certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (27 Nov 2013 NewAgeIslam.Com)



History of Namaz in Islam- Part 5 (اسلام میں نماز کی تاریخ - اسلام میں نماز (5

 

ناستک درانی ، نیو ایج اسلام

27 نومبر، 2013

نماز کے معنی، تعداد اور اوقات پر کچھ روشنی ڈالنے کے بعد لازم ہے کہ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آئیں اور وہ ہے اسلام میں نماز کی تاریخ، میں کہوں گا کہ: اسلام میں نماز کا حکم یک مشت نہیں آیا، بلکہ اس کا حکم بتدریج آیا، پہلے مکہ میں اور پھر مدینہ میں، یوں یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یثرب ہجرت کرنے کے بعد مکمل ہوئی، ہم دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں نماز دو رکعات پر مشتمل ہوتی تھی، جبکہ مدینہ میں ان کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور اس طرح یہ دو نمازیں ہوگئیں، نمازِ مقیم اور نمازِ سفر، اسی طرح مدینہ میں ایسی نمازیں بھی ادا کی گئیں جن کا حکم مکہ میں نہیں آیا تھا، یہ سب نبوت کی نیچر کی وجہ سے ہوا جو بتدریج مدینہ میں جاکر مکمل ہوئی، نماز اسلام کے اہم ارکان میں سے ایک ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ اس نے بھی ترقی کی۔

مسلمان ایک دن میں پانچ نمازیں پڑھتا ہے، یہ اس پر لکھا گیا ایک فرض ہے جسے وہ مقررہ اوقات میں ادا کرتا ہے، بعض اہلِ سیرت بتاتے ہیں کہ نماز اسی وقت ہی شروع ہوگئی تھی جب جبریل علیہ السلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے انہیں انسانوں اور جنوں کے لیے اپنا پیغام بر منتخب کیا ہے، سیرت دان بتاتے ہیں کہ اس وقت جبریل علیہ السلام نے انہیں وضوء اور نماز سکھائی، حضرت جبریل علیہ السلام نے وضوء کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہی کی طرح وضوء فرمایا، پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہی کی طرح نماز ادا کی، پھر جب ان سے وحی چلی گئی تو وہ ام المؤمنین خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں وضوء سکھایا جیسا کہ انہوں نے سیکھا تھا اور پھر جبریل کی نماز کی طرح ان کے ساتھ نماز ادا کی 1۔

کچھ اور روایات بھی ہیں جو سابقہ روایات سے پوری طرح ملتی ہیں سوائے اس دن کا تعین کرنے میں جس میں جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں وضوء اور نماز کا حکم دیا، ان روایات نے دن کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ اسے مبہم چھوڑ دیا 2 لہذا نماز کے فرض ہونے کے دن کے بارے میں ہم ان روایات سے کچھ کشید نہیں کر سکتے۔

نافع بن جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ”جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی تو جبرائیل آپ کے پاس آئے اور زوالِ آفتاب کے بعد آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا تو عصر کی نماز پڑھائی اور زوالِ آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی، پھر شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کی نماز پڑھائی اور طلوعِ فجر کے بعد ہی صُبح کی نماز پڑھائی، پھر دوسرے روز ظہر کی نماز آپ کو اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب دو مثل ہوا، اور مغرب کی نماز اسی وقت پڑھائی جس وقت روزِ گزشتہ پڑھائی تھی، اور عشاء کی نماز اُس وقت پڑھائی جب رات کی ایک تہائی گزر چکی تھی اور صبح کی نماز اس وقت پڑھائی جب خوب روشنی ظاہر ہوگئی تھی۔“ 3۔

