certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (18 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Refutation of Darul Uloom Deoband’s Fatwa ‘Greeting Each other with a hug on Eid is Wrong’ – Part 1 (کیا عید میں معانقہ کرنا جائز نہیں ؟ دار العلوم کے فتوی کا رد بلیغ ( قسط اول


غلام غوث صدیقی

نماز عید کے بعد معانقہ کرنا ایک احسن کام ہے جس سے آپسی تنازعات اور دوریاں ختم ہوتی ہیں اور باہمی الفت ومحبت کا فروغ ہوتا ہے ۔صدیوں سے مسلمانوں میں یہ عمل رائج ہے لیکن ابھی چند دنوں پہلے دار العلوم دیوبند کی طرف سے عید کے موقعہ پر ایک فتوی آیا جس سے نہ صرف مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ اس فتوی کا دوسری قوموں نے بھی بڑھ چڑھ کر مذاق اڑایا ۔یہ فتوی کوئی نیا نہیں بلکہ اعلی حضرت امام احمد رضا کے زمانے میں بھی مولوی رشید احمد گنگوہی کے بعض شاگردوں نے معانقہ کرنے پر طعن کیا تھا  اور کہا کہ شرع میں معانقہ صرف سفر سے آنے والے کے لیے وارد ہوا ہے ، جو لوگ سفر کے علاوہ معانقہ کرتے ہیں وہ بدعتی ہیں اور اپنے دلیل میں انہوں نے کہا کہ ایسا انہوں نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے ۔

اس وقت کے سنی مسلمانوں نے اعلی حضرت سے یہ سوال پوچھا تو آپ نے پہلے ایک مختصر فتوی لکھ دیا کہ احادیث کریمہ میں سفر اور بے سفر دونوں کا ثبوت ملتا ہے یعنی سفر سے آنے کی حالت اور اس کے علاوہ احوال میں بھی احادیث سے معانقہ کا جائز ہونا ثابت ہے اور معانقہ کا جواز محض آمد سفر کی حالت سے خاص کرنا ان حضرات کی اپنی من گھڑت باتیں ہیں حدیث فقہ سے اس پر کوئی معتبر دلیل ہر گز نہیں لہذا ان احادیث کو تخصیص سفر پر محمول کرنا محض افترا ہے اور اوہام تراشیدہ ہیں ۔ اس فتوی کا یہ فائدہ ہوا کہ ان لوگوں نے اپنے دعوی کا ہی انکار کر دیا اور بولے کہ انہوں نے تخصیص نہیں کی اور نہ ہی اپنے اساتذہ سے نقل کیا۔

جب ان لوگوں نے اپنے دعوی سے انکار کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی پہلی بات سے مکر گئے اور بلا تخصیص سفر معانقہ کے جواز کو قبول کر لیا ، پھر ان پر یہ الزام عائد ہوا کہ انہوں نے دروغ گوئی سے کام لیا پہلے ایک بات کہی پھر اس سے مکر گئے۔ دوسری بات یہ کہ جب دیوبندی حضرات اپنے خدا کے لیے جھوٹ بولنا ممکن مانتے ہیں (جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اللہ جھوٹ بول سکتا ہے لیکن بولتا نہیں) تو خود ان پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرنا ممکن ہے ، بعید نہیں کہ وہ اسے اپنے لیے فرض وواجب مانتے ہوں ۔ مولانا عبد العزیز (بانی جامعہ اشرفیہ مبارک پور) فرماتے تھے کہ علمائے دیوبند اور ان کے متبعین کا عقیدہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں ، اگر خود ان کا بھی یہی حال ہے کہ جھوٹ بول سکتے ہیں مگر بولتے نہیں تو ان کے عقیدے کی رو سے شرک اور خدا کے ساتھ اس وصف میں برابری لازم آ جائے گی ، اس لیے ان کے اپنے عقیدہ و قاعدہ کے رو سے فرض وضروری ہو جاتا ہے کہ وہ جھوٹ بولیں ، کیونکہ اگر جھوٹ بول سکتے ہیں مگر جھوٹ بولتے نہیں کی منزل میں رہ گئے تو (ان کے اپنے قاعدہ وعقیدہ کے مطابق) مشرک ٹھہریں گے۔

پھر ۱۳۱۱ ھ کی عید الاضحی میں بعض علمائے دیوبند سنی (بریلوی ) علما سے پھر الجھے اور اس طرح تفصیلی فتوی اعلی حضرت کا آیا جو ‘‘وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید ’’ کے نام سے موسوم ومعروف ہوا ۔ اس کتاب کے دلائل نقلی اور عقلی اعتبار سے اتنے قوی ثابت ہوئے کہ زیادات کی حاجت معلوم نہ ہوئی ۔

حالیہ دنوں میں دار العلوم کا فتوی آیا جس میں انہوں نے کہا کہ عید میں معانقہ کرنا درست نہیں جبکہ متعدد احادیث سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ بلا تخصیص معانقہ کرنا جائز ہے خواہ وہ سفر سے آنے والے کے ساتھ ہو یا عید ین میں ہویا ان کے علاوہ ۔ فقہی قاعدہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب ہے اور دلیل شرعی کے بغیر تقیید وتخصیص جائز نہیں ورنہ نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے ۔

