certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (15 Apr 2019 NewAgeIslam.Com)



Appointment of Two ‘Grand Muftis’ In India ہندوستان کے اندر ایک ہی وقت میں دو قاضی القضاۃ کی تقرری سے بریلوی زعماء و قائدین کے درمیان داخلی اختلاف و انتشار کے آثار



نیو ایج اسلام خصوصی نامہ نگار

6 اپریل 2019

2 /اپریل کے متعدد قومی اردو اخبارات کے مطابق مرحوم مفتی اختر رضا خان ازہری میاں کے بیٹے اور جانشین عسجد رضا خان کو 67 بریلوی علماء کرام اور مفتیان عظام کی اتفاق رائے سے ہندوستان کا قاضی القضاۃ مقرر کر دیا گیا ۔ یہ فیصلہ حالیہ منعقدہ سولہویں فقہی سیمینار کے موقع پر لیا گیا جس میں ہر سال بریلوی علماء و فقہا موجودہ مسائل پر اپنی فقہی رائے پیش کرتے ہیں اور پھر اپنی اجتماعی رائے یا اجماع کی تصدیق میں ایک تحریری اعلامیہ پر دستخط کرتے ہیں۔ لہٰذا، مولانا عسجد رضا خان جو پہلے قاضی شہر تھے اب باضابطہ طور پر ہندوستان میں بریلوی مسلمانوں کے قاضی القضاۃ بن چکے ہیں۔ درگاہ اعلٰحضرت کی مرکزی تنظیم جماعت رضا مصطفی کے نائب صدر نے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا:

"67 علماء کرام کے ایک متفقہ فیصلے سے بجا طور پر مفتی عسجد رضا قاضی القضاۃ فی الہند مقرر کئے جا چکے ہیں۔ اب اہم شرعی معاملات میں سنی بریلوی علماء مفتی عسجد رضا سے مراجعت کریں گے۔ "

ہندوستان میں مفتی اعظم کا خطاب اس شخصیت کو دیا جاتا ہے جسے اسلامی معاملات میں فتوی یا مستند قانونی رائے دینے کا اختیار حاصل ہو ۔ لیکن قاضی القضاۃ کی اس تازہ تقرری پر ایک گہری نظر ڈالنے سے بریلوی مسلک کے طبقہ علماء میں آپسی رقابت اور اختلاف و انتشار کا پتہ چلتا ہے ۔ دراصل ابھی کچھ عرصے میں بریلوی معتقدات کے حامل جنوبی ہند کے سنی شافعی علماء نے کئی نظریاتی مسائل میں شمالی ہند کے حنفی بریلوی علماء سے زبردست اختلافات کئے ہیں۔ اسی رسہ کشی کا نتیجہ ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی ملک کے اندر بریلوی مسلمانوں کے لئے دو ‘‘قاضی القضاۃ’’ کی تقرری عمل میں آئی ۔

محض ایک مہینے قبل ہی جنوبی ہند کے سنی بریلوی عالم دین اور مذہبی رہنما شیخ ابو بکرمسلیار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والے غریب نواز پیس کانفرنس کے موقع پر قاضی القضاۃ فی الہند کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔ یہ تقرری ایک انسداد دہشت گردی اسلامی کانفرنس میں عمل میں آئی جس کا انعقاد آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام سمیت ملک کی بڑی بریلوی تنظیموں نے کیا تھا۔ تفصیلی رپورٹ کے لئے ملاحظہ کریں: (www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/all-india-tanzeem-ulama-e-islam-issues-a-fresh-fatwa-on-terrorism-emanating-from-pakistan/d/117858)