نافع کی اس روایت میں ایسا کوئی متن نہیں ہے جس سے نماز کے فرض ہونے کے دن کا پتہ چلتا ہو، علماء میں مشہور یہ ہے کہ نماز اسراء کی رات کو فرض ہوئی تھی، اس رات ان پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں 4، تاہم انہوں نے اس رات کے وقت پر اختلاف کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ رات ہجرت سے تین سال پہلے تھی، جبکہ بعض دوسروں نے اسے ہجرت سے ایک سال قبل قرار دیا ہے، بعض لکھتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اکیاون سال اور نو ماہ تھی، یہ بھی آیا ہے کہ اسراء عقبہ میں انصار کے ساتھ بیعت کے دوران ہوئی تھی جبکہ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بعثت کے پندرہ ماہ بعد ہوئی تھی اس کے علاوہ کچھ دیگر اقوال بھی ہیں 5۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پانچوں نمازیں اس اختلافی مدت کے دوران ہی فرض ہوئی ہیں 6، اوپر اسراء کی بابت جو تذکرہ ہوا ہے اس کے پیشِ نظر ایک گروہ کا خیال ہے کہ اسراء سے قبل کوئی فرض نماز نہیں تھی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور نا ہی ان کی امت پر ما سوائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تہجد ادا کرتے تھے، اسراء کی رات پانچوں نمازوں سے رات کا قیام منسوخ ہوگیا 7۔

ابن حجر الہیتمی کہتے ہیں: ”لوگوں کو صرف توحید کا مکلف بنایا گیا، یہ حال ایک طویل عرصہ رہا، پھر ان پر وہ نماز فرض ہوئی جو سورہ مزمل میں مذکور ہے، پھر یہ سب پانچوں نمازوں سے منسوخ ہوگیا، پھر فرائض میں اضافہ اور تسلسل مدینہ میں ہوا، جب اسلام ظاہر ہوا اور لوگوں کے دلوں پر چھا گیا تب جس قدر اس کا ظہور بڑھتا فرائض اور ان کا تسلسل بڑھتا جاتا“ 8۔

حوالہ جات:

1- ابن ہشام 155/1، السیرۃ الحلبیۃ 252/1 اور اس سے آگے، ابن الاثیر 22/2، الطبری 304/2 دار المعارف، الروض الأنف 162/1 اور اس سے آگے۔

2- الطبری 307/2۔

3- سیرت ابنِ ہشام 156/1۔

4- ابن ہشام 246/1 اور اس سے آگے، التجرید الصریح 34/1 اور اس سے آگے، السیرۃ الحلبیۃ 301/1 اور اس سے آگے، تفسیر الطبری 4/15 اور اس سے آگے، تفسیر ابن کثیر 2/3 اور اس سے آگے۔

5- المقریزی، امتاع الاسماع 29/1، ابن سید الناس، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر 140/1 اور اس سے آگے، تفسیر ابن کثیر 2/3 اور اس سے آگے۔

6- الروض الانف 162/1 اور اس سے آگے، 251 اور اس سے آگے۔

7- السیرۃ الحلبیۃ 302/1۔

8- السیرۃ الحلبیۃ 302/1۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

URL for Part 2:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-2-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(2/d/34490

URL for Part 3:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-part-3--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-نماز-کی-شکل-اور-با-جماعت-نماز-(3/d/34528  

URL for Part 4:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-4--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-کے-اوقات-اور-ان-کی-تعداد-(4/d/34567

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--part-5-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز-(5/d/34616

 




TOTAL COMMENTS:-   4


  • Bhi g namaz ka sai treka kn sa Hai suni Wala ya wahabi Wala main confused hn
    By Adnan - 5/11/2017 6:00:08 PM



  • Thanks for your comment Sir. While you are conducting your research, you may find the following useful. A definition of Salat by G A Parwez:


    110. Salat - (sad-lam-wao, sad-lam-ya)

    This word has occurred in the Quran 108 times in various forms and as salat 67 times. Salat is the principle and one of the most important elements of Islam, and has special significance. Also in view of its extensive and repeated use in the Quran, it is necessary to discuss it somewhat in detail with reference to various verses. First its literal meaning:

    As-sala is the central portion of the backside, the portion where the tail of the animal is. Both sides are called salwan and its plural is salawatun (Taj).

