certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (15 Sep 2009 NewAgeIslam.Com)



Modern Education and Muslims جدید تعلیم اور مسلمان

اقبال حیدر نقوی

15 ستمبر، 2009

مسلمانوں کی پسماندگی اور لامتناہی زوال کے اسباب پر جب بھی بحث ومباحثہ ہوتا ہے تو تعلیمی پسماندہ کا ضرور ذکر ہوتا ہے کیونکہ تعلیمی میدان میں مسلمان آج بھی پیچھے ہیں اوران میں عدم دلچسپی برقرار ہے ۔1857کی جنگ کے خاتمے اور مغل سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بگڑ چکی تھی، معاشرہ تباہ وبرباد ہوچکاتھا ۔تعجب اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کو اس کا احساس بھی نہیں تھا وہ صرف کبوتر اڑنے اور بٹیروں کو لڑانے میں لگے ہوئے تھے۔کوئی بھی اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتا جبکہ یہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ہیں جنہیں تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے۔ ان میں چاہے علمائے کرام حضرات ہوں یا دانشور جو کہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ تعلیم سے عاری قوم کی قسمت میں پسپائی ،پچھتاوے اور حسرتیں ہی ہوا کرتی ہیں۔

آج کا مسلمان مذہبی فرقہ پرستی پر تو غورکرتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ وقت کا کیا تقاضہ ہے۔ مسلم مسائل کا واحد حل تعلیمی منصوبہ بندی میں پنہاں ہے جس پر چھائے ہوئے گردوغبار کو ہمیں صاف کرنا ہے۔ ان حالات میں کچھ دانا لوگ جن میں سرسید احمد خاں سرفہرست ہیں ، گہرے غور وخوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ قوم کی ترقی اور مسائل کا حل جدید تعلیم سے ہی نکالا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرپرقرآن کریم، دائیں ہاتھ میں دینی تعلیم اور بائیں ہاتھ میں جدید تعلیم کا پرچم لے کر آگے بڑھتے رہو۔ ان کا مقصد تھا کہ تعصب ،احساس کمتری، کم ہمتی اور جہالت کا مسلم سماج سے خاتمہ ہوسکے ۔ اس لئے انہوں نے تعلیم کو نہ صرف عام کرنے کی کوشش کی بلکہ اسے محدود کرنے کی بھی مخالفت کی اور تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دی جس کے نتیجے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام میں انقلاب برپا ہوگیا ۔ انہیں کافر اور مرتد ہوجانے کے طعنے سننے پڑے ، ان کے خلاف فتوے جاری ہوئے انہیں عیسائی اور برطانوی حکومت کا تنخواہ دار کہا گیا ۔ لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور قوم کے لئے قوم ہی کے ہاتھوں ایک مدرسۃالعلوم قائم کیا جو کہ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کی شکل میں آج بھی ملک وقوم کی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ممتاز ہے۔

اسی تحریک کے پیش نظر قوم کے کچھ بیدار مفز افراد نے جن میں ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عابد حسین وغیرہ شامل ہیں 1920میں دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی جو آج ایک مکمل یونیورسٹی کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ان دونوں اداروں نے قوم کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ دونوں ادارے صرف اور صرف مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے قائم کئے گئے تھے لیکن ان کے دروازے دوسری اقوام کے لئے بھی کھلے ہیں اور دوسری اقوام اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں ان سے فائدہ اٹھارہی ہیں بلکہ میڈیکل ،انجینئر نگ اور دیگر اعلیٰ کورسز میں مسلمانوں کی تعداد دوسری اقوم سے کم ہے۔

آج بھی ہمارے لئے آزمائش کا وقت ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں پوری طرح اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کو ہر میدان میں پیچھے دھکیل سکیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم علم حاصل کرنے میں کوشاں رہیں تاکہ معاشرے کو تباہی سے بچاسکیں ۔ ہم جس دین کے پیروکار ہیں وہ انسان کومکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے تو کیوں نہ ہم اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کریں۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر علم حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رسول ؐ اسلام کا ارشاد ہے’’علم حاصل کرو چاہے ا س کیلئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ‘‘۔ایک اور جگہ آپؐ نے فرمایا کہ ’’جو طلب علم کی حالت میں مرتا ہے وہ شہید ہوتا ہے۔‘‘ لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہماری قوم میں ایسے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو علم سے بے بہرہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک نہ تو ہم سیاسی طاقت بن سکینہ سماجی قوت جس کا اصل سبب تعلیمی پسماندگی ہے۔

ایک وہ بھی دور تھا جب مسلمان ہر شعبہ علم میں آگے تھے یونان کے کتب خانے جس کی گواہی دیتے ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک نمایاں اور عظیم تاریخ کے باوجود تعلیم کے میدان میں ہم پیچھے ہیں۔ساتویں صدی عیسوی کے بعد کئی سو سالوں تک مسلمان سائنسداں علم کیمیا ،علم ہیئت ،طب، فلسفہ اور منطق وغیرہ میں اس منزل پر تھے جب یورپ کے لوگ کتب خانوں کو آگ لگا رہے تھے۔ قدیم اصولوں کے مطابق انسان مذہب کے لئے پیداہوا ہے جبکہ جدید اصول یہ ہے کہ مذہب انسان کے لئے پیدا ہوا ہے۔ دور حاضر کے مسلمانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ہے لیکن جتنی ترقی ہونی چاہئے تھی نہیں ہوسکی ہے اس کی ایک وجہ مسلمانوں کا جذباتی مسائل میں الجھنا جیسے فرقہ وارانہ تشدد میں کی جانے والی انسانیت سوز حرکات، مذہبی وتاریخی مسئلوں میں تحقیر آمیز انداز اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو ترقی کرنے ، حصول علم، تلاش وجستجو اور علیٰ فنی اور صنعتی تعلیم دلانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ ایک مضبوط ،مہذب اور خو شحال سماج کی تشکیل ہوسکے۔

URL for this article:

ٰ http://www.newageislam.com/urdu-section/modern-education-and-muslims--جدید-تعلیم-اور-مسلمان/d/1685

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content