certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)



Objectives Resolution and Secularism-Part VI قرار داد مقاصد اور سیکولرازم: (قسط 6)


وجاہت مسعود

پنجاب کے گورنر برٹر ینڈ گلینسی نے 22فروری 1946کو وائسر ائے ویول کے نام اپنی پندرہ روزہ خفیہ رپورٹ میں لکھا کہ ‘‘مسلم لیگ کے مقرر روز بروز اپنی تقریروں میں انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں۔ مولوی ،پیر اور طالب علم صوبے بھر میں دورے کر کے لوگوں کو بتارہے ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ کے امید واروں کو ووٹ نہ دیا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائیں گے، ان کے نکاح ٹوٹ جائیں گے۔ انتخابات کا نتیجہ جو بھی ہو مسلم لیگ نے ‘اسلام خطرے میں’ کے نام سے جو جارحانہ مہم چلائی ہے، اس سے آئندہ انتخابات میں ان کی نشستیں بڑھ جائیں گی’’۔

مسلم لیگ نے 1940کے بعد اور خاص طور پر 1946کے انتخابات سے قبل مذہبی طبقے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کیا جتن کیے اور اس طبقے میں مسلم لیگ کی پذیرائی کی کیا حیثیت تھی، اس سوال کا جواب سردار شوکت حیات سے لیتے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب A Nation that Lost its Soulمیں اس موضوع پر خاصی تفصیل سے ر وشنی ڈالی ہے۔ سردار شوکت حیات جو قائد  اعظم کے قریبی اور پنجاب کے جاگیر دار طبقے کے نمائندہ کردار تھے ،لکھتے ہیں۔

‘‘ ہمارے ساتھ صرف وہ علما تھے جو نواب صاحب آف محمود آباد کے دوست اور فرنگی محل سے تعلق رکھتے تھے۔ مولانا غلام مرشد( خطیب شاہی مسجد لاہور) اور مولانا عبدا لحامد بدایونی نے 1945کے لگ بھگ مسلم لیگ کی حمایت شروع کی۔ چند دیگر غیر معروف علمانے بھی ہمارا ساتھ دیا۔ ان  علما کو چھوڑ کر 1946تک کسی معروف عالم دین نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا’’۔

پنجاب کے سجادہ نشین گروہ کے بارے میں (جنہیں جنرل ضیا الحق خصوصی اہتمام نے ‘مشائخ عظام’ کہنا پسند کرتے تھے) شوکت حیات لکھتے ہیں۔

‘‘ پنجاب کے پیروں میں سے معدودے چند نے تحریک پاکستان میں مدد کی ۔ پیر صاحب آف تونسہ شریف جو نواب ممدوٹ کے رشتہ دار تھے۔ ان کے خلیفہ پیر قمر الدین آف سیال شریف اور پیر صاحب آف گولڑہ شریف نے ان کی تقلید میں تحریک میں شمولیت کی ۔ پیر جلال پور والے تحریک میں شریک ہوئے جو راجہ غضفر علی کے قریبی رشتہ دار تھے ۔ ان تین پیر صاحبان کے علاوہ جو نام مجھے یاد ہیں وہ تھے پیر جماعت علی شاہ، پیر مانکی شریف او ر پیر صاحب آف زکوڑی شریف’’۔ آخر الذ کردونوں حضرات صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے تھے۔

پیر مانکی شریف کے مسلم لیگ میں شامل ہونے کا قصہ بھی پہلو دار ہے۔ ار لینڈ جینسن (Erland Jansson) نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ بعنوان ‘پاکستان’ بھارت یا پختو نستان ؟ ’ میں لکھا ہے کہ ‘‘ پیر مانکی شریف نے انجمن آصفیہ کے نام سے اپنی تنظیم بنا رکھی تھی۔ اس تنظیم نے اس شرط پر مسلم لیگ کی حمایت کا وعدہ کیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ کی جائے گی۔ جناح نے اس مطالبے سے اتفاق کرلیا۔ اس پر پیر مانکی شریف نے ترنت پاکستان حاصل کرنے کے لیے جہاد کا اعلان کردیا اور اپنی تنظیم کے ارکان کو 1946کے انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کرنے کا حکم دیا۔’’

قائد اعظم کا پیر مانکی  شریف کے نام وہ خط جس میں انہوں نے پیر صاحب کا مطالبہ تسلیم کیا تھا، کوئی اساطیر ی معاملہ نہیں۔ قائد اعظم نے واقعی وہ خط لکھا تھا اور پاکستان دستور ساز اسمبلی کے مباحث (جلد پنجم) میں اس خط کا ذکر موجود ہے۔ اڑچن جناح صاحب کی خالص قانون زبان سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا ۔Shariah will be applied to the affairs of the Muslim community(مسلمانوں کے امور میں شریعت کا اطلاق کیا جائے گا۔)

