certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (05 Aug 2009 NewAgeIslam.Com)



Mullah supporters of Chander Mohan alias Chand Mohammad have now gone underground چندر موہن کو مسلمان بتانے والے کٹھ ملاّ کی ا ب اس کے ارتداد کا فتویٰ جاری کریں گے؟

How Mullahs degrade Islam, explains Punjab’s Shahi Imam

 

Mullah supporters of Chander Mohan alias Chand Mohammad have now gone underground

 

Now that Haryana’s former deputy chief minister Chandra Mohan alias Chand Mohammad  has gone back to his Bishnoi religion after having himself purified of the “pollution” caused by his foray into Islam in order to cheat his wife and  allegedly rape his friend of five years courtesy “conversion” to Islam, the Mullahs who had supported him through all his twists and turns, justifying his every move – conversion, nikah, talaq and re-nikah – have now gone underground following his re-conversion and re-talaq to the hapless lady Fiza alias Anuradha, a former assistant attorney general of Haryana, the Indian state of which her lover was the deputy chief minister. 

 

The Shahi Imam of Punjab, the state neighbouring Haryana, had opposed the conversion of such a man to Islam for the express purpose of cheating his wife – at that time it was not known that he allegedly also intended to just rape his friend and leave. Would these Mulahs now ask for his head, he asks, by clamping a fatwa of irtidad-e-Islam on him.

 

A furious Maulana Habibur Rahman Saani Ludhianwi called a press conference at Jama Masjid of Ludhiana yesterday to expose the greed and criminal action of the Mullahs, notably Maulvi Belal Bajralwi of Panipat, in “selling the dignity of Islamic Sharia at the hands of an imposter in whose case it was clear from the beginning that he had no intention of converting to Islam for spiritual reasons and he was merely trying to use Islam to cheat his wife and Indian law.”

According to Maulana Ludhianawi, these Mullahs or, as he put it with contempt, kath-Mullahs, are criminals of Islamic Sharia as well as Indian law, as they have aided and abetted a criminal act.

 

However, Muslims must realise that the problem is larger than this. It is embedded in our mindset of rejoicing at every conversion to Islam, no matter how farcical, under whatever pretext. What I find most inexplicable, however, is that while we celebrate every conversion we also harbour a desire to kill – no less - millions of those who are already Muslim, even if they interpret some teachings of the Quran somewhat differently and so belong to a different sect or school of thought.

 

 I wonder if the Chandra Mohan-Fiza episode will help us rethink our attitude towards conversions to Islam in general. After all, Chandra Mohan is not the first person in India to have exploited Islam for nefarious or other-than--spiritual purposes. How many of us have opposed the practice of forcing prospective spouses to convert to Islam just for the sake of getting married.  Could that possibly be a real conversion which should be for spiritual reasons alone? It is clear that it is not. But not only do we support these practices, many of us actually demand that this happen.

 

 Introspection and reform of our own attitudes is clearly the answer to our problem, not taking Mr. Chandra Mohan to court for denigrating Islam as Maulana Ludhianawi suggests or slapping a fatwa of irtidaad on him and thereby asking for his head. Islamic Shariat is violated in such cases with our consent, if not active participation.

 

Sultan Shahin, editor, New Age Islam

 

The following report in Urdu appeared on 4 August, 2009 in the daily Ekhbaar-e-Mashriq, New Delhi

URL of this page: http://www.newageislam.com/urdu-section/mullah-supporters-of-chander-mohan-alias-chand-mohammad-have-now-gone-underground--چندر-موہن-کو-مسلمان-بتانے-والے-کٹھ-ملاّ-کی-ا-ب-اس-کے-ارتداد-کا-فتویٰ-جاری-کریں-گے؟/d/1602

 

