certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Jul 2009 NewAgeIslam.Com)



Punish The Culprits مجرموں کو سزا دیجئے

پربھاش جوشی

12جولائی، 2009

بابری مسجد کے انہدام کی جانچ کرنے والے لبراہن کمیشن نے کیا نتائج نکالے ہیں اور کیا سفارشات کی ہیں اس کا پوراعلم کسی کو نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں جو پتنگ بازی ہورہی ہے اس سے صاف ہوچلا ہے کہ کس کا کیا رویہ رہنے والا ہے۔ جس کی صدارت میں اس کے سوئم سیوکوں نے کارسیوک بن کر بابری مسجد گرائی وہ تہذیبی اور سماجی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کہہ رہا ہے کہ مسجدلوگوں کی ناراضگی کے سبب گری لوگ ناراض اس لئے تھے کہ مرکزی سرکار نے ڈھلمل رویہ اپنا رکھا تھا اس کی غیر یقینی کے سبب جو حالات بنے ان کے سبب مسجد گری ، اس کے ڈھانے کیلئے کسی لیڈر یا تنظیم کو ذمہ دار قرار دینا دلیل ناقص اور سیاسی سازش ہوگی۔

آر ایس ایس بولنے سے زیادہ دیکھنے اور غلط فہمی پھیلانے میں یقین رکھتا ہے،لیکن اس معاملے میں ہو لبراہن کمیشن کی رپورٹ کو دیکھنے تک کیلئے نہیں رکا۔وہ بہت مشتاق ہے کہ رپورٹ کے عوامی ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں اپنی رائے اور اپنے نتائج لوگوں کو بتادے ۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک منوسنگھوی کاکہنا ہے کہ یہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے ،اسے کہنے کی ضرورت نہیں تھی ۔کیونکہ بابری مسجد ڈھانا ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا نے دکھا ہے۔ آزاد ہندوستان کے اس دوسرے سب سے المناک حادثہ کا کئی بار اور کئی طرح سے پوری تفصیل کے ساتھ تجزیہ ہوچکا ہے۔اور اس تاریخی انہدامی کارروائی کا شاید ہی ایسا کوئی پہلو ہے جو ابھی تک  انجانا اور ان دیکھا ہو ،سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد سنگھ نے اپنے کنبے والوں سے گروائی ،لیکن اس تہذیبی تنظیم میں اتنا بھی اخلاق ،ہمت اور ایمانداری نہیں ہے کہ اس انہدامی کی سماجی ’تہذیبی اور سیاسی ذمہ داری لے سکیں۔

اس لئے بھلے ہی سولہ سال چھ مہینے بعد آئی ہو، لبراہن کمیشن کی رپورٹ کی اہمیت ہے وہ انصافی طریقے سے اس انہدام کی جانچ کر کے اس کی ذمہ داری سے بھاگنا چاہتے ہیں وہ سبھی انہدام کیلئے مرکز یا ہمارے انصافی نظام کو الزام دے رہے ہیں، سنگھ نے تو اس وقت کی کانگریس سرکار کے ڈھلمل اور غیر یقینی رویئے کو ملزم بنادیا ہے اور رام جنم بھومی تحریک کی قیادت کرنے والے لال کرشن اڈوانی کا کہنا ہے کہ بھومی حصول کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اگر دیر نہیں لگائی ہوتی تو ۶دسمبر کا انہدام نہیں ہوتا ۔ اب آج آپ میں سے کتنے لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ حصول کا معاملہ ہے۔؟

