certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (11 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Refutation of Kashmiri Militant Zakir Musa’s Recent Statement کشمیری عسکریت پسند ذاکر موسی کا کشمیر کے معتدل مسلمانوں کے سر قلم کرنے والے حالیہ بیان کی تردید - حصہ 2

 

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

30 مئی 2018

مضمون کے پہلے حصے میں ذاکر موسی کے تباہ کن ایجنڈے کو اجاگر کیا گیا اور کشمیر کی سرزمین پر نام نہاد اسلامی حکومت قائم کرنے کے اس کے نظریہ کی تردید کی گئی۔ اس میں سب سے پہلے ذاکر موسی کے اس دھمکی آمیز پیغام کا تجزیہ کیا گیا جس میں اس نے حریت کے ان رہنماؤں کا سر قلم  کرنے کی بات کی تھی جو آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے ایک مذہبی جد و جہد کے بجائے ایک سیاسی جد  و جہد قرار دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد فقہی نقطہ نظر سے اس کے دھمکی آمیز پیغام کو رد کیا گیا۔ اب اس دوسرے حصے میں ہم فقہی نقطہ نظر سے ذاکر موسی کے ایک اور دھمکی آمیز پیغام کی تردید کریں گے جس میں اس نے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں کو  یہ دھمکی دی ہے کہ "وہ سیکولر ریاست کی حمایت کرنے والے اعتدال پسندوں کو پھانسی پر لٹکا دے گا" اور "اگر ہم سیکولرزم کے لئے آزادی حاصل کرتے ہیں تو ہمیں ان کے خلاف ایک اور جنگ شروع کرنی ہوگی"۔

اس تحریر کا بنیادی مقصد ذاکر موسی اور اس جیسے نوجوانوں کی اصلاح کرنا ہے جو بدقسمتی سے القاعدہ نیٹ ورک کے بڑھتے ہوئے اثرات سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اس کا بنیادی موضوع اعتدال پسندی، سیکولرزم اور اسلام ہے ، جیسا کہ ذاکر موسی کا کہنا ہے، "میں ان اعتدال پسندوں کو پھانسی پر لٹکا دوں گا جو سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں"۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان سیکولرزم اور اسلام کے درمیان ہم آہنگی کے تصور کو سمجھیں اور اسلام کے ساتھ اعتدال پسندی کے تعلق کو جانیں۔

ہندوستانی سیکولرزم اور اسلام سمیت تمام مذہب کے درمیان ہم آہنگی

سیکولرزم کی تعریف ہر ملک کے لئے مختلف ہے۔ لفظ سیکولرزم کا استعمال اکثر عام زندگی اور حکومتی معاملات سے مذہب کی علیحدگی یا سادہ زبان میں مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے لئے کیا جاتا ہے۔ اکثر نام نہاد ترقی یافتہ ممالک مذاہب کو تسلیم نہیں کرتے ، لہٰذا وہ کسی خاص مذہب کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ ہندوستانی سیکولرزم کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سیکولرزم کا تصور دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ ہندوستانی سیکولرزم کی خصوصیت یہ ہےکہ یہاں ریاست تمام مذاہب کو برابر کا درجہ دیتی ہے۔ ہندوستان کے آئین میں 1976 ء کی 42 ویں ترمیم کے مطابق آئین کے مقدمہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ اگرچہ نہ تو آئین ہند میں اور نہ ہی اس کے قوانین میں مذہب اور ریاست کے درمیان تعلقات کی کوئی وضاحت پیش کی گئی ہے ، تاہم، ہندوستان ہر مذہب کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے لئے یکساں احترام کو یقینی بناتا ہے۔ ہندوستان کے شہریوں کو مکمل آزادی کے ساتھ ہندومت ، اسلام ، عیسائیت ، جین مت ، بدھ مت اور سکھ مت وغیرہ جیسے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

ایک سیکولر بنیاد پرست منی شنکر اییّر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، "ہندوستانی سیکولرزم مذہب مخالف یا غیر مذہبی نہیں ہوسکتا ہے ، کیونکہ ہمارے ملک کی اکثریت مذہبی ہے۔ مسیحی ممالک کے برعکس جہاں اس لفظ کا جنم ہوا ہے، ہندوستان میں سیکولرزم مذہبی اتھارٹی کے خلاف ریاست کو کھڑا کرنا نہیں کرتا ہے ، بلکہ یہ مذہبی معاملات کو ذاتی دائرے میں اور ریاست کے معاملات عوامی دائرے میں رکھتا ہے ۔ "( اییّر  2004: ایک سیکولر بنیاد پرست کا اعتراف)۔