-----------------

شاہی امام پنجاب کا فتویٰ

لدھیانہ 3اگست : ہریانہ کے سابق وزیراعلیٰ چندر موہن عرف چاند میاں کی طرف سے دوسری شادی کرنے کیلئے کئے گئے جھوٹے قبول اسلام کے ڈرامے کا اس ہفتے اس وقت ڈراپ سین ہوگیا جب چند موہن نے حصار کے ایک مندرمیں بشنوئی دھرم گرو کے سامنے دوبارہ ہندو بشنوئی دھرم اپناتے ہوئے شدھی کرن کروالیا، گزشتہ چار روز ہوئے اس شدھی کرن پر چند موہن کو مسلمان بتانے والے چند کٹھ ملا ؤں کی جانب سے کوئی رد عمل نہ ہونے پر آج مجلس احراراسلام ہند کے قومی صدر اور پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ چند رموہن کے ہاتھوں اسلام کو فروخت کرنے والے کٹھ ملا شریعت اسلامیہ کے مجرم ہیں، آج یہاں جامع مسجد لدھیانہ میں بلائی گئی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا ہم نے تو حالات اور حقیقت کے مطابق اس وقت ہی فتویٰ جاری کردیا تھا کہ چند موہن مسلمان نہیں ہے اس نے صرف قانون سے بچ کر عیاشی کے لئے مسلمان ہونے کیا سرٹیفیکٹ لیا ہے ایسے انسان کو مسلمان نہیں مانا جاسکتا، شاہی امام نے کہاکہ جب ہم نے چاند محمد ثابت کرنے کے لئے اسلامی شریعت کی مخالفت کی بلکہ اس فتویٰ کے خلاف نام نہاد بیان بازی بھی تادیر جاری رکھی ، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے اسلام کو چاندی کے چند سکو ں کی خاطر فروخت کرنے والے کٹھ ملاؤں پر برستے ہوئے کہا کہ چند موہن کو چاند محمد ثابت کرنے والے کہاں ہیں اب ان کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہم نے اسے مسلمان مانتے ہی نہیں تھے ان کٹھ ملاؤں نے اسے مسلمان مانا اس کی امداد کی کیا اب یہ اسلام کے مطابق اس کے ارتداد کا فتویٰ جاری کریں گے؟

شاہی امام نے کہا کہ ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص صرف قانون سے بچنے کے لئے یہ کھیل کر رہا ہے لیکن انہوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا اور پھر ناصرف کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا بلکہ اسلام کا بھی مذاق اڑایا ،شاہی امام پنجاب نے کہا کہ چند موہن بھی اسلام کا مجرم ہے اس نے اپنے مفاد کے لئے مذہب اسلام کو بدنام کیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا اس لئے ہماری جماعت مجلس احراراسلام ہند چند موہن کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرے گی ، انہوں نے کہا کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی مذہب کے ساتھ کھلواڑ کرے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کٹھ ملا ؤں پر جم کر برسے انہوں نے کہا کہ ان بکاؤں ملاؤں نے چند موہن کو لیکر اسلام کے ساتھ جو ناپاک مذاق کیا ایسا کبھی اسلام کی تاریخ میں نہیں ہوا ،ان ملاؤں نے چند موہن کے لئے اسلام کا جم کر غلط استعمال کیا،پہلے اسے قانون سے بچ کر عیاشی کرنے کیلئے مسلمان ہونے کی سنددیکر اسکو فرضی نکاح نامہ دیا اور پھر جب اس کا دل بھر گیا تو اسے بتایا کہ تین طلاق دو اور بیوی سے نجات پاؤ اور پھر جب چند موہن دوبارہ اپنی بیوی کو تین نہیں دو طلاق دی ہیں اسے دوبارہ وہ اپنے نکاح میں رکھا جاسکتا ہے ،شاہی امام نے کہا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ان ملاؤں نے حالات کے مطابق چند موہن کو اسلام کی ڈھال بنا کر دی تاکہ اسکو بچاسکیں ، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے ان کٹھ ملاؤں پر تنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ حق بات کہی ہے کبھی حکومتوں سے مرعوب نہیں ہوئے ہم نے چند رموہن کو مسلمان ہی نہیں مانا اس لئے اس کے ارتداد کا فتویٰ ہم نہیں دے رہے ان کٹھ ملاؤں نے تو اسے مسلماننہ صرف مانابلکہ اس کی تائید اور مدد کی اب یہ کیوں نہیں اس کے ارتداد اور اس کی سزا کا فتویٰ دیتے ؟

شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مکمل ذمہ داری سے یہ فتویٰ دیتا ہوں کہ جان بوجھ کر ایک غیر مسلم کو اس کی عیاشی کے لئے مسلمان ہونے کی سنددینے والے اس گناہ میں اس کی حمایت کرنے والے لوگ اللہ کے مجرم ہیں ایسے لوگوں پر اسلام کی حد مقرر ہوتی ہے انہیں شریعت کے مطابق سزادی جانی چاہئے تاکہ دوبارہ کوئی اس طرح اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہ کرسکے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ چند موہن نے اسلام کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اسے معاف نہیں کیا جاسکتا ہم اس مسئلہ کو لیکر چند رموہن کے خلاف ایف آر آئی درج کروائیں گے اور ان کٹھ ملاؤں کے خلاف بھی پرچہ درج کروائیں گے جنہوں نے چند رموہن کو مسلمان ہونے کا جھوٹا سرٹیفیکٹ دیا اور قانون کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹا نکاح نامہ بھی چند موہن کو بنا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بکاؤ مولویوں نے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ملک کے قانون کو بھی گمراہ کیا ہے اور ایک ایسے شخص کو پناہ دی ہے جو قانون کے مطابق ہندو میرج ایکٹ کا ملزم ہے شاہی امام نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اب وہ خود ہی اس ضمن میں فیصلہ کریں کہ ایک سیاست داں کی سہولت کے لئے اسلام کو فروخت کرنے والے کیا مولوی کہلانے کے حق دار ہیں ، قابل ذکر ہے کہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ چند رموہن نے اسی سال اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب دوسری شادی کرنے کے لئے مسلمان بننے کا ڈرامہ کیا تو اس وقت پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے چندر موہن کے خلا ف فتویٰ جاری کردیا تھا کہ یہ شخص مسلمان نہیں ہے ، شاہی امام کے اس فتویٰ کے بعد چندر موہن کے حواریوں نے شاہی امام پنجاب کے خلاف نہ صرف بیان بازی شروع کردی بلکہ پانی پت کے بلال بجرونوی نے اس ضمن میں چندر موہن کے حق میں تحریک چلائی ، میری تیری اس کی بات، میں اس ضمن میں چندرموہن کے حق میں مضمون لکھے گئے لیکن اب جب چندر موہن کا الّو سیدھا ہوگیا اور وہ واپس ہندو مذہب میں چلا گیا تو یہ بکاؤ مولوی بھی غائب ہوگئے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لودھیانوی نے کہا کہ اسلام لاوراث نہیں اس کے کروڑوں وارث اس ملک میں موجود ہیں ہم کسی کو اپنے دین کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