شیخ ابو بکر کا قائم کردہ عظیم ترین سنی ادارہ مرکز الثقافہ السنیہ کی پریس ریلیز کے مطابق شیخ ابو بکر کو 'مفتی اعظم ' کا یہ عظیم ترین خطاب خود اعلیٰ حضرت کے پوتے مولانا منان رضا خان نے ہی کئی بریلوی زعماء و قائدین کی زبرست حمایت کے ساتھ عطا کیا تھا جس میں حضرت امین میاں برکاتی، بانی علی گڑھ البرکات انسٹی ٹیوٹ ، سید بابر اشرف، بانی و صدر صوفی وائس آف انڈیا، مفتی اشفاق حسین قادری ، قومی صدر آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے نام قابل ذکر ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ عسجد رضا کی تازہ تقرری سے بریلوی زعماء و قائدین کے درمیان داخلی اختلاف و انتشار کے آثار بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ جنوبی ہند کے اکثریتی شافعی سنی مسلمانوں کے ساتھ شمالی ہند کے سنی حنفی مسلمانوں کے اختلافات کے علاوہ، اہل سنت کے یہ دو دھڑےجو دینی معمولات و معتقدات میں اعلیٰ حضرت کا مسلک اختیار کرتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ دست بہ گریباں ہیں ۔ سوشل میڈیا پر حزب مخالف کے مفتی اعظم کی 'جعلی مفتی' کہہ کر تضحیک کی جا رہی ہے اور اس کا سلسلہ بریلوی فیس بک اور وائس ایپ گروپس میں زوروں پر ہے ۔

تعلیم اور انسانی حقوق کے شعبوں میں ترقیاتی کام کے ساتھ ملک میں بین مسلکی سطح پر امن و سلامتی اور تکثیریت پسندی کو فروغ دینے کے بجائے حزب مخالف بریلوی گروہ معاشرے کے اندر فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں سرگرم عمل ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان میں ایک اور قاضی القضاۃ کی تقرری کر کے وہ بھی ایک ایسے نیم عالم کو جنہوں نے کسی تعلیمی ادارے میں نہ تو عالم و فاضل کی تعلیم حاصل کی ہےاور نہ ہی کوئی اور کورس کیا ہے- اس گروہ نے آپسی تصادم کا ایک دروازہ کھول دیاہے۔

اب ہم بریلوی علماء و مفتیان کرام کے ان فتوں کی نوعیت کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں وسیع پیمانے پر میں کس طرح کے فتاوے صادر کئے ہیں ۔ سلمان رشدی کے خلاف فتوی سے لیکر تسلیمہ نسرین ، ماجد ماجدی، اے آر رحمن اور اے پی جے عبدالکلام کے خلاف فتوی بازی تک اور تسلیمہ نسرین کا سر قلم کرنے کی پرتشدد دھمکی یا طاہرالقادری کے بائیکاٹ کرنے اور ان پر پابندی عائد کرنے جیسے مطالبات تک ، ان رجعت پسند بریلوی علماء نے ہندوستان میں نفرت اور غصے کا ایک ماحول پیدا کر دیا ہے۔

بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین پر 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کرنے والے سب سے پہلے ہندوستانی عالم و سیاست دان توقیر رضا خان تھے۔ توقیر رضا نے مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستان کی حکومت ملک میں تسلیمہ نسرین کے داخلے پر پابندی عائد کرے۔ ورنہ جو کوئی اس کا سر کاٹے گا اسے پانچ لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ صوفی مزارات پر مسلم خواتین کی حاضری کے خلاف بدنام زمانہ فتوی بھی حاجی علی درگاہ پر بطور امام مقرر ممبئی کے ایک بریلوی عالم مفتی محمود اختر قادری نے ہی دیا تھا ۔ انہوں نے ایرانی فلم ساز ماجد ماجدی کی بایوپک (Muhammad: The Messenger of God)کے لئے موسیقی لکھنے پر اے آر رحمان کے خلاف بھی فتوی جاری کیا تھا ۔