چونکہ ہندوستانی سیکولرزم ہر شہری کو اپنے اپنے طور پر  مذہبی فرائض و  ذمہ داریاں ادا کرنے کی آزادی دیتا ہے، اس لئے یہاں کے سیکولرزم کو مذہب مخالف یا اسلام مخالف سمجھنا لغو ہو گا۔ ذاکر موسی کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ ہندوستانی سیکولر ازم اسے اس کے بنیادی مذہبی فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکتا ہے ۔ قرآن کا فرمان ہے "اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں" (51:56)۔ ہندوستانی سیکولرزم اسے اور کشمیری مسلمانوں سمیت دیگر مسلمانوں کو اللہ کی عبادت کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ ہاں، وہ تقوی اختیار کرنے اور روحانی ترقی حاصل کرنے جیسی تمام مذہبی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتے ہیں۔ یہاں کوئی بھی کشمیریوں سمیت تمام مسلمانوں کو نماز پنجگانہ ادا کرنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے ، زکوٰۃ دینے ، روحانی مراقبہ کرنے ، اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے اور روحانی کمال حاصل کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں ۔ تو پھر ہندوستانی سیکولرزم کو مذہب مخالف یا اسلام مخالف کیوں تصور کیا جائے؟ ایسی صورت میں کشمیر کو ہندوستان کا ہی حصہ کیوں نہیں رہنا چاہئے؟ یہ کشمیری علیحدگی پسندوں کے لئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔

بے شمار اسلامی ماہرین اور علماء نے سیکورلزم کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر اموری یونیورسٹی (Emory University) میں قانون کے پروفیسر اور کتاب ‘Islam and the secular state: negotiating the Future of Sharia’ کے مصنف عبد اللہ احمد النعیم لکھتے ہیں، '' شریعت کو ریاستی طاقت کے زور پر نافذ کرنے سے اس کی مذہبی حیثیت  ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں مسلمان ریاست کے قانون پر عمل پیرا ہوں گے ، بحیثیت مسلم آزادانہ طور پر اپنی مذہبی ذمہ داری پر نہیں"[ Islam and the secular state۔۔۔ کیمبرج ہاورڈ یونیورسٹی پریس 2008]

مندرجہ بالا مباحث کی بنیاد پر  ذاکر موسی کا یہ بیان کہ وہ "سیکولر ریاست کی حمایت کرنے والے اعتدال پسندوں کو پھانسی پر لٹکا دے گا" غیر اسلامی ثابت ہوتا ہے۔ پھانسی پر لٹکانے کا اس کا عمل غیر قانونی ہو گا جس کے لئے اسے قیامت کے دن اللہ کی بار گاہ میں حساب دینا ہوگا۔

اعتدال پسندی اور اسلام

ذاکر موسی کے دھمکی آمیز پیغام سے دو سوالات سامنے آتے ہیں؛ 1) کیا سیکولر ریاست کے حامی پھانسی کے مستحق ہیں؟ 2) اعتدال پسندی کے بارے میں اسلام کا موقف کیا ہے؟ مندرجہ بالا مباحث سے ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ مذہبی آزادی عطا کرنے والی کسی سیکولر ریاست کی حمایت کرنے والا پھانسی کا مستحق نہیں ہے ، لہٰذا ذاکر موسی کا بیان شریعت پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ اب ہم اسلام کے ساتھ اعتدال پسندی کے تعلق کو سمجھتے ہیں۔

ایک عالمہ فاضلہ کنیز فاطمہ newageislam.com پر شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون " Teachings of Moderation and Balance in Islam" میں لکھتی ہیں۔