‘‘مسلمانوں کے امور میں ’’ شریعت کا اطلاق کرنے اور ‘‘پاکستان میں شریعت نافذ’’ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مسلمانوں کے امور میں اسلامی اصول و ضوابط کے اطلاق سے کسے انکار ہوسکتا ہے ۔ تاہم پاکستان میں شریعت نافذ کرنے کا  مطلب تو اسے مذہبی ریاست بنانا ہوگا۔ جناح صاحب کی طرح ان کے بہت بعد آنے والے بھٹو صاحب بھی قانونی موشگافیوں کی مدد سے تاریخ میں صاف بچ نکلتے تھے ۔ بھٹو صاحب نے 1973کے دستور میں احمدیوں والی ترمیم کرتے  ہوئے لکھا، ‘‘احمد ی قانون اور دستور کی نظر میں غیر مسلم سمجھتے جائیں گے’’۔اس جملے میں ‘قانون اور دستور کی نظر میں ’ والی ترکیب کا مطلب ہے، مذہبی فتوے کے بجائے خالص قانونی نقطہ نظر سے غیر مسلم سمجھا جائے گا۔ بدقسمتی سے سیاست میں قانونی موشگافیوں کی بجائے عامتہ الناس میں پایا جانے والا تاثر زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جناح صاحب کبھی مسلم اکثریتی ریاست اور اسلامی ریاست کا فرق واضح نہ کرپائے اور بھٹو صاحب پر یہ الزام موجود ہے کہ انہوں نے ایک خالص مذہبی مسئلے میں دستور ی مداخلت کر کے پارلیمنٹ کے وظیفہ منصبی سے تجاوز کیا۔

احمدیوں کا ذکر ہوا تو سردار شوکت حیات ہی کا ایک نہایت بامعنی اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔

‘‘ مجھے قائد اعظم کی طرف پیغام ملا‘ شوکت مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بٹالہ جارہے ہو جو قادیان سے پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ تو وہاں جاؤ اور احمدی فرقے کے سربراہ مرزا بشیر الدین احمد کو میری درخواست پہنچاؤ کہ وہ پاکستان کے حصول کے لیے اپنی نیک دعاؤں اور  حمایت سے نوازیں ۔ میں تقریباً رات بارہ بجے قادیان پہنچا تو حضرت صاحب آرام فرمارہے تھے ۔ میں نے اطلاع بھجوائی کہ میں قائد اعظم کا پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔ وہ اسی وقت نیچے تشریف لائے اور استفسار کیا کہ قائد اعظم کے کیا احکامات ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ آپ کی دعا او رمعاونت کے طلب گار ہیں۔ انہوں نے جو اباً کہا کہ شروع ہی سے ان کے مشن کے لیے دعا گو ہیں اور جہاں تک ان کے پیرو کاروں کا تعلق ہے کوئی احمدی مسلم لیگ کے خلاف انتخاب میں کھڑ ا نہیں ہوگا اور اگر کوئی اس  غداری کرے گا تو وہ ان کی جماعت کی حمایت سے محروم رہے گا۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ممتاز دولتانہ نے سیالکورٹ کے حلقے میں ایک احمدی نواب محمد دین کو بھاری اکثریت سے شکست دی’’۔

لیجئے! مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی طرف سے تحریک پاکستان کی حمایت کے بارے میں بھی سردار شوکت حیات ہی سے گواہی لے لیں۔

‘‘جب میں پٹھان کوٹ پہنچا تو قائد اعظم نے مولانا مودودی سے بھی ملنے کے لیے حکم فرمایا تھا۔ وہ چوہدری نیاز کے گاؤں سے متصل باغ میں رہائش پذیر تھے۔ جب  میں نے انہیں قائد اعظم کا پیغام پہنچایا کہ وہ پاکستان کے لیے دعا کریں او رہماری حمایت کریں تو انہوں نے جو اباً کہا کہ وہ کیسے ناپاکستان (ناپاک جگہ) کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔ مزید براں پاکستان کیسے وجود میں آسکتا تھا، جس وقت تک کہ تمام ہندوستان کا ہر فرد مسلمان نہیں  ہوجاتا ؟ جماعت اسلامی کے قائد کی یہ بصیرت اور نظر یہ تھا۔’’(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکولرازم: (قسط 6)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط13)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط15)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط17)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط18)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط19)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط20)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط21)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط22)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط23)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط24)

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/wajahat-masood/objectives-resolution-and-secularism-part-vi--قرار-داد-مقاصد-اور-سیکولرازم--(قسط-6)/d/117332






TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content