبور کر دیں تو وہ صوفیائے کرام کا طبقہ ہے۔

اس مضمون میں جو مکتوب شریف زیر نظر ہے اس کے مطالعہ کے بعد یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گناہوں کی آلائش میں مبتلا کوئی شخص آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اس مکتوب شریف کا مطالعہ کرے اور اس کا دل زندہ ہو تو وہ توبہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا ، اور توبہ ہی ہر مقام کی کنجی اور ہرنیکی کی روح ہے۔ توبہ نصوحہ یعنی سچی توبہ کے بعد ہی سالک پر معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اور توبہ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کی توفیق جب بھی مل جائے غنیمت ہے ، اگر چہ زندگی کا آخری لمحہ ہی کیوں نہ ہو۔ زیر نظر مکتوب میں ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں :

‘‘پیرے نزدیکِ بزرگے آمد و گفت ایھا الشیخ ! گناہ بسیار دارم ، و میخواہم کہ توبہ کنم ، شیخ گفت کہ دیر آمدی پیر گفت نہ زود آمدم شیخ گفت کہ چیگونہ؟ پیر گفت ہر کہ پیش از مرگ بیاید اگر چہ دیر باشد زود آمدہ بود’’۔

ایک عمر درازشخص کسی بزرگ کے پاس گیا اورکہا کہ ائے شیخ میرے گناہوں کا کوئی شمار نہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ توبہ کر کے گناہوں سے پاک ہو جاؤں ، اس پر وہ بزرگ فرمانے لگے کہ تم نے توبہ کے دروازے پر آنے میں دیر کر دی تو اس (عقلمند) ضعیف شخص نے کہاں کہ نہیں مجھ سے اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ، بزرگ نے حیرت سے پوچھا کیوں؟ تو اس ضعیف کہا کہ توبہ ایک ایسی ابدی سعادت ہے کہ اگر موت سے پہلے بھی نصیب ہو جائے تو غنیمت ہے۔

یہ اس مکتوب شریف کا صرف ایک ایمان افروز اقتباس ہے ۔ انشاء اللہ اس مکتوب شریف کو کئی حصوں میں اردو ترجمہ ، قرآن و حدیث کے استدلال اور علم تصوف میں امہات الکتب کی مدد سے اس کے باریک نکات کی پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ آپ قارئین کی خدمت میں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کو تسہیل و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا خیال اس لئے پیدا ہو کہ اب تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کے جو تراجم اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں وہ اس تسہیل و تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں ، اس لئے اردو کے ایک عام قاری کا اسے پڑھنا اور اس سے درست معنیٰ اخذ کرنا قدرے دشوار ہے ، البتہ شریعت و طریقت کی باریکیوں سے بخوبی آگاہ علماء حق ان تراجم سے خوب سیرابی حاصل کرتے ہیں ۔

اس تحریر میں مکتوب شریف کے بعض مقامات کی مناسب تسہیل و تفصیل کے لئے بنیادی طور پر زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (متوفى 465 ہجری) کی فن تصوف میں امہات الکتب میں شمار کی جانے والی ایک مایہ ناز تصنیف رسالہ قشیریہ اور حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 465 ہجری) کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب سے استفادہ کیا گیا ہے۔چونکہ آپ دونوں بزرگ ہم عصر ہیں اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری کا ذکر اپنی تصنیف لطیف کشف المحجوب میں بڑے ادب اور اونچے القاب کے ساتھ کیا ہے۔ نیز بعد کے تقریباً تمام صوفیائے کرام نے ان دو عظیم ہستیوں کی تصنیفات سے بھر پور استفادہ کیا ہے ،لہٰذا راقم الحروف نے بھی ان کے تحریری شہ پاروں سے استفادہ کر کے اپنی بات مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔ زیر نظر مکتوب کی اصل فارسی عبارت بھی پیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ مضمون توبہ کے عنوان پر ایک مستند تحریر کی شکل اختیار کر سکے ۔ اس کا جو فارسی نسخہ مجھے دستیاب ہے وہ کافی قدیم اور بوسیدہ ہے جس پر مطبع علوی محمد علی بخش خان نقشبندی اور سن طباعت 1286 ہجری درج ہے۔ مطبع کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں مکتوب شریف کا فارسی متن پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مکتوب دوم ؛ در بیان توبہ

مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے اس مکتوب کے آغاز میں توبہ کی ضرورت اور سالکین راہ حق کے لئے اس کی اہمیت و افادیت پر استدلال کرتے ہوئے قرآن کی ایک آیت پیش کی اور فرمایا:

‘‘برادر عزیز شمس الدین کرمہ اللہ تعالیٰ بکرامۃ التائبین ، بدانکہ نخست این راہ توبۂ نصوح است چناکہ حق تعالیٰ فرمودہ است توبو الی اللہ جمیعاً ایھا لمؤمنون لعلکم تفلحون ۔’’

ترجمہ: میرے عزیز بھائی شمس الدین اللہ تمہیں تائبین کی شرف و بزرگی سے نوازے۔ جان لو کہ اس راہ (سلوک و معرفت) کی پہلی منزل ہی توبہ نصوحہ ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے : ‘‘‏‏وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ’’‏‏ ‏[سورۃ ‏النور‏:‏ 31‏]‏۔ترجمہ: اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ، (کنز الایمان)

توبہ کی ضرورت اور اس کی اہمیت و افادیت کے باب میں قرآن پاک کے اندر بے شمار مقامات پر اللہ کے احکامات موجود ہیں ، لیکن حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوب کے لئے صرف اسی آیت کریمہ کا انتخاب اس لئے کیا کہ اس آیت کی معنوی خوبی تمام آیتوں سے ممتاز ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گنہگار مؤمن بندوں کے لئے اللہ کی رحمتوں کا انداز اور اس کی کرم نوازیوں کا مزاج سب سے نرالا ہے۔

 صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما کر تمام گنہگار مؤمن بندوں کو اپنی شانِ ستاری کے پردے میں چھپا لیا ہے۔ اس لئے کہ اس آیت کریمہ میں تمام مؤمن بندوں کو توبہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں نیک اور بد کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔ اس کی جہاں دیگر کئی حکمتیں اور متعدد تفصیلات صوفیائے کرام نے بیان کی ہیں وہیں اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اگر صرف گنہگار بندوں کو یا امت کے صرف گنہگار طبقے کو ہی توبہ کرنے کا حکم دیا جاتا اور نیکوکاروں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا تو امت کے گنہگار افراد یا گنہگار طبقات نیک افراد یا نیک طبقات سے نمایاں ہو جاتے اور سرعام ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی۔ لیکن یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ اس نے بغیر کسی تمیز و امتیاز کے امت کے تمام افراد پر توبہ فرض قرار دیکر گنہگار بندوں کی پردہ پوشی فرمادی۔ توبہ سے متعلق دیگر احکامات و ہدایات درج ذیل ہیں:

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ (سورۃ التحریم: 08)

ترجمہ: ‘‘اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں’’۔ (کنز الایمان)

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللہِ وَیَسْتَغْفِرُوْنَہٗ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔(المائدۃ:74)

ترجمہ: تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے، اور اللہ بخشنے والا مہربان۔ (کنز الایمان)

وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (سورۃ الانعام:۵۴)

ترجمہ : ‘‘اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔’’ (کنز الایمان)

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (سورۃ النساء:۱۷)

حدیث قدسی

رسولُ اللهِ صَلّىَ اللهُ عَلَیہ وَسلم يَقُول:‏‏‏‏ " قَال اللهُ تبارك وتعالى:‏‏‏‏ يا اِبن آدم اِنَّك مَا دَعَوتَنی وَ رَجوتَنی غَفَرتُ لك عَلى ما كَان فَيك ولا ابالی يا اِبن آدم لَو بَلَغَت ذُنُوبك عنانَ السماءِ ثُم استغفرتَنی غَفَرتُ لَك و لا ابالی يا اِبن آدم اِنك لو اَتَيتنی بقراب الارض خطايا ثم لَقيتنی لاَ تُشرِك بی شَيئا لَاتيتك بقرابها مغفرة۔" (ترمذی: رقم الحدیث - 3540)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ‘‘اللہ نے فرمایا: ائے ابن آدم! بے شک جب تک تو میرے حضور التجائیں کرتا رہے گا اور میری ذات سے اپنی امیدیں وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا ، اگر چہ تیرے گناہ کثیر ہوں ، اور میں سب سے بے نیاز ہوں۔ ائے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کو پہنچ جائیں اور پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور میں سب سے بے نیاز ہوں۔ ائے ابن آدم! اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے اور پھر تو میری طرف طلبِ مغفرت کے لئے ہاتھ پھیلائے درآں حالیکہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں تیری طرف عطائے مغفرت کے ساتھ متوجہ ہوں گا’’۔

حدیث نبوی

فإن تاب واستغفر صقل قلبه (ترمذی)

ترجمہ: اگر انسان گناہوں سے توبہ کر لے تو اس کا دل چمک اُٹھتا ہے۔

زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (متوفى 465 ہجری) رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں:

فالتوبة أول مترل من منازل السالكين. وأول مقام من مقامات الطالبين. وحقيقة التوبة في لغة العرب: الرجوع، يقال: تاب أي رجع. فالتوبة الرجوع عما كان مذموماً في الشرع إلى ما هو محمود فيه. وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "الندم توبة". فأرباب الأصول من أهل السنةَّ قالوا: شرط التوبة، حتى تصح، ثلاثة أشياء: الندم على ما عمل من المخالفات. وترك الزَّلة في الحال. والعزم على أن لايعود إلى مثل ما عمل من المعاصي. فهذه الأركان لابد منها، حتى تصحَّ توبته۔(بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 95)۔