"اعتدال پسندی زندگی کے تمام معاملات میں دو انتہا کے پیچ ایک درمیانی راستہ اختیار کرنا ہے۔ اسلام زندگی کے تمام معاملات یعنی عقائد ، عبادات ، عادات و اطوار ، تعلقات ، نظریات ، رسوم و رواج ، لین دین ، روزانہ کی سرگرمیوں اور انسانی خواہشات میں اعتدال پسندی اور توازن پر زور دیتا ہے۔ قرآن کریم نے  واضح  طور پر  اعتدال پسندی کے تصور کو قائم کیا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل" (ترجمہ؛ کنز الایمان 2:143) ۔

اس آیت کے اندر امت مسلمہ کی تعریف میں عربی الفاظ "اُمۃً وَسَطًا" کا استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ 'وسط' کا ترجمہ عام طور پر اعتدال کیا جاتا ہے۔ لہذا اس امت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں خواہ وہ کردار ہو خواہ عمل ، اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو انتہاء کی طرف نہیں جھکتے ہیں۔ نہ تو وہ عبادت کی ادائیگی میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی اس میں وہ ان لوگوں کا انتہاءپسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو اس دنیا کو ترک کر کے پہاڑوں میں رہنے کے لئے چلے جاتے ہیں۔

جو خصوصیت امت مسلمہ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کا (وسط) ہونا ہے، (ایک ایسا لفط کا انگریزی میں درمیانی ، معتدل ، منصفانہ ، متوسط ، درمیان ، مرکزی یا متوازن جیسے مختلف الفاظ سے کیا جاتا ہے)۔ لفظ وسط کے معنیٰ کی وضاحت کے لئے  عام طور پر مفسرین نے عربی صفت معتدل کا استعمال کیا ہے ، اور اسم اعتدال جس کا معنیٰ ‘‘برابر ہونا’’ ہے ،  ان دونوں کا مادہ عدل ہے جس کا معنیٰ ‘‘برابر ہونا یا برابر کرنا ’’ ہے۔

امام رازی آیت 2:143 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: در حقیقت اصل توازن (وسط) دو انتہا کے درمیان ایک میانی راستہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہتات اور اسراف کے دونوں کنارے تباہ کن ہیں ، لہذا، کردار میں اعتدال پسند ہونا ان سے دور ہونا ہے، اور یہی منصفانہ اور نیک رویہ ہے۔ (تفسیر کبیر ؛ امام رازی 2:143)

اپنی عربی لغت میں ابن منظور لکھتے ہیں؛

"ہر قابل قدر خصوصیت کے دو قابل مذمت کنارے ہوتے ہیں۔ لیکن بخیلی اور اسراف کے درمیان کا راستہ اختیار کرنا فراخ دلی ہے۔ جرات بزدلی اور بے احتیاطی کے درمیان کا راستہ اختیار کرنے میں ہے۔ انسانوں کو اس طرح کی ہر قابل مذمت خصلت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ "( لسان العرب 209/15)

ایک یمنی مسلم روایت پسند وہب ابن منہب لکھتے ہیں ، "بے شک ہر چیز کے دو سرے ہوتے ہیں اور اس میں ایک درمیانی راستہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک سرا اختیار کیا جائے تو دوسرا اپنا توازن کھو دے گا۔ اور اگر درمیانی راستہ اختیار کیا جائے تو دونوں سرے متوازن ہو جائیں گے۔ ہر چیز میں درمیانی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ (حلیۃ الاولیاء 4818)

مروی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، "اے لوگو سیدھے راستے پر چلتے رہو تمہیں بڑی کامیابی ملے گی ، لیکن اگر تم دائیں یا بائیں ہوئے تو پھر گمراہ ہو جاؤ گے۔" ( صحیح بخاری 6853، حدیث صحیح)

حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا ، "یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے"۔ پھر آپ ﷺ نے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچی اور فرمایا کہ، "یہ دوسرے راستے ہیں اور ان کے درمیان کوئی راہ ایسی راہ نہیں ہے مگر یہ کہ اس پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور اپنی طرف دعوت دے رہا ہے۔" پھر نبی ﷺ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی ‘‘اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو’’۔ (6:153) ( مسند احمد 4423، حدیث صحیح)

ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال پسندی اور توازن کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے، خواہ ان کا تعلق مذہب کے فرائض سے ہو خواہ دنیاوی زندگی کی ذمہ داریوں سے ہو۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے،

"اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول۔" (28:77)