 اعلی حضرت کے رسالہ ‘‘وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید ’’ میں جواز معانقہ کی مندرجہ ذیل شرطیں ہیں :

۱۔ معانقہ کپڑوں کے اوپر سے ہو، ۲۔ نیکی ، اعزاز اور اظہار محبت کے طور پر ہو اور ۳۔ خرابی نیت اور شہوت کا کوئی دخل نہ ہو

مذکورہ بالا شرطوں کے ساتھ معانقہ سفر ، غیر سفر ہر حال میں جائز ہے ۔

دلائل میں اعلی حضرت نے وہ احادیث وروایات پیش کیں جن میں قید سفر کےبغیر معانقہ کا ثبوت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معانقہ صرف سفر سے آنے والے کے لیے ہی جائز ہے ، تو ان کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں :

‘‘تمام احادیث وروایات میں مطلق طور پر جوازِ معانقہ کا ثبوت ہے، یہ کسی حدیث میں نہیں کہ بس سفر سے آنے کے بعد معانقہ جائزہے، باقی حالات میں ناجائز بلکہ بعض احادیث سے صراحۃً آمدِ سفر کے علاوہ حالات میں بھی معانقہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو حکم، مطلق او رکسی قید کے بغیر ہو، اسے مطلق ہی رکھنا واجب وضروی ہے۔معانقہ کے بارے میں جب یہ حکم مطلق او رقید سفر کے بغیر ہے، تو اسے مطلق رکھتے ہوئے سفر ، غیر سفر ہر حال میں معانقہ جائز ہوگا۔ہاں اگر کسی حکم میں خود شریعت کی جانب سے تخصیص اور تقیید کا ثبوت ہو تو اس حکم کو مخصوص او رمقید ضرور مانا جائے گا مگر معانقہ کے بارے میں سوا اُن شرائط کے جو ابتدا میں ذکر کی گئیں آمد وسفر وغیرہ کی کوئی قید نہیں۔

ا بن ابی الدنیا کتاب الاخوان اوردیلمی مسند الفردوس اور ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی واللفظ للعقیلی :  میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے معانقہ کو پوچھا ، فرمایا: تحیّت ہے امتوں کی، اور ان کی اچھی دوستی، او بیشک پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام’’ ( کتا ب الضعفاء الکبیر  ترجمہ نمبر۱۱۴۱ عمر بن حفص بن محبر  مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/۱۵۵)

یہاں سے دلیل کی تفصیل فرمائی، سب سے پہلے ایک حدیث ذکر کی جس سے معانقہ کی تاریخ کا آغاز معلوم ہوتا ہے، پھر فقہ حنفی کے مستند مآخذ سے وہ نصوص تحریر فرمائے جن کا حاصل ابتداءً رقم فرماچکے۔ (فتاوی رضویہ ، رسالہ وشاح العید فی تحلیل معانقۃ العید)

اسی ‘‘وشاح العید فی تحلیل معانقۃ العید ’’ کے حوالہ سے درج ذیل ہم صرف انہی احادیث کو پیش کر رہے ہیں جن میں ‘‘قادم سفر ’’ کے بغیر معانقہ کرنا مذکور آیا ہے :

حدیث : ۱

 ایک بارسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سید نا امام حسن رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بلایا، حضرتِ زہرا نے بھیجنے میں کچھ دیر کی، میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا ررہی ہوں گی، اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر آئے ، گلے میں ہار پڑا تھا، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دست مبارک بڑھائے حضور کو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلائے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو لپٹ گئے، حضور نے گلے لگا کر دعا کی: الہٰی! میں اسے دوست رکھتا ہوں تو اسے دوست رکھ اور جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی حِبِّہٖ وبارک وسلم۔ (بخاری و مسلم ونسائی وابن ماجہ بطُرُقِ عدیدہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی)

حدیث ۲ : صحیح بخاری میں امام حسن رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی : نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایک ران پر مجھے بٹھا لیتے اور دوسری ران پر امام حسین کو، اورہمیں لپٹا لیتے پھر دعا فرماتے : الہٰی! میں ان پر رحم کرتا ہوں تو ان پر رحم فرما۔

حدیث ۳ : اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے: سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹایا پھر دُعا فرمائی: الہٰی! اسے حکمت سکھا دے۔

حدیث ۴ : امام احمد اپنی مُسْنَد میں یعلٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی: ایک بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو لپٹالیا

حدیث ۵ : جامع ترمذی میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث ہے: سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہل بیت میں زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا: حسن اور حسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سےبلوا کر سینے سے لگالیتے اور ان کی خوشبوُ سُونگھتے، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم و بارک وسلم۔