ترجمہ: پس توبہ سالکیِن (راہ حق) کی سب سے پہلی منزل ہے اور طالبینِ (حق تعالیٰ) کا سب سے پہلا مقام ہے۔ لغت عرب میں توبہ کی حقیقت ‘‘رجوع’’ لانا ہے، کہا جاتا ہے ‘‘تَابَ (اس نے توبہ کی)’’ یعنی ‘‘رَجَع (وہ رجوع لایا)’’۔ لہٰذا، توبہ در حقیقت رجوع کا نام ہے ان باتوں سے جنہیں شریعت مطہرہ نے مذموم و ممنوع قرار دیا ہے ان باتوں کی طرف جنہیں شریعت میں محمود و مستحسن قرار دیا گیا ہے۔ اور رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘‘الندم توبة’’ یعنی توبہ اپنے گناہوں پر اشک ندامت بہانے کا نام ہے۔ اہل اصول علمائے اہلسنت کا موقف ہے کہ ‘‘توبہ درست ہونے کے لئے اس کی تین شرطیں ہیں: (اول) شریعت مطہرہ کے خلاف انجام دئے گئے اعمال پر نادم و شرمندہ ہونا۔ (دوم) اپنی معصیتوں سے فوراً قطع تعلق کر لینا۔ (سوم) اور آئندہ ماسبق گناہوں کے ارتکاب نہ کرنے کا عزم مصمم کرنا۔ اور توبہ کی درستگی کے لئے یہ تینوں انتہائی ناگزیر ارکان ہیں’’۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين بن فورك، رحمه الله، قال: أخبرنا أحمد بن محمود بن خراّز قال: حدثنا محمد بن فضل بن جابر، قال حدثنا سعيد بن عبد الله قال: حدثنا أحمد بن زكريا، قال: سمعت أنس بن مالك يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم، يقول: "التائب من الذنب كمن لا ذنب له، وإذا أحبَّ الله عبداًلم يضره ذنب"، ثم تلا: "إن الله يحب التوّابين ويحب المتطهرين"، قيل: يا رسول الله، وما علامة التوبة؟ قال "الندامة"(بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 95)۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ‘‘معصیت سے تائب ہونے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے ذمے کوئی گناہ نہیں۔ اور جب اللہ کسی (خاص) بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچاتا’’، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ‘‘(إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِين 2:222) ترجمہ: بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو۔ کنز الایمان’’۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ توبہ کی علامت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ‘‘توبہ کیا علامت ندامت ہے (یعنی بندے کے اندر ماسبق گناہوں پر احساسِ ندامت و شرمندگی پیدا ہو جائے)’’۔

أخبرنا عليُّ بن أحمد بن عبدان الأهوازي، قال: أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عبيد الصفار، قال: أخبرنا محمد بن الفضل بن جابر قال: أخبرنا الحكم بن موسى، قال: حدّثنا غسّان بن عبيد عن أبي عاتكة طريف بن سليمان، عن أنس بن مالك۔ أن النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم، قال: "ما من شيء أحب إلى الله من شاب تائب"(بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 95)۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ‘‘اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے والے نوجوان سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہیں’’۔

قرآن مقدس کی مذکورہ آیات کریمہ اور احادیث نبویہ کے اس قدر ذکر سے اب اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ گناہوں سے نجات اور بلندی ٔدرجات کا راستہ سچی توبہ کے بغیر نہیں کھلتا۔ اب ہم مکتوب شریف کا اگلا حصہ مطالعہ کرتے ہیں:

‘‘این آیۃ در حق صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نازل شدہ است و ایشان خود ہمہ تائبین بودہ اند و از کفر اعراض کردہ وبایمان اقبال نمودہ و پشت بگناہ دادہ و روے بطاعت آوردہ، پس بدیں امر کہ توبوا ہمہ را میفرماید معنیٰ چہ بود از بزرگی این مسئلہ پرسیدند گفت کہ توبہ پر ہمہ فریضہ است در ہر ساعت و در ہر نفس اما برکافران فریضہ است کہ ز کفر توبہ کنند و بایمان در آیند و بر عاصیان فریضہ است کہ از معصیت توبہ کنند و بطاعت در آیند و بر محسنان فریضہ است کہ از حسن باحسن در آیند و بر واقفان فریضہ است کہ نہ ایستند و بروش آیند و بر مقیمان آب و خاک فریضہ است کہ از حضیض سفلی باَوج علوی بر آیند ہران روندہ کہ در مقامی مقام کند آن مقام اورا گناہ بود ازانش توبہ باید کرد’’۔

ترجمہ: یہ آیت کریمہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی ہے ، (جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ )وہ (نفوس قدسیہ) ہمہ تن تائب اور رجوع الی اللہ لانے والے تھے۔ شائبہ کفر سے بھی بچنے والے تھے اور ایمان کی دولت سے مالا مال تھے۔ انہوں نے گناہوں کو ٹھوکریں مار دی تھیں اور سراپا طاعت و فرماں برداری کا مجسمہ بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا ، ایک بزرگ سے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ‘‘وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا’’، ‘‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو’’ اس کا کیا معنیٰ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تو بہ ہر لحظہ ہر فرد بشر پر فرض ہے؛ کافروں پر فرض ہے کہ کفر سے توبہ کریں اور ایمان لے آئیں ، گنہگاروں پر فرض ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کریں، محسنین (نیکوکارں اور متقیوں) پر فرض ہے کہ وہ (افعال) حسنہ سے احسن کی طرف قدم بڑھائیں ، عرفاء (واقفانِ اسرارِ الٰہیہ) پر فرض ہے کہ وہ اپنے ایک ہی مقام پر جمے نہ رہیں بلکہ (سالکان راہ حق کی) روش اختیار کریں (یعنی توبہ کے ذریعہ اپنے موجودہ مقام سے اعلیٰ مقام کی طرف ترقی کریں) اور آب و گِل کے مکینوں (انسانوں) پر فرض ہے کہ وہ پستی سے بلندی کی طرف پرواز کریں۔ جس سالک کو جو مقام حاصل ہو اس پر اس کا رکنا گناہ ہے جس سے اسے توبہ کرنا چاہئے۔

تشریح:

مذکورہ بالا اقتباس میں مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے توبہ کا ایک وسیع ترین تصور پیش کیا ہے جس میں ہر فرد بشر شامل ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا ، کیا نیک کیا بد ، کیا مؤمن کیا کافر اور کیا عالم کیا جاہل -تو بہ سے کسی کورخصت نہیں۔ کافر کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے کفر سے تائب ہو کر دائرہ ایمان میں داخل ہو جائے۔ معصیت و نافرمانی کے راستے پر چلنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ معصیت سے تائب ہو کر نیکی کا راستہ اختیار کریں۔ اللہ کے نیک اور اطاعت شعار بندوں پر ضروری ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو خلوص و للٰہیت کے زیور سے آراستہ کریں اور توبہ کے ذریعہ ‘‘احسن تقویم’’ کا جوہر حاصل کرنے کی تگ دو میں لگے رہیں۔ اور جو احسن تقویم کا جوہر حاصل کر چکے ہیں اور معرفت الٰہیہ کی شرابِ لذت آشناں سے محظوظ ہو چکے ہیں ان کے لئے توبہ و استغفار کا دامن چھوڑنا ہلاکت سے خالی نہیں۔ اس قضیہ کی بہتر توضیح حضرت علی بن عثمان جلابی المعروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب کی درج ذیل عبارات سے ہوتی ہے ، آپ فرماتے ہیں:

و بدانکہ توبہ اندر لغت بمعنی رجوع باشد؛ چنانکہ گفت: (تابَ، ای رَجَعَ) پس بازگشتن از نہی خداوند بدانچہ خوب ست از امر خداوند حقیقت توبہ باشدو پیامبر گفت، ﷺ: (النَّدَمُ تَوْبةٌ۔ پشیمانی توبہ باشد) و این قولی است کہ شرائط توبہ بجملہ اندر این مودَع است؛ از آنچہ یک شرطِ توبہ اسف است بر مخالفت و دیگر اندر حالِ ترک ذلّت، و سیوم عزم معاودت ناکردن بمعصیت و این ہر سہ شرط اندر ندامت بستہ است؛ کہ چون ندامت حاصل شد اندر دل این دو شرط دیگر تبع او باشد (بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322-321۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المضفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

ترجمہ: معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ کا لغوی معنیٰ رجوع کرنا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے اس نے توبہ کیا یعنی اس نے رجوع کیا۔ لہٰذا ، توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ جو شئی اچھی لگے لیکن اللہ کی طرف سے ممنوع ہو اس سے اللہ کے حکم کی بنیاد پر منھ پھیر لیا جائے۔پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا (النَّدَمُ تَوْبةٌ،توبہ ندامت سے عبارت ہے)۔ اور یہ توبہ کی ایک ایسی تعبیر ہے کہ جس میں توبہ کے تمام شرائط جمع ہیں۔ توبہ کی ایک شرط معصیت ونافرمانی پر اظہار ندامت ، دوسری شرط ترکِ حالت پر ذلت محسوس کرنا اور تیسری شرط دوبارہ اس گناہ کے ارتکاب نہ کرنے کا عزم مصمم کرنا ہے۔ اور توبہ کی یہ تینوں شرطیں ندامت کے اندر موجود ہیں۔ کیوں کہ جب ندامت کی توفیق حاصل ہو جاتی ہے تو توبہ کی پہلی دو شرطیں اور ان کی ضمن میں تیسری شرط بھی پالی جاتی ہے۔