۱۹۹۱میں اتر پردیش میں بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد وشوہندوپریشد نے ایودھیا میں بابری مسجد سے ملحقہ ۲۰۴ایکڑ زمین ان کے مالکوں سے خرید لی یا حاصل کرلی اس پر جو بھی گھر ،مندر وغیرہ بنے تھے انہیں صاف کر کے میدان بنالیا، اس پر پریشد مندر بنانے کی شروعات کرنا چاہتاتھا جو بعد میں بابری مسجد تک پہنچ جاتا ۔ اس پر کئی لوگوں کو اعتراض تھا اس لئے سنگھ پریوار ی تنطیموں کے دباؤ میں وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے وہ اور کچھ اور زمین ملا کر  3.77ایکڑزمین کی حصولیابی کی تاکہ یہاں تیرتھ یاتریوں کی آسائش کے لئے تعمیر کی جاسکے ۔ اس سرکاری حصولیابی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں درخواستیں داخل کی گئی تھیں، ان پر ہائیکورٹ کو فیصلہ دینا تھا ،سنگھ اور بھاجپا کے لیڈر نرسمہاراؤ سرکار سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ سپریم کورٹ سے درخواست کرے کہ وہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کو جلدی فیصلہ دینے کی ہدایت دے ،کارسیوا کیلئے سنگھ کنبہ نے ایودھیا میں دولاکھ کارسیوک جمع کررکھے تھے اور خود لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ کارسیوا بھجن کیرتن سے نہیں گیتی پھاؤڑے سے ہوگی ۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۱دسمبر کو فیصلہ دیا، اس نے سرکار کی حصولیابی کو غیر قانونی قرار دیا اور وشو ہندو  پریشد نے جو ۲۰۴ایکڑ زمین میں ہتھیالی تھی اسے بھی خارج کیا، لیکن تب تک بابری مسجد تو ۶دسمبر کو ڈھادی گئی تھی ،اب لال کرشن اڈوانی الہ آبادہائی کورٹ کی اس تاخیر کو انہدام کے لئے قصوروار مانتے ہیں اور سنگھ مرکزی سرکار کی بے حسی اور ڈھلمل روئیے کو اس معاملے میں چونکہ اپن بھی پڑے تھے ۔ اس لے آپ کو کچھ سچائی بتائیں ،دسمبر ۱۹۹۲کی ابتدا میں ہم یعینی نکھل چکرورتی اور سنگھ کے لیڈر راجند رسنگھ عرف راجو بھیا سے ملنے گئے۔ ہم سے انہوں نے کہا کہ نرسمہا راؤ سرکار اگر سپریم کورٹ میں عرضی دے کہ وہ الہ آباد ہائی کورٹ کو جلدی فیصلہ دینے کی ہدایات دی تو ہم کارسیوا کو روکے رکھیں گے ہم نے راجستھان کے مکھیہ بھیرو سنگھ شیخاوت سے درخواست کی ،وہ دہلی آکر وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملے۔اچھی بات ہوئی اورطے ہوا کہ اتوار چھ دسمبر کو ہم سب نرسمہا راؤ سے ملیں گے۔تاکہ پیر کی صبح سات دسمبر کو سپریم کورٹ میں عرضی دی جاسکے۔

۶دسمبر کو میں گھر میں تیار بیٹھا تھا کہ بھیرو سنگھ شیخاوت کا فون آئے اور ہم جودھپور ہاؤس میں اکٹھا ہوکر نرسمہا راؤ سے ملنے جائیں، بھیرو سنگھ شیخاوت کا فون آیا ۔لیکن یہ کہنے کے لئے کہ مسجد تو گرائی جارہی ہے اور میں یہاس جے پور میں ایمر جنسی میٹنگ کررہا ہوں ،میں تو رجو بھیا کی بات پر اتنا بھروسہ کئے بیٹھا تھا کہ ایودھیا کی خبر کیلئے ٹی وی تک نہیں کھولا تھا، میں مانتا تھا کہ رجو بھیا اس کوشش کو پورے ہونے تک تو کارسیوکوں کو روکے رکھیں گے۔کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ایودھیا میں لیڈر وں اور کارسیوکوں نے کیا طے کررکھا ہے؟ یا وہاں کی حالت سنگھ کے نمبر دو لیڈر کے بھی ہاتھ میں نہیں تھی؟ یا وہ ہمیں اور ہمارے ذریعے نرسمہا راؤ کو غفلت میں رکھے ہوئے تھے کہ ابھی اجودھیا میں کارسیوا رکی رہے گی۔

میں نہیں جانتا ،نرسمہا راؤ کی طرف سے کئی لوگ ۶دسمبر کوٹالنے میں لگے تھے ۔خود رجو بھیا نے ہم سے کہا تھا کہ کئی لوگ ان سے آکر ملے ہیں، یہ سب لوگ انہیں بتاتے ہی ہوں گے اور انہیں لگا ہوگاکہ بابری مسجد کا انہدام اتنا قریب اور ناگریز نہیں ہے یہ نرسمہاراؤ کی غلطی تھی یا وہ جان بوجھ کر اپنی غیر مستعدی سے سنگھ کنبے کو اپنے کے لئے ذمہ دار بناناچاہتے تھے،اب مجھے ہی لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہواتو نرسمہاراؤ کو تو لگتا ہی ہوگا ۔لیکن ایک وزیر اعظم کو دھوکے سے نپٹنے کیلئے تیار رہنا چاہئے کوئی تین سال ہم بات چیت میں رہے، کئی زاویوں سے دیکھنے اورسوچنے سمجھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ سنگھ والے جانتے تھے کہ رام جنم بھومی تحریک کا کیا نتیجہ ہوگا،وہ مانتے تھے کہ بابری مسجد کا انہدام ہندوسماج کو کٹر ہندوراشٹر بنانے میں مدد کرے گا۔

