New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 06:28 AM

Urdu Section ( 17 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prepare Muslim Youth to Behead Ahmadis خود کش حملوں کے ذریعے احمدیوں کے قتل کے لئے مسلم نو جوانوں کو تیار کریں، پنجاب میں بنیاد پرست ملاؤں کا مطالبہ

 

 نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

  5 جون 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

مسلم نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے کا  بڑھتا ہوا عمل  عالمی سطح پر  خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ آج مسلمان انٹرنیٹ اور مختلف میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے شدت پسند مواد کی  زد میں  ہیں، لہٰذا  وہ اپنے طور پر نظریات کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ آج وہ اب اپنے نظریات کی  تشکیل  کے لئے مدارس یا  سکول کے مدرسین پر  منحصر نہیں ہیں  یا اپنے مذہب کے بارے میں جاننے کے لئے صرف اپنی کتابوں پر انحصار نہیں کرتے ۔ مسلمانوں کے درمیان مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں ویب سائٹس ہیں، ان میں سےہر  ایک کا یہ دعوی ہے کہ صرف ان کے فرقے یا نظریے کو ہی  خدا کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے  اور جنت میں ایک بلند مقام کی ضمانت دیتا ہے۔ بعض فرقے اعتدال پسند ہیں لیکن ان میں سے اکثر  متشدد، انتہا پسند اور یہاں تک کہ جہادی ہیں۔

موجودہ مسلم دنیا میں، دو مسئلوں نے  مسلمانوں کو اور  ان کے وجود کوبھی  اتنا متاثر کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ایک  واحد  مذہبی کمیونٹی داؤ پر ہے ۔ ایک جہاد کا متشدد نظریہ ہے اور دوسرا فرقہ وارانہ نظریہ ۔ وہ دونوں مسلم کمیونٹی کے لئے یکساں طور پر نقصان دہ اور مہلک ہیں ۔ جہادیت باہر سے نقصان پہنچا رہی ہے  کیونکہ جہادی ایک پرامن اور روادار مذہب کے طور پر اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے کھل کر سامنے آچکے ہیں ۔جہادی جودر  اصل افغانستان پر روسی قبضے کے ردعمل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، اور بھر امریکی قیادت نے  جلد ہی انہیں  فرقہ وارانہ بنا  دیا اور اس نے شیعہ، جمہوریت پسند  اور دیگر تمام اقلیتوں کو تباہ کرتے ہوئے  سنی اسلام کی ایک عالمی خلافت کے قیام کی ذمہ داری کو فرض قرار دیا ۔ یہ فرقے روس یا امریکہ کا تو زیادہ نقصان نہیں کر سکے، لیکن وہ تمام مسلم ممالک کے متنازعہ علاقوں میں جہادی شریعت کے زبردستی نفاذ کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں ۔

فرقہ واریت ان مسلم ممالک یا پرامن ممالک کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے جہاں مسلمان نہ تو حکومتوں کے ساتھ  اور نہ ہی  غیر مسلموں کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ۔ لیکن بظاہر ان پر امن مسلم معاشروں میں ایک سرد جنگ چل رہی ہے۔ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان فرقہ واریت کی یہ سرد جنگ دن بہ دن  شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ ان معاشروں میں مختلف فرقے اور ذیلی فرقے اور مذہبی تنظیمیں مذہبی رہنماؤں کی قیادت کے تحت  موجود ہیں۔ ان مذہبی رہنماؤں کے فرقہ وارانہ نقطہ نظر اور رویے مسلسل فرقہ بندی ، تنازعہ اور مختلف فرقوں اور مسلمانوں کے ذیلی فرقوں کے درمیان مقابلے  کی وجہ ہیں۔ مذہبی مدارس بھی مخالف فرقوں کے رہنماؤں کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر کے  ماحول کو سنگین کر رہے ہیں ۔ مخالف فرقوں کے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات  دیتے  ہوئے مدارس کے طالب علموں کے ذریعہ پمفلٹ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ اکثر نوجوان قرآن و حدیث کی حقیقی تعلیمات سے واقف  نہیں ہیں اور زیادہ تر اپنے مذہبی اساتذہ اور علماء کی تشریحات پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