‘‘و ندامت را سہ سبب باشد؛ چنان‌کہ توبہ را سہ شرط ، یکی چوں خوفِ عقوبت بر دلِ سلطان شود و اندوہ کردھا بر دل صورت گیرد ندامت حاصل آید و دیگر ارادتِ نعمت بر دل مستولی گردد و معلوم شود کہ بفعل بدو بےفرمانی آن نیابد از بد پشیمان شود، و سہ دیگر شرم خداوند شاہد وی شود و از مخالفت پشیمان گردد، پس از ین ہر سہ یکی تائب بود و یکی منیب و یکی اواب’’۔(بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322-321۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المضفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

ترجمہ : جس طرح توبہ کی تین شرطیں ہیں اسی طرح ندامت کی بھی تین شرطیں ہیں۔ اول، جب دل پر سزا کا خوف غالب آتا ہے اور اعمالِ بد پر انسان کا دل آزردہ ہوتا ہے تو ندامت کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ دوم، جب کسی خاص نعمت کی خواہش دل میں جم جائے اور اس بات کا علم ہو کہ وہ جن گناہوں اور نافرمانیوں میں مبتلاء ہے ان کے سبب اسے وہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی تو ان گناہوں پر اس کی آنکھوں سے اشک ندامت جاری ہو جاتے ہیں۔ سوم، بندے کے دل میں خدا کا حیاء پیدا ہو تا ہے اور (وہ خدا کی بارگاہ میں اس حیاء کی بنیاد پر) اپنے گناہوں پر نادم ہو ہو تا ہے۔ پہلے طبقے کو تائب ، دوسرے کو منیب اور تیسرے طبقے کو اوّاب کہا جاتا ہے۔

‘‘و توبہ را نیز سہ مقام است توبہ و دیگر انابت و دیگر اوبت۔ پس توبہ خوفِ عقاب را بود، إنابت طلب ثواب را و اوبت رعایتِ فرمان را۔ از آن‌چہ توبہ مقامِ عامۂ مؤمنان ست و آن از کبیرہ بود؛ چناکہ گفت خدای عزوجل : «یا ایّہا الّذینَ امَنُوا تُوبُوا إلی اللّہ۔ الآیۃ (التحریم/8)۔» و اِنابت مقام اولیاء و مقربان؛ چنانکہ خداوند گفت : «مَنْ خشِیَ الرّحمنَ بِالْغَیْبِ وجاءَ بِقَلْبٍ مُنیبٍ (ق/33)۔» و أوبت مقام انبیاست و مرسَلان است ؛ چنانکہ خداوند گفت عزو جل: «نِعْمَ الْعَبْدُ إنَّہ أوّابٌ (ص/30)’’۔»(بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322-321۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المضفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

ترجمہ: اسی طرح توبہ کے بھی تین درجات ہیں۔ اول توبہ ، دوم انابت اور سوم اوبت۔ لہٰذا جب یہ عقوبت اور سزا کے خوف سے ہو تو توبہ ہے، جب حصول ثواب کی نیت سے ہو تو انابت ہے اور اللہ کے فرمان کی رعایت میں ہو تو اوّابت ہے۔ اسی وجہ سےتوبہ عام مؤمن بندوں کا مقام ہے جو کہ کبائر گناہوں سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: «یا ایّہا الّذینَ امَنُوا تُوبُوا إلی اللّہ۔ الآیۃ (ترجمہ: ‘‘اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔) (ترجمہ ، کنز الایمان ۔سورۃ التحریم/8)»۔ انابت اولیاء اور مقربان بارگاہ ایزدی کا مقام ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: «مَنْ خشِیَ الرّحمنَ بِالْغَیْبِ وجاءَ بِقَلْبٍ مُنیبٍ (ترجمہ: جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا۔) (ترجمہ ، کنز الایمان۔سورۃ ق/33)»۔ اور اوّابت انبیائے کرام اور رسولان عظام کا مقام ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: «نِعْمَ الْعَبْدُ إنَّہ أوّابٌ (ترجمہ: کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا۔) (ترجمہ ، کنز الایمان۔سورۃ ص/30)’’۔»

‘‘پس توبہ رجوع بود از کبائر بطاعت، و انابت رجوع از صغائر بمحبت و أوبت رجوع از خود بخداوند۔ فرق است میانِ آن کہ از فواحش باوامر رجوع کند و از آنِ آنکہ از لَمَم و اندیشۂ فاسد بمحبت رجوع کند و میانِ آنکہ از خودی خود بحق رجوع کند’’۔(بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322-321۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المضفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

ترجمہ: حاصل یہ کہ اللہ کی اطاعت شعاری میں کبائر گناہوں سے رجوع لانا توبہ ہے ، اوراللہ کی محبت میں صغائر گناہوں سے رجوع لانا انابت ہے اور (کبائر و صغائر سے پاک ہو کر) از خود خدا کی طرف رجوع لانا اوّابت ہے۔(نیز) فواحش و منکرات سے اوامر کی طرف رجوع کرنے میں ، اور اللہ کی محبت میں صغیرہ گناہوں اور فاسد خیالات سے رجوع لانے میں اور اپنی خودی سے نکل کر حق تعالیٰ کی طرف رجوع لانے میں فرق ہے۔

زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (متوفى 465 ہجری) رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں:

سمعت الأستاذ أبا علي الدقاق، رحمه الله تعالى، يقول: التوبة على ثلاثة اقسام: أولها التوبة، وأوسطها الإنابة، وآخرها الأوبة. فجعل التوبة بداية، والأوبة اية، والإنابة واسطنهما. فكلُّ ما تاب لخوف العقوبة فهو صاحب إنابة. ومن تاب مراعاة للأمر لا للرغبة في الثواب أو رهبة من العقاب فهو صاحب أوبة. ويقال أيضاً: التوبة صفة المؤمنين، قال الله تعالى: "وتوبوا إلى الله جميعاً أيه المؤمنون". والإنابة: صفة الأولياء والمقربين، قال الله تعالى: "وجاء بقلب منيب". والأوبة: صفة الأنبياء والمرسلين، قال الله تعالى: "نعم العبد إنه أواب"(بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98-97)۔

ترجمہ: میں نے استاذ ابو علی الدقاق رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ‘‘توبہ کے تین مقامات ہیں ، الاول (توبہ) ، الثانی (انابت) ، الثالث (اوبت)’’۔ سب سے پہلا مقام ‘‘توبہ’’ ہے، اور سب سے آخری مقام ‘‘اوبت’’ ہے، اور ‘‘انابت’’ ان دونوں کے درمیان کا مقام ہے۔ اور ہر وہ شخص جو خوف الٰہی کی بنیاد پر توبہ کرے وہ ‘‘منیب’’ کہلاتا ہے، اور جو صرف احکام الٰہیہ کی رعایت کرتے ہوئے توبہ کرے اور اس کے پیش نظر نہ تو ثواب کی لالچ ہو ا اور نہ ہی عذابِ الٰہی کا خوف وہ ‘‘آئب’’ کہلاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ توبہ مؤمنوں کی ایک صفت ہے۔ اللہ کا فرمان ہے ‘‘اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب ، (سورۃ النور-ترجمہ :کنز الایمان)’’۔ انابت اولیاء صلحاء اور مقربین بارگاہ کی صفت ہے، اللہ فرماتا ہے ‘‘اور رجوع کرتا ہوا دل لایا’’ ، (سورۃ ق-ترجمہ :کنز الایمان کنز الایمان)۔ اور اوبت انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ و التسلیم کی صفت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ‘‘کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا’’ ، (سورۃ ص-ترجمہ :کنز الایمان کنز الایمان)۔

اس قدر تفصیل کے بعد اب عام گنہگار مؤمن بندوں کی توبہ ، نیک و صالح مؤمن بندوں کی توبہ اور انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ و التسلیم کی توبہ کے حوالے سے تمام عقدے حل ہو جاتے ہیں اور اس کا معنیٰ و مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔

مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

‘‘وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون سر این معنیٰ ست مقصود آنکہ در ہر مرتبہ کہ ہستی ازان مرتبہ برتر دیگر است ازان مرتبہ برآمدن و درین مرتبہ درآمدن فریضہ بودد اگر نہ از سلوک باز مانی ۔

ترجمہ: (اللہ کے فرمان) وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون کا راز یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سالک (ریاضت و مجاہدات کی سواری سے پراواز کر کے ) جس مقام پر کمند ڈالتا ہے (وہ اس کے سفر کی انتہاء نہیں ہے بلکہ ) اس سے بھی آگے ایک اعلیٰ مقام موجود ہے، اور (سالک کے لئے) اپنے موجودہ مقام سے نکلنا اور اس سے اعلیٰ مقام حاصل کرنا (راہِ سلوک و معرفت میں) فرض ہے ورنہ سفر ِسلوک (اور سیر الی اللہ) ناقص و ناتمام رہے گا۔

تشریح:

مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سالک راہ حق کا کسی ایک روحانی مقام پر قیام کرنا خسارے کا سودا ہے۔ اور سیر الی اللہ میں اس خسارے سے دامن بچا کر اسفل سے اعلیٰ مقام کی طرف کوچ کرنے کا سب سے محفوظ ، مستند اور معتبر راستہ توبہ کا راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایات صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام رحمت عالمین ﷺ ہر دن ستر مرتبہ توبہ و استغفار کیا کرتے تھے ، اس لئے کہ اللہ رب العزت کا آپ ﷺ سے یہ وعدہ ہے ‘‘وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی(93:4)’’ ترجمہ : آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے’’۔