4 اگست، 2009  بشکریہ۔ اخبار مشرق، نئی دہلی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mullah-supporters-of-chander-mohan-alias-chand-mohammad-have-now-gone-underground--چندر-موہن-کو-مسلمان-بتانے-والے-کٹھ-ملاّ-کی-ا-ب-اس-کے-ارتداد-کا-فتویٰ-جاری-کریں-گے؟/d/1602

 




TOTAL COMMENTS:-   4


  • from Gajendra Singh
    to Sultan Shahin Editor@NewAgeIslam.com
    date 8 August 2009 11:43
    subject: Can Islam be violated by the likes of Chander Mohan without our consent, if not active participation? Asks Sultan Shahin

    You Sunnis are kill joys . Chand and Fiza have provided some pleasure to the participants and some excitement in the dull life of Indians .
     
    More practical Shias make provisions for Mottah marriage to avoid feelings of committing sin or committing illegal acts .
     
    Cheers Gajendra


    By Gajendra Singh -



  • I SECOND THE VIEWS OF Mr. SHAMSHAD ELAHI ANSARI in its totality. It is a great pity that instead of achieving quality among existing Muslims some of us should be more concerned about converting new subjects .


    By Traveler -



  • Not long ago in Pakistan a well known cricketer converted to Islam from Christianity. The media and most of the public in Pakistan was falling all over each other in Pakistan in congratulating him. Some politicians even announced a cash reward for the man. During all of this I was saying this is the personal choice of an individual. He must have gone through many sleepless nights and may have even researched his decision for months if not years. At last he made his decision and made it known to the world.

    Now the dangers of cheering new converts their motives notwithstanding should be obvious to all. Another point is if a new convert can fool our religious leaders and use tenets of Islam this easily for his personal corrupt goals. How much easier it is for a Muslim to do it. Believe me there are too many Muslims who do similar deeds all the time. That is use the dictums of Islam for personal goals. 

    For over 20 years in Canada my lawyer was a Sikh individual. He always kept track of all Muslim celebrations and made sure that he wished me well on such occasions. Once when he asked if I was a practicing Muslim, I had to respond truthfully in the negative. He encouraged me to be dedicated to my beliefs.  

    We as society ought to love all of the individuals among us regardless of their religion.  Who one prays or how is an intensely personal decision. Worth of our fellow citizens in our view must remain untouched by their personal beliefs. 


    By Friend of Humanity -



  • Thanks for raising this issue for debate within the Muslim society in India and many thanks to Maulana Ludhyanvi who has castigated the notorious Maulana Belal who has shielded the criminal act of Chandra Mohan and Anuradha. Fatwa(s) are a saleable commodity historically and all these current events verify this fact that it’s still available for sale in the market. Some private TV channel has already aired an episode, showing how fatwas were being sold in exchange of money.

    The question is what Maulana Ludhanvi was doing when Chandra Mohan was given a certificate of Islam by Maulana Belal? As a matter of fact, he must be feeling proud on his conversion like many millions of Indian Muslims. We have seen the same controversy about film actor Dharmendra. Many of us celebrated the news of conversion to Islam in relation with Michael Jackson who died recently and the whole world saw his funeral being held according to Christianity. all such conversion are either motivated by personal gains and do not have any religious or spiritual values, in essence they are political too.

    We hope, that Maulana Belal will soon be declared as "Tankhaiyya" and a legal procedure must be initiated against him so that the Muslim world know the result of his criminal act.


    By Shamshad Elahee Ansari -



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content