    Mosalli is the horse which comes at second place in a race, and is so close to the first-placed that its ears are touching the other’s back portion (the first one is called sabiq.) It, therefore, means to follow the first one very closely. There is a saying of Ali the fourth caliph, “Sabaqa Rasool-Allah, wa salla Abu-Bakr wa sallasa Omar wa khabatatna fitnatun. Rasool-Allah went away first, followed by Abu-Bakr and then Omar and thereafter chaos overtook us (Taj). According to Taj, salea wastala means attachment, to remain stuck. From this reference Raghib says that verse (74/43), “We were not musalleen,” means that they did not follow the rusul. Accordingly Qurtabi also writes that salat would mean to remain within the bounds of the laws of Allah, and tasleah means to walk behind a person so closely that there remains no distance; not to surpass him but remain closely behind. It is very important to understand the relationship of man and Allah. Allah is the One Who is supreme, most perfect and most beautiful. He has various attributes called Asma-ul-Husna and each attribute is perfect and complete. Allah has also given a personality to man and referred to it as roohona - the divine energy (see rooh). The object or the purpose of man’s life is to develop his personality according to the laws of Allah and inculcate in himself as much of Allah’s attributes as may be humanly possible. In the first Surah (Al-F'atiha) of the Quran, a momin is taught to ask of Allah to guide him to Sirat-al-Mustaqeem (and that, in fact, should be a momin’s purpose in life - to tread the Sirat-al-Mustaqeem all along - the straight and the balanced path), and in the eleventh Surah (Hud) it is stated that Allah continuously stays at Sirat-al-Mustaqeem. It transpires from the above that the only straight path a momin is required to adopt during the course of his life, is the same on which Allah Almighty Himself is while running this universe. This path can easily be adopted by closely and steadfastly following the dictates of Allah’s book, i.e., the Holy Quran. Hence the basic meaning of salat is complete concordance with the book of Allah and thereby incorporating in one’s own self Allah’s most balanced attributes, of course, as far as is humanly possible.

    In verse (24/41) a question is asked: “Have you not pondered over the fact that whatever there is in the universe including the birds with wings spread out, is continuously carrying out its assignments with the fullest play of its capabilities and each one of them knows its sphere of duties (tasbeeh) and the way those are to be carried out (salat).” This obviously means that everything in the universe knows by instinct, what are its duties and how to perform them and what is its destiny. As far as the animal world is concerned, they do it by instinct. But if a human being wants to know, what is his tasbeeh and salat, it is a must for him to have faith in wahi, through which all these directions containing do’s and don’ts are explained. This is Iqamat-as-Salat, a special term used in the Quran.

    To follow the laws of the Quran is Iqamat-as-Salat. This is not possible individually and can only be done collectively; that is why the Quran has used the plural tense for this. It is the responsibility of an Islamic state to establish this order (22/41), and they do it by mutual consultations (42/38). This system covers all the aspects of life, particularly the economic system. Verse (11/87) is very significant in this regard. It says: “O Shuaib! does your salat not permit us even to spend our wealth as we desire?” They did not understand as to what type of salat gave directions even in economic matters; they thought salat was just a prayer or some sort of ritual.

    In a nutshell it would pose one simple question. Would a person like todecide his affairs according to his desires and wishes, or would he surrender before the laws of Allah? This later position is called salat. Verse (19/59) further clarifies: “They were followed by people who abandoned or negated the salat.” Therefore, following the divine laws is called salat. As such Ibn-e-Qutaiba says, salat actually means ad-deen and Iqamat-as-Salat means Iqamat-ud-Deen.

    As-salla means fire and firewood. Salla asaho-alan-nar means he straightened and softened his stick by heating it in fire. As such salat would also mean to remove one’s defects. The author of Al-Minar says that salat, in fact, is the recognition that one’s personality needs guidance of a superior authority. In this way Qurtabi says that salat means obedience to Allah.

    Another meaning of salat is to subdue and arrest and attract someone’s attention (Moheet). This view would explain another meaning of salat which is taming and harnessing the forces operative in the universe.