حال ہی میں، احمدیہ مخالف تحریک‘   تحفظ ختم نبوت  کانفرنس ’کے سربراہ مولانا حبیب الرحمان ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مسلمانوں کو تصوف کو خیر باد کہنا چاہئے ۔ احمدیہ فرقے  کو جڑ سے اکھاڑنے کی  ضرورت پر بولتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ مسلم والدین کو اپنے بچوں کو جہاد کے لئے تیار کرنا چاہئے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان  میں خود کش حملوں کے ذریعہ احمدیوں کا قتل کرنے کے لئے مسلمان ماں باپ کواپنے بچوں کو تیار کرنا چاہئے جیسا کہ  وہ پاکستان میں کر رہے ہیں ۔ ہندوستان جیسے سیکولر اور غیر مسلم اکثریت والے ملک میں اس طرح کے قتال  (غیر مومنوں کا قتل) کی کھلی دعوت دی جا سکتی ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ  مسلمانوں میں جہادی اور انتہا پسند عناصر ہندوستان میں بھی تاک میں ہیں اور ایک ایسے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں جب وہ خود مسلمان بچوں کو، احمدیہ ،شیعہ، ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف اور ان لوگوں  کے خلاف بھی  جو  جمہوریت کی حمایت کر رہے ہیں ،خودکش حملے کرنے کے لئے  تربیت دیں ۔۔۔۔

اس طرح کے مذہبی متشددین ہندوستان   کے مسلم نوجوانوں کو صرف ان کے مذہبی مقصد کے لئے ایک چارہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہیں ان کی تعلیم، پیشے اور اقتصادی ترقی کی کوئی فکر نہیں ہے۔

اس صورت میں، جہادی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر مسلم نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے سے  بچانے کے لئے فرقہ وارانہ نظریات کی بڑھتی ہوئی لہر پر غلبہ حاصل  کرنے کے لئے ایک حکمت عملی تیار کرنا وقت کی ایک اہم  ضرورت ہے۔

مندرجہ ذیل اقدامات مثبت اثر چھوڑنے  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اور افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کرنےمیں ایک اہم کردار ادا کر  سکتے ہیں ۔

لیگ آف ساحل علماء کی طرح اعتدال پسند علماء کی ایک لیگ کی تشکیل

اس سال جنوری میں الجیریا، مالی، نائیجر اور موریطانیہ کے مذہبی رہنما   الجزائر میںاکٹھے ہوئے  اور سلفی بنیاد پرستی کی راہ اختیار کرنے والے  نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کے لئے  لیگ آف  علماء آف ساحل  کی بنیاد رکھی۔ علماء نے انتہا پسندی کے خطرات کے بارے میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کے لئے  مساجد اور نوجوانوں کے مراکز کے ساتھ کام کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اعتدال پسند علماء کی ایک لیگ ہندوستان میں بھی قائم کی جانی چاہئے جو  بااثر علماء اور اسلامی اسکالرز  اور اساتذہ پر مشتمل ہو  ۔ یہ لیگ سیمینار منعقد کرے گی، اور بڑی ہندوستانی زبانوں میں مطبوعات شائع کرے گی جو قرآن و حدیث کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر یں گی ۔ یہ قرآن کی تفہیم پر اور خاص طور پر رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی، حقوق  العباد (شہریوں کے حقوق) اور دیگر سماجی فرائض اور ذمہ داریوں کے متعلق  قرآنی تعلیمات پر  ورکشاپس منعقد کرے گی۔ لیگ مختلف فرقوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کے لئے  وسیع پیمانے پر بات چیت اور سیمینار منعقد کرے گی  اور ان کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کے لئے مواقع تلاش کرے گی ۔

اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں تصوف بھی  شامل کیا جانا چاہئے