مزید برآں یہ کہ اکثر بریلوی علماء ثقافتی معمولات سے بیر رکھتے ہیں اور پہلے اسلامی مہینے کی تقریب تعزیہ ، حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر صوفی بسنت کے جشن یا اتر پردیش میں حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر صوفی ہولی (عید گلابی)، بعض درگاہوں پر منائی جانے والی دیوالی ، سماع اور رقص جیسے اسلامی ثقافتی رسومات و معمولات سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ ہر سال بے شمار بریلوی علماء و مفتیان کرام اور یہاں تک کہ مدارس میں زیر تعلیم فتویٰ نوسی کی مشق کرنے والے ان کے شاگرد ان معمولات کی تردید کرتے ہیں ۔ نتیجے کے طور پر آج عام ہندوستانی مسلمان بھی جنہیں کبھی اپنے مضبوط ثقافتی اقدار پر ناز تھا اب ان بریلوی علما اور ان کے پیران عظام سے متاثر ہو کر صوفی درگاہ پر ایسے بے شمار مراسم اور ثقافتی روایات و معمولات کو ترک کر چکے ہیں ۔ دیوالی یا ہولی جیسے ہندو تہواروں میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکت کے خلاف بریلوی علما و فقہاء کے جاری کردہ فتوے باضابطہ طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں ۔ اور بریلوی علماء کے ان علیحدگی پسند اور انتہاپرست فتوں کی ترویج و اشاعت کے لئے سوشل میڈیا پر بھی مہم جاری ہے جن میں غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت کرنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔

یہ معاملہ کیرل کے سنی صوفی مسلمانوں کے لئے اور خاص طور پر شیخ ابو بکر کے پیروکاروں اور مرکز الثقافہ السنیہ کے بےشمار طلباء اور فارغ التحصیل کے لئے افسوس ناک تو ہے ہی ، بریلوی مفتیان کرام نے ہندوستان کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کو بھی معاف نہیں کیا اور ان کے خلاف بھی ایک فتوی جاری کر دیا ۔ کلام نے "فاؤنڈیشن فار نونیٹی آف رلیجنس اینڈ ان لائٹ منٹ آف سٹیزن شپ (FUREC)’’ کے قیام کے ذریعے ایک بین ثقافتی تحریک کا نظریہ پیش کیا تھا اور اس کی بنیاد رکھی تھا ۔ اس کا مقصد واضح طور پر ہندوستان میں بین المذاہب اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ FUREC میں ہندوستان کے تمام مذاہب اور ثقافتوں کو نمائندگی حاصل تھی۔ اس کے ایک ممبر کچھوچھہ شریف (اتر پردیش)درگاہ کے سجادہ نشین سید محمد جیلانی اشرف بھی تھے ۔ اس کے خلاف سینکڑوں بریلوی علماء نے ایک شدیدی اور تفصیلی فتوی جاری کیا جس میں FUREC کو ایک 'اسلام مخالف تحریک’ اور اے پی جے عبدالکلام اور سید جیلانی اشرف سمیت اس کے تمام مسلم ممبران کو 'دائرہ اسلام سے خارج ' قرار دیا۔ مکمل فتوی مولانا خوشتر نورانی کی ادارت میں چلنے والے اردو ماہانہ ملت کا ترجمان جام نور دہلی، میں شائع کیا گیا تھا۔

اب ظاہر ہے کہ شمالی ہند کے ان بریلوی علماء کے ایسے متعدد جارحانہ موقف کی وجہ سے جنوبی ہند کے سنی صوفی مسلمان سوداگران ، بریلی شریف میں واقع بریلوی مرکز سے خود کو الگ کر رہے ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/new-age-islam-special-correspondent/appointment-of-two-‘grand-muftis’-in-india-at-the-same-time-reeks-of-an-internal-conflict-and-rivalry-within-the-indian-muslim-to-barelwi-leadership/d/118247

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-special-correspondent/appointment-of-two-‘grand-muftis’-in-india-ہندوستان-کے-اندر-ایک-ہی-وقت-میں-دو-قاضی-القضاۃ-کی-تقرری-سے-بریلوی-زعماء-و-قائدین-کے-درمیان-داخلی-اختلاف-و-انتشار-کے-آثار/d/118319

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content