یہ ہندو سماج کی اندورنی طاقت کردار اور مزاج ہے کہ وہ وہی رہا جیسا کہ ہمیشہ سے رہتا آیا ہے ،رواداری ،تحمل اور اپنی بدنظمی متنوع اور اکثریت میں ضم ہونے والا ،بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس نے اتر پردیش میں بھی بھاجپا کو بہت زیادہ ووٹ نہیں دیئے ،لوک سبھا میں تو زیادہ ووٹنگ کے پاس بھی وہ کبھی پہنچی نہیں ،دوسری پارٹیوں کے ساتھ ملر کر اس نے ۱۹۹۸سے ۲۰۰۴تک راج ضرور کیا لیکن ہندوتو والے سنگھ کے راستے پر نہیں چل سکی ۔ اور اب دولگاتار لوک سبھاانتخابات میں تو ہارتی ہی جارہی ہے۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ،وشو ہندو پریشد ،بجرنگ دل وغیرہ کی ہندوسماج میں طاقت اور ماننے والوں کا اثر مسلسل گھٹ رہا ہے ۔لال کرشن اڈوانی جیسے حمائتی اب تہذیبی راشٹرواد کو چھوڑ کر سب کو سمونے والے ہندو مذہب کا سہارا لینے پر مجبور ہیں جبکہ ہندتو کے اصل مفکر ونائب دامودرساور کر نے صاف کہاتھا کہ ہندوتو کو ہندودھرم نے گڈمڈ نہ کیا جائے۔

لیکن کیا بھاجپا کی شکستوں اور سنگھ پریوار کی ہار کو بابری مسجد کے انہدام کی سزامان کر چھوڑ دیاجانا چاہئے ،سنگھ کنبے نے صرف ۴۶۴سال پرانی تاریخی مسجد کا انہدام کیا، اس نے صدیوں سے چلی آرہی ہندوستانی سماج کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کی رواداری تحمل سرد گراہی نظام زندگی کو بھی بدلنے کی کوشش کی یہ نظام زندگی ہی ہندوستان نام کے سیکولر جمہوری ملک کی اختیاری قوت ہے ، اس لئے کہنا پڑے گا کہ سنگھ نے ہندوستان کے سیکولر مزاج کوتباہ کرنے کی کوشش کی ہے، اپنے کو تہذیبی اور راشٹر وادی کہنے والے کسی بھی تنظیم کو ایسی کوشش کرنے کی آزادی نہیں دی جاسکتی ،اس لئے بابری مسجد کا انہدام کرنے والو کو ہندوستان کے آئین اور قانون کے مطابق سزاتو دینی پڑے گی، یہ کوئی محض سیاسی جرم نہیں تھا جو عوام کو دی گئی سیاسی سزا سے پورا ہوسکے۔

دراصل بابری مسجد مبینہ تاریخی بدلہ لینے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لئے توڑی گئی ،بابری مسجد وگرمادتیہ کے بنوائے عظیم الشان رام مندر کو توڑ واکر بنوائی گئی ۔اس کے کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہیں ۱۹ویں صدی تک کے پورانوں (ہندوؤں کی مذہبی کتاب)بیانات میں رام جنم بھومی ،سورگ دوار (جنتی دروازہ) ایودھیا کا تیرتھ استھان تھا جہاں سے بھگوان رام سریو میں سما کر سورگ گئے ،۱۹ویں صدی تک رام جنم بھومی کے نام پر کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں تھا، ہنومان گڑھی پر مسلمانوں نے دعویٰ کیا تو وہاں اکھاڑے والوں نے بابری مسجد پر رام مندر کو تور کر بابری مسجد بنوانے کی کہانی سنگھ خاندان والوں کی بنائی ہوئی ہے۔

متنازعہ بنا کر اس پر قبضہ کرنے کےلئے ۲۳۔۲۲دسمبر ۱۹۴۹کی رات بابری مسجد میں لاکر رام للٰہ کی مورتی رکھی گئی ،کلکٹر کے کے نیر نے فرقہ وارانہ فساد کا خود دکھا کر وزیر اعلیٰ گووند بلبھ پنت اور وزیر اعظم نہرو کے حکم پر مورتیاں نہیں ہٹائیں ،نیر اور ان کی بیوی شکنتلا نیر کو جن سنگھ نے ممبر پارلیامنٹ بنوایا ،بابری مسجد پر تالہ لگادیا گیا، جہاں مورتیاں رکھی ہوں وہاں نماز نہیں پڑھی جاسکتی ،مورتیوں پوجا ایک پجاری کرتا ہے۔ پھر شاہ بانو کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بدلوانے والے راجیوگاندھی کی حکومت میں ایک ضلع مجسٹریٹ نے تالا کھلوادیا تبھی سے رام جنم بھومی کی آزادی کے نام پر بابری مسجد کے متنازعہ ڈھانچے کو گرا کر عظیم الشان رام مندر بنانے کی تحریک چلی، باقی کی تاریخ آپ جانتے ہیں۔

بابری مسجد کا انہدام ہندو مذہب ،ہندوستانی تہذیب اور نظام زندگی کے خلاف بھی جرم ہے، اس کی سزا تو دینی ہوگی۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/punish-the-culprits-مجرموں-کو-سزا-دیجئے/d/1543

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content