حنظلہ الاسیدی سے مروی ہے کہ میں نے کہا،

"اے اللہ کے رسول ﷺ، جب ہم آپ کی بارگاہ میں ہوتے ہیں اور ہمیں جہنم اور جنت کی باتیں بتائی جاتی ہیں تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، لیکن جب ہم آپ کو چھوڑ کر رخصت ہوتے ہیں اور اپنی بیویوں ، بچوں ، اور اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں تو یہ چیزیں اکثر ہمارے ذہنوں سے غائب ہو جاتی ہیں۔ "

اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر تمہاری ذہنی کیفیت وہی رہے جو میری موجودگی میں ہوتی ہے اور تمہارے اذہان ہمیشہ اللہ کی یاد میں مشغول رہیں ، تو فرشتے تمہارے بستروں اور سڑکوں پر تم سے ہاتھ ملائیں۔ اے حنظلہ اس کے بجائے دیگر کاموں میں بھی وقت صرف کرنا چاہیے۔ "( صحیح مسلم 2750، حدیث صحیح)

لہذا اس تعلیم کے مطابق ہمیں نماز ، روزہ اور یہاں تک کہ صدقہ جیسے اپنے اعمال میں اعتدال پسند رہنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ہماری نمازیں معتدل آواز میں ہونی چاہئے، نہ ہی آواز زیادہ بلند ہو اور نہ ہی زیادہ نرم ہو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے،

"اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دنوں کے بیچ میں راستہ چاہو" (17:110)

حضرت ابو موسی کی سند سے یہ روایت مروی ہے کہ انہوں نے کہا، "ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر تھے ، اس دوران جب لوگوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر پکارا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اے لوگو، اپنے ساتھ نرمی کے ساتھ کام لو کیونکہ تم اسے نہیں پکار رہے ہو جو سننے سے معذور ہے یا غیر حاضر ہے۔ بلکہ ، تم اسے پکار رہے ہو جو سننے والا دیکھنے والا ہے۔ "( صحیح بخاری 3910)

حضرت جابر بن سامراہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ،

"میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا ، اور آپ ﷺ کی نماز اور آپ کا خطبہ دونوں معتدل تھے۔" (صحیح مسلم 866، حدیث صحیح)

نفلی عبادات کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم متعدد مواقع پر اپنے صحابہ کو ان کی نفلی عبادتوں کو محدود کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں اور اپنی صحت بھی برقرار رکھ سکیں۔

مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے کہا، "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا،" اے عبدالله مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو ۔ "میں نے کہا، "ہاں یا رسول اللہ!" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "ایسا مت کیا کرو۔ کبھی روزہ رکھو اور کبھی کھاؤ ، رات کو نماز ادا کرو اور سو بھی جایا کرو۔ بے شک تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ "( صحیح بخاری 4903، حدیث صحیح)

حضرت سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،

"تمہارے اوپر تمہارے رب کا حق ہے، تمہارے اوپر تمہارے جسم کا حق ہے، اور تمہارے اوپر تمہارے خاندان کا حق ہے، لہذا تم ہر حق والے کا حق ادا کرو۔" ( صحیح بخاری 1867، حدیث صحیح)

یہی پیغام ہمیں اس حدیث سے بھی ملتا ہے،

"سب سے بہترین مذہب سب سے آسان ہے۔" [احمد]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

"جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی بہت طویل ہو اور اسے زیادہ مراعات عطا کی جائیں اور برے خاتمے سے محفوظ ہو جائے ، تو اسے چاہئے کہ وہ خدا سے ڈرے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے"۔ ( الحاکم)

آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ،

"اے لوگوں! سلام پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ ، رشتے داروں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو تم حفاظت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔"(الحاکم)

اسلام مسلمانوں کو صدقہ دینے میں بھی اعتدال پسندی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ مسلمانوں کو اتنا خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جتنا کسی ضرورت مند کی مدد کے لئے کافی ہو ؛ لیکن یہ اتنا مال رکھنے کا بھی حکم دیتا ہے جو اس کے خاندان اور خود کی دیکھ بھال کے لئے کافی ہو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (25:67)