تصوف ہندوستانی ثقافت کی روح ہے۔ ہندوستان میں اسلام صوفیوں کی بے لوث لگن اور کڑی کوششوں کے ذریعے پھیلا ہے۔ تصوف نےمعاشرے پر ہم آہنگ اثر مرتب کیا ہے۔ فی الحال، صو ف ازم اسٹڈیز کو  بعض یونیورسٹیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن اسکولوں، کالجوں اور تمام یونیورسٹیوں میں اس موضوع کو متعارف کرانے کے لئے  تصوف کا ایک ڈپارٹمنٹ ہونا چاہئے ۔ یہ نئی نسل کو  مذہبی طور پرروادار بنائے گا  اور مسلم نوجوانوں میں بنیاد پرستی پر لگام لگائے گا ۔

رواداری اور ہمدردی کی اسلامی تعلیمات پر  کتابوں کی اشاعت اور ان کی مفت تقسیم

مذہبی رواداری اور اسلامی معاشرے کے کثیر ثقافتی اقدار پر زیادہ سے زیادہ کتب شائع کئے جائیں اور  مسلمانوں کے درمیان عوامی سطح پر  تقسیم کئے جائیں ۔ تکفیری  نظریہ (دوسروں کو کافر قرار دینے کی پالیسی)  سے بڑے پیمانے پر پمفلٹ، مطبوعات اور عوامی پروگراموں کے ذریعے نظریاتی طور پر مقابلہ کیا جانا چاہئے۔ حکومت کو  مذہبی علماء پر بھی نفرت اور تشدد بھڑکانے کے  متعلق قوانین نافذ کرنی چاہئے  اور  دوسری برادری اور گروپ پر تشدد کی تعلیم دینے  والوں کو سزا دینی چاہئے ۔

ہر بستی میں قرآنی تعلیمات کے  حلقے قائم کئے جائیں

مسلکی اور فرقہ وارانہ سطح پر مسلم نوجوانوں میں بنیاد پرستی کی سب سے  بڑی وجہ قرآنی تعلیمات کا علم اور افہام و تفہیم کی کمی ہے۔ وہ زیادہ تر مقامی آئمہ یا علماء کے ذریعہ کئے گئے  فرقہ وارانہ تشریحات پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ قرآن کے مطابق خود  اپنے لئے اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کیا صحیح ہے یا کیا غلط ہے ۔ لہذا، یہ قرآن مجید کی تعلیمات کے حلقے  مسلم طلباء اور نوجوانوں کے لئے قرآن کے  مطالعہ کی  مجلسوں  کا انعقاد کریں گے  جہاں  وہ اپنی مادری  زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھیں گے  اور مختلف مسائل  پر قرآنی احکامات اور تعلیمات کی حقیقی سمجھ حاصل کریں گے ۔

بین المذاہب  مکالمہ

اس کثیر ثقافتی دنیا میں جہاں  کوئی کمیونٹی علیحدہ نہیں رہ سکتی ، مسلمانوں کو اپنے مذہبی اقدار اور شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف مذہبی کمیونٹیز کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔ اور اس میں کامیاب ہونے کے لئے، انہیں  بین المذاہب  معاملات اور کثیر ثقافتی اقدار کی قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا  ہوگا  ۔ قرآن مسلمانوں کو  ان غیر مسلموں کے ساتھ ہم آہنگی میں  رہنے، روزانہ کی لین دین کرنے اور ان  کے ساتھ  تعاون کرنے کے لئے مسلمانوں کو  حکم دیتا ہے جو  مسلمانوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرتے اور ان کے خلاف سازش نہیں رچتے  یا ہر ممکن  طریقے سے ان کے خلاف لڑائی نہیں کرتے۔ لہذا، بین المذاہب  اجلاس مسلمانوں کے درمیان ثقافت کی روح کو فروغ دینے کے لئے ملک کے تمام قصبوں ، دیہاتوں اور شہروں میں منعقد کیا جانا چاہئے۔

یہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لئے ایسے کچھ اقدامات ہیں جو  مسلمانوں کے درمیان مزید تقسیم کو روکنے اور مسلم نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی  بنیاد پرستی کو روکنے کے لئے  اٹھائے جانے چاہئیں ۔

URL for English article:

 https://newageislam.com/radical-islamism-jihad/prepare-muslim-youth-behead-ahmadis/d/11895

URL:

 https://newageislam.com/urdu-section/prepare-muslim-youth-behead-ahmadis/d/12109


Loading..

Loading..