حدیث ۶ : امام ابوداؤد اپنی سُنن میں حضرت اُسید بن حُضیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی : اس اثنا میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا، لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لکڑی ان کے پہلو میں چبھوئی، انھوں نے عرض کی مجھے بدلہ دیجئے، فرمایا: لے۔ عرض کی: حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کرتا اُٹھایا انھوں نے حضور کو اپنی کنار میں لیااور تہیگاہِ اقدس کو چُومناشروع کیا پھر عرض کی : یا رسول اﷲ! میرا یہی مقصود تھا۔

حدیث ۷: اسی میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے: میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضور ہمیشہ مصافحہ فرماتے۔ ایک دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھرمیں نہ تھا، آیا تو خبر پائی، حاضر ہوا، حضور تخت پر جلوہ فرماتھے گلے سے لگالیاتو زیادہ جیّد اور نفیس ترتھا۔

حدیث ۸: ابو یعلٰی اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی: میں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور نے مولٰی علی کو گلے لگایااور پیار کیا ، اور فرماتے تھے میرا باپ نثار اس وحید شہید پر۔

حدیثِ ۹: طبرانی کبیر اور ابن شاہین کتاب السُّنُّۃ میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور حضور کے صحابہ ایک تالاب میں تشریف لے گئے، حضور نے ارشاد فرمایا: ہر شخص اپنے یار کی طرف پَیرے۔ سب نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ صرف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق باقی رہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صدیق کی طرف پَپر کے تشریف لے گئے اور انھیں گلے لگا کر فرمایا: میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرکو بناتا لیکن وہ میرا یار ہے۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی صاحبہٖ وبارک وسلم۔

حدیث ۱۰ : خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی: ہم خدمت اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے، ارشاد فرمایا: اس وقت تم پر وہ شخص چمکے گا کہ اﷲ تعالی نے میرے بعد اس سے بہتر وبزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اس کی شفاعت شفاعتِ انبیاء کے مانند ہوگی ، ہم حاضر ہی تھے کہ ابو بکر صدیق نظر آئے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قیام فرمایا اور صدیق کو پیار کیا اور گلے لگایا

حدیث۱۱ : حافظ عمر بن محمد ملاّ اپنی سیرت میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے راوی : میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، کے ساتھ کھڑے دیکھا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ حاضر ہوئے، حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے مصافحہ فرمایا اور گلے لگایااو ران کے دہن پر بوسہ دیا ۔ مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے عرض کی: کیا حضورابو بکر کا مُنہ چومتے ہیں ؟ فرمایا: اے ابوالحسن ! ابوبکر کا مرتبہ میرے یہاں ایسا ہے جیسا میرا مرتبہ میرے رب کے حضور۔

حدیث ۱۲: حافظ ابو سعید شرف المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی: حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر فرمایا: عثمان کہاں ہیں؟ عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ بے تابانہ اُٹھے اور عرض کی: حضور ! میں یہ حاضر ہوں۔ رسول اﷲ صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس آؤ۔ پاس حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سینہ سے لگایااور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔

حدیث چہاردہم۱۳: حاکم صحیح مستدرک میں بافادہ تصحیح اور ابویعلٰی اپنی مسند اور ابو نعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمّی بالماء المَعِین اور عمر بن محمد ملاّ سیرت میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی: ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمتِ اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے حاضرین میں خلفائے اربعہ و طلحہ و زبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم تھے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے اور خود حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف اُٹھ کر تشریف لائے ان سےمعانقہ کیا اور فرمایا: تو میرا دوست ہے دُنیا و آخرت میں ۔

حدیث ۱۴: ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبٰی وُہ اپنے والد ماجد مولٰی علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجوہما سے راوی : حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے معانقہ کیا اور فرمایا:میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے معانقہ کرے

ا س حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقاً حکم بھی ارشادہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے۔

ان احادیث مبارکہ سے سفر وبے سفر ہر صورت معانقہ کرنا ثابت ہے اور سنت جب ادا کی جائے گی ، سنت ہی ہوگی جب تک کہ کسی خصوصیت پر شرع میں تصریحا منع ثابت نہ ہو ۔ (ماخوذ از وشاح العید فی تحلیل معانقۃ العید از امام احمد رضا)۔ جب معانقہ بلا تخصیص وتقیید جائز ہے تو عید کے دن بھی معانقہ جائز ہوا اسے غلط کہنا خود ایک غلطی ہے کیونکہ اسے غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ۔

(بقیہ آئندہ ان شاء اللہ )

URL: http://newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refutation-of-darul-uloom-deoband’s-fatwa-‘greeting-each-other-with-a-hug-on-eid-is-wrong’-–-part-1--(کیا-عید-میں-معانقہ-کرنا-جائز-نہیں-؟-دار-العلوم-کے-فتوی-کا-رد-بلیغ-(-قسط-اول/d/118910

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   2


  • Yes GRD sahib, such meaningless fatwa should be offered a credible retort. 
    By Kaniz Fatma - 6/19/2019 10:02:36 AM



  • Timely refutation of the meaningless fatwa from Darul Uloom Deoband.
    Please keep an eye on all such religious rants and offer a credible retort like this.
    By GRD - 6/19/2019 12:48:39 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content