یہاں ایک لطیف نکتے کی وضاحت میں ضروری سمجھتا ہوں کہ تقرب الی اللہ اور روحانی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے عام انسانوں سے اونچا مقام اولیاء اللہ کا ہے اور اقطاب ، ابدال ، افراد ، شہداء اور صدیقین و صالحین تمام اسی طبقۂ اولیاء میں شمار کئے جاتے ہیں اور دائرہ ولایت کے اندرہی ان تمام کے حسب مراتب مقامات ہوتے ہیں ، ان کے بعد کائنات میں عرفانِ الٰہی اور تقرب الی اللہ کے اعتبار سے سب سے اونچا مقام انبیاء و مرسلین کا ہے اور باتفاقِ امت ان تمام انبیاء و مرسلین میں سب سے اونچا مقام و مرتبہ پیغمبر اسلام ﷺ کا ہے۔ نفس نبوت و رسالت میں تمام انبیاء و مرسلین برابر ہیں لیکن مقام و مرتبہ اور تقرب کے اعتبار سے نبوت و رسالت کا کمال نقطۂ وجود محمدی ﷺ ہے۔ اور اللہ نے قرآن میں آپ ﷺ کے اسوۂ مبارکہ کو ہمارے لئے قابل تقلید قرار دیا ہے۔ اسی لئے صوفیائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ اگر سالک توبہ و استغفار کے ذریعہ رجوع الی اللہ بجا لائے تو آپ ﷺ پر اللہ کے انعامِ خاص (‘‘وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی(93:4)’’ ترجمہ : آپ کی ہر آنے والی گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے۔)کا فیض اسے بھی نصیب ہوتا ہے اور اس کے بھی روحانی مقامات بلند ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

‘‘آنکہ موسیٰ علیہ السلام گفت تُبتُ اِلیکَ توبہ از خود بود بحق ازانچہ رویت باختیار خود خواست و اندر دوستی اختیار آفت است۔ پس این بازگشتن بود زِ حسن باحسن وآنکہ حضرت رسالت پناہ ﷺ گفت انی لاستغفر اللہ فی کل یوم سبعین مرۃ این استغفار است از صواب بہ اصوب بہر نفسے از مرتبہ بمرتبہ نقل فرمودی و خود را در مرتبہ اول مقصر دیدے بجنب مرتبہ مرتبہ دوم استغفار کردی اینست معنیٰ آنکہ حسنات الابرار سیٔات المقربین توبہ بحقیقت رجوع آمد و لیکن صفت رجوع مختلف بمقدار اختلاف احوال و مقامات عام را از جفا بعذر باز گشتن بیم عقوبت را و خواص را از افعال خویش بازگشتن بدیدن منت تعظیم مخدوم را و خواصِ خواص را از کل کونین بازگشتن و عجز و فنا و عدم ایشان دیدن اجلالِ مکونِ کون را’’۔

ترجمہ:‘‘موسیٰ علیہ السلام نے (کوہ طور پر غشی سے افاقہ ہونے پر ) جو ‘‘تُبتُ اِلیکَ ، میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں’’ کہا وہ خود ان کی اپنی ذات سے توبہ تھی اس لئے کہ انہوں نے اپنی مرضی اوراختیار سے رویت محبوب کا مطالبہ کیا تھا ، جبکہ اللہ کی دوستی (دعویٔ محبت) میں اختیار (اپنی مرضی کا باقی رہنا) آفتِ جان ہے۔ پس (موسیٰ علیہ السلام کا توبہ کے ذریعہ) اپنے اس (دیدارِ الٰہی کی گذارش کے) عمل رجوع کرنا عملِ حَسَن سے عملِ اَحسَن کی طرف منتقل ہونا تھا۔ اور پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ فرمانا کہ ‘‘انی لاستغفر اللہ فی کل یوم سبعین مرۃ، ترجمہ : میں ہر دن ستر مرتبہ توبہ کرتا ہوں’’، ہر لمحہ آپ ﷺ کے علو درجات کی دلیل ہے ، (اس لئے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر آن اور ہر لمحے ترقی درجات میسر ہے ، اور آپ جب بھی اپنے پہلے مرتبے سے عرج کر کے دوسرے مرتبے پر پہنچتے تو اپنے پہلے مرتبے کو اس دوسرے کے مقابلے میں کمتر پاتے اور اپنے پہلے مقام سے توبہ کرتے۔ اس سے اس قول کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ ‘‘حسنات الابرار سیٔات المقربین، ترجمہ: جو نیکوکاروں کے لئے نیکی ہے وہ مقربین بارگاہ کے لئے گناہ ہے’’۔ اور توبہ کی حقیقت (اللہ کی طرف) رجوع لانا ہے ، لیکن اس (رجوع الی اللہ) کی نوعیتیں لوگوں کے احوال اور (روحانی) مقامات کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔ عوام کی توبہ (گناہوں سے) نفس پر ظلم کے باعث عقابِ الٰہی کے خوف سے ہے۔ اور خواص (صالحین) جب توبہ کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر یہ امر ہوتا ہے کہ اللہ کے جتنے انعامات اور احسانات ہیں اس اعتبار سے حق بندگی ہم سے ادا نہ ہو سکا۔ اور خاص الخاص (مقربینِ بارگاہ) کی توبہ پوری کائنات سے منھ پھیر لینا اور خود کو (اللہ کے سامنے) عاجر و فانی تصور کرنااور اس بات پر اشک ندامت بہانا ہے کہ ہم سے خالقِ کون مکاں کی عظمت و جلال سے غفلت کیوں سرزد ہوئی’’۔

مکتوب شریف کے اس اقتباس سے اب یہ بات متحقق ہو گئی کہ توبہ رجوع الی اللہ کا نام ہے۔ اور مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہر انسان کی توبہ مختلف ہوتی ہے۔ عوام کی توبہ دار المعصیت (گناہوں کی دنیا) سے دار الاطاعت (اطاعت و فرمانبرداری کی دنیا) کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ خواص یعنی نیک بندوں کی توبہ اللہ کے انعامات اور احسانات کے سامنے اپنے اعمال اور اپنی نیکیوں کو کمتر اور حقیر جاننا ہے۔ اور خواص الخاص یعنی مقربین بارگاہ کی توبہ ذات وحدہ لا شریک کے سامنے خود کو عاجز اور معدوم سمجھنا اور خود اپنے وجود کو ایک گناہ تصور کرنا ہے۔ اسی کے حوالے سے مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے اسی مکتوب میں حضرت جنید بغدادی کا ایک قول نقل فرماتے ہیں:

اِذاَ قُلتُ ما اَذنَبتُ قالتْ محبتہ                        وُجودُکَ ذَنب لَا یُقاسُ بِھا ذَنب

ترجمہ: جب (محبت کی وارفتگی میں بے خود ہو کر) میں نے پوچھا کہ میرا گناہ کیا ہے، تو اس کی محبت کی (شوخی) نے جواب دیا کہ تیرا وجود ہی خود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے مقابلے میں تمام گناہ کمتر ہیں)۔ حضرت جنید بغدادی کے اس قول سے صوفیائے کرام جو معانی اخذ کرتے ہیں ان میں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ اس شعر میں ‘‘وجود’’ سے مراد انسان کا نفس یعنی ‘‘اَنانیت -ego’’ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک سالک کے اندر انانیت یا خودبینی کا حجاب موجود ہے وہ منزل مقصود کو نہیں پا سکتا۔ وصول الی اللہ چاہنے والے کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے نفس کے حصار سے باہر نکل آئے اور اللہ کی مرضی میں خود کو فنا کر دے۔

ایک مشہور مقولہ ہے ‘‘حسنات الابرار سیٔات المقربین، ترجمہ: جو نیکوکاروں کے لئے نیکی ہے وہ مقربین بارگاہ کے لئے گناہ ہے’’۔ ہم جیسے (بزعم خویش) نیک لوگ جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو دل میں یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا دامن نیکیوں کے نور سے معمور ہے، اور ہم اسی خیال میں مگن رہتے ہیں۔ ہم جب فرائض و واجبات کی پابندی کرنے لگتے ہیں تو ہمارے نفس میں ایک عُجب پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم تقویٰ و طہارت والے ہیں ، ہم جیسا کون ہے! اور جب اولیاء ، صلحاء اور مقربانِ بارگاہ نیکیاں کرتے ہیں تو ان کا دل ہمیشہ اس اندیشہ سے بوجھل رہتا ہے کہ نفس کی کوتاہیوں نے ہمارے اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جانے کے قابل بننے دیا ، یا نہیں! وہ جب کوئی عبادت ادا کرتے ہیں تو ان کا وجود سراپا اس فکر میں غرق ہوتا ہے کہ حقِ بندگی ادا ہوئی ، یا نہیں! اسی طرح ان کی عبادتیں اور نیکیاں جتنی زیادہ بڑھتی جاتی ہیں اسی قدر نفس کی کوتاہیوں کا ادراک گہرا ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ اپنی ہر نیکی کو بایں معنیٰ گناہ تصور کرنے لگتے ہیں کہ ہم اپنی نیکیوں اور عبادتوں کے ذریعہ میں حقِ عبودیت ادا کرنے سے قاصر رہے۔

حضرت علی بن عثمان الجلابی معروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اپنی معرکۃ الآرا تصنیف کشف المحجوب میں ارشاد فرماتے ہیں:

‘‘پس توبہ بر سہ گونہ باشد: یکی از خطا بصواب و دیگر از صواب باصوب و سیوم از صواب خودیٔ خود بحق تعالیٰ۔ انکہ از خطا بصواب بود آنست کہ خدا گفت عز و جل: « وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔ (۱۳۵/آل عمران).» و از صواب باصوب تر آن کہ موسی گفت: «تُبْتُ الیک (۱۴۳/الأعراف).» و از خود بحق آنکہ پیغمبر گفت ﷺ : «و إنّہ لَیَغانُ عَلی قَلْبی و انّی لأسْتَغْفِرُ اللّہ کُلِّ یَوْمٍ سَبْعینَ مَرَّةً.» ارتکاب خطا زشت است و مذموم و رجوع از خطا بصواب خوب و محمود ، این توبۂ عام ست و حکمِ این ظاہر ست، و تا اصوَب باشد با صواب قرار گرفتن وَقْفَت است و حجاب؛ و رجوع از صواب باصوب اندر درجۂ اہل ہمت ستودہ باشد و این توبۂ خاص باشد و محال باشد کہ خواص از معصیت توبہ کنند’’ (بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 325-324۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المظفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔۔

ترجمہ: توبہ (بمعنیٰ رجوع) تین طرح کی ہوتی ہے: ایک راہِ خطا سے راہِ صواب کی جانب ؛ دوسری راہِ صواب سے اصوب (زیادہ بہتر) کی جانب ؛ اور تیسری اپنی خودی (اپنی ذات) سے حق تعالیٰ کی جانب۔ راہِ خطاء سے راہِ صواب کی طرف توبہ اللہ کے اس فرمان سے ثابت ہے:« وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔ ترجمہ: ‘‘اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے’’، ترجمہ ؛ کنز الایمان، (۱۳۵/آل عمران)۔» راہِ صواب سے اصوب کی جانب توبہ قرآن میں موسیٰ علیہ اسلام کے اس بیان سے ثابت ہے: «تُبْتُ الیک ترجمہ: ‘‘میں تیری طرف رجوع لایا’’، کنز الایمان (۱۴۳/الأعراف)۔» اور اپنی خودی (اپنی ذات) سے حق تعالیٰ کی جانب توبہ کی مثال پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ قول ہے کہ: ‘‘إنه ليغان على قلبي، وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة [مسلم: 7033]۔ ترجمہ: میرے قلب پر ابر چھاتا ہے تو میں دن بھر میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں’’۔ معصیت کا ارتکاب ایک مذموم عمل ہے اور معصیت سے صواب کی طرف رجوع لانا پسندیدہ عمل ہے ، یہ عام لوگوں کی توبہ ہے اور اس کا حکم واضح ہے۔ اور راہ صواب سے (توبہ کر کے) راہِ اصوب پر توقف حجاب ہے۔ اور راہِ صواب سے اصوب کی طرف رجوع لانا مردان حق کا کام ہے اور یہ خاص بندگانِ خدا کی توبہ ہے ۔ اور یہ (تصور) محال ہے کہ خاص بندگانِ خدا گناہوں سے توبہ نہ کریں۔

 توبہ کے ایک انتہائی اہم پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘چون این معاملہ معلوم شد باید دانست کہ تابید در توبہ شرط نیست بعد آنکہ عزیمت کرد کہ بدان گناہ باز نگردد و اگر تائب را فتورے پیش آید کہ باز بمعصیت افتد اندران ایام گذشتہ حکمِ ثوابِ توبہ یافتہ باشد۔ و از تائبانِ این طائفہ بودہ اند کہ توبہ کردہ اند و باز بمعصیت افتادہ انگاہ باز بدرگاہ آمدہ اند، تا یکی از مشائخ گفتہ است رحمۃ اللہ علیہ کہ من ہفتادہ بار توبہ کردم باز بمعصیت افتادم تا ہفتادیکم باز استقامت یافتم کہ پیش نیفتادم۔ و نیز گفتہ اند یکی از معصیت توبہ کردہ بود و باز در معصیت افتادہ انگاہ پشیمان شد روزی باخود گفت اگر بدرگاہ باز آیم ندانم حالم چگونہ بود ، ہاتفے آواز داد اطعتنا فشکرناک ثم ترکتنا فامھلناک فان عدت الینا قبلناک مارا اطاعت داشتی ترا شکر دادیم ، باز بیوفائی کردی و مارا بگذاشتی ما ترا مہلت اکنون اگر باز آئی بآشتی قبول کنم’’۔

ترجمہ: جب (توبہ کے بارے میں) یہ جان چکے تو تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ میں دوام شرط نہیں ہےکہ جس گناہ سے توبہ کی جائے اس کا ارتکاب زندگی بھر نہ ہو، (بلکہ بعد میں) اگر تائب بہک جائے اور وہ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو (دوبارہ گناہ کے ارتکاب سے قبل تک وہ تائب تھا اور اس مدت میں) اسے توبہ کا اجر ملے گا۔ اس جماعت (صوفیاء) میں بھی ایسے تائب ہو گزرے ہیں جو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد پھر گناہوں میں مبتلاء ہوئے اور پھر توبہ بجا لائے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے (اپنے گناہوں سے) ستر مرتبہ توبہ کی اور ہر بار (توبہ کے بعد) گناہوں میں مبتلا ہوتا رہا، یہاں تک کہ جب میں نے اکھترویں مرتبہ توبہ کی تو مجھے (اپنی توبہ پر) استقامت نصیب ہوئی اور اس کے بعد پھر گناہوں کی طرف میرے قدم نہیں اٹھے۔ ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے توبہ کی لیکن دوبارہ معصیت میں مبتلا ہو گئے، (جب) انہیں اس پر سخت ندامت و پشیمانی ہوئی تو ایک دن انہوں نے دل ہی دل میں کہا کہ اگر اب بھی اللہ کی بارگاہ میں رجوع لاؤں تو (خدا جانے) میرا کیا حال ہو! (دل میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ) غیب سے ندا آئی ‘‘اطعتَنَا فَشَکرنَاکَ ثُم تَرَکتَنا فَاَمْھلناَکَ فان عدت اِلینا قبلناک’’، ترجمہ: تو نے میری اطاعت کی میں نے تجھ پر اپنا فضل کیاپھر تونے میری اطاعت و فرمانبرداری سے رو گردانی کی میں نے تجھے مہلت عطاء کی ، اب اگر تو پھر (اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ) میری طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو (جان لے کہ میرا در اب بھی کھلا ہے) میں صلح کے ساتھ تیری اطاعت قبول کر لوں گا۔

مذکورہ بالا اقتباس میں مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے بنیادی طور پر ایک انتہائی اہم سوال کا جواب پیش کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ‘‘کیا توبہ کی قبولیت اور اس کی درستگی کے لئے اس پر دوام شرط ہے، اگر توبہ کرنے کے بعد بھی کسی شخص سے دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب ہو جائے جس سے اس نے توبہ کی تھی تو کیا اسے تائبین کے گروہ میں شمار کیا جائے گا ؟ کیا اس صورت میں اسے توبہ کا ثواب ملے گا؟’’ مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہاں! اس صورت میں بھی اسے توبہ کا ثواب ملے گا اور اسے تائبین کے گروہ میں شمار کیا جائے گا۔ اس لئے کہ توبہ کی قبولیت اور اس کی درستگی کے لئے اس پر دوام کوئی شرط نہیں ہے ۔

اور یہی بات حضرت علی بن عثمان الجلابی معروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنی معرکۃ الآرا تصنیف کشف المحجوب میں فرماتے ہیں:

‘‘و روا باشد بنزدیک اہل سنت و جماعت و جملہ مشائخِ معرفت کہ کسی از یک گناہ توبہ کند و گناھان دیگر می‌کند، خدای تعالی بدانچہ وی از آن یک گناہ باز بردہ است او را ثواب دہد و باشد کہ ببرکت آن از گناہانِ دیگرش باز ماند۔’’ (بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المظفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)

ترجمہ: علمائے اہلسنت اور جملہ مسائخ طریقت و معرفت کے نزدیک یہ جائز ہے کہ بندہ کسی ایک گناہ سے تو تائب ہو لیکن کسی دوسرے گناہ میں مبتلاء ہو ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس ایک مخصوص گناہ سے باز رہنے کا ثواب اسے عطا فرمائے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ اس ایک گناہ سے تائب ہونے کی برکت سے اسے دیگر گناہوں سے بھی بچنے کی توفیق نصیب ہو جائے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

‘‘بدانکہ توبہ را شرط تأیید نیست؛ از بعد آنکہ عزم بر رجوع ناکردن بمعصیت درست باشد۔ و اگر تایبی را فترتی بیفتد و بمعصیت باز گردد بہ صحت عزم، اندر آن ایامِ گذشتہ حکم و ثواب توبہ یافتہ باشد۔ و از مبتدیان و تایبان این طایفہ بودند کہ توبہ کردہ اند و باز فترتی بیفتاد است شان و بخرابی بازگشتہ اند، آنگاہ باز بحکم تنبیہی بدرگاہ آمدہ اند’’۔( بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 322۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المظفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)

ترجمہ: ‘‘تمہیں معلوم ہو کہ توبہ (کی درستگی) کے لئے اس پر دوام شرط نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی توبہ کے بعد بھی معصیت کا ارتکاب کر بیٹھے۔ اور اس کے بعد پھر وہ گناہوں سے باز آ جائے تو ان (گناہوں کے ارتکاب سے قبل کے) گزشتہ ایام میں اسےتوبہ کرنے والا شمار کیا جائے گا اور اسے توبہ کا ثواب بھی حاصل ہو گا۔ (سفرِ طریقت و معرفت) کا آغاز کرنے والوں اور (عرفاء و صلحاء کی) اس جماعت میں ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں کہ توبہ کرنے کے بعد بھی ان سے گناہ سرزد ہوئے۔ لیکن شعورِ ندامت بیدار ہونے کے بعد وہ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع لے آئے’’۔

حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (المتوفى: 465 ہجری ) رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں:

وحقه أن يكون مستحقاً لمحبة الحق وإلى أن يبلغ العاصي محلاً يجد في أوصافه أمارة محبة االله إيه مسافة بعيدة، فالواجب إذن على العبد إذا علم أنه أرتكب ما تجب منه التوبة دوام الإنكسار، وملازمة التنصل والاستغفار. كما قالوا: "استشعار الوجل إلى الأجل"۔ (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 100)

حق یہ ہے کہ وہ (توبہ کرنے والا) اللہ کی محبت کا مستحق ہے، اور یہ بات بعید تر ہے کہ بندہ عاصی کو وہ مقام حاصل ہو جائے کہ وہ اپنے اوصافِ ظاہری میں کوئی ایسی علامت دیکھے جس سے یہ معلوم ہو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔ لہٰذا جب بندے کو یہ معلوم ہو کہ اس نے کسی ایسے عمل کا ارتکاب کیا ہے جس سے اس پر توبہ واجب ہو چکی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ تواضع اور انکساری کا دامن تھامے رہے ، اور معصیت سے بیزاری اور استغفار کو لازم پکڑے۔ جیساکہ صوفیاء فرماتے ہیں:

‘‘استشعار الوجل إلى الأجل ترجمہ: (عتاب الٰہی کے) خوف کا احساس موت تک باقی رہنا چاہئے’’۔

حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

‘‘اما قول مشائخ رضوان اللہ علیھم اجمعین در توبہ آنست کہ خواجہ ذوالنون مصرے رحمۃ اللہ علیہ گوید توبۃ العوام من الذنوب و توبۃ الخواص من الغفلۃ و توبۃ الانبیاء من رؤیۃ عجزھم عن بلوغ ما نالہ غیرھم ، توبہ عوام از گناہ باز گشتن و توبہ خواص از غفلت باز گشتن ست و توبہ انبیا ازانست کہ عجز خویش بیند از رسیدن بجائ کہ غیر ایشان رسیدہ باشد۔’’

ترجمہ: توبہ کے بارے میں مشائخ طریقت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا قول یہ ہے کہ حضرت خواجہ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں‘‘توبۃُ العوامِ مِنَ الذُنوبِ وَ تَوبۃُ الخواصِ مِن الغَفلۃِ و توبۃ الانبیا من رؤیۃ عجزھم عن بلوغ ما نالہ غیرھم’’، ترجمہ: عوام کی توبہ گناہوں سے ہوتی ہے ، خواص کی توبہ (توجہ الی اللہ) میں غفلت سے ہوتی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی توبہ اس مقام کے حصول میں ان کے عجز و تنگ دامنی سے ہے جو ان کے علاوہ (کسی دوسرے نبی) کو حاصل ہے۔

آپ مزید فرماتے ہیں:

‘‘خواجہ سہیل تستری با جماعتی بر آنند کہ التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک، توبہ آن بود کہ ہرگز گناہ کردہ فراموش نہ کنی و پیوستہ در ندامت باشے تا اگرچہ بسیار عمل داری معجب نگردی۔ و باز خواجہ جنید باجماعتے برانند کہ الوبۃ ان تنسیٰ ذنبک توبہ آن بود کہ گناہ کردہ فراموش کنی ، ازانچہ تائب محب باشد و محب را ذکر جفا جفا باشد۔ و این ضدِ قولِ اول ست در ظاہر ، و اما در معنیٰ ضد نیست کہ معنیٰ فراموش کردن آنست کہ حلاوتِ آن گناہ از دلِ تو بیرون رود تا چنان گردی کہ گوئی ہرگز آن گناہ نکردۂ۔ و خواجہ جنید گفت رحمۃ اللہ علیہ بسیار خواندم و در ہیچ چیز مرا چندین فائدہ نبود کہ اندریں یک بیعت شعر اِذَا قلتُ ما اذنبت ُقالَت محبتہُ –وجودک ذنب لا یقاس بھا ذنب* چون وجود دوست در حضرت دوستے جنایت بود وصفش را چہ قیمت ماندای’’۔

ترجمہ: (توبہ کے حوالے سے) خواجہ سہیل تستری کا مسلک یہ ہے کہ (التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ کبھی فراموش نہ کرے اور ہمیشہ اس کی ندامت میں غرق رہے تاکہ تیرے اعمال (صالحہ) کی کثرت پر تیرے دل میں کبھی عجب اور تکبر پیدا نہ ہو۔ اور حضرت جنید بغدادی کا مسلک یہ ہے کہ (ان تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ بھول جائے اس لئے کہ (گناہوں سے) توبہ کرنے والا (اللہ) کا محب ہوتا ہے ، اور محب کا بدعنوانیوں اور نافرمانیوں کو یاد رکھنا (محبت) میں جفا کی مانند ہے۔ اور مذکورہ بالا دونوں اقوال کے درمیان تضاد صرف ظاہری ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی تضاد یا تناقص نہیں ہے۔ اس لئے کہ گناہ فراموش کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس گناہ کی حلاوت تیرے دل سے ایسی نکلے کہ تیری کیفیت یہ ہو جائے گو کہ تو نے کبھی اس گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت کچھ پڑھا لیکن جتنا فائدہ مجھے اس شعر سے حاصل ہوا اتنا کسی دوسری شئی سے حاصل نہیں ہوا:

اِذاَ قُلتُ ما اَذنَبتُ قالتْ محبتہ    وُجودُکَ ذَنب لَا یُقاسُ بِھا ذَنب

ترجمہ: جب (محبت کی وارفتگی میں بے خود ہو کر) میں نے پوچھا کہ میرا گناہ کیا ہے، تو اس کی محبت کی (شوخی) نے جواب دیا کہ تیرا وجود ہی خود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے مقابلے میں تمام گناہ کمتر ہیں)۔ جب معشوق کی بارگاہ میں عاشق کا وجود ہی اتنا بڑا گناہ ٹھہرا تو اس کے اوصاف کی بات ہی کیا کی جائے!

مذکورہ بالا اقتباس میں حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توبہ کے حوالے سے صوفیائے کرام کے درمیان دو مسالک ہیں مسلک جنیدی یہ ہے کہ توبہ اپنے کردہ گناہوں کو نسیا منسیا کر دینے کا نام ہے ، جبکہ حضرت خواجہ سہیل تستری فرماتے ہیں کہ توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ ہماری معصیت ہمیشہ ہماری نظروں کے سامنے رہے۔ یہ تصور پیش کرنے کے بعد حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان تضاذ محض لفظی ہے ، اس لئے کہ گناہوں کو نسیا منسیا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کی لذت و سرور تیرے دل سے نکل جائے۔

حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری (المتوفى: 465 ہجری ) رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں:

أخبرنا أبو عبد الله الشيرازي، رحمه الله قال: سمعت أبا عبد الله بن مصلح، بالأهواز يقول. سمعت ابن زيري يقول: سمعت الجنيد يقول: دخلت على السري يوماً فرأيته متغيراً، فقلت له: مالك؟ فقال: دخل علي شاب فسألني عن التوبة، فقلت له: أن لا تنسى ذنبك! فعارضني، وقال: بل التوبة أن تنسى ذنبك. فقلت: إن الأمر عندي ما قاله الشاب. فقال: لِمَ؟ قلت: لأني إذا كنت في حال الجفاء فنقلني إلى حال الوفاء؛ فذكر الجفاء في حال الصفاء جفاء فسكت۔ (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98)۔

ترجمہ: حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ، میں نے دیکھا کہ ان کے احوال متغیر ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ایک نوجوان آیا اور اس نے توبہ کے بارے میں دریافت کیا ، میں نے جواب دیا کہ توبہ یہ ہے کہ تو کبھی اپنی معصیتوں کو فراموش نہ کرے۔ یہ سن کر اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ‘‘نہیں! بلکہ توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہوں کو بھول جائے’’۔ تو میں نے عرض کیا کہ میرا بھی یہی موقف ہے جو اس نوجوان نے بیان کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کیوں؟ میں نے جواب دیا کہ ‘‘جب میں حالت جفا ءمیں (گناہوں میں ڈوبا ہوا) ہوں اور وہ (اللہ) مجھے حالت وفاء نصیب کرے (توبہ کر کے نیکیاں کرنے کی توفیق بخشے) تو حالت صفاء میں (اللہ کی اطاعت فرمانبرداری کی توفیق حاصل ہو جانے کے بعد) نافرمانیوں کو یاد کرنا بھی گناہ ہے’’۔ یہ سن کر حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ خاموش ہو گئے۔

سمعت أبا حاتم السجستاني، رحمه الله، يقول: سمعت أبا نصر السراج الصوفي يقول: سئل سهل بن عبد الله عن التوبة، فقال: أن لا تنسى ذنبك وسئل الجنيد عن التوبة فقال: أن تنسى ذنبك۔ (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98)

ترجمہ: میں نے ابو حاتم السجستانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں میں نے صوفی باصفا ابو النصر السراج سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ سہیل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ‘‘توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہوں کو نہ بھولے’’۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ توبہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ‘‘توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہوں کو یاد نہ رکھے’’۔

قال أبو نصر السراج: أشار سهل إلى أحوال المريدين والمتعرضين، تارة لهم، وتارة عليهم، فأما الجنيد فإنه أشار إلى توبة المحققين فإنھم لا يذكرون ذنوبھم بما غلب على قلوبھم من عظمة الله تعالى، ودوام ذكره. قال: وهو مثل ما سئل رويم عن التوبة، فقال: هي التوبة من التوبة۔(بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98)