لہٰذا ، ہمیں دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی اعتدال پسند ہونا چاہئے۔ ہمیں لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرنا چاہئے جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں لیکن ہمیں ان کی محبت میں اس حد سے نہیں گزرنا چاہئے کہ ہم ان کی غلط سرگرمیوں کی حمایت کر دیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،

‘‘تماری محبت شیفتگی نہ ہو جائے اور تمہاری نفرت تباہی نہ ہو جائے۔" کہا گیا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" حضرت عمر نے جواب دیا، "جب تم کسی سے محبت کرتے ہو تو اس کی محبت میں بچوں کی طرح فریفتہ ہو جاتے ہو۔ اور اگر کسی سے نفرت کرتے ہو تو تم اپنے ساتھی کے لئے اس کی تباہی چاہتے ہو "( الادب المفرد 1322، حدیث صحیح)۔

ابن حبان مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ معاملات میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ، "ان سے قربت حاصل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرو ، اور نہ ہی ان سے دوری اختیار کرنے میں حد سے تجاوز کرو۔" (تفسیر المورد 60:8)

ابن حبان یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ قربت حاصل کرنے میں اسلام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے اور اسی طرح نہ ہی انہیں ان سے دوری بنانے میں اس حد سے گزر جانا چاہئے کہ ان کے اندر کسی قسم کی نفرت یا عدم تحفظ کا احساس پید ا ہو جائے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے،" کہا گیا ، " کون یا رسول اللہ ؟" (آپ نے فرمایا) جو اپنے پڑوسیوں کو امن اور سلامتی فراہم نہ کر سکے۔ " (صحیح بخاری، جلد 8، نمبر 45)

اس حدیث کے اندر لفظ "پڑوسیوں" میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں میں شامل ہیں۔

کچھ اور احادیث جن میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ اچھے تعلقات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ، حسب ذیل ہیں۔

"کیا تمہیں معلوم ہے کہ صدقہ ، روزہ اور نماز سے بہتر کیا ہے ؟ یہ لوگوں کے درمیان امن اور اچھے تعلقات قائم رکھنا ہے، اس لئے کہ جھگڑے اور برے جذبات انسانوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ "(البخاری و مسلم)

"جو کوئی لوگوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہے اللہ اس کے ساتھ مہربانی کرے گا۔ لہذا تم زمین کے اوپر انسانوں پر حم کرو اور آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"(ابو داؤد اور ترمذی)

خلاصہ یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی کے تمام معاملات میں مسلمانوں کو اعتدال پسندی کا درس دیا ہے۔ انہیں اس شیطان کو خوش کرنے والی کسی بھی قسم کی انتہاپسندی سے بچنا چاہیے جو انہیں سیدھی راہ سے گمراہ کرتا ہے۔ اعتدال پسندی اور توازن کی اس تعلیم کے ساتھ مسلمان انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہروں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو خطرہ ہے۔

[محولہ بالا اقتباس newageislam.com پر شائع ہونے والے کنز فاطمہ کے مضمون "Teachings of Moderation and Balance in Islam" سے لیا گیا ہے]

خلاصہ یہ ہے کہ یہ مضمون ذاکر موسی جیسے انتہاپسندوں سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہندوستانی سیکولرزم مذہب مخالف نہیں ہے بلکہ یہ اسلام سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے طور پر مذہبی فرائض و ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ اعتدال پسندی اسلامی تعلیمات کا لازمی حصہ ہے۔ لہذا ، ذاکر موسی کا یہ دھمکی آمیز بیان کہ "وہ ان اعتدال پسندوں کو پھانسی دے گا جو ایک سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں" ایک غیر قانونی اور انتہائی غیر اسلامی بیان ہے۔

اللہ تعالی منفی نظریات  کے حاملین سے سے سادہ لوح مسلمانوں کو بچائے!

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refutation-of-kashmiri-militant-zakir-musa’s-recent-statement-threatening-to-hang-moderate-muslims-supporting-secularism---part-2/d/115397

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refutation-of-kashmiri-militant-zakir-musa’s-recent-statement--کشمیری-عسکریت-پسند-ذاکر-موسی-کا-کشمیر-کے-معتدل-مسلمانوں-کے-سر-قلم-کرنے-والے-حالیہ-بیان-کی-تردید---حصہ-2/d/115502

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content