    One meaning of salat is reverence and respect (Taj), i.e., to work for and to establish a socio-economic system that proves the greatness of the Sustainer of this universe.

    In Hebrew dictionary salawat (plural of salat) is the praying place of Jews. In verse (22/40) this word is used in that context.

    Salat has also been used for a particular ritual. On the whole, whatever a momin is doing by following the laws of Allah, without any restrictions of time or formation, is salat. But wherever in the Quran it refers to a particular action, its form and timing has to be fixed. In this regard there are various verses in the Quran, e.g., Verse (5/6) mentions ablution, which is to be performed before offering salat. Verse (4/43) prohibits the momineen from performing salat when they are under the influence of intoxicants (the momineen are, however, admonished to refrain from the use of intoxicants 5/90-91).

    In Surah Al-Jumaa (62/9-10) it is commanded: “When you are called for the congregation on the day of Juma, you should rush towards zikr-Allah, putting aside your business - and after salat spread out in the land in search of the bounty of Allah and do His zikr a great deal, so that you may prosper.”

    Some specific timings are also mentioned in the Quran. Verse (17/78) directs the momineen to establish salat from early morning till late night. In this verse the word dalook has been used which means from morning till evening, thereby denying the earlier superstition that certain times of the day are good or bad. It is further explained in verse (11/114) that salat should be established at the two ends of the day and the early hours of the night. Verses (20/130) and (50/39) mention about hamd before sunrise and sunset and also late at night when the stars start fading (52/49).

    Verse (24/58) mentions about Salat-ul-Fajr and Salat-ul-Ishaa when domestic servants are forbidden to enter private apartments without permission. About recitation during salat, the Quran says that you should understand as to what you are reciting (4/43) and do not recite loudly or in silence but adopt a course in between. The above verses explain that the meaning of salat encompasses congregational prayers as well. Wherever Aqeem-us-Salat is referred to, it means the establishment of the whole system, the obedience to the laws of Allah, and the observance of all the duties expected of a momin. At other places, it also refers to the offering of prayers as well as other duties which are a part of the whole system. For this distinction one has to see the whole verse and the context in which it is brought. Similarly the word musalleen refers to those persons who are at the height of dignity (70/22-35).

    Salla alaihe, according to Raghib, means to respect, to give blessings, to encourage, to grow, to nourish, to stop from getting decayed. So in those verses of the Quran where this root occurs with ala, it means that Allah and all the heavenly forces encourage you, provide you with necessary means of growth and nourishment and make your efforts bear fruit (33/43). In verse (2/157) it is stated that when the momineen face difficulties in the enforcement and establishment of deen, they do not get disheartened, but remain steadfast and they deserve all the appreciation and encouragement from Allah. This is also mentioned in particular about Rasool-Allah (peace be upon him) himself saying, “Allah and all the heavenly forces help and encourage him in the fulfillment of the divine program. So, O Jamat-ul-Momineen, you should also help your Rasool (peace be upon him), by following him and submitting before him (33/56).”


    By Mubashir - 11/29/2013 8:15:11 AM



  • قبلہ آپ سے کوئی اختلاف نہیں، ہم بھی یہی عرض کر رہے ہیں، یہ ایک طویل سلسلہ ہے اور یہ اس کی پانچویں قسط ہے، اگر آپ نے شروع سے یہ سلسلہ پڑھا ہوتا تو آپ کو یہ زحمت اٹھانے کی قطعاً کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے :)
    By ناستک درانی - 11/28/2013 10:21:36 AM



  • Namaz  word is not found in the Quran. Salat is, which has many shades of meanings. Salat was not something new that Muhammad (S) brought. We read in the Quran that previous Messengers and their people observed it as well including the Jews and Christians. Some Jews pray almost the same way as Muslims do, please check:

    https://ca-mg5.mail.yahoo.com/neo/launch?.partner=rogers-acs&.rand=0s51ngf17n7cc
    By Mubashir - 11/28/2013 8:04:48 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content