ترجمہ: حضرت ابو نصر السراج فرماتے ہیں کہ سہیل بن عبد اللہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) مریدین و معترضین (مبتدئین) کے احوال کی طرف اشارہ کیا ہے ، کیوں کہ ان کے احوال کبھی ان کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) متحققین (عرفائے کاملین اور مقربان بارگاہ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ان کے قلوب پر اللہ کی عظمت و جلال کا غلبہ اور اس کے ذکر کو دوام حاصل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے گناہوں کو یاد کرنے کی مہلت ہی میسر نہیں ہوتی۔ اور اس کی مثال حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ جب آپ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘توبہ سے توبہ کر لینے کا نام ہی توبہ ہے’’۔

وسئل ذا النون المصري عن التوبة: فقال: توبة العوام من الذنوب وتوبة الخواص من الغفلة. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98)

ترجمہ: حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے توبہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘عوام کی توبہ گناہوں سے ہے اور خواص کی توبہ (یادِ محبوب میں) غفلت سرزد ہو جانے سے ہے۔

وقال أبو الحسين النوري: التوبة أن تتوب من كل شيء سوى الله عز وجل. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 99)

ابو الحسين النوری فرماتے ہیں کہ ‘‘توبہ (کی حقیقت) یہ ہے کہ تو اللہ کے علاوہ ہر شئی سے تائب ہو جائے’’۔

سمعت محمد بن أحمد بن محمد الصوفي يقول: سمعت عبد الله بن علي ابن محمد التميمي يقول: شتان مابين تائب يتوب من الزلات، وتائب يتوب من الغفلات، وتائب يتوب من رؤية الحسنات. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 99)

میں نے محمد بن احمد بن محمد الصوفی سے سنا، وہ فرماتے ہیں نے عبد اللہ بن علی ابن محمد التمیمی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنی معصیتوں سے توبہ کرے اس کی توبہ ، جو (یاد حق میں) میں اپنی غفلت سے توبہ کرے اس کی توبہ اور جو اپنی نیکیوں کو دیکھنے سے ہی تائب ہو جائے اس کی توبہ کے درمیان کافی فرق ہے، (ان تینوں کی توبہ کیفیت اور نتائج کے اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہے)۔

وقال الواسطي: التوبة النصوح لا تبقي على صاحبها أثراً من المعصية سراً ولا جهراً ومن كانت توبته نصوحاً لا يبالي كيف أمسى أو أصبح. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 99)

حضرت واسطی نے فرمایا کہ توبہ نصوحہ بجالانے والے پر اس کے ظاہر و باطن میں گناہوں کا ذرہ برابر کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔ اور جس کی توبہ ‘‘توبہ نصوحہ’’ ہو اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کی شام کیسی گزری اور اس کی صبح کس کیفیت میں ہوئی۔

وقال ذو النون: الاستغفار من غير إقلاع توبة الكاذبين. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 99)

اور حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں ‘‘گناہوں سے پرہیز کئے بغیر توبہ کرنا کاذبین (جھوٹے لوگوں) کی توبہ ہے۔

وسئل البوشنجي عن التوبة فقال: إذا ذكرت الذنب ثم لا تجد حلاوته عند ذكره، فهو التوبة. (بحوالہ رسالہ قشیری۔ مصنفہ عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيري (المتوفى: 465هـ۔ صفحہ 98)

اور حضرت بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ سے توبہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ‘‘جب تمہیں گناہ یاد آئے اور اس وقت تم اس گناہ کی حلاوت اور چاشنی (اپنے دل میں) نہ محسوس کرو تو یہی تو (کی حقیقت) ہے۔

مذکورہ بالا اقتباسات کا خلاصہ:حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ، ‘‘عوام کی توبہ گناہوں سے ہے اور خواص کی توبہ (یادِ الٰہی میں) غفلت سرزد ہو جانے سے ہے’’۔ ابو الحسين النوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ‘‘توبہ (کی حقیقت) یہ ہے کہ تو اللہ کے علاوہ ہر شئی سے تائب ہو جائے’’۔ حضرت واسطی سچی توبہ کی ایک علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ‘‘کہ توبہ نصوحہ بجالانے والے پر اس کے ظاہر و باطن میں گناہوں کا ذرہ برابر کوئی اثر باقی نہیں رہتا’’۔ اور توبہ کے بارے میں حضرت بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا وہ توبہ کا نتیجہ ہے جو صدق دل سے توبہ کرنے والے کی شخصیت پر مرتب ہوتا ہے، آپ فرماتے ہیں : ‘‘جب تمہیں گناہ یاد آئے اور اس وقت تم اس گناہ کی حلاوت اور چاشنی (اپنے دل میں) نہ محسوس کرو تو یہی حقیقی توبہ ہے’’۔

 حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب شریف کے حوالے سے توبہ کے باب میں بنیادی طور پر حضرت جنید بغدادی اور حضرت خواجہ سہیل بن عبد اللہ التستری کے جو دو مختلف نظریات سامنے آئے ان کے درمیان حضرت ابو نصر السراج نے ایک شاندار تطبیق پیدا کر دی اور فرمایا کہ ‘‘سہیل بن عبد اللہ التستری نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) مریدین و معترضین (مبتدئین) کے احوال کی طرف اشارہ کیا ہے ، کیوں کہ ان کے احوال کبھی ان کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) متحققین (عرفائے کاملین اور مقربان بارگاہ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ان کے قلوب پر اللہ کی عظمت و جلال کا غلبہ اور اس کے ذکر کو دوام حاصل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے گناہوں کو یاد کرنے کی مہلت ہی میسر نہیں ہوتی’’۔

اور یہی بات حضرت علی بن عثمان الجلابی معروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب کشف المحجوب میں کی ہے ، آپ فرماتے ہیں:

‘‘و ابوالحسن بوشنجہی گوید رضی اللّہ عنہ در توبہ: «إذا ذَکَرْتَ الذَّنْبَ، ثُمّ لاتَجِدُ حَلاوةً عِنْدَ ذِکْرِہ فَہوَ التَّوْبَةُ۔»چون گناہ را یاد کنی و از یاد کردن آن در دل لذتی نیابی آن توبہ باشد؛ از آنچہ ذکر معصیت یا بہ حسرتی بود یا بہ ارادتی۔ چون کسی بحسرت و ندامت معصیت خود یاد کند تایب بود و ہر کہ بارادت معصیت یاد کند عاصی بود؛ از آنچہ در فعل معصیت چندان آفت نباشد کہ اندر ارادت آن؛ از آن کہ فعلِ آن یک زمان بود و ارادتش ہمیشہ۔ پس آن کہ یک ساعت بتن با معصیت صحبت کند نہ چنان بود کہ روز و شب بدل با آن صحبت کند’’۔ (بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 326۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المظفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

حضرت بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ‘‘(إذا ذَکَرْتَ الذَّنْبَ، ثُمّ لاتَجِدُ حَلاوةً عِنْدَ ذِکْرِہ فَہوَ التَّوْبَةُ)، جب تمہیں گناہ یاد آئے اور اس وقت تم اس گناہ کی حلاوت اور چاشنی (اپنے دل میں) نہ محسوس کرو تو یہی حقیقی توبہ ہے’’۔ اس لئے کہ یا تو حسرت و افسوس کے ساتھ تمہیں اپنی معصیت یاد آئے گی یا گناہ کے ارادہ یا اس کی خواہش کے ساتھ تمہیں اپنی معصیت یاد آئے گی۔ اور جب کوئی حسرت و ندامت کے ساتھ اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے تو وہ (اپنے گناہوں سے) توبہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اور جو اپنے گناہوں کو معصیت کے ارادے کے ساتھ یاد کرتا ہے وہ گنہگار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ معصیت کے ارتکاب میں (دین و آخرت کی) اتنی تباہی نہیں ہے جتنی گناہوں کے ارادے اور اس کی خواہش کے اندر ڈوبے رہنے میں ہے۔ کیوں کہ معصیت کا ارتکاب صرف ایک لمحے میں ہو جاتا ہے جبکہ معصیت کا ارادہ اور اس کی خواہش دل میں ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اور تَن کے ایک ساعت کے لئے گناہ میں ملوث ہونے اور مَن کے شب و روز معصیت کے خیال میں ڈوبے رہنے کے درمیان فرق ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:

‘‘و ذوالنون مصری گوید، رضی اللہ عنہ: «التّوبةُ تَوْبَتانِ: توبةُ الإنابةِ، و توبةُ الإِستِحیاءِ۔ فَتَوْبَةُ الإنابةِ اَن یتوبَ العبدُ خوفاً مِن عُقُوبَتِہ، و توبةِ الإِستِحیاءِ أنْ یتوبَ حیاءً مِنْ کَرَمِہ۔» توبہ دو باشد: یکی توبۂ انابت، و دیگر توبۂ استحیاء توبۂ انابت آن بود کہ بندہ توبہ کند از خوف عقوبت خدای و توبۂ استحیاء آن بود کہ توبہ کند از شرمِ کرم خداوند۔ پس توبہ از خوف از کشفِ جلال بود، و از آن حیا از نظارۂ جمال۔ پس یکی در جلال از آتشِ خوف وی می‌سوزد و یکی اندر جمال از نور حیا می ‌فروزد’’۔ (بحوالہ: کشف المحجوب فارسی۔ باب فی التوبہ و ما یتعلق بھا-صفحہ 326۔مطبع النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور، پاکستان۔ سن طباعت - 18 صفر المظفر 1435 ہجری بمطابق 22 دسمبر 2013)۔

اور حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘(التّوبةُ تَوْبَتانِ: توبةُ الإنابةِ، و توبةُ الإِستِحیاءِ۔ فَتَوْبَةُ الإنابةِ اَن یتوبَ العبدُ خوفاً مِن عُقُوبَتِہ، و توبةِ الإِستِحیاءِ أنْ یتوبَ حیاءً مِنْ کَرَمِہ)، یعنی توبہ کی دو قسمیں ہیں : ایک توبہ انابت اور دوسری توبہ استحیاء ، لہٰذا توبۂ انابت یہ ہے کہ بندہ عتاب الٰہی سے خوف کی بنیاد پر توبہ کرے ، اور توبۂ استحیاء یہ ہے کہ بندہ خداوند تعالیٰ کے انعامات اور اس کے فضل و احسان سے حیاء کرتے ہوئے تائب ہو۔’’ پس خوفِ خدا کی بنیاد پر کی جانے والی توبہ کی وجہ عظمت و جلالِ خداوندی کا انکشاف ہے ، اور (خداوند تعالیٰ کے انعامات اور اس کے فضل و احسان سے) حیاء کی بنیاد پر کی جانے والی توبہ کی وجہ رحمت و جمالِ الٰہیہ کا نظارہ ہے۔ لہٰذا، اول الذکر عظمت و جلالِ خداوندی کے سمندر میں آتشِ خوفِ الٰہی سے سلگتا رہتا ہے ، جبکہ دوسرا رحمت و جمالِ حق کے بحرِ ناپیدا کنار میں حیاء کے نور سے جگمگاتا رہتا ہے۔

اب ذیل میں مکتوب شریف کا جو آخری اقتباس پیش کیا جا رہا ہے اس میں براہ راست خطاب ہم جیسے تہی دست اور کوتاہ دامنوں سے ہے۔ جن کے پاس نہ تو کوئی حسن عمل ہے اور نہ ہی کوئی توشہ آخرت۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہماری زندگی صرف رحمت خدا وندی کے سہارے گزرتی جا رہی ہے۔

‘‘برادر اجل در کمین است و فرصت عزیز کہ ناحیہ ملک الموت ناگاہ طالع شود۔ پیری نزدیکِ بزرگی آمد و گفت ایھا الشیخ ! گناہ بسیار دارم ، و میخواہم کہ توبہ کنم ، شیخ گفت کہ دیر آمدی پیر گفت نہ زود آمدم شیخ گفت کہ چیگونہ؟ پیر گفت ہر کہ پیش از مرگ بیاید اگر چہ دیر باشد زود آمدہ بود۔ برادر ہر چند آلودہ و ملوثی چنگ بہ توبہ زن و امید وار باش کہ از سحرۂ فرعون آلودہ تر نۂ و از سگ اصحاب کہف ملوث تر نۂ ، و از سنگ طور سینا جماد تر نۂ و از چوب حنانہ بی قیمت تر نۂ۔ غلام رو اگر چہ از حبش آرند چہ زیان دارد چون خواجہ اش کافور نام نہد۔ چون ملائکہ گفتندکہ مارا بافساد ایشان طاقت نیست ، ندا آمدآری اگر بردر شما فرستم رد کنید و اگر بدست شما بفروشم مخریدی ۔ ترسیدہ کہ معصیتِ ایشان از رحمت ما زیادت آید یا می ترسید کہ آلودگی ایشان بر کمال قدوسی مالوثی آرد، این مشتے خاکیانند کہ حضرت ما مقبولانند ، چون قبول ما آمد معصیت و لوث ایشان را چہ زیان کند۔ بیت سراسر ما ہمہ عیبم بدیدی و خریدی تو زہے کالائے پرعیب و زہے لطف خریداری۔’’

ترجمہ: ‘‘ائے بھائی! موت گھات لگائے بیٹھی ہے، جو وقت تیرے پاس ہے اس کی قدر کر ، کیا خبر موت کے فرشتے کب تیرے دروازے پر دستک دیدیں۔ ایک عمر درازشخص کسی بزرگ کے پاس گیا اورکہا کہ ائے شیخ میرے گناہوں کا کوئی شمار نہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ توبہ کر کے گناہوں سے پاک ہو جاؤں ، اِس پر وہ بزرگ فرمانے لگے کہ تم نے توبہ کے دروازے پر آنے میں دیر کر دی تو اس (عقلمند) ضعیف شخص نے کہاں کہ نہیں مجھ سے اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ، بزرگ نے حیرت سے پوچھا کیوں؟ تو اس ضعیف کہا کہ توبہ ایک ایسی ابدی سعادت ہے کہ اگر موت سے پہلے بھی نصیب ہو جائے تو غنیمت ہے۔ اے برادر عزیز! ہر چند کہ تو گناہوں اور معصیتوں میں ڈوبا ہوا ہے ، جلدی توبہ کر اور (اللہ کی رحمت سے) امید باندھ۔ اس لئے کہ تو فراعنۂ مصر کے ساحروں سے زیادہ آلودہ نہیں ہے۔ (تو ہمت رکھ اس لئے کہ) تو اصحاب کہف کے کتے سے زیادہ نجس نہیں ہے۔ (تو اللہ کی طرف قدم بڑھا اس لئے کہ ) تو طورِ سینا کے پتھروں سے زیادہ ساکت و جامد نہیں ہے۔ اور (تو اپنی قدر پہچان اس لئے کہ) تو چوب حنانہ سے زیادہ بے قیمت نہیں ہے۔ (اللہ اور اس کے رسول کی) غلامی اختیار کر ، اگر چہ حبشہ سے لائے ہوئے غلام کا نام اس کا آقا کافور رکھ دے ، اس میں غلام کا کیا نقصان! (ذا غور کر کہ بارگاہ ایزدی میں) جب فرشتوں نے کہا کہ ہم ان (انسانوں) کے ذریعہ برپا کئے جانے والے فساد اور قتل و غارت گری کی تاب نہیں رکھتے ، تو ندائی آئی کہ (ٹھیک ہے) اگر میں انہیں تمہارے دَر پر بھیجوں تو لوٹا دینا اور انہیں تم سے فروخت کرنے آؤں تو مت خریدنا، اس ڈر سے کہ ان کی معصیت میری رحمت سے بڑھ جائے گی ، یا تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان (کے وجود)کی آلودگی میری تنزیہہ و تقدیس کے دامن پر دھبہ لگا دیگی۔ (ائے نوریوں سن لو!) یہ وہ مشت خاک ہیں جو میری بارگاہ میں مقبول و مقرب ہیں۔ اور جب میں نے انہیں (اپنی بارگاہ میں) شرف قبولیت بخش ہی دیا ہے تو ان کی معصیت اور آلودگیوں سے انہیں کیا نقصان! کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:

سراسر ما ہمہ عیبم بدیدی و خریدی تو         زہے کالائے پرعیب و زہے لطف خریداری

سر تا پاء میرا وجود عیب ہی عیب ہے، اور تو نے جانچ پرکھ کر مجھے خرید ہی لیا۔ کیا ہی خوب میرا عیب دار وجود ، اور کیا ہی مہربان میرا خریدار!’’

انسان کی یہ فطرت رہی ہے کہ جب اس کی زندگی میں گناہوں کی انتہاء ہو جاتی ہے تو اسے گناہوں کی تاریک دنیا سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں محرومی اور ناامیدی کا احساس گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ حتی کہ ایک دن وہ اللہ کی رحمت سے کلیۃ مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے۔ اور یہی انسان کی اصل ناکامی اور شیطان کی کامیابی ہے۔ مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ امیدوں کے داعی ہیں۔ اس لیے کہ زندگی کے کسی بھی مقام پر اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا کفر ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ بندے کیا ہوا اگر تیرا دامن گناہوں اور نافرمانیوں کی تاریکی سے بھرا ہوا ہے! اگر تیرے گناہوں سے ارض و سماوات سب بھر جائیں تب بھی ناامید مت ہو اور یہ یقین رکھ کہ تیرے گناہوں کا اس کی رحمت سے کوئی مقابلہ نہیں ۔ بس اس کی رحمت تلاش کر ، وہ تیرے تمام گناہوں کو صرف بخشے گا ہی نہیں بلکہ انہیں نیکیوں سے بھی بدل دیگا۔ اور اس کے فضل کے لئے نہ تو کوئی سبب درکار ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حد ہے۔ وہ جب عطا کرنے پر آتا ہے تو مصر کے جادگروں کو ایمان کا نور عطا کر دیتا ہے۔ جب اس کی رحمت ہوتی ہے تو وہ کتوں کو بھی قابل رشک مقام عطا کر دیتا ہے۔ وہ جب نوازنے پر آتا ہے تو طور سینا کے پتھروں اور ذرات کو بھی اپنی تجلیات سے نواز کر رشک قمر بنا دیتا ہے۔ انسان کو تو پھر بھی ان تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہے۔ اللہ نے انسان کو تاج کرامت سے بھی نوازا ہے۔ اگر چہ ہمارے گناہ سربفلک پہاڑوں سے بھی زیادہ بڑے ہوں یا ہمارے گناہوں کی تعداد سمندر کے قطروں سے بھی زیادہ ہو، یہ سب مل کر بھی اللہ کی رحمت میں ذرا برابر کمی نہیں پیدا کر سکتے۔ اور ان تمام گناہوں کو محو کرنے اور دفتروں کے دفتر معصیتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دینے کے لئے صرف ندامت و شرمندگی میں بہنے والے آنسوؤں کے دو قطرے ہی کافی ہیں۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/spiritual-significance-of-repentance-and-its-guiding-principles-in-the-light-of-sufi-discourse---بزبانِ-تصوف--سیر-الی-اللہ-میں-توبہ-کے-رہنما-اصول-اور-ان-کی-روحانی-اہمیت-و-افادیت/